آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس: پاکستان میں 24 گھنٹوں میں 1430 نئے متاثرین، 33 ہلاکتیں

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک 44 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور تین لاکھ سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان میں کورونا کے کل متاثرین کی تعداد 37,176 ہو گی ہے اور ہلاکتوں کی کل تعداد 803 ہے۔ دوسری جانب جرمنی میں گذشتہ روز 100 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اور 900 سے زیادہ نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. بلاول بھٹو: ’عبادات اور عزاداری اپنے گھروں میں کریں‘

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قوم کے نام اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر لوگ عبادات اور عزاداری اپنے گھروں میں ہی کریں۔

  2. جاپان میں صحت کی ملک گیر ایمرجنسی ختم، جنوبی کوریا میں ٹیسٹنگ میں اضافہ

    جاپان کی حکومت نے صحت کی ملک گیر ایمرجنسی ختم کر دی ہے۔ گذشتہ دنوں کے دوران ملک میں کورونا کے نئے متاثرین کی تعداد میں کمی واقع ہوئی تھی۔

    تاہم یہ صحت کی ایمرجنسی اب بھی ٹوکیو، اوساکا اور ہوکیڈو جزیرے میں قائم رہے گی۔

    لوگوں سے حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے اور باہر ہر وقت ماسک پہننے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    دوسری طرف پاکستان کے صوبہ سندھ میں سماجی فاصلے کی ہدایات کی خلاف ورزی پر مارکیٹیں بند کی گئی ہیں۔

    ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 2300 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ دو دن قبل بازار کھولنے کا حکم دیا گیا تھا جس کی وجہ سے بڑے شہروں کی سڑکوں پر ٹریفک جام دیکھا گیا۔

    جنوبی کوریا میں ٹیسٹنگ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ دارالحکومت سیول کے نائٹ کلبز میں کورونا کے نئے متاثرین اچانک بڑھ گئے تھے۔

    ملک بھر میں 35 ہزار سے زیادہ لوگوں کو ٹریس اور ٹیسٹ کر لیا گیا ہے۔ ہم جنس پرست افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کو روکنے کے لیے یہ ٹیسٹ بغیر کسی ترتیب کے کیے جا رہے ہیں۔

    تائیوان میں گذشتہ ایک ماہ سے وائرس کی مقامی سطح پر منتقلی کے کوئی نئے مریض سامنے نہیں آئے ہیں۔ اب تک یہاں 440 متاثرین اور سات اموات ہوچکی ہیں۔

  3. کیا دیہی پاکستان کورونا کے ممکنہ مریضوں سے نمٹ سکتا ہے؟

    سنہ 2018-19 کے اکنامک سروے کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان کے دیہی علاقوں کے ہسپتالوں کے پاس مریضوں کو داخل کرنے کے لیے موجود بستر ناکافی ہیں۔ ہر 1600 افراد کے لیے ایک بستر موجود ہے جو کہ سخت تشویش کی بات ہے۔

    دیہات میں رہنے والی پاکستان کی 57 فیصد آبادی کے لیے ملک بھر میں دیہی مراکز صحت کی کُل تعداد 686 ہے۔

  4. برطانیہ کے ایک سابق رکن پارلیمان اب بے روزگار

    برطانیہ میں لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک سابق رکن پارلیمان نے پہلی مرتبہ یہ اعلان کیا ہے کہ وہ بے روزگار ہو چکے ہیں اور کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران خصوصی الاؤنس کے لیے درخواست دائر کر چکے ہیں۔

    پال سوینی دسمبر میں عام انتخابات کے دوران اپنی گلاسگو کی سیٹ ایس این پی کے امیدوار سے مقابلے میں ہار گئے تھے۔

    اس شکست سے قبل ان کے بارے میں امید کی جا رہی تھی کہ وہ اپنی جماعت میں اچھے مقام پر پہنچ جائیں گے۔ وہ انجلا رینر کی ڈپٹی پارٹی رہنما بننے کی مہم میں ان کی مدد کر رہے تھے۔

    اب ان کے پاس آمدن کا کوئی ذرائع نہیں اور ان کی روزگار کی تلاش بھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے معطل ہو چکی ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھیں امید تھی کوئی موقع مل جائے گا اور وہ کچھ کارآمد کر سکیں گے۔

