انڈیا میں 10 ہزار سے زیادہ اموات، برازیل میں ایک دن میں تقریباً 35 ہزار نئے کیس

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 81 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ پاکستان میں میں لگاتار دوسرے روز بھی اموات کی ریکارڈ تعداد سامنے آئی ہیں۔ منگل کو دنیا کے دوسری سب سے متاثرہ ملک برازیل میں وائرس کے تقریباً 35 ہزار نئے کیس سامنے آئے ہیں جبکہ انڈیا چوتھے نمبر پر ہے اور وہاں مزید دو ہزار اموات ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, پنجاب: کورونا سے اموات ایک ہزار سے تجاوز کر گئیں

    پنجاب میں کورونا کے 1,537 نئے متاثرین، 62 اموات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنجاب میں ہنگامی امدادی ادارے (این ڈی ایم اے) کے مطابق ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 1537 نئے متاثرین اور 62 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اس طرح صوبے میں کووڈ 19 کے کل مصدقہ متاثرین کی تعداد 54,138 ہوگئی ہے جبکہ اب تک 1031 افراد اس عالمی وبا سے ہلاک ہوچکے ہیں۔

    صرف لاہور میں اس وقت کورونا کے 27,361 متاثرین ہیں۔ ان میں گذشتہ روز 932 افراد کا اضافہ ہوا ہے۔ ادارے کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں لاہور میں کورونا سے 50 اموات ہوچکی ہیں جبکہ کل تعداد 380 ہے۔

    طبی عملے کے 878 افراد میں کورونا کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

  2. جاپان نے ’داخلے پر پابندی میں نرمی کا فیصلہ نہیں کیا‘

    جاپان نے ’داخلے پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا‘

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جاپان کے وزیر خارجہ نے پیر کو کہا کہ یہ بات درست نہیں کہ حکومت داخلے پر عائد پابندی میں نرمی لا رہی ہے۔ یہ پابندی اس لیے نافذ کی گئی تاکہ چند ممالک کے لوگوں سے کورونا وائرس پھیل نہ سکے۔

    ایک مقامی اخبار نے یہ خبر شائع کی تھی کہ ہوسکتا ہے کہ آنے والے کچھ مہینوں میں جاپان آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ویتنام اور تھائی لینڈ کے ساتھ کاروباری دورے بحال کرے۔

    وزیر خارجہ نے پارلیمان کو بتایا کہ حکومت داخلے پر پابندی میں نرمی کے طریقوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ اور کئی عناصر پر غور کیا جا رہا ہے۔ اگر فیصلہ کیا گیا تو مرحلہ وار نرمی لائی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ جاپان نے ویتنام، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے مشاورت کی ہے تاکہ ضروری سفر کی بحالی کے امکانات پر بات چیت کی جاسکے۔

  3. کورونا وائرس: برازیل میں ہلاکتوں کی تعداد 43 ہزار سے تجاوز کر گئی

    r

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برازیل میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اتوار تک مجموعی طور پر 42720 اموات ہوئیں جن کی تعداد پیر کو بڑھ کر 43330 ہوگئی ہے۔

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کےاعدادو شمار کے مطابق کے مطابق، برازیل دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

    برازیل میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 867،624 ہوچکی ہے۔

  4. کورونا کی وجہ سے سماجی دوری، یہ دو میٹر ہوتا کتنا ہے؟

    تین آسٹریلوی کوالا ہوں یا ایک مائیکل جورڈن یا پھر نصف واکس ویگن بیٹل، یہ وہ فاصلہ ہے جتنا آپ کو کسی بھی فرد سے کورونا کی وبا کے دوران سماجی دوری اختیار کرتے ہوئے رہنا چاہیے اور اگر بات سمجھ نہیں آئی تو یہ ویڈیو دیکھ کر سمجھ لیں۔

  5. کورونا وائرس: فرانس میں بڑے پیمانے پر پابندیوں کا خاتمہ

    France

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    فرانس کے صدر ایمنوئیل میخواں نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے باعث نافذ بیشتر پبندیاں ختم کی جا رہی ہیں۔

    پیر کے روز سے فرانس بھر میں کیفے اور ریستوران کھل جائیں گے اور دیگر یورپی ممالک میں سفر کی بھی اجازت ہو گی۔

