آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس: بلوچستان میں کورونا کے 304 نئے مریض، خیبرپختونخوا میں متاثرین 15 ہزار سے زیادہ

دنیا بھر میں اب تک 72 لاکھ سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ دو ہزار سے زائد افراد اس مرض سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرین اور ہلاکتیں صوبہ پنجاب میں ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ’کورونا کی وجہ سے رواں موسم گرما برطانیہ میں ہنگامے پھوٹ سکتے ہیں‘

    برطانیہ کے ایک سائنسی مشیر نے متنبہ کیا ہے کہ رواں موسم گرما کے دوران ملک میں ہنگامے پھوٹ سکتے ہیں اور ایسا کورونا وائرس کی وجہ سے ہو گا۔

    سماجی نفسیات کے پروفیسر کلیفورڈ سٹاٹ کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر بیروزگاری، روزگار کے حوالے سے خدشات اور معاشی اور نسلی عدم مساوات آئندہ آنے والے مہینوں میں ’جھگڑوں‘ کے امکانات کو بڑھا سکتے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ غریب اور متوسط علاقوں میں بڑھتی خلیج اور علاقوں کی بنیاد پر لگائے جانے والا لاک ڈاؤن بھی اس میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔

    پی اے نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’میرے خیال میں بدامنی کی بدتر صورتحال کی مماثلت اس صورتحال سے ہو سکتی ہے جو برطانیہ کو سنہ 2011 میں درپیش تھی۔‘

  2. پلازمہ عطیہ کرنے والوں کے لیے ہیلپ لائن کا آغاز

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے نے کورونا سے صحت مند ہونے والے متاثرین کو اپنا پلازمہ عطیہ کرنے میں سہولت فراہم کرنے کی غرض سے ہیلپ لائن کا آغاز کر دیا ہے۔

    پلازمہ عطیہ کرنے کے خواہشمند افراد 03041110161 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

    اس حوالے سے ڈیٹا اندراج کے لیے این ڈی ایم اے کے ایک افسر کو فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ہیلپ لائن 24 گھنٹے رواں رہے گی جبکہ ڈونرز کا نام اور دوسری ذاتی معلومات صیغہ راز میں رکھی جائیں گی۔

    این ڈی ایم اے نے اپیل کی ہے کہ صحت مند ہونے والے افراد زیادہ سے زیادہ اس کار خیر میں حصہ لیں۔

    پورٹ ایبل ونٹیلیٹرز

    این ڈی ایم اے نے ملک بھر کے مختلف ہسپتالوں کو 90 پورٹ ایبل وینٹیلیٹرز فراہم کر دیے ہیں۔ ان ونٹیلیٹرز کو حسب ضرورت ایک بیڈ سے دوسرے پر بھی منتقل کیا جا سکتا ہے۔

    پنجاب اور سندھ کو 25، 25 پورٹ ایبل ونٹیلیٹرز دیے گئے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا کو 15 اور بلوچسستان کو 10 پورٹ ایبل ونٹیلیٹرز دیے گئے ہیں۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور اسلام آباد کے ہسپتالوں کے لیے پانچ، پانچ پورٹ ایبل وینٹیلیٹرز دیے گئے ہیں۔

  3. لاک ڈاؤن نے ایچ آئی وی کے شکار افراد کو کیسے متاثر کیا؟

  4. اینٹی باڈی ٹیسٹ کیا ہوتا ہے اور کیوں کیا جاتا ہے؟

    پاکستان میں کئی لیبارٹریاں کورونا وائرس کے لیے اینٹی باڈی ٹیسٹ کر رہی ہیں۔

    برطانوی ادارے پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے بھی کورونا وائرس کے لیے ایک نیا اینٹی باڈی ٹیسٹ منظور کر لیا ہے۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ اینٹی باڈی ٹیسٹ کیا ہوتا ہے اور اس کی اہمیت کیوں زیادہ ہے۔

  5. کورونا کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے اور اب تک مصدقہ متاثرین کی تعداد 72 لاکھ کے قریب اور ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ 11 ہزار سے زیادہ ہے۔ پاکستان پر نظر ڈالیں تو وہاں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ ہے جبکہ 2255 افراد اس وبا کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

    محققین کے مطابق دنیا میں کورونا سے متاثر ہونے والے 80 فیصد افراد میں اس کی معمولی علامات ہی دکھائی دی ہیں اور ایسے لوگ جن میں یہ علامات شدت سے پائی گئیں اقلیت میں ہیں۔

  6. ’حکومت عالمی ادارہ صحت کی لاک ڈاؤن سے متعلق تجویز کو سنجیدگی سے لے‘

    پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کورونا کے معاملے پر اتنے کنفیوز ہیں کہ اب سوشل میڈیا پر بھی اس کا چرچہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ قوم کو بتایا جائے کے سمارٹ لاک ڈاؤن کیا جس کے دوران حکومت کی جانب سے ہر وہ کام کیا گیا جس سے ملک میں انتشار پھیلا۔

    انھوں نے کہا کہ سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران کورونا پر توجہ دینے کے بجائے حکومت کی پوری توجہ اپوزیشن کو دبانے پر رہی اور اب اس کا نتیجہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔

    ’سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران آٹا اور چینی مہنگی کی گئی اور پیٹرول مارکیٹ سے غائب کر دیا گیا جبکہ دوسری جانب دعوی یہ ہے کہ لاک ڈاؤن غریبوں کی وجہ سے ہٹایا جا رہا ہے۔‘

    نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ وقفے وقفے سے لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا جائے، ٹیسٹنگ کی صلاحیت بڑھائی جائے اور احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔‘ انھوں نے کہا کہ حکومت کو عالمی ادارہ صحت کی تجویز کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔‘

  7. برطانیہ: مشہور ریستوران چین نے تین ہزار سے زائد ملازمین کو فارغ کرنے کا عندیہ دے دیا

    رولز رائس، برٹش ایئر ویز، ایزی جیٹ اور لُکرز کی جانب سے اپنی اپنی کمپنیوں میں نوکریوں کی تعداد کم کرنے کے بعد اب برطانیہ کی مشہور ریستوران چین نے بھی اپنے ملازمین کو فارغ کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

    ’دی ریسٹورنٹ گروپ‘، جو کہ مشہور ریستورانوں ’فرینکی اینڈ بینیز‘ کی چین بھی چلاتا ہے، نے ملک بھر میں اپنے 125 آؤٹ لیٹس کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    برطانیہ میں لاک ڈاؤن کے بعد ملک بھر میں ریستوران 23 مارچ کو بند کر دیے گئے تھے اور جولائی کے پہلے ہفتے سے قبل انھیں دوبارہ کھولنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

    دی ریسٹورنٹ گروپ کی جانب سے اس اعلان کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ اس کاروبار سے وابستہ تین ہزار سے زائد افراد بیروزگار ہو جائیں گے۔

  8. بلوچستان میں کورونا سے متاثرہ صحافیوں کی تعداد 46 ہو گئی

    صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں مزید آٹھ صحافی اور میڈیا ورکرز کورونا سے متاثر ہو گئے ہیں۔

    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر شہزادہ ذوالفقار نے بی بی سی کو بتایا کہ اب بلوچستان میں مجموعی طور پر متاثرہ میڈیا ورکرز کی تعداد 46 ہو گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر سے کورونا سے متاثر ہونے والے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی تعداد 130سے زائد ہے۔ جبکہ اب تک تین ورکرز اس وائرس کے باعث ہلاک بھی ہو گئے ہیں

    انھوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے زندگی کی بازی ہارنے والے صحافیوں میں سے ایک کا تعلق خیبر پختونخوا جبکہ دو کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔

  9. یورپ میں پناہ حاصل کرنے کی درخواستیں گذشتہ ایک دہائی کی کم ترین سطح پر

    یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یورپی ممالک میں پناہ حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کی درخواستیں موصول ہونے کی شرح گذشتہ ایک دہائی میں اپنی کم سے کم تر سطح پر ہے۔

    یورپی یونین کے مطابق رواں برس اپریل کے مہینے میں موصول ہونے والی درخواستیں گذشتہ ایک دہائی کے دورانیے میں سے سے کم ہیں۔

    کورونا کی وجہ سے یورپی یونین نے اپنی سرحدیں مارچ کے مہینے میں بند کر دی تھیں جبکہ بیشتر یورپی ممالک نے بھی اس دورانیے میں اپنی اپنی سرحدیں بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق یورپین آزئیلم سپورٹ آفس کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق درخواستوں کی تعداد اپریل میں 8730 ہے جو کہ رواں برس فروری کے مقابلے میں 86 فیصد کم ہے۔ فروری میں درخواستوں کی تعداد 61 ہزار سے زیادہ تھی۔

    یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ مختلف یورپی ممالک کی جانب سے لاک ڈاؤن کا نفاذ ہے۔

  10. دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈے لاک ڈاؤن میں کیسے لگتے ہیں؟

  11. بجٹ اجلاس: بلوچستان اسمبلی کے تمام ملازمین کے لیے کورونا ٹیسٹ لازمی قرار

    بلوچستان اسمبلی کے تمام ملازمین کے لیے بجٹ اجلاس سے قبل کورونا ٹیسٹ کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    اس حوالے سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں اسمبلی سیکریٹریٹ اور ایم پی ایز ہاسٹل کے تمام افسران و اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ بلوچستان اسمبلی کا بجٹ اجلاس مورخہ 18 جون 2020 کو متوقع ہے۔

    پریس ریلیز کے مطابق کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کو مدنظر رکھتے ہوئے اجلاس سے قبل اسمبلی سیکریٹریٹ اور ایم پی اے ہاسٹل کے افسران و اہلکاروں کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    اس سلسلے میں محکمہ صحت کا عملہ کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرنے کے لیے سیکریٹریٹ ہذا میں مورخہ 15 اور 16 جون 2020 کو آئیں گے لہذا مقررہ تاریخ کو تمام افسران و اہلکاران اپنی حاضری کو یقینی بنائیں تاکہ ان کا کورونا ٹیسٹ کرایا جا سکے۔

    پریس ریلیز کےمطابق کورونا وائرس کا ٹیسٹ نہ کرنے والے افسران و اہلکاروں کو بجٹ اجلاس میں غیر حاضر تصور کیا جائے گا۔

  12. کیا آپ صحت یابی کے بعد دوبارہ کووڈ-19 کا شکار ہو سکتے ہیں؟

    کیا آپ کو صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ بھی کورونا وائرس نشانہ بنا سکتا ہے؟ کچھ مریض دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بیمار کیوں ہیں؟ کیا یہ مرض ہر سردی میں واپس آئے گا؟ کیا ویکسین کارگر ثابت ہو گی؟ کیا امیونٹی پاسپورٹ کی مدد سے ہم میں سے کچھ لوگ کام پر واپس جا سکتے ہیں؟ اس وائرس سے نمٹنے کے لیے کن طویل المدتی اقدامات کی ضرورت ہے؟

    دنیا میں کووڈ-19 کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد جہاں روز بروز بڑھ رہی ہے وہیں یہ سوالات بھی تواتر سے پوچھے جانے لگے ہیں۔

    ان تمام سوالات میں جو ایک چیز مشترک ہے وہ ہے امیون سسٹم یا مدافعتی نظام اور ہم اس بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔

  13. کورونا کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے؟

    دنیا بھر میں مختلف ممالک الگ الگ طریقوں سے لوگوں کی ٹیسٹنگ کر رہے ہیں تاکہ کورونا وائرس کی تشخیص کی جا سکے اور متاثرین کی تعداد کے بارے میں معلوم ہو سکے۔

    اس ڈیجیٹل ویڈیو میں آپ جان سکتے ہیں کہ ٹیسٹنگ کیا ہے اور یہ کیوں ضروری ہے۔

  14. پاکستان: صحت یابی کا تناسب گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ، اسلام آباد میں سب سے کم

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا کے مصدقہ متاثرین کے صحت یاب ہونے کا سب سے بہتر تناسب گلگت بلتستان جبکہ سب سے کم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہے۔

    پاکستان میں صحت یاب ہونے والے افراد کی شرح 31.9 فیصد ہے۔

    گلگت بلتستان میں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد 974 ہے جن میں سے اب تک 616 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں اور اس طرح یہاں متاثرین میں صحت یاب ہونے کی شرح 63.2 فیصد ہے۔

    دوسری جانب اسلام آباد میں متاثرین کی مجموعتی تعداد 5963 ہے، جن میں سے اب تک صرف 843 افراد ہی مکمل صحت یاب ہو پائے ہیں۔اسلام آباد میں صحت یاب ہونے کا تناسب 14.1 فیصد ہے۔

    اسی طرح پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں یہ تناسب 48.87 فیصد، سندھ میں 48.17 فیصد، بلوچستان میں 35 فیصد، خیبرپختونخوا میں 24.89 فیصد جبکہ پنجاب میں 19.89 فیصد ہے۔

  15. نئی دہلی میں پانچ لاکھ متاثرین ہونے کا خدشہ

    انڈین دارالحکومت نئی دہلی میں ڈپٹی وزیر اعلی منیش سسوڈیا نے کہا ہے کہ جس رفتار سے دہلی میں متاثرین سامنے آ رہے ہیں، ممکن ہے کہ جولائی کے اختتام تک پانچ لاکھ مریض صرف اس شہر میں سامنے آ سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو دہلی کو 80 ہزار ہسپتال کے بیڈز چاہیے ہوں گے کہ جو موجودہ نو ہزار بیڈز سے کہیں زیادہ ہے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دہلی میں شہریوں نے شکایات کے انبار لگا دیے ہیں کہ انھیں ہسپتالوں میں جگہ نہیں مل رہی ہے۔