    ’لیکن جب آپ ہر وقت لاک ڈاؤن کے دوران گھر میں پھنسے ہوں تو کچھ بھی کرنا مشکل ہوتا ہے۔‘

  5. امریکہ میں تین کروڑ 65 لاکھ افراد کا بے روزگار ہونے کا دعویٰ

    گذشتہ ہفتے امریکہ میں تقریباً 30 لاکھ مزید افراد نے بے روزگاری کے الاؤنس کے لیے دعویٰ دائر کیا ہے جس کے بعد اب امریکی معیشت پر معاشی بحران کا بوجھ پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔

    مارچ کے وسط سے بے روزگاری کا دعویٰ کرنے والے کل افراد کی تعداد تین کروڑ 65 لاکھ ہو چکی ہے۔

    یہ چوتھا ہفتہ ہے کہ نئے دعوؤں میں کمی آئی ہے لیکن امریکی لیبر ڈیپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ ماہرین کے اندازوں کے برعکس بے روزگاری کی شرح کافی زیادہ ہوچکی ہے۔

    اپریل کے اعداد و شمار کے مطابق بے روزگاری کی شرح 14.7 تک جا چکی ہے اور ایک ماہ میں دو کروڑ 5 لاکھ افراد اپنی نوکریاں کھو چکے ہیں۔

    اٹلانٹا جیورجیا کے 36 سالہ آئی ٹی کنسلٹنٹ نکولس رے بھی ان لاکھوں لوگوں میں سے ایک ہیں، جو بے روز گار ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا: ’میرا نوکری سے نکالا جانا بڑا اچانک تھا۔ ہماری کمپنی میں ہم سمجھتے تھے کہ ہم سب محفوظ ہیں۔‘

    ’میں اب نوکری ڈھونڈ رہا ہوں۔ سب بات کرتے ہوئے گرمجوشی دکھاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے کسی کو پتہ نہیں کہ کیا ہو گا، اس لیے ابھی تک کوئی پکی نوکری نہیں ہے۔‘

    واضح رہے کہ 1930 کی دہائی کے بڑے معاشی بحران کے بعد اسے بے روزگاری کی سب سے بڑی شرح قرار دیا جا رہا ہے۔

  6. فرانس میں سیاحت کے شعبے کی بحالی کے لیے 19 ارب ڈالر کا پیکج

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعرات کو فرانس نے سیاحت کے شعبے کی بحالی کے لیے 19 ارب ڈالر کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ ملک میں کورونا وائرس کے بحران کی وجہ سے ساحل سمندر، دلکش مقامات اور ہوٹلوں کے کاروبار بند پڑے ہیں۔

    حکومتی معلومات کے مطابق سنہ 2019 میں تقریباً نو کروڑ لوگوں نے بیرون ملک سے فرانس کا دورہ کیا تھا۔ اس طرح یہ دنیا میں سب سے زیادہ سیاحت والا ملک بن گیا تھا۔

    ملک کی 2.3 کھرب یورو کی معیشت میں سیاحت کا حصہ آٹھ فیصد ہے۔

    فرانس کے وزیر اعظم نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ سیاحت کا شعبہ جدید دور میں سب سے بڑے چیلنج سے ہمکنار ہوا ہے۔ ’اس کا بچاؤ قومی ترجیح ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ 95 فیصد ہوٹلوں کی بندش کے بعد اب حکومتی ترجیح یہ ہے کہ کمپنیوں کو دیوالیہ ہونے سے بچایا جائے اور لوگوں کی نوکریاں جاری رکھی جائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ شہری جولائی اور اگست کے دوران چھٹیوں پر جاسکیں گے۔

  7. کورونا وائرس کے مریض کو پیٹ کے بل کیوں لٹایا جاتا ہے

  8. کووڈ 19: انفیکشن میں اضافے سے ڈایالیسز، ٹرانسپلانٹ اور کینسر کے مریض متاثر

    پاکستان کے سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) کے حالیہ اعدا وشمار کے مطابق ڈایالیسز، ٹرانسپلانٹ، اور کینسر کے مریضوں میں کووڈ 19 انفیکشن میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    گزشتہ ہفتے ایس آئی یو ٹی میں ڈایالیسز، گردے اور کینسر کے 55 مریض کووڈ 19 سے متاثر ہونے کی وجہ سے داخل ہوئے، جس کی اصل وجہ ان کی کمزور قوت مدافعت تھی۔

    ایس آئی یو ٹی کے 16 ہزارسے زائد ایسے مریض ہیں جن کی قوت مدافعت کمزور ہے۔ ان میں چھ ہزار ڈایالیسز، پانچ ہزار کینسر جبکہ پانچ ہزار گردے کے ٹرانسپلانٹ کے مریض شامل ہیں۔

  9. نیوزی لینڈ میں حجاموں کی دکانوں کے سامنے رات بھر لمبی قطاریں

    نیوزی لینڈ میں کورونا وائرس کی وجہ سے لگنے والی پابندیوں میں نرمی کے بعد جمعرات کو ہزاروں کاروبار دوبارہ کھول دیے گئے، جس کے بعد کئی حجاموں کی دکانوں پر رات گئے تک قطاریں لگی رہیں۔

    لیول 2 لاک ڈاؤن میں جسے ’محفوظ نیا نارمل‘ کہا جا رہا ہے دوکانیں اور عوامی پارکس کھولے جا رہے ہیں۔

    گذشتہ تین دنوں سے نیوزی لینڈ میں وائرس کا کوئی بھی نیا مریض سامنے نہیں آیا ہے۔

  10. نائجیریا میں 98 سالہ خاتون کورونا سے صحتیاب

    نائجیریا میں حکام کا کہنا ہے کورونا کی تشخیص کے بعد ایک 98 سالہ خاتون کورونا سے صحتیاب ہوچکی ہیں۔ وہ لاگوس شہر کے آئسولیشن سینٹر میں زیر علاج تھیں۔

    ریاست کے گورنر نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ یہ خاتون سمیت 25 افراد کو صحتیابی کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔

    ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ: ’آج ہم نے ایک 98 سالہ خاتون کو ڈسچارج کیا ہے۔ یہ لاگوس میں سب سے عمر رسیدہ مریض تھیں۔‘

    نائجیریا میں لاگوس کو کورونا کا مرکز سمجھا جا رہا ہے۔ اب تک ملک میں 4971 متاثرین میں سے 2041 یہاں مقیم ہیں۔

    لاگوس میں اب تک 33 اموات ہوئی ہیں جبکہ 528 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔

  11. سندھ پولیس کے 173 افسران اور جوان کورونا وائرس سے متاثر

    سندھ پولیس کے 173 کے قریب افسران اور جوان کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

    سندھ پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کورونا کے خلاف فرائض کی ادائیگی کے دوران سندھ پولیس کے پانچ اہلکار ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    بیان کے مطابق زیر علاج افسران اور جوانوں کی تعداد 135 ہے جبکہ 32 صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔

  12. کووڈ۔19 ویکسین: ’امریکہ کو ترجیح دینا قبول نہیں‘

    فرانس کے ایک وزیر نے کہا ہے کہ فرانس کے لیے یا ناقابلِ قبول ہو گا کہ فرانسیسی ادویات کی بڑی کمپنی سانوفی اگر کووڈ۔19 کی ویکسین بناتی ہے تو وہ امریکی مارکیٹ کو پہلے ترجیح دے۔

    نائب اقتصادی وزیر اگنیز پینیئر روناشیر سونافی کے سی ای او کے اس بیان پر ردِ عمل دے رہے تھے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’امریکی حکومت کا سب سے بڑے آرڈر پر پہلے حق ہے کیونکہ اس نے سرمایہ کاری کا رسک لیا تھا۔‘

    دنیا بھر میں کئی لیبارٹریاں کووڈ۔19 کی ویکسین بنانے کی تحقیق میں شامل ہیں۔

    پینیئر روناشیر نے فرانس کے سڈ ریڈیو کو بتایا کہ ’ہمارے لیے یہ ناقابلِ قبول ہے کہ اقتصادی وجوہات کی بنا پر فلاں فلاں ملک کو ترجیح دی جائے۔‘

  13. لندن: سائیکل لین کے ذریعے پبلک ٹرانسپورٹ پر ’دباؤ‘ کم کرنے کی کوشش

    لندن کی ایک اہم سڑک پر ایک نئی سائیکل لین مختض کی گئی ہے جس کی مدد سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ پر پہلے سے موجود دباؤ کم کیا جا سکے اور سماجی فاصلے کی ہدایات پر بھی عمل ہو سکے۔

    پارک لین پر رکاوٹیں لگا کر سائیکل چلانے والوں کے لیے جگہ بنائی گئی ہے۔ یہ لندن کے میئر صادق خان کے ایک منصوبے کا حصہ ہے۔

    منصوبے کے تحت سائیکلنگ نیٹ ورک بنایا جائے گا اور اس کے لیے عارضی تعمیرات کی جائیں گی۔ اس سے ٹیوب، ٹرین اور بس سروس پر لوگوں کی بڑی تعداد کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

    رواں ہفتے سے انگلینڈ میں سختیاں کم ہونے کے بعد بعض لوگ کام پر واپس آنا شروع ہو گئے ہیں لیکن کئی مسافروں کے لیے سماجی فاصلے پر عمل کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

    صادق خان نے کہا ہے: ’میرا ارادہ ہے کہ لندن کے شہریوں کو کار چلانے کی جگہ محفوظ اور مستحکم متبادل دیے جائیں۔ خاص طور پر جب ہمارا پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام کووڈ 19 کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے۔‘

  14. چین میں کورونا دوبارہ پھیلنے سے روکنا ’مشکل‘ ہوسکتا ہے

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین کی کمیونسٹ پارٹی کے پولٹ بیورو نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی واپسی اور اس کے نئے مریضوں کے اضافے کو روکنا ایک مشکل کام ہوسکتا ہے۔

    یہ بیان چینی صدر شی جن پنگ کے زیرِ صدارت پولٹ بیورو کے اجلاس میں سامنے آیا۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ شمال مشرقی صوبوں میں کورونا کی روک تھام کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں۔

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین بیرون ملک سے نئے متاثرین کی آمد کے لیے بھی اقدامات کرے گا۔

  15. دنیا میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست

    جانز ہاپکنز پونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 4,369,410 ہوچکی ہے۔

    سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست درج ذیل ہے:

    • امریکہ: 1,390,764 متاثرین
    • روس: 252,245 متاثرین
    • برطانیہ: 230,985 متاثرین
    • سپین: 228,691 متاثرین
    • اٹلی: 222,104 متاثرین
    • برازیل: 190,137 متاثرین
    • فرانس: 178,184 متاثرین
    • جرمنی: 174,098 متاثرین
    • ترکی: 143,114 متاثرین
    • ایران: 114,533 متاثرین
  16. پاکستان اور انڈیا دونوں اینٹی وائرل دوا ریمڈیسیور بنائیں گے

    ایک امریکی دوا ساز کمپنی نے جنوبی ایشیا میں ادویات کی کمپنیوں سے معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت وہ اینٹی وائرل دوا ریمڈیسیور بنائیں گی۔ خیال ہے کہ یہ دوا کووڈ 19 کے علاج میں استعمال ہوسکتی ہے تاہم اس حوالے سے ٹھوس شواہد نہیں ہیں۔

    جیلیڈ کے ساتھ انڈیا اور پاکستان کی پانچ دوا ساز کمپنیوں کے معاہدے سے یہ دوا 127 ممالک کو فراہم کی جا سکے گی۔

    دنیا بھر میں طبی آزمائش کے دوران ریمڈیسیور نے علامات کے دورانیے کو 15 دن سے 11 دن کر دیا تھا۔ اسے درحقیقت ایبولا کے علاج کے لیے بنایا گیا تھا۔

    امریکہ کی ایک تحقیق میں اس کی آزمائش کے دوران اچھے نتائج دیکھے گئے ہیں۔

    تاہم اس سے اموات کی شرح پر اثر کے حوالے سے معلومات واضح نہیں۔ بی بی سی کے نمائندہ سائنس جیمز گلیگہر کے مطابق یہ واضح نہیں کہ آیا یہ دوا کورونا کا علاج کر سکتی ہے یا نہیں۔

  17. کورونا وائرس: بیماری کے خوف سے کیسے نمٹیں؟

    کورونا وائرس نے دنیا کو غیر یقینی کی صورتحال میں ڈال دیا ہے اور اس وبا کے متعلق مسلسل خبریں بڑی بے رحم لگ سکتی ہیں۔

    یہ سب لوگوں کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہو سکتا ہے، خصوصاً ان افراد کی صحت پر جن میں پہلے ہی اضطراب پایا جاتا ہے یا انھیں او سی ڈی ہے۔

  18. وفاقی وزیر تعلیم:’نویں اور گیارہویں جماعت کا امتحان نہیں ہو گا‘

    پاکستان کے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ نویں اور گیارہویں جماعت کا امتحان نہیں ہو گا جبکہ دسویں اور باریوں جماعت میں پروموٹ ہونے والے صرف دسویں اور بارہویں جماعت کا امتحان ہی دیں گے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ 40 لاکھ بچوں نے نویں، دسویں، گیارہویں اور بارویں جماعت کےامتحان دینے تھے لیکن بچوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا فارمولا بنایا کہ بچوں کا سال ضائع نہ ہو۔

    شفقت محمود نے کہا کہ اس برس جن بچوں نے دسویں اور بارہویں کے امتحان دینے تھے ان کے نویں اور گیارہویں جماعت کے نمبروں میں تین فیصد اضافی نمبر دے کر انھیں پروموٹ کر دیا گیا ہے تاہم اپنے نتائج سےغیر مطمئن طالب علم ستمبر اور نومبر میں سپیشل امتحان دے سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر پاکستان بھر میں تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند ہیں۔

  19. عالمی ادارہ صحت نے ’ماسک سے صحت کو خطرے‘ کا دعویٰ مسترد کر دیا, بی بی سی ریئلٹی چیک

    سوشل میڈیا پر بعض لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ زیادہ دیر تک چہرے پر ماسک پہننا خطرناک ہوسکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اس دعوے میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

    اپریل کے اواخر میں یہ دعویٰ پہلی مرتبہ ایک ہسپانوی زبان کی تحریر میں کیا گیا۔ اس طرح یہ کئی ہسپانوی بولنے والے ممالک میں پھیل گیا اور اس کے بعد انگلش اور نائجریا کی ویب سائٹس پر شائع ہوا۔

    اس میں کہا گیا کہ زیادہ دیر ماسک پہننے سے انسان کاربن ڈائی آکسائیڈ میں سانس لیتا ہے جس سے چکر آتے ہیں اور جسم میں آکسیجن کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔

    یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’ہر 10 منٹ بعد ماسک ہٹانا چاہیے تاکہ صحت مند رہا جاسکے۔‘

    عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹر ریچرڈ نے کہا ہے کہ ایسے دعوے صحیح معنوں میں صحت کے لیے خطرناک ہوسکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ماسک اٹھا کر سانس لینے سے لوگ آلودگی سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق ماسک میں دو یا دو سے زیادہ کپڑے کی تہیں ہونی چاہیے تاکہ یہ مؤثر ہوسکے۔ ’اس میں آپ عام حالات کی طرح سانس لے سکیں اور یہ (آلودہ) ذروں کو داخل ہونے سے روکے۔‘

    یہ خدشہ صرف دو سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے ہے جن کے پھیپھڑے کمزور ہوتے ہیں۔ انھیں گھر میں بنے ماسک پہنانے کی نصیحت نہیں کی گئی ہے۔

  20. یاسمین راشد: ’عوام کے تعاون کے بغیر کورونا پر قابو نہیں پایا جا سکتا‘

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ عوام کے تعاون کے بغیر کورونا وائرس پر قابو نہیں پایا جا سکتا ہے۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ عوام ایس او پیز پر عمل کریں اور سماجی فاصلوں کو یقینی بنائیں۔

    انھوں نے کہا کہ ہمارے حالات یورپ سے الگ ہیں لیکن پھر بھی ہمیں احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے یہ بھی بتایا کہ پنجاب میں اب تک کورونا وائرس کے ایک لاکھ 45 ہزارٹیسٹ کیے گئے ہیں۔