    لوگ ریٹائرمنٹ ہومز میں جاکر اپنے خاندان کے افراد سے بھی مل سکیں گے۔

    ٹیلی وژن پر خطاب میں فرانس کے صدر کا کہنا تھا ’فرانس نے پہلی فتح حاصل کر لی ہے‘ تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ وائرس لوٹ کر آ سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’ہم کل سے پورے ملک مںی نئِ باب کا آغاز کریں گے۔‘انھوں نے تصدیق کی کہ پیر کے روز سے پیرس میں بھی پابندیاں ختم ہوں گی جو کووڈ19 سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقے تھا۔

    فرانسیسی صدر نے کہا کہ 22 جون سے ہائی سکولز کے علاوہ ملک میں تمام سکولز بھی کھل جائیں گے۔

  6. آسٹریلیا میں لاک ڈاؤن میں مزید نرمی

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریلیا کی دو سب سے بڑی ریاستوں نیو ساؤتھ ویلز اور وکٹوریا نے لاک ڈاؤن میں نرمی کے اپنے تازہ ترین منصوبوں کا اعلان کر دیا ہے۔

    نیو ساؤتھ ویلز کے حکام نے کہا ہے کہ جنازوں میں 50 لوگوں کی حد کو فوراً ختم کر دیا جائے گا جبکہ اگر کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد کم رہی تو نائٹ کلبز اور موسیقی کے پروگرام اگست سے شروعکیے جا سکیں گے۔

    اس کے علاوہ وکٹوریا میں ان ڈور کاروبار اس صورت میں کھولنے کی اجازت ہوگی جب وہاں ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ 50 گاہک موجود ہوں۔ یہ اجازت 22 جون سے ہوگی۔

    اس کے علاوہ ملک کے مختلف علاقوں بشمول سڈنی میں ریستوران پہلے ہی کھولے جا چکے ہیں۔

    آسٹریلیا میں سات ہزار 320 مصدقہ متاثرین سامنے آ چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 102 ہے۔

  7. سنگاپور: باغوں کا شہر جنگلی حیات سے محبت کرنا سیکھ رہا ہے

  8. کورونا وائرس: پالتو جانور مالکان کے خوف کی وجہ سے بے گھر

    مشرقِ وسطیٰ میں کچھ پالتو جانوروں کے مالکان نے کورونا وائرس کے خدشے کی وجہ سے انھیں اپنے پاس رکھنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ یہ ابھی تک ثابت نہیں ہو سکا کہ وائرس کے پھیلاؤ میں جانوروں کا کوئی قابلِ ذکر کردار ہے۔

  9. گلگت بلتستان: 34 مزید افراد میں کورونا کی تصدیق، گذشتہ 24 گھنٹے میں ہلاکتوں کی تعداد صفر

    کورونا

    محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق خطے میں 34 مزید افراد میں کورونا کی تصدیق ہو گئی ہے جس کے بعد یہاں متاثرین کی کُل تعداد 1129 ہوگئی ہے۔

    اس کے علاوہ یہاں 25 مریض مزید صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحت مند مریضوں کی تعداد 716 ہوچکی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں یہاں کوئی نئی ہلاکت سامنے نہیں آئی ہے۔

    محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق اس وقت ہنزہ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بن چکا ہے جہاں پر 123 مریض ہیں۔

    اس کے بعد گلگت کا نمبر ہے جہاں 101، سکردو میں 44 اور استور میں 38 مریض ہیں۔

  10. روس نے امریکہ کے مقابلے میں وبا کا بہتر مقابلہ کیا، پوتن کا دعویٰ

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے امریکہ میں کورونا وائرس متاثرین اور اس وائرس سے ہلاکتوں کی بلند تعداد کی وجہ ‘گہرے داخلی بحران’کو قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ روس امریکہ کے مقابلے میں وبا سے بہتر انداز میں نمٹا ہے۔

    ریاستی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ روسی حکومت یا خطوں میں کوئی یہ کہے گا کہ ہم حکومت یا صدر کی بات نہیں مانیں گے۔’

    انھوں نے کہا: ‘مجھے لگتا ہے کہ امریکہ میں مسئلہ یہ ہے کہ اس معاملے میں پارٹی مفادات کو معاشرے اور عوام کے مفادات سے اوپر رکھا گیا ہے۔’

    امریکہ میں اب تک کورونا وائرس کے 20 لاکھ سے زیادہ مصدقہ متاثرین ہیں اور یہاں ایک لاکھ 15 ہزار افراد اس وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

