یورپ میں متاثرین 15 لاکھ سے زائد، چین کے شہر سوہلان میں لاک ڈاؤن نافذ
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 41 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ دو لاکھ 82 ہزار سے زیادہ افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے اپنے خطاب میں تصدیق کی ہے کہ انگلینڈ میں نیو کووِڈ الرٹ سسٹم کا استعمال ہو گا جس کی مدد سے وائرس کی نشاندہی کی جائے گی۔
لائیو کوریج
بریکنگ, برطانیہ میں مزید 346 اموات
،تصویر کا ذریعہPA MEDIA
برطانوی حکام کی جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ جاری ہے۔
نئے اعدادو شمار کے مطابق برطانیہ میں ایک روز میں مزید 346 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
روزانہ کی بنیاد پر ایک لاکھ ٹیسٹ کیے جانے کا ہدف مسلسل ساتویں دن بھی حاصل نہیں کیا جا سکا۔
بریفنگ کا آغاز ٹرانسپورٹ سیکریٹری گرانٹ شپس نے کیا۔ انھوں نے بتایا سنیچر کی صبح نو بجے تک چوبیں گھنٹوں میں کل 96,878 کیے گئے جو کہ اس سے ایک روز پہلے کیے جانے والے 97,029 ٹیسٹ کے مقابلے میں کم ہیں۔
کورونا کا نیا کیس نہیں آیا، سلواکیا سے اچھی خبر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سلواکیا میں دو ماہ کے عرصے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کورونا وائرس کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔ ملک میں لاک ڈاون میں نرمی کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔
نو مئی کو سلواکیا نے ملک میں 1455 مصدقہ کیسز اور 26 ہلاکتوں کی تصدیق کی۔
یہاں ایک لاکھ افراد میں اموات کی شرح اعشاریہ پانچ فیصد ہے۔ بیماریوں کے کنٹرول اور بچاؤ سے متعلق یورپین سینٹر کی جانب سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق سلواکیا میں یورپی یونین میں سب سے کم شرح اموات ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سلواکیا وائرس کو کنٹرول کرنے میں اس لیے کامیاب رہا کیونکہ اس نے جلد ہی لاک ڈاؤن کیا اور اس پر عملدرآمد بھی کروایا۔ اس سلسلے میں دیگر عوامل کے علاوہ میڈیا کے ذریعے موثر پیغام دیا جانا بھی شامل ہے۔
بدھ کو ملک میں دوبارہ معاشی شرگرمیاں بحال ہوئیں۔ دکانوں، ہوٹلوں، عجائب خانوں اور سیاحوں کے پسندیدہ مقامات کو کھول دیا گیا۔
لیکن وہاں سکول اب بھی بند ہیں اور بین الاقوامی طور پر مسافروں کی آمدو رفت بھی ممکن نہیں۔
موٹاپا کورونا وائرس کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے
ائیر فرانس:اب ماسک پہننا لازم اور جسمانی درجہ حرارت چیک ہو گا
ائیر فرانس منگل سے مسافروں کا جسمانی درجہ حرارت چیک کرے گی۔
ائیر لائن کا کہنا ہے کہ تمام فلائٹس کسٹمرز کے لیے لازم ہو گا کہ وہ ماسک استعمال کریں۔
جن افراد کا جسمانی درجہ حراری 38 ڈگری سیلسیں سے زیادہ ہوگا انھیں سفر کی اجازت نہیں ہو گی تاہم ان کی بگنگ آگے کے لے کر دی جائے گی اور ان سے اضافی پیسے بھی نہیں لیے جائیں گے۔
،تصویر کا ذریعہAIR FRANCE/TWITTER
بریکنگ, سکاٹ لینڈ میں مزید 36 جبکہ ویلرز میں نو ہلاکتیں
سکاٹ لینڈ کے حکام نے کورونا وائرس کے مریص 36 مریضوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جس کے بعد وہاں کل ہلاکتوں کی تعداد 1847 ہو گئی ہے۔
ویلز میں بھی مزید نو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ پبلک ہیلتھ ویلز کے مطابق وہاں کل ہلاکتوں کی تعداد 1099 ہے۔
