انڈیا کے تجارتی مرکز ممبئی میں کورونا وائرس کے 51 ہزار کیس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں جس کے بعد یہاں متاثرین کی تعداد اس وبا کے مرکز چین کے شہر ووہان سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ انڈیا میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 276,146 ہو گئی ہے جبکہ اب تک اس وائرس سے 7,750 افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔
انڈین ریاست مہاراشٹر، جس کا دارالحکومت ممبئی ہے، میں کورونا وائرس کے 90 ہزار کیس سامنے آ چکے ہیں۔انڈیا کے دارالحکومت دلی میں بھی کورونا وائرس کے متاثرین میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ جولائی کے آخر تک یہاں متاثرین کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
متاثرین کی تعداد میں یہ اضافہ کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کے بعد دیکھا گیا ہے۔
آٹھ جون سے شاپنگ مالز، عبادت گاہوں اور دفاتر کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ اس سے قبل دکانوں، مارکیٹس اور ٹرانسپورٹ کو بھی بحال کر دیا گیا تھا۔
لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ اس سے ملک نے بڑے پیمانے پر معاشی نقصان برداشت کیا۔
لاکھوں افراد پہلے ہی اپنے روزگار کھو چکے ہیں جبکہ کئی ذریعہ معاش اور کاروبار بند ہو رہے ہیں جبکہ بھوک کے خوف کی وجہ سے دوسرے شہروں سے آئے کئی مزدور اپنے علاقوں کو واپس لوٹ گئے ہیں۔
زیادہ تر مزدور پیدل ہی اپنے علاقوں کو پہنچے ہیں کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹرانسپورٹ بند تھی۔ ان میں سے کئی مزدور دوران سفر بھوک اور تھکن سے ہلاک بھی ہوئے ہیں جسے انسانی المیہ کہا جا رہا ہے۔
ہفتوں تک انڈیا میں کووڈ 19 کے نسبتاً کم متاثرین سامنے آنے نے ماہرین کو حیران کر دیا۔ گنجان آبادی، بیماری اور سرکاری ہسپتالوں کے باوجود انفکشن یا اموات کا کوئی سیلاب دیکھنے میں نہیں آیا۔
شاید اس کی ایک وجہ کم ٹیسٹنگ تھی اور شاید اسی وجہ سے حکومت نے لاک ڈاؤن ختم کر دیا لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بڑھتے ہوئے متاثرین کی تعداد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کو دیر سے اس وبا کے عروج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب انڈیا کے سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں کو حکم دیا ہے کہ دوسری ریاستوں سے آنے والے مزدوروں کو ان کے گھر 15 دنوں میں واپس بھیجا جائے۔
انڈیا میں بڑے پیمانے پر لاک ڈاؤن کے بعد لاکھوں کی تعداد میں مزدرو پیدل چل کر اپنے اپنے گاؤں اور گھر واپس گئے اور اس دوران بھوک اور پیاس اور تپتی ہوئی گرمی کے باعث کئی افراد کی موت ہو گئی۔
ان مناظر سے انڈیا میں کافی غم و غصہ پھیلا تھا۔
مئی کے مہینے میں انڈین حکومت نے ان افراد کے لیے خصوصی ٹرین چلانے کا حکم دیا اور عدالت کو بتایا گیا کہ اب تک چار ہزار ٹرینوں میں ساڑھے پانچ لاکھ سے زیادہ افراد کو ان کے گھروں تک لے جایا گیا ہے۔