    دوسری جانب روس میں وائرس سے پانچ لاکھ 28 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں جو امریکہ اور برازیل کے بعد دنیا کی تیسری سب سے بڑی تعداد ہے۔

    یہاں پر اموات کی تعداد سرکاری طور پر 6948 بتائی جا رہی ہے تاہم اس پر تنازعات بھی ہیں۔

    ملک میں اب اُن لوگوں کو بھی کووڈ 19 سے ہلاکتوں کے زمرے میں شمار کیا جا رہا ہے جن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا مگر ان کی ہلاکت کی بنیادی وجہ کورونا نہیں لکھی گئی تھی۔

    ماسکو شہر کے حکام نے بدھ کو کہا تھا کہ نئے سسٹم کے تحت ہوسکتا ہے کہ صرف مئی کے مہینے میں 5000 سے زیادہ لوگ دارالحکومت ماسکو میں ہلاک ہوئے ہوں۔

  11. بریکنگ, خیبر پختونخوا: 563 نئے متاثرین سامنے آ گئے، 14 مزید ہلاکتیں, متاثرین: 18,013، اموات: 675

    کورونا

    خیبر پختونخوا میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 563 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    یوں صوبے میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 18 ہزار 13 ہوگئی ہے۔

    محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے مطابق صوبے میں کورونا سے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں، چنانچہ خیبر پختونخوا میں کورونا سے ہلاک افراد کی تعداد 675 ہوگئی ہے۔

    صوبائی دارالحکومت پشاور سے 24 گھنٹوں میں مِزید 127 نئے مریضوں کا اضافہ ہوا ہے اور اس شہر میں متاثرہ افراد کی تعداد چھ ہزار 306 ہوگئی ہے۔

    یاد رہے کہ پشاور میں اب تک 345 افراد کورونا کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد چار ہزار 539 ہے۔

  12. بریکنگ, بلوچستان: 149 نئے متاثرین کے ساتھ متاثرین کی مجموعی تعداد 8177 ہوگئی

    کورونا

    بلوچستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 149 نئے متاثرین سامنے آ گئے ہیں جس کے بعد یہاں متاثرین کی مجموعی تعداد 8177 ہوگئی ہے۔

    صوبائی محکمہ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کورونا سے مزید دو افراد کی ہلاکت بھی ہوئی ہے جس کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد85 ہوگئی ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق 14جون 2020 کو کورونا کے 759 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے149 مثبت آئے۔

    بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر 37 ہزار 718 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 29 ہزار 541 کے نتائج منفی آئے۔

    صوبے میں مشتبہ مریضوں کی تعداد 37 ہزار 968 ہے جبکہ کورونا وائرس سے اب تک 2859 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔

  13. امریکہ: 70 سالہ شخص کے کورونا علاج کا بل 11 لاکھ ڈالر

    ّڈالر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں کورونا وائرس سے تقریباً ہلاک ہوجانے والے ایک 70 سالہ شخص کو مبینہ طور پر 11 لاکھ ڈالر کا میڈیکل بل تھما دیا گیا ہے۔

    سیاٹل ٹائمز کے مطابق مائیکل فلور کو یہ بل ہسپتال میں 62 دن تک داخل رہنے کے بعد دیا گیا ہے۔

    فلور اس قدر بیمار تھے کہ ایک موقعے پر تو نرسوں نے ان کے لیے فون کال کا بھی انتظام کیا تاکہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کو الوداع کہہ سکیں۔

    181 صفحات پر مشتمل بل 11 لاکھ 22 ہزار 501 ڈالر اور چار سینٹس کا ہے۔

    تاہم فلور کو یہ ادائیگی اپنی جیب سے نہیں کرنی پڑے گی کیونکہ وہ میڈیکیئر نامی اُس انشورنس پروگرام کے تحت محفوظ ہیں جو حکومت نے عمر رسیدہ افراد کے لیے متعارف کروا رکھا ہے۔

  14. بیجنگ: خوراک کے بازار سے منسلک نئے متاثرین کی تعداد میں اضافہ

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشناس مارکیٹ کو اب کاروبار کے لیے بند کر دیا گیا ہے

    بیجنگ میں کئی ہفتوں تک کورونا کا کوئی نیا متاثر سامنے نہ آنے کے بعد اچانک خوراک کے ایک تھوک بازار سے منسلک کئی متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بیجنگ اس ممکنہ نئی لہر کو روکنے کے لیے ٹیسٹنگ بڑھا رہا ہے۔

    اتوار کی رات کو بیجنگ نے تمام کمپنیوں سے کہا کہ وہ اپنے اُن ملازمین کو 14 روزہ قرنطینہ مکمل کروائیں جو زینفادی مارکیٹ گئے یا وہاں جانے والے کسی شخص سے رابطے میں رہے۔

    شہر میں تقریباً دو ماہ تک کورونا کا کوئی متاثر سامنے نہیں آیا تھا تاہم 12 جون کو ایک شخص میں وائرس کی تصدیق ہوئی، اور اس کے بعد کُل تعداد 51 ہوگئی ہے۔

    ان میں سے آٹھ متاثرین تو صرف اتوار کے پہلے سات گھنٹوں میں سامنے آئے ہیں۔

    شہر کے طبی حکام کے مطابق کونٹیکٹ ٹریسنگ سے معلوم ہوا ہے کہ انفیکشن کے شکار بننے والے تمام لوگ یا زینفادی کے اندر کام کرتے تھے، وہاں جا کر خریداری کی تھی، یا پھر وہاں جانے والے کسی شخص سے رابطے میں آئے تھے۔

    زینفادی کو ایشیا کی سب سے بڑی خوراک کی مارکیٹ سمجھا جاتا ہے۔

  15. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 43 نئے مریض سامنے آ گئے, ایم اے جرال، صحافی

    کورونا

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے مطابق آج اتوار کے روز مزید 43 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 647 ہوگئی ہے۔

    حکام کے مطابق مزید ایک شخص کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہوا ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 13 ہوگئی ہے۔

    کورونا سے متاثر ہونے والے 30 افراد کا تعلق خطے کے دارالحکومت مظفرآباد، پانچ کا تعلق بھمبر، 4 کا کوٹلی، دو کا باغ اور دو افراد کا تعلق سدھنوتی سے ہے۔

    حکام کے مطابق مزید چار مریض صحتیاب ہوئے ہیں جس کے بعد اس خطے میں صحتیاب مریضوں کی تعداد 254 ہوگئی ہے۔

    حکام کے مطابق اس خطے میں اب تک 11 ہزار 16 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ لیے گئے ہیں جن میں سے 53 کے نتائج آنے باقی ہیں۔

  16. برطانیہ میں مزید 36 افراد ہلاک، مجموعی ہلاکتیں 41 ہزار 600 سے زائد

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کی وزارتِ صحت کے مطابق ملک میں مزید 36 لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد ہلاک ہوگئے ہیں جس کے بعد یہاں ہلاکتوں کی کُل تعداد 41 ہزار 698 ہوگئی ہے۔

    ان اعداد و شمار میں وہ تمام افراد بھی شامل ہیں جو ہسپتالوں کے علاوہ دیگر مقامات مثلاً گھروں اور نرسنگ ہومز وغیرہ میں ہلاک ہوئے ہیں۔

    اموات کی یہ تعداد 22 مارچ سے لے کر اب تک کی کم ترین تعداد ہے جب 35 اموات ہوئی تھیں۔

    تاہم یہ بات واضح رہے کہ ہفتہ وار تعطیل کی وجہ سے اطلاعات سامنے آنے میں تاخیر کی وجہ سے اکثر اوقات اعداد و شمار کم ہوتے ہیں۔

  17. سپین کا یورپ سے سفری روابط بحال کرنے کا اعلان

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    سپین کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے اعلان کیا ہے کہ اُن کا ملک اگلے اتوار سے دیگر یورپی ممالک سے سفری روابط دوبارہ اُستوار کر لے گا۔

    اس میں واحد استثنیٰ پُرتگال کو ہے جو یکم جولائی تک اپنی سرحدیں بند رکھے گا۔

    برطانیہ اس فہرست میں شامل ہے مگر برطانیہ کے دفترِ خارجہ نے تمام غیر ضروری بین الاقوامی سفر سے خبردار کر رکھا ہے۔

    وزیرِ اعظم سانچیز نے آج ٹی وی پر اپنے ایک خطاب میں کہا کہ ‘سپین نے تمام رکن ممالک سے سرحدوں پر ہونے والی جانچ پڑتال 21 جون سے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

    اس سے قبل سپین نے سفر مکمل طور پر یکم جولائی کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    سپین میں ہونے والا لاک ڈاؤن یورپ کے سب سے سخت ترین لاک ڈاؤنز میں سے تھا لیکن چار مئی کو حکومت نے پابندیوں میں نرمی کا اپنا چار مرحلوں پر مبنی منصوبہ پیش کیا تھا۔

  18. بلوچستان: ہوٹلوں میں گاہک اندر بٹھانے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا

    حکومت بلوچستان نے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں گاہک اندر بٹھانے سے متعلق جاری کیا گیا نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے۔

    بلوچستان میں ٹرانسپورٹ کی بحالی کے بعد ریستورانوں اور ہوٹلوں سے متعلق ایس او پیز میں نرمی کرتے ہوئے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے 11 نکاتی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس میں انھیں اجازت دی گئی تھی کہ وہ گاہکوں کو دکانوں کے اندر بٹھا سکتے ہیں۔

    تاہم گذشتہ روز حکومت کی جانب سے مذکورہ نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے۔

    گاہکوں کو اندر بیٹھنے کی اجازت واپس لینے والے نوٹیفیکیشن میں واپسی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

    واضح رہے کہ لاک ڈاﺅن میں نرمی کے باعث ہوٹلوں اور ریستورانوں کو بھی کھلنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن ان کو اندر گاہک بٹھانے کی اجازت نہیں، تاہم ان سے لوگ کھانا وغیرہ خرید کر لے جاسکتے ہیں۔

    گاہکوں کو اندر بیٹھنے کی اجازت نہ ملنے کے خلاف کوئٹہ میں ریستورانوں کے مالکان اور تاجروں نے احتجاج بھی کیا تھا۔

    b

    ،تصویر کا ذریعہGovt. of Balochistan

  19. انڈیا: ریل کے 500 مزید ڈبوں میں 8000 مریضوں کو رکھا جائے گا

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    انڈیا کے وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے ملک کے دارالحکومت دلی میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے متاثرین کی تعداد کے پیشِ نظر نئے ہنگامی اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

    یہ اعلان دلی کے وزیرِ اعلیٰ اور دیگر حکام کے ساتھ ان کی ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔

    دلی کو اس وقت کورونا وائرس کے متاثرین کے علاج کے لیے بستروں کی اشد ضرورت ہے۔ امیت شاہ نے کہا کہ اس کے لیے 500 ریل کی بوگیاں فراہم کی جائیں گی جس کا مطلب 8000 اضافی بستر ہے۔ اس کے علاوہ وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے نرسنگ ہومز سے درخواست کر کے مزید 5000 بستر حاصل کیے جائیں گے۔

    اس کے علاوہ مستقبل میں ہوٹل کے کمروں اور بینکوئیٹ ہالز کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ ایک نیا فیلڈ ہسپتال بھی بنایا جا سکتا ہے۔

    امیت شاہ نے دلی میں ٹیسٹنگ میں اضافے، سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کا نقشہ بنانے اور وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے گھر گھر سروے کا بھی اعلان کیا۔

    اتوار کو انڈیا میں 12 ہزار مزید متاثرین سامنے آئے ہیں۔

  20. ایران: اپریل کے بعد پہلی مرتبہ یومیہ ہلاکتیں 100 سے زیادہ

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران میں اپریل کے بعد سے پہلی مرتبہ ایک روز میں 100 سے زائد اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

    وزارتِ صحت کی ترجمان سیما سادات لاری نے کہا: ‘ہمارے لیے تین ہندسوں پر مبنی اعداد و شمار جاری کرنا بہت تکلیف دہ ہے۔ یہ ایک خوف ناک وائرس ہے جس کی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی اور یہ ہمیں کسی بھی وقت حیرت زدہ کر سکتا ہے۔’

    انھوں نے ٹی وی پر اعلان کیا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 107 مزید ہلاکتیں ہوئی ہیں جس کے بعد ایران میں اب تک کُل 9000 لوگ ہلاک چکے ہیں۔

    ایران میں کورونا وائرس کا پہلا کیس قُم شہر میں فروری میں سامنے آیا تھا۔ حکومت نے سخت لاک ڈاؤن کے اقدامات نافذ کیے مگر معیشت سے دباؤ گھٹانے کے لیے ان میں اپریل میں نرمی کر دی گئی۔

    سنیچر کو ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا کہ کچھ شہری وائرس کو قابو میں رکھنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر عمل نہیں کر رہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو وہ لاک ڈاؤن دوبارہ نافذ کر دیں گے۔