کورونا وائرس کے دوران پابندیوں میں رہنے والی ’لاک ڈاؤن جینریشن‘ کئی دہائیوں تک متاثر رہ سکتی ہے

دنیا میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 56 لاکھ 18 ہزار سے زیادہ جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 60 ہزار کے قریب ہے۔ کراچی کے این آئی بی ڈی میں جمعرات سے کورونا اینٹی باڈی ٹیسٹنگ کا آغاز متوقع ہے جبکہ پنجاب میں عید کے بعد کاروبار صرف پیر تا جمعرات کھلیں گے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, خیبر پختونخوا: کورونا وائرس سے متاثرہ 175 نئے مریض، اموات کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی

    خیبر پختونخواہ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے متاثرہ 175 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد مجموعی تعداد 8080 ہو گئی ہے۔

    صوبے میں مزید 10 اموات کی بھی تصدیق کی گئی ہے جس کے بعد مجموعی طور پر اب تک 408 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ خیبر پختونخواہ اموات کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔

    صوبے میں 60 نئے مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. نیدرلینڈز: نیولے سے انسان میں کورونا وائرس کی منتقلی کا دوسرا مشتبہ کیس

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیدرلینڈز کی وزارت زراعت کے مطابق ملک میں ایک آبی نیولے سے انسان میں کورونا وائرس کی منتقلی کا دوسرا مشتبہ کیس سامنے آیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق یہ انفیکشن آبی نیولے پالنے والے فارم سے منتقل ہوئی جہاں جانوروں میں وائرس پھیل گیا تھا۔

    وزیر زراعت کیرولا شوٹن نے پارلیمنٹ کو ایک خط میں لکھا ہے کہ ’تمام ممکنہ اقدامات زیر غور ہیں۔‘

    وزیر کا کہنا تھا کہ ان فارموں کے باہر جانوروں سے انسانوں میں وائرس پھیلنے کا خطرہ ’نہ ہونے کے برابر‘ ہے۔

    پچھلے ہفتے وزارت نے کہا تھا کہ ایک کسان کورونا وائرس میں مبتلا ہیں اور یہ وائرس بالکل ویسا ہی ہے جیسا نیولوں میں پایا گیا ہے۔

    اس کے بعد سے ڈاکٹروں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بہت سے جانوروں کو مار ڈالنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

    نیولوں اور گوشت خور جانوروں کو ان کی کھال کے لیے پالا جاتا ہے۔

    چینی شہر ووہان میں جنگلی جانوروں کی فروخت والے بازار کو کورونا وائرس پھیلنے کا سبب بتایا جاتا ہے۔ زیادہ تر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ممکنہ طور پر ایک چمگادڑ کے ذریعے ہی انسانوں میں یہ وائرس پھیلا ہے۔

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  3. کورونا وائرس کو سمجھنے کے لیے ’R‘ نمبر کی اتنی اہمیت کیوں ہے؟

    گ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورورنا وائرس کے خطرے کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ لیکن نہایت اہم چیز ریپروڈکشن نمبر ہے جسے عرف عام میں اس کے مخفف ’آر‘ سے شناخت کیا جاتا ہے۔

    یہ نمبر دنیا بھر میں حکومتوں کی رہنمائی کر رہا ہے کہ وبا کے دوران انسانی جانیں بچانے کے لیے انھیں کیا کرنا چاہیے اور یہ ہمیں ایسے اشارے دینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے کہ کس حد تک لاک ڈاؤن اٹھایا جا سکتا ہے۔

  4. ایران: شیعہ مسلمانوں کے لیے مقدس زیارات کھول دی گئیں

    AFP

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ایران میں دو مہینوں بعد شیعہ مسلمان کے لیے مقدس زیارات کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

    جن زیارات کو کھولا گیا ہے ان میں مشہد میں واقع امام رضا اور قم میں سیدہ معصومہ کی زیارات شامل ہیں۔ ان زیارات کو کووڈ 19 کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے بند کیا گیا تھا۔

    عبادت گزاروں اور زائرین کو صحن تک رسائی کی اجازت ہوگی لیکن زیارات کے سامنے کے سائبان اور دوسرے احاطوں میں جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

    عبادت گزاروں اور زائرین کو حفظان صحت اور معاشرتی دوری سے متعلق رہنما اصولوں کی تعمیل کرنے کی بھی ضرورت ہوگی۔

    مزارات فجر کے ایک گھنٹہ بعد کھلیں گے اور چوبیس گھنٹے کھلے رہنے کے بجائے غروب آفتاب سے ایک گھنٹہ پہلے بند ہوں گے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کی صبح تہران کے شاہ عبد العظیم مزار پر زائرین کو ماسک پہننا، ڈس انفیکشن گیٹ سے گزرنا اور اپنا درجہ حرارت چیک کرانا لازم تھا۔

    فروری کے وسط میں قم کووڈ 19 کے پھیلاؤ کا مرکز بن گیا تھا اور ماہرین صحت نے فوراً مزارات بند نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    ایران میں کورون وائرس کے 135000 سے زیادہ متاثرین اور 7400 اموات ہو چکی ہیں۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ اصل اعدادوشمار کہیں زیادہ ہیں۔

    afp

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  5. سماجی دوری کے قوانین کی خلاف ورزی، امریکیوں نے میموریل ڈے ساحل سمندر پر منایا

    میزوری

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکیوں نے سماجی دوریوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اختتام ہفتہ پر میموریل ڈے منانے کے لیے ساحل اور جھیلوں کا رخ کیا۔

    سنیچر کے روز فلوریڈا میں ریاستی پولیس نے ڈیٹنا بیچ میں سینکڑوں افراد کے ہجوم کو منتشر کیا۔

    میزوری میں اوزارک جھیل ایسے سیاحوں سے بھری ہوئی تھی جو معاشرتی فاصلوں کی خلاف ورزی کرتے دیکھے گئے۔

    امریکی کورونا وائرس ٹاسک فورس کے سربراہ ڈاکٹر ڈیبورا برکس نے کہا ہے کہ ایسے مناظر دیکھنے کے بعد وہ بہت پریشان ہیں۔

    اتوار کو اے بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ سماجی دوری کی بہت اہمیت ہے۔ اور اگر آپ فاصلہ نہیں رکھ سکتے اور جب آپ باہر ہوتے ہیں، آپ کو ماسک پہننا ہوگا۔‘

    ایسوسی ایٹ پریس کی رپورٹ کے مطابق فلوریڈا کے تمپا کے علاقے میں ہجوم اتنا زیادہ تھا کہ حکام نے پارکنگ لاٹ جگہ ختم ہونے کی وجہ سے بند کردی۔

    کیلیفورنیا میں سنیچر کے آخر پر ساحل سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بڑے ہجوم دیکھے گئے۔ ریاستی عہدیداروں نے بتایا کہ زیادہ تر لوگ اپنے چہروں کو ڈھانپ رہے ہیں اور ساحل اور پارکوں پر اپنا فاصلہ رکھے ہوئے ہیں۔

    میموریل ڈے ان امریکیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جو امریکی فوج میں خدمات انجام دیتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں۔

    امریکہ میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے متاثرین موجود ہیں۔ اس وائرس کے باعث اب تک امریکہ میں تقریباً 100000 اموات ہو چکی ہیں۔

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  6. انڈیا: لمبی قطاروں اور افراتفری کے درمیان اندورنِ ملک پروازیں بحال

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دو ماہ بعد اندورنِ ملک پروازیں بحال ہونے پر ایئر پورٹس پر لمبی قطاروں اور افراتفری نے مسافروں کااستقبال کیا۔

    درجنوں پروازیں منسوخ ہونے کے بعد ہزاروں مسافر جہاں تھے وہیں پھنس کر رہ گئے تھے۔

    انڈیا نے اندورنِ ملک پروازیں بحال کرنے سے قبل حفاظتی اقدامات میں اضافہ کیا ہے۔

    ہوائی اڈوں پر مسافروں کے جسمانی درجہ حرارت کی جانچ ہوتی ہے اور مسافروں نے حکومت کے تعاون سے چلنے والی ایک ٹریسنگ ایپ ڈاؤن لوڈ کی ہے۔

    دوسرے اقدامات میں جوتوں اور سامان کو جراثیم سے پاک کرنا شامل ہے۔

  7. بریکنگ, عید کے بعد لاک ڈاؤن کے فیصلے پر نظرثانی کرنی پڑے گی، ظفر مرزا

    Radio

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ عید کے موقع پر ایس او پیز پر عملدرآمد ہوتے نظر نہیں آ رہا۔ اس لیے عید کے فوراً بعد حکومت اس صورتحال کا از سرِ نو جائزہ لے گی اور اگر ہمیں ایس او پیز پر عمل ہوتے نظر نہ آیا تو لاک ڈاؤن کے فیصلے پر نظرثانی کرنی پڑے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی شاید سمجھ رہے ہیں کہ کورونا وائرس صرف عید تک تھا۔

    معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ اگر ہم نےغیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا توبیماری پھیلے گی اورلاک ڈاؤن کے فیصلے پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم نےاحتیاطی تدابیراختیار نہ کیں توبہت بڑا بحران پیدا ہوسکتا ہے اور آنے والے دنوں میں اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے عوام سےکہتا ہوں بیماری کو روکنےکا سبب بنیں، پھیلانےکا نہ بنیں۔

  8. کورونا کی وجہ سے سماجی دوری، یہ دو میٹر ہوتا کتنا ہے؟

    تین آسٹریلوی کوالا ہوں یا ایک مائیکل جورڈن یا پھر نصف واکس ویگن بیٹل، یہ وہ فاصلہ ہے جتنا آپ کو کسی بھی فرد سے کورونا کی وبا کے دوران سماجی دوری اختیار کرتے ہوئے رہنا چاہیے اور اگر بات سمجھ نہیں آئی تو یہ ویڈیو دیکھ کر سمجھ لیں۔

  9. یورپ میں لاک ڈاؤن میں نرمی کیسے لائی جا رہی ہے؟

    bars

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    متعدد یورپی ممالک کی جابب سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا گیا ہے لیکن ہر جگہ مختلف قواعد رائج ہیں۔

    • اٹلی کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے لمبارڈی کے علاوہ ہر جگہ جمز اور سوئمنگ پولز کو ابتدا میں کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اٹلی اموات کے اعتبار سے دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔
    • سپین کے دو بڑے شہروں میڈرڈ اور بارسیلونا اب ملک کے لاک ڈاؤن میں نرمی کے پہلے فیز میں ہیں۔ یہاں لوگوں کو چھوٹی ٹولیوں میں ملنے کی اجازت ہے۔ ملک کے دوسرے علاقوں جہاں لاک ڈاؤن میں نرمی کا دوسرا فیز ہے وہاں ساحل، کاروبار اور تفریحی مقامات بھی کھول دیے گئے ہیں۔
    • یونان میں تمام جزیروں پر کشتی رانی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور حکومت کا خیال ہے کہ اس کے ذریعے سیاحت کو فروغ ملے گا۔ کیفے اور ریستوران سوموار سے کھل جائیں گے۔
    • جمہوریہ چیک میں بارز کھولے جا رہے ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جہاں دنیا میں سب سے زیادہ فی کس شراب پی جاتی ہے۔ پرائمری سکول اور چڑیا گھروں کے دروازے بھی جلد کھلنے کا امکان ہے۔
    • یوکرین کے دارالحکومت کیئف میں میٹر سروس بحال ہو گئی ہے۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 21 ہزار سے زائد متاثرین اور 623 اموات ہو چکی ہیں۔
  10. سپین: 11 جون سے فٹبال لیگ لا لیگا کے آغاز کا امکان

    la liga

    ،تصویر کا ذریعہInstagram: Ever Banega

    ’11 جون کو ریال بیٹس اور سیویلا کے مابین بند دروازوں کے پیچھے میچ سے سپین کی فٹبال لیگ لالیگا کے سیزن کا آغاز ہونے کا امید ہے۔‘

    یہ کہنا تھا لا لیگا کے چیف ہاویئر تیباس کا۔ انھوں نے کہا کہ اس میچ سے ہم ان تمام افراد کو خراجِ تحسین پیش کریں گے جو اس وائرس کے باعث ہلاک ہوئے۔

    انھوں نے تمام کھلاڑیوں کو محتاط رہنے کی بھی ہدایت کی کیونکہ گذشتہ روز فٹبال کل سیویلا کے چار کھلاڑیوں نے سماجی اجتماعات کے حوالے سے بنائے گئے مروجہ قواعد کی خلاف ورزی کی تھی۔

    اوپر دی گئی تصویر میں کھلاڑیوں ایور بنیگا، لیوکس اوکمپس، فرینکو ویزکویز اور لوک ڈی جونگ سمیت 12 لوگوں کو ایک پارٹی میں دیکھا جا سکتا ہے۔ سپین میں لاک ڈاؤن میں نرمی ضرور آئی ہے لیکن 10 افراد سے زیادہ کے اجتماعات پر اب بھی پابندی ہے۔

  11. بریکنگ, جاپان نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لگائی گئی ایمرجنسی ہٹا دی

    japan

    ،تصویر کا ذریعہJapan Prime Minister's Office

    جاپان کے وزیِرِ اعظم شنزو ایب نے ملک گیر ایمرجنسی اٹھا دی ہے جس کے بعد ایسے علاقے جہاں پابندیوں کا نفاذ اب بھی تھا وہاں سے بھی یہ پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔

    ایب نے پیر کے روز ٹی وی پر اپنے خطاب میں بتایا کہ ’ہمارا ایمرجنسی اٹھانے کے حوالے سے انتہائی سخت پیمانہ رکھا تھا۔ اور اب ہم اس معیار پر پورے اترے ہیں۔

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ جاپان کورونا وائرس پر قابو پانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

    جاپان نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا آغاز مئی کے وسط سے ہی کر دیا تھا تاہم اکثر علاقوں میں ان کا نفاذ اب بھی تھا۔

    پیر تک ملک میں820 اموات اور صرف 16 ہزار 550 کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

  12. کورونا وائرس: بچوں کو کووڈ 19 سے کتنا خطرہ ہے اور کیا وہ وائرس پھیلا سکتے ہیں؟

    بچے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انگلینڈ میں جلد ہی بچے پرائمری سکولوں میں جانا شروع کر دیں گے لیکن اہم سوال یہ ہے کہ بچوں کا کورونا وائرس کی وبا میں کردار کیا ہو گا؟

    بچوں کو کورونا وائرس ہو سکتا ہے مگر اس بات کے امکانات انتہائی کم ہوتے ہیں کہ وائرس کا شکار بننے کے بعد وہ زیادہ بیمار پڑ جائیں۔

    یہ بات واضح نہیں ہے کہ وہ اس وائرس کو ایک دوسرے میں یا بالغ افراد میں کس حد تک منتقل کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

    آئیے دیکھتے ہیں کہ ماہرین اب تک اس حوالے سے کیا کچھ جان پائے ہیں۔

  13. جنوبی کوریا کا بیرون ملک موجود کوریائی باشندوں تک ماسکس کی فراہمی کا آغاز

    korea

    پیر کے روز جنوبی کوریا نے بیرونِ ملک موجود اپنے باشندوں تک ماسکس کی فراہمی کا آغاز کر دیا ہے۔

    جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ کے مطابق مختلف ممالک میں موجود باشندوں کو تین لاکھ 70 ہزار کے قریب ماسک پہنچائے جائیں گے اور ان میں سے 60 فیصد امریکہ بھیجے جائیں گے۔

    بیرونِ ملک موجود ایک لاکھ 67 باشندوں میں سے دو تہائی امریکہ میں مقیم ہیں جبکہ دیگر ممالک جیسے فرانس، ڈنمارک، سویڈن اور آسٹریلیا میں بھی کوریائی باشندے موجود ہیں۔

    جنوبی کوریا چین کے بعد کورونا وائرس سے متاثر ہونے والا ملک تھا تاہم یہاں وسیع پیمانے پر کی جانے والی ٹیسٹنگ اور پابندیوں کے باعث یہ ملک اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب ہوا ہے۔

  14. انڈیا: مشہور ’ولن‘ سونو سود لاک ڈاؤن میں پھنسے مزدوروں کی مدد کرنے پر ہیرو بن گئے, گیتا پانڈے، بی بی سی نیوز نئی دہلی

    سونو

    ،تصویر کا ذریعہCourtesy Sonu Sood

    بالی وڈ کے اداکار سونو سود جنھوں نے اپنے کریئر کی زیادہ تر فلموں میں بطور ولن کام کیا ہے حقیقی زندگی میں ایک ہیرو کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

    سونو سود نے ہزاروں ایسے مزدوروں کی مدد کی ہے جو کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے باعث انڈیا کے شہر ممبئی میں پھنس گئے تھے۔

    انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب میں نے ہزاروں افراد کو ہزاروں کلومیٹر پیدل چلتے دیکھا تو میری راتوں کی نیند اڑ گئی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ آج ہم 45 ہزار ایسے افراد کو کھانا اور ضروری اشیا پہنچا رہے ہیں جو یا تو کچی آبادیوں میں رہتے ہیں یا سڑکوں یا ہائی ویز کے ذریعے پیدل سفر کر رہے ہیں۔

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہCourtesy Sonu Sood

    11 مئی کے بعد سے انھوں نے ایسے افراد کے لیے بسوں کا بھی انتظام کیا ہے جو لاک ڈاؤن کے باعث گھر نہیں جا پائے۔

    سود کو سنہ 2010 میں فلم دبنگ میں ولن کا کردار بخوبی نبھانے پر ایوارڈ سے نوازا گیا تھا اور انھوں نے بالی وڈ کے مقبول ادارکاروں کے ساتھ کام کر رکھا ہے۔

  15. بریکنگ, کوئٹہ: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر میں کورونا وائرس کی تصدیق, ڈاکٹر یاسر اچکزئی چند ہفتے قبل احتجاج کے دوران گرفتار بھی ہوئے تھے

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر ڈاکٹر یاسر اچکزئی بھی کورونا سے متاثر ہوگئے ہیں۔

    کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق اس بات کی تصدیق ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر رحیم بابر نے کی۔

    انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر یاسر اچکزئی تین دن پہلے سول ہسپتال کوئٹہ ٹراما سینٹر، نیورو سرجری یونٹ اور ایمرجنسی سینٹر میں ایمرجنسی ڈیوٹی پر مامور تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر یاسر اچکزئی ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے لیے حفاظتی کٹس کو یقینی بنانے کے لیے چند ہفتے قبل احتجاج کے دوران گرفتار بھی ہوئے تھے۔

    حکومت بلوچستان کے مطابق بلوچستان میں اب تک کورونا سے متاثر ہونے والے طبی عملے کی تعداد 190 سے زائد ہے جن میں متاثرہ ڈاکٹروں کی تعداد 150 ہے۔ متاثر ہونے والوں میں 47 پیرا میڈکس بھی شامل ہیں۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق بلوچستان میں دس سے زائد فارماسسٹس بھی کورونا سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ کورونا سے اب تک دو پیرا میڈکس کی ہلاکت بھی ہوئی ہے جو کہ حقیقی بھائی تھے۔

  16. برطانیہ: وزیرِ اعظم کے مشیر کی لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی، بورس جانسن کا دفاع

    برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    برطانیہ میں وزیرِ اعظم کے سینیئر مشیر ڈومینک کمنگز کی جانب سے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے کی خبروں نے ایک نیا تنازعہ کھڑا دیا ہے۔

    مارچ میں ڈومینک کمنگز لندن سے 260 میل سفر کر کے اپنے والدین کے پاس گئے تاکہ وہ ان کے والدین انھیں اپنے بچوں کی دیکھ بھال میں مدد دے سکیں۔ کمنگز کی بیوی اور انھیں خود کچھ دنوں بعد وائرس کی علامات ظاہر ہونے کے بعد قرنطینہ میں رہنا پڑا تھا۔

    انھیں نے 14 دن تنہائی میں رہنے کے بعد اپنی کاؤنٹی ڈرہم تک 30 میل کا سفر بھی کیا۔

    تاہم بورس جانسن نے اپنے مشیر کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے جو بھی کیا وہ ’ذمہ دارای، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اور دیانت داری سے کیا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ڈومینک کمنگز نے وہ کیا جو کوئی بھی دوسرا باپ کرتا۔

    تاہم اس حوالے سے ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ وزیرِ اعظم کے اپنے مشیروں کے لیے ایک قانون ہے جب باقی عوام کے لیے کچھ اور۔

    یونیورسٹی کالج لندن میں ہیلتھ سائیکالوجی کے پروفیسر رابرٹ ویسٹ کا کہنا ہے اس طرح کے الزامات کا جواب دیتے وقت انصاف کے اصول کی پاسداری کرنا انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔

    انھوں نے بی بی سی ریڈیو 4 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت کے لیے یہ ایک سیاسی بحران ہے لیکن ملک کے لیے یہ ایک طبی بحران بن گیا ہے۔

  17. کورونا وائرس: جرمنی میں 289 نئے مریض، مزید 10 اموات, لاک ڈاؤن میں نرمی کے باوجود ملک میں متاثرین کی تعداد یا اموات میں اضافہ نہیں دیکھنے میں آیا

    جرمنی

    ،تصویر کا ذریعہRIKI

    جرمنی میں کورونا وائرس کے باعث 289 نئے مریض اور 10 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ پیر کے روز سامنے آنے والے اعداد و شمار عام طور پر کم ہوتے ہیں کیونکہ رپورٹنگ میں تاخیر ہوتی ہے۔

    تاہم لاک ڈاؤن میں نرمی کے باوجود ملک میں متاثرین کی تعداد یا اموات میں اضافہ نہیں دیکھنے میں آیا۔

    شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے ساتھ ہی ماسک پہننا لازمی قرار دینے جیسے احکامات ضرور سامنے آئے ہیں۔

    جرمنی میں کل متاثرین میں 52 فیصد خواتین، 48 فیصد مرد شامل ہیں۔ 10 سال سے کم عمر بچوں کی شرح صرف 2 فیصد ہے۔

    جرمنی میں بڑے پیمانے پر کی جانے والی ٹیسٹنگ کے باعث ایسے افراد جن میں علامات نہ ہونے کے برابر تھیں انھیں بھی مجموعی متاثرین میں شامل کیا گیا ہے۔

  18. سماجی دوری کے زمانے میں تفریح، میل جول کے انوکھے طریقے

  19. فیجی ایئرویز نے اپنے آدھے سے زیادہ ملازمین کو نوکری سے نکال دیا

    fiji

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    کورونا وائرس کے باعث لگائی گئی سفری پابندیوں کے باعث ایئرلائنز کا کاروبار شدید متاثر ہوا ہے جس کے بعد فیجی ایئر ویز نے پیر کے روز اپنے آدھے سے زیادہ ملازمین کو نوکری سے نکال دیا ہے۔

    پیر کے روز ایئرلائن کے 758 افراد کو نوکری سے برخواست کیا گیا جبکہ باقی افراد کی تنخواہیں 20 فیصد کم کر دی گئیں۔ ایئر لائن کے مطابق پروازوں کی بندش جاری رہے گی۔

    فیجی ایئر ویز کا انحصار سیاحت پر ہے جس میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے آنے والے سیاحوں کی سب سے بڑی تعداد شامل ہے۔

    ایئر لائن کے سربراہ آندرے ولجوئن نے کہا کہ ’پروازوں کی بندش کے باعث ہمارے پاس بہت سارے ورکرز کے لیے کام نہیں ہے۔‘

    تاہم ملک میں اب تک صرف 18 کووڈ 19 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ ایک مہینے سے زیادہ عرصے میں کوئی نیا کیس یہ ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔

  20. آسٹریلیا: متاثرین میں پانچ ہفتوں کے دوران بتدریج کمی

    آسٹریلیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریلیا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ آسٹریلیا میں حکام کے مطبق یہاں وائرس کے پھیلاؤ میں گذشتہ پانچ ہفتوں کے دوران بتدریج کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    نئے کیسز میں اضافے کی شرح اعشاریہ پانچ فیصد رہی ہے جو کہ یقیناً ایک خوش آئند بات ہے۔

    آسٹریلیا کی وزیرِ صحت گریگ ہنٹ نے کہا کہ ’یہ ایک غیرمعمولی قومی کامیابی ہے اور میں آسٹریلیا کے لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

    ملک میں آج صرف چھ نئے کیس رپورٹ ہوئے جس کے بعد متاثرین کی کل تعداد سات ہزار ہو گئی ہے جبکہ کل 101 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ملک میں ریستوران اور سکلول کھول دیے گئے ہیں جبکہ لاک ڈاؤن کی اکثر پابدنیوں میں نرمی لائی گئی ہے۔