    حکومت نے منگل کو اعلان کیا کہ وہ 22 نجی ہسپتالوں میں بیڈز کی تعداد دگنی کر دے گی۔

    اس وقت دہلی میں 30 ہزار سے زیادہ مریض موجود ہیں جبکہ انڈیا میں مجموعی طور پر ڈھائی لاکھ کل متاثرین اور ساڑھے سات ہزار کے قریب اموات ہوئی ہیں۔

  16. خیبرپختونخوا میں یومیہ ٹیسٹنگ کا ’نیا ریکارڈ‘ ، فی دس لاکھ آبادی ٹیسٹنگ کے اعتبار سے ابھی بھی پیچھے

    خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور خان جھگڑا کے مطابق صوبے میں گذشتہ روز ریکارڈ تعداد میں کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انھوں نے بتایا کہ منگل کے روز صوبے بھر میں 3121 کورونا ٹیسٹ کیے گئے جو کہ یومیہ ٹیسٹنگ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل ایک روز میں زیادہ سے زیادہ 3034 ٹیسٹ کیے گئے تھے۔

    وزیر صحت کے مطابق صوبے کی ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ خیبر پختونخوا پر مسلسل تنقید ہو رہی ہے کہ انھوں نے متاثرین اور اموات میں اضافہ کے باوجود ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ نہیں کیا ہے اور پانچ جون کے بعد جا کر وہ فی دس لاکھ ٹیسٹنگ کے اعتبار سے بلوچستان کے آگے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

  17. کورونا وائرس: ممبئی میں کووڈ 19 کے متاثرین کی تعداد چین کے شہر ووہان سے بھی زیادہ

    انڈیا کے تجارتی مرکز ممبئی میں کورونا وائرس کے 51 ہزار کیس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں جس کے بعد یہاں متاثرین کی تعداد اس وبا کے مرکز چین کے شہر ووہان سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔

    واضح رہے کہ انڈیا میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 276,146 ہو گئی ہے جبکہ اب تک اس وائرس سے 7,750 افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

    انڈین ریاست مہاراشٹر، جس کا دارالحکومت ممبئی ہے، میں کورونا وائرس کے 90 ہزار کیس سامنے آ چکے ہیں۔انڈیا کے دارالحکومت دلی میں بھی کورونا وائرس کے متاثرین میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ جولائی کے آخر تک یہاں متاثرین کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

    متاثرین کی تعداد میں یہ اضافہ کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کے بعد دیکھا گیا ہے۔

    آٹھ جون سے شاپنگ مالز، عبادت گاہوں اور دفاتر کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ اس سے قبل دکانوں، مارکیٹس اور ٹرانسپورٹ کو بھی بحال کر دیا گیا تھا۔

    لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ اس سے ملک نے بڑے پیمانے پر معاشی نقصان برداشت کیا۔

    لاکھوں افراد پہلے ہی اپنے روزگار کھو چکے ہیں جبکہ کئی ذریعہ معاش اور کاروبار بند ہو رہے ہیں جبکہ بھوک کے خوف کی وجہ سے دوسرے شہروں سے آئے کئی مزدور اپنے علاقوں کو واپس لوٹ گئے ہیں۔

    زیادہ تر مزدور پیدل ہی اپنے علاقوں کو پہنچے ہیں کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹرانسپورٹ بند تھی۔ ان میں سے کئی مزدور دوران سفر بھوک اور تھکن سے ہلاک بھی ہوئے ہیں جسے انسانی المیہ کہا جا رہا ہے۔

    ہفتوں تک انڈیا میں کووڈ 19 کے نسبتاً کم متاثرین سامنے آنے نے ماہرین کو حیران کر دیا۔ گنجان آبادی، بیماری اور سرکاری ہسپتالوں کے باوجود انفکشن یا اموات کا کوئی سیلاب دیکھنے میں نہیں آیا۔

    شاید اس کی ایک وجہ کم ٹیسٹنگ تھی اور شاید اسی وجہ سے حکومت نے لاک ڈاؤن ختم کر دیا لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بڑھتے ہوئے متاثرین کی تعداد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کو دیر سے اس وبا کے عروج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    دوسری جانب انڈیا کے سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں کو حکم دیا ہے کہ دوسری ریاستوں سے آنے والے مزدوروں کو ان کے گھر 15 دنوں میں واپس بھیجا جائے۔

    انڈیا میں بڑے پیمانے پر لاک ڈاؤن کے بعد لاکھوں کی تعداد میں مزدرو پیدل چل کر اپنے اپنے گاؤں اور گھر واپس گئے اور اس دوران بھوک اور پیاس اور تپتی ہوئی گرمی کے باعث کئی افراد کی موت ہو گئی۔

    ان مناظر سے انڈیا میں کافی غم و غصہ پھیلا تھا۔

    مئی کے مہینے میں انڈین حکومت نے ان افراد کے لیے خصوصی ٹرین چلانے کا حکم دیا اور عدالت کو بتایا گیا کہ اب تک چار ہزار ٹرینوں میں ساڑھے پانچ لاکھ سے زیادہ افراد کو ان کے گھروں تک لے جایا گیا ہے۔

  18. بلوچستان: سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ

    محکمہ صحت حکومتِ بلوچستان نے سمارٹ لاک ڈاﺅن بالخصوص عید الفطر کے موقع پر احتیاطی تدابیر کی عدم پیروی کے باعث کورونا کے کیسز میں اضافے کے حوالے سے جس خدشے کا اظہار کیا تھا وہ درست ثابت ہو رہا ہے۔

    بلوچستان میں اب تک کورونا کے کیسز کی تعداد 7031 ہے۔ محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے ایک جائزہ رپورٹ پیش کی ہے جس کے مطابق صوبے میں مکمل لاک ڈاؤن کے دوران سامنے آنے والے پہلے ایک ہزار کیس 50 دنوں کے دورانیے میں سامنے آئے۔

    تاہم اس کے بعد مکمل لاک ڈاؤن کو سمارٹ لاک ڈاؤن میں بدلا گیا اور مریضوں کی تعداد میں بھی اچانک تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    مریضوں کی تعداد ایک ہزار سے بڑھ کر دو ہزار ہونے میں صرف 11 دن، دو ہزار سے تین ہزار ہونے میں صرف 10 دن، تین سے چار ہزار ہونے میں نو دن، پانچ ہزار ہونے میں پانچ دن جبکہ متاثرین کی تعداد پانچ ہزار سے بڑھ کر چھ ہزار ہونے میں صرف چار دن لگے۔

  19. کوئٹہ: طلبا کا فرنٹ لائن ورکرز کو دیواروں پر پینٹنگز کے ذریعے خراجِ تحسین

    بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں کورونا وائرس سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر کی آگاہی کے لیے انتظامیہ کے ساتھ ساتھ طالبعلم بھی پیش پیش ہیں۔ کوئٹہ کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلبا نے کوئٹہ شہر کی دیواروں پر کورونا وائرس سے آگاہی کا پیغام رنگوں اور برش کے ذریعے خوبصورتی سے پینٹ کیا۔

    اس کے ساتھ ہی وال پینٹنگز میں فرنٹ لائن پر کام کرنے والے طبی عملے، انتظامیہ اور میڈیا کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ رنگوں کے امتزاج سے پیش کیا گیا کوئٹہ کے نوجوانوں کا پیغام دیکھیے آسیہ انصر اور محمد ابراہیم کی ڈیجیٹل رپورٹ میں۔

  20. پیرس کا آئیفل ٹاور 25 جون سے دوبارہ کھل جائے گا

    فرانس کے دارالحکومت پیرس نے شہر کے تاریخی آئیفل ٹاور کو سیاحوں کے لیے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے جو کہ گذشتہ تین ماہ سے بند تھا۔

    مارچ میں بند کیے جانے والے آئیفل ٹاور کو جون کی 25 تاریخ سے کھول دیا جائے گا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ طویل ترین دورانیہ تھا جب آئیفل ٹاور کو عوام کے لیے بند کیا گیا ہو۔

    وہاں جانے والوں کے لیے چند احتیاطی تدابیر لازمی قراد دی گئی ہیں۔ انھیں ماسک پہننا ہوگا اور وہ صرف پہلے درجے پر جا سکیں گے۔ باقی ٹاور رسائی کے لیے بند رہے گا۔

    فرانس کے دیگر شہروں میں سیاحوں کے لیے مقامات اور میوزیم آہستہ آہستہ دوبارہ کھل رہے ہیں۔ معروف ورسائیل پیلیس چھ جون کو کھل گیا تھا اور لوور میوزیم جولائی میں کھل جائے گا۔

    فرانس متاثر ہونے والے بڑے ممالک میں سے ہے جہاں دو لاکھ کے قریب متاثرین ہیں جن میں سے 30 ہزار افرد ہلاک ہو گئے ہیں۔