بیلا روس وبا کے خطرے سے بے نیاز کیوں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بیلا روس کے صدر الیکزینڈر لوکاشنکو نے دنیا بھر میں کورونا کی وبا کے پھیلاؤ کی وجہ سے اپنائی جانے والی احتیاطی تدابیر کو یکسر نظر انداز کیا ہے جس کا ثبوت دوسری جنگ عظیم کی یاد میں سالانہ تقریب کے موقع پر عوام کی بڑی تعداد کی موجودگی اور پریڈ کا انعقاد ہے۔
ملک کے صدر الیکزینڈر لوکاشنکو نے کورونا کے خوف کو ذہنی دباو قرار دیا ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ وائرس سے زیادہ خطرناک ہے۔ صدر ک موقف ہے کہ لاک ڈاؤن سے معیشت کو نقصان پہنچے گا۔
انھوں نے ملک کی فٹ بال لیگ کے میچز جاری رکھے جانے کی اجازت دی اور نہ صرف ایہ بلکہ شائقین کو بھی میچ دیکھنے کے لیے آنے کی اجازت دی گئی۔
مِنسک کے وکٹرز ایونیو میں سپاہیوں نے ٹینکوں میں مارچ کیا۔
لیکن اس کے یورپی اتحادیوں نے دوسری جنگ عظیم کے 75 برس پورے ہونے پر تقریبات کا خاموشی سے انعقاد کیا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب ایک سائنس دان کو کورونا نے جکڑا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پیٹر پائٹ London School of Hygiene & Tropical Medicine کے ڈائریکٹر ہیں وہ بھی کورونا وائرس کا شکار ہونے والوں میں شامل ہیں۔
انھوں نے کئی دہائیوں تک اقوام متحدہ کے ایڈز کے خلاف پروگرام کی سربراہی بھی کی ہے اور ایبولا کو دریافت کرنے میں بھی ان کی مدد شامل رہی ہے۔
مارچ میں ان کا کورونا کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ میں نے یہ سائنسی تحقیق پڑھی ہے کہ اگر آپ کو کورونا ہے تو آپ کے مرنے کا 30 فیصد چانس ہے۔میں خوش ہوں کہ یہ ایبولا نہیں کورونا ہے۔ تاہم میں خوش ہوں کہ مجھے کورونا ہے ایبولا نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2014 میں ایبولا کے پھیلنے پر مغربی افریقہ میں ہلاکتوں کا تناسب ایسا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ کبھی میں سوچتا ہوں کہ میں نے اپنی پوری زندگی وائرس کے خلاف لڑنے میں گزار دی اور اب آخر کار انھوں نے مجھ سے بدلہ لے لیا۔
دنیا میں کورونا کا پھیلاؤ جاری، کل متاثرین 40 لاکھ کے قریب
دنیا کے مختلف ممالک میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے۔ اب تک 187 ممالک میں کورونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد 40 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے اور 275000 کے قریب مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔
صرف امریکہ میں مصدقہ کیسز کی تعداد بارہ لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے جو کہ کسی بھی دوسرے ملک سے پانچ گنّا زیادہ ہے۔
ماسکو: لاک ڈاؤن میں وکٹری ڈے کے مناظر
،تصویر کا ذریعہEPA
ماسکو میں سنیچر کی صبح لاک ڈاؤن کی وجہ سے شہر سنسان پڑا ہے۔ آج وکٹری ڈے کو 75 برس مکمل ہو گئے ہیں۔
روسی ایئرکرافٹ آج جب ریڈ سکوائر کے اوپر سے گزرے تو معمول کے مطابق ہر سال کی طرح اس بار یہ مظاہرہ دیکھنے کے لیے شائقین موجود تھے۔
وبا کی وجہ سے ہر سال اس موقع پر منعقد ہونے والی پریڈ منسوخ کر دی گئی تھی۔
اس کے بجائے اس بار صدر ولای میر پوتن اور دیگر حکام نے چھوٹے پیمانے پر ہونے والی تقریب میں شرکت کی۔
صدر نے کریملین میں ایک نامعلوم فوجی کے مقبرے پر پھول رکھے اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سابق فوجیوں نے زندگی کے لیے موت سے جنگ کی اور ہم ہمیشہ ان جیسا اتحاد اور تحمل پیدا کرنا ہے۔
،تصویر کا ذریعہEPA
ہسپانوی سیاح نے لاک ڈاؤن میں پاکستان کو کیسا پایا؟
برطانوی حکومت پیدل چلنے، سائیکل چلانے کی حوصلہ افزائی کرے گی
،تصویر کا ذریعہJeff Overs
برطانیہ کی حکومت کچھ دیر میں اعلان کرے گی کہ
لوگ اگر گھر سے کام نہیں کر سکتے، تو وہ اپنے کام کی جگہوں پر پیدل یا سائیکل پر
جائیں تاکہ لاک ڈاؤن اٹھائے جانے پر پبلک ٹرانسپورٹ کو دباؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ وزیرِ ٹرانسپورٹ
گرانٹ شیپس سفر کے لیے زیادہ فعال ذرائع استعمال کرنے کے لیے لوگوں کی حوصلہ
افزائی کریں گے۔
انگلینڈ کے مقامی حکام کو ممکنہ طور پر اضافی
فنڈنگ فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اس مقصد کے لیے سڑکوں میں تبدیلی لا سکیں۔
سائیکل چلانے اور پیدل چلنے سے متعلق معاملات
برطانیہ کی خود مختار اقوام سنبھالتی ہیں۔ مثال کے طور پر ویلز میں ان دونوں
سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے 2013 سے قانون موجود ہے۔
جنوبی کوریا: نائٹ کلب جانے والے شخص نے 17 افراد کو کورونا سے متاثر کردیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی کوریا کے حکام دارالحکومت سیئول میں شراب
خانوں اور کلبز جانے والے لوگوں سے منسلک کورونا وائرس کی نئی لہر کو روکنے کے لیے
کوششیں کر رہے ہیں۔
وباؤں سے نمٹنے کے لیے ملکی ادارے نے سنیچر کو
18 نئے متاثرین کی تصدیق کی اطلاع دی جس کے بعد ملک میں مجموعی تعداد 10 ہزار 840
ہوگئی ہے۔
ان نئے متاثرین میں سے 17 کا تعلق ایک 29 سالہ
شخص سے پایا گیا جو گذشتہ ہفتے دارالحکومت سیئول کے ایک نائٹ کلب
میں تفریح کی غرض سے گیا تھا۔ طبی حکام اب وہاں جانے والے لوگوں کی تلاش کر رہے
ہیں تاکہ انھیں خود ساختہ تنہائی اختیار کرنے کے لیے کہا جا سکے۔
سیئول کے میئر نے اب شہر میں شراب خانوں اور کلبز کو تاحکمِ ثانی بند
کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘بے
احتیاطی سے وبا بے قابو ہوسکتی ہے۔’
جنوبی کوریا کو کورونا وائرس سے نمٹنے کی اپنی کاوشوں پر بین الاقوامی
سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ اس کے اقدامات میں متاثرین سے رابطے میں آنے والوں
کی جارحانہ تلاش، نگرانی، اور ٹیسٹنگ شامل ہے۔
فی الوقت جنوبی کوریا پابندیاں نرم کرنے کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔
ٹوکیو میں 36 نئے متاثرین، کُل تعداد 4846 ہوگئی
،تصویر کا ذریعہReuters
ٹوکیو میں سنیچر کو کورونا وائرس کے 36 نئے
متاثرین سامنے آئے ہیں۔ ٹی وی اساہی کے مطابق یہ تعداد گذشتہ روز کے مقابلے میں
تین افراد کم ہے، اور یہ لگاتار ساتواں دن ہے کہ نئے متاثرین کی تعداد 100 سے کم
رہی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹی وی اساہی نے تازہ
ترین اعداد و شمار گمنام ذرائع سے حاصل کیے ہیں جس کے بعد جاپان کے دارالحکومت میں
متاثرین کی کُل تعداد 4846 تک پہنچ گئی ہے۔
برطانیہ: مسافروں کے لیے 14 روزہ قرنطینہ متوقع، ہوائی اڈوں، فضائی کمپنیوں میں تشویش
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی ہوائی اڈوں کی نمائندہ تنظیم کے سربراہ
کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ جب مسافروں کی تعداