آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاکستان اب دوبارہ لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا: وزیر اعظم عمران خان

دنیا میں اس وقت 66 لاکھ سے زیادہ افراد کورونا سے متاثر ہیں جبکہ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 90 ہزار کے قریب ہے۔ لاہور میں لوگوں کی جانب سے ماسک نہ پہننے پر ٹریفک وارڈن کو چالان کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے جبکہ حکام کے مطابق ملک بھر میں قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے ہزاروں کاروباری مراکز بند کیے جا چکے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. کووڈ 19 کے بحران کے بعد یورپ سیاحوں کے لیے کھلنے کا امکان

    اس بات کے قوی امکان ہیں کہ موسم گرما کے دوران یورپ اپنے دروازے سیاحوں کے لیے کھولے گا۔ تاہم کچھ ممالک اس بارے میں غور کر رہے ہیں کیونکہ یورپی یونین نے خطے میں اس سے متعلق اقدامات نہیں اٹھائے۔

    یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جون کے اواخر تک سرحدوں کو کھولا جاسکتا ہے۔

    اٹلی نے بدھ سے اپنی سرحد کچھ ممالک کے لیے کھول دی ہے لیکن ابھی کوئی وہاں گیا نہیں ہے۔ آسٹریا نے بدھ کی شب سے اپنے ہمسایہ ممالک کے شہریوں کے داخلے پر پابندی ہٹا دی تھی۔

    سپین 1 جولائی سے فرانس اور پرتگال کے شہریوں کے لیے سرحد کھولنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

    اس نے تاحال دیگر ممالک کے لیے سرحد کھولنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

    اس سلسلے میں یورپی یونین کی جانب سے کوئی بھی کوشش پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

    یورپی یونین کا رکن ملک بیلجیئم 15 جون سے اپنی سرحد کھول رہا ہے۔

    فرانس کی یہ کوشش ہے کہ 1 جولائی سے شینگن ویزے والے تمام سیاحوں کو خوش آمدید کہا جاسکے۔

  2. افواہیں، خوف اور پاکستان میں کورونا وائرس سے بڑھتی اموات, سکندر کرمانی، بی بی سی نیوز

    ہم سب ہی بہتر صحت کا نظام دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ اپنے خاندان کو قرنطینہ میں رکھنے سے متعلق ہچکچاہٹ بھی ہے۔

    ایسے میں یہ افواہیں بھی عام ہیں کہ کورونا وائرس کے زیادہ متاثرین بتانے سے عالمی ادارہ صحت پاکستان کو مالی مدد فراہم کرتا ہے۔

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس کی حالیہ دنوں میں اپنے ایک دوست سے ملاقات ہوئی۔

    انھوں نے کہا: ’میرے بیٹے کو فلُو اور بخار ہے مگر میں اسے ہسپتال اس وجہ سے نہیں لے کر جاتی کیونکہ ڈاکٹر ہر طرح کے بخار کو کورونا قرارد دیتے ہیں اور پھر اس کے بدلے انھیں ہر بار پانچ سو روپے ملتے ہیں۔‘

    بظاہر یہ تھیںوری ہنسی مذاق کے سوا کچھ نہیں لگتی مگر اس کے بڑے خطرناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    کراچی، پشاور اور لاہور کے ہسپتالوں میں مریضوں کے خاندان کی طرف سے عملے کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔

  3. مسلم لیگ نواز کے عطااللہ تارڑ کورونا سے صحتیاب

    پاکستان کی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عطااللہ تارڑ کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد اب مکمل طور پر صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ آئسولیشن میں 14 دن تک رہنے کے بعد نیے ٹیسٹ کے نتائج منفی آئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سیکھنے کے اعتبار سے ایک تجربہ رہا ہے۔‘

  4. تائیوان میں لاک ڈاؤن سے مساج پارلرز کا کاروبار شدید متاثر

    کورونا وائرس کی وجہ سے تائیوان کی سرحدیں بند ہونے کی وجہ سے ملک کے شاہی مساج پارلرز کے عملے کے پاس اب کرنے کو کچھ زیادہ کام نہیں رہا۔

    جہاں پہلے کبھی 600 اور اس سے بھی زیادہ گاہک روز آیا کرتے تھے اب وہاں لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ تعداد کم ہو کر ایک یا دو تک رہ گئی ہے۔

    تائیوان میں سیاحت کی صنعت حالیہ برسوں میں خوب پھلی پھولی۔ حکومت نے بھی اس کے فروغ کی حوصلہ افزائی کی تاکہ معیشت کو ہر طرف سے مضبوط کیا جا سکے۔

    تائیوان کو جہاں روایتی کھانوں اور قدرتی خوبصورتی کی برتری حاصل ہے وہیں ایشیا میں اسے بہت آزاد خیال جمہوری ملک تصور کیا جاتا ہے۔

    کورونا وائرس نے اس صنعت کو بالکل ختم کر کے رکھ دیا ہے۔ تائیوان کی حکومت نے متاثرہ کمپنیوں کی مدد کے لیے سبسڈی اور کم سود والے قرضوں کا اجرا کیا ہے۔

    تائیوان نے شروع ہی سے احتیاطی تدابیر کے نفاذ سے وبا کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔ ملک کا صحت کا نظام بھی اعلیٰ درجے کا ہے۔

    تاہم دیگر کئی ممالک کی طرح تائیوان کو بھی اپنی سرحدیں بند کرنا پڑی ہیں۔

    شاہی مساج پارلرز جییسی جگہوں کا کا انحصار جاپانی اور جنوبی کوریائی سیاحوں پر ہے۔ تائیوان کے 24 گھنٹے چلنے والے مساج پارلرز کی آمدن کا بنیادی ذریعہ بالکل ختم ہو کر رہ گیا ہے۔

  5. بریکنگ, لاہور: ماسک نہ پہنے پر چالان کٹنا شروع

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں سماجی فاصلے کے لیے جاری کردہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سختی سے کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    اسی سلسلے میں صوبائی دارالحکومت لاہور میں لوگوں کی جانب سے ماسک نہ پہننے پر ٹریفک وارڈن کو چالان کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔

    سی ٹی او لاہور کے مطابق ماسک نہ ہہننے کی صورت میں کار ڈرائیور کا 300 روپے اور موٹر سائیکل سوار افراد کا 200 روپے کا چالان کیا جا سکتا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق جمعے کو کچھ افراد کے چالان بھی کاٹے گئے ہیں۔

    جمعے کو سی ٹی او لاہور حماد عابد خود لبرٹی چوک میں ماسک پہننے سے متعلق عوام کو آگاہی دے رہے تھے۔

  6. بریکنگ, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر: محکمہ صحت سے منسلک پہلے اہلکار کی ہلاکت, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صف اول پر جنگ لڑنے والا محکمہ صحت کا پہلا اہلکار کورونا میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوگیا ہے۔

    ضلع راولاکوٹ کے ڈپٹی کمشنر مرزا ارشد جرال کے مطابق راولاکوٹ کے شیخ زید ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں زیر علاج کورونا کا ایک مریض ہلاک ہوا جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 8 ہوگئی ہے۔

    ان کے مطابق ہلاک ہونے والا شخص محکمہ صحت کا اہلکار ہے اور شیخ زید ہسپتال راولاکوٹ میں کورونا کے خلاف جنگ میں صف اول پر مامور رہا جس بنا پر اس خطے میں کورونا وائرس کے خلاف جنگ پر مامور محکمہ صحت کے طبی عملے میں پہلی موت واقع ہوئی ہے۔

    ان کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کا بھائی بھی کووڈ 19 میں مبتلا ہے اور زیر علاج ہے۔

  7. فرانس میں ’وبا اب قابو میں ہے‘, ہیو سکوفیلڈ، بی بی سی نامہ نگار، پیرس

    فرانسیسی حکومت کے چیف سائنسی مشیر کا کہنا ہے کہ ملک میں اب کورونا وائرس کی وبا قابو میں ہے۔

    پروفیسر ژان فرانسوا دلفریسی کے مطابق وائرس کے خلاف کامیابی لاک ڈاؤن کے باعث حاصل ہوئی لیکن ساتھ ہی اس کا تعلق بڑھتے درجہ حرارت سے بھی ہو سکتا ہے۔

    فرانس میں کورونا متاثرین کے اعدادوشمار صحیح سمت میں جاتے دکھائی دے رہے ہیں، جمعرات کو ہسپتالوں میں صرف 44 اموات کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں اور پروفیسر دلفریسی کے مطابق اب متاثرین کی یومیہ تعداد ایک ہزار سے زیادہ نہیں ہوگی۔

    اس کے مقابلے میں مارچ میں ملک یومیہ 80 ہزار کیس سامنے آ رہے تھے۔ پروفیسر دلفریسی کہتے ہیں کہ وائرس اگرچہ اب بھی گردش کر رہا ہے لیکن اس کے پھیلاؤ کی رفتار پہلے سے سست ہو گئی ہے اور جہاں بھی نئے کلسٹر سامنے آتے ہیں ان سے مؤثر ٹیسٹنگ، کانٹیکٹ ٹریسنگ اور قرنطینہ کے ذریعے نمٹا جا رہا ہے۔

    فرانس نے چار ہفتے پہلے لاک ڈاؤن ختم کرنا شروع کیا تھا اور اب ملک میں شہریوں کی نقل و حرکت پر لگی زیادہ تر پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔

  8. چہرے پر ماسک پہنتے ہوئے ان چیزوں کا خیال ضرور رکھیں!

    جیسے جیسے لاک ڈاؤن میں نرمی ہو رہی ہے، دنیا بھر میں پہلے سے زیادہ لوگ اپنی حکومت کے مشوروں کے تحت ماسک پہن رہے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ ماسک صرف اس صورت میں موثر ثابت ہوتے ہیں جب مناسب طریقے سے پہننے کے ساتھ بار بار ہاتھوں کی صفائی اور سماجی فاصلے کا خیال رکھا جائے۔

    ماسک پہنتے ہوئے کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ جاننے کے لیے دیکھیں یہ ویڈیو۔۔۔

  9. برطانیہ: 15 جون سے پبلک ٹرانسپورٹ میں ماسک پہننا لازم ہوگا

    برطانیہ کے سیکریٹری ٹرانسپورٹ نے کہا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کے لیے چہرے کا ماسک پہننا ضروری ہو گا۔

    15 جون سے پبلک ٹرانسپورٹ میں ماسک پہننا لازم ہوگا۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پولیس، نیٹ ورک ریل ورکرز اور دیگر شعبوں کے حکام اور رضا کار لوگوں کو ماسک پہننے کی ترغیب دیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ماسک پہننا ایک عقلمندی کی علامت ہے۔

  10. پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ

    حکام کے مطابق پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر کورونا کے مشتبہ متاثرین کی ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔

    گذشتہ روز ملک میں 22,812 کے ٹیسٹ کیے گئے تاکہ ان میں کووڈ 19 کی تشخیص کے حوالے سے تصدیق ہوسکے۔ اس سے قبل جمعرات کو جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد 20,167 تھی۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب میں 7705 جبکہ سندھ میں 8390 افراد کے ٹیسٹ ہوئے ہیں۔

    حکام کے مطابق اب تک کل 638,323 افراد کے ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔

  11. پنجاب: کووڈ 19 سے متاثرہ شہروں کی تفصیل

    اس وقت پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا کے کل 33,144 متاثرین ہیں۔ گذشتہ ایک روز میں 2040 نئے متاثرین کا اضافہ ہوا ہے۔

    اموات کے اعتبار سے یہ صوبہ سب سے زیادہ متاثرہ ہے جہاں کل اموات 629 ہوچکی ہیں۔ گذشتہ ایک روز میں کورونا سے 22 اموات پیش آئی ہیں۔

    سب سے زیادہ متاثرہ 16,388 افراد پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہیں۔

    اب تک یہاں 7806 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

  12. جمہوریہ چیک آج سے جرمنی، آسٹریا کے ساتھ سرحدیں کھول دے گا

    جمعرات کو سلواکیا کے ساتھ اپنی سرحدیں کھولنے کے بعد چیک حکومت نے پڑوسی ممالک آسٹریا اور جرمنی کے ساتھ بھی اپنی سرحدیں مکمل طور پر کھولنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    وزیر اعظم ایندرج بابس کا کہنا ہے کہ اب بغیر کسی رکاوٹ کے ہنگری کے لیے اور ملک سے باہر سفر کی اجازت ہو گی۔

    وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اب ان ممالک کا دورہ کرنے والے شہریوں کو ٹیسٹ کرانے اور قرنطینہ میں وقت گزارنے کی ضرورت نہیں ہے۔

    نیوز کانفرنس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ اب ہم اپنے معمول کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ یہ جمہوریہ چیک کے بھی فائدے میں ہے کہ جب لوگ یہاں آئیں اور پیسے خرچ کریں۔

    جمہوریہ چیک 15 جون سے 20 یورپی ممالک کے لیے بلا رکاوٹ داخلے کی اجازت دے گا۔

    جن ممالک میں ابھی کورونا وائرس کی وبا ہے انھیں اپنا وائرس سے نیگیٹو ٹیسٹ رپورٹ جمع کرانی ہوگی یا قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔

  13. فیجی کا دعوی: ’ہمارا ملک کورونا وائرس سے پاک ہے‘

    فیجی نے بھی کووڈ 19 کے آخری مریض کے کامیاب علاج کے بعد یہ دعوی کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے پاک ہو چکا ہے۔

    فیجی کے وزیر اعظم فرینک بنیا مارما کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کی کامیابی کا سہرا دعاؤں، سخت محنت اور سائنسی اصولوں پر عمل پیرا ہونے کو جاتا ہے۔

    فیجی کا شمار کورونا وائرس سے متاثرہ بحر الکاہل میں واقع جزائر میں ہوتا ہے۔ فیجی میں کورونا وائرس کے پہلے مریض کی تصدیق مارچ کے وسط میں ہوئی، جس سے ملک بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    اپنے ناقص صحت کے نظام کی وجہ سے فیجی سمیت اس خطے کے ممالک کے لیے وائرس کو بہت خطرناک سمجھا جاتا تھا۔

    تاہم ان ممالک نے جلدی سے اپنی سرحدیں بند کیں اور سیاحت کو ختم کر دیا، جس کی وجہ سے بہت سارے ممالک اس وائرس کو اپنے سے دور رکھنے میں کامیاب رہے۔

  14. آسٹریلوی وزیر اعظم کی شہریوں کو مظاہروں سے دور رہنے کی تنبیہ

    آسٹریلوی حکام نے نسلی امتیاز اور سیاہ فام افراد کے تحفظ سے متعلق سنیچر کو سڈنی میں ہونے والے مظاہرے کو روکنے کے لیے قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

    حکام نے اس کی وجہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کو قرار دیا ہے۔ مظاہرے میں ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے۔

    پولیس نے شروع میں اس شرط پر مظاہرے کی اجازت دی تھی کہ اس میں پانچ سو سے کم شرکا ہوں گے۔

    آسٹریلوی وزیر اعظم سکاٹ مورسن نے جمعے کو عوام سے اپیل کی کہ وہ اس طرح کے اجتماعات اور ریلیوں میں حصہ نہ لیں اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرنے کے متبادل طریقے تلاش کریں۔

    اس سے قبل امریکی ریاست نیو یارک کے گورنر اینڈریو کومو اور امریکہ میں بیماریوں کی روک تھام کے ادارے کے سربراہ رابرٹ ریڈفیلڈ نے مظاہروں مںی شرکت کرنے والے افراد کو کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دیا تھا۔

  15. بریکنگ, ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے پاکستان میں کیا اقدامات لیے جا رہے ہیں؟

    پاکستان میں قائم نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس میں آج تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز نے بریفننگ دی جس میں انھوں نے سماجی فاصلے کے احکامات اور سمارٹ لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کے حوالے سے شرکا کو آگاہ کیا۔

    جبکہ دوسری طرف این سی او سی کے اجلاس میں ایس او پیز کے نفاذ سے متعلق تفصیلات آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کی گئی ہیں۔

    حکام کے مطابق بلوچستان میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والی 3800 دکانیں بند کروائی گئیں۔

    پنجاب لاہور، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں میں 100 سے زیادہ بازار اور صنعتیں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر بند کروائی گئیں۔

    خیبر پختونخوا میں حکام نے ماسک پہننے سے متعلق لوگوں کو آگاہ کیا ہے اور دفاتر میں ماسک پہننا لازم قرار دیا ہے۔

    گلگت بلتستان کے حکام کا کہنا ہے کہ ماسک کے بغیر لوگوں کو کاروباری علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی جبکہ سندھ میں بھی اسی نوعیت کی تشہیری مہم چلائی جا رہی ہے۔

    گلگت بلتستان میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والی 440 دکانیں بند کروائی گئی ہیں۔

    ڈاکٹر فیصل سلطان کی سربراہی میں ایک ٹیم سندھ پہنچ چکی ہے اور اس کا مقصد مقامی انتظامیہ کی معاونت ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ کاروباری سرگرمیاں بحالی کی طرف جا رہی ہیں لیکن ایس او پیز پر عمل کرنا ہر شخص کے لیے لازم ہے۔

    کورونا سے متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کے لیے 14 ہزار نمونے بلاترتیب اکٹھے کیے گئے ہیں۔

    ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائیاں

    جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پنجاب میں 158، اسلام آباد میں 83، خیبر پختونخوا میں 35، گلگت بلتستان میں 440، بلوچستان میں 699 جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 26 مارکیٹیں بند کروائی گئی ہیں۔

    اس کے علاوہ مختلف بازاروں کا اچانک دورہ کیا گیا اور وہاں اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

    ایس او پیز کے نفاذ کے دوران ٹرانسپورٹ اور صنعتی مراکز کا بھی دورہ کیا گیا اور وہاں ہدایات کی خلاف ورزی پر کارروائی کی گئی۔

    اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گذشتہ روز 14,463 خلاف ورزیاں دیکھی گئی ہیں۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سندھ کے اعداد و شمار کا ذکر نہیں کیا گیا۔

  16. کورونا کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے؟

    دنیا بھر میں مختلف ممالک الگ الگ طریقوں سے لوگوں کی ٹیسٹنگ کر رہے ہیں تاکہ کورونا وائرس کی تشخیص کی جا سکے اور متاثرین کی تعداد کے بارے میں معلوم ہوسکے۔

    اس ڈیجیٹل ویڈیو میں آپ جان سکتے ہیں کہ ٹیسٹنگ کیا ہے اور یہ کیوں ضروری ہے۔۔۔

  17. ہائیڈرو کلوروکوین پر تحقیق کے نتائج واپس لے لیے گئے

    ہائیڈرو کلوروکوین پر اس تحقیق کے نتائج واپس لے لی گئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ اس دوا کا استعمال موت کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔

    اس تحقیق میں شامل تینوں مصنفین کا کہنا ہے کہ اب وہ اس تحقیق پر بھروسہ نہیں کر سکتے کیونکہ اس تحقیق کے پیچھے صحت پر کام کرنے والی کمپنی، سرگسفیر، انھیں ریسرچ ڈیٹا کا آزادانہ طور پر تجزیہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے

    اس تحقیق کے سامنے آنے کی وجہ سے عالمی ادارہ صحت نے اس دوا پر ٹیسٹنگ کو ملتوی کر دیا تھا۔

    امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس متنازع دوا کے استعمال پر زور دیتے آرہے ہیں۔

    اس تحقیق میں کیا کہا گیا تھا؟

    یہ ایک بڑے پیمانے پر کی گئی تحقیق تھی جس میں 671 ہسپتالوں سے کورونا وائرس کے 96 ہزار مریض شامل کیے گئے۔

    ان مریضوں میں سے تقریباً 15 ہزار کو ہائیڈرو کلوروکوین دی گئی۔ اس دوران معلوم ہوا کہ یہ دوا کورونا وائرس کے ان مریضوں کے کوئی خاص فائدہ مند ثابت نہیں ہو رہی ہے۔

    بلکہ اس کے بجائے یہ مریضوں میں موت کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔

    اس تحقیق کے مطابق ابھی تک اس بات کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں کہ یہ دوا کورونا وائرس کے خلاف کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔

  18. پیرو میں آکسیجن ’سٹریٹیجک اثاثہ‘ قرار

    کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے آکسیجن کی شدید کمی کے باعث پیرو کی حکومت نے آکسیجن کو صحت کا سٹریٹیجک اثاثہ قرار دے دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیرو کے صحت کا نظام اس وقت تباہی کے دھانے پر ہے، جہاں اس وقت 9000 سے زائد مریض ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

    پیرو کے صدر مارٹن کا کہنا ہے کہ آکسیجن کو صنعتی استعمال کے مقابلے صحت کے لیے ترجیح دی جائے گی۔

    پیرو میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 183,000 ہے۔

    برازیل کے بعد پیرو لاطینی امریکی ممالک میں دوسرے نمبر پر اس وائرس سے بری طرح متاثرہ ملک ہے، جہاں اب تک کورونا سے 5000 اموات ہو چکی ہیں۔

  19. پاکستان میں تیل کی قلت کا نوٹس لے لیا گیا

    ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد کمپیٹیشن کمیشن نے ملک بھر میں تیل کی قلت پیدا ہونے کا نوٹس لے لیا گیا ہے۔

    یہ قیمتیوں کووڈ 19 کے عالمی بحران کے دوران طلب میں کمی ہونے کے وجہ سے گِری ہیں۔

    کمیشن کا کہنا ہے کہ اسے ڈر ہے کہ شاید یہ قلت مصنوعی طور پر پیدا کی گئی ہے تاکہ منافع کمایا جا سکے۔

    اس حوالے سے کمشین تحقیقات کر رہا ہے۔

  20. بریکنگ, ڈی سی لاہور: آج مارکیٹوں کا ’اچانک دورہ‘ کیا جائے گا

    پاکستان میں صوبہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں سماجی فاصلے کے لیے جاری کردہ احکامات کی خلاف ورزی پر ضلعی انتظامیہ نے گذشتہ روز 61 دکانیں سیل کی تھیں۔

    ڈی سی لاہور دانش افضال کے مطابق اے سی ماڈل ٹاؤن نے ٹاؤن شپ میں27 دکانیں بند کروائیں جبکہ اے سی سٹی نے ہال روڈ میں 30 دکانوں کو سیل کیا۔

    اے سی شالیمار نے گڑھی شاہو میں 4 دکانوں کو سیل کیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’آج تمام مارکیٹوں کا سرپرائز وزٹ کیا جائے گا اور کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔‘

    ڈی سی لاہور کا کہنا ہے کہ تمام اسسٹنٹ کمشنرز متحرک رہیں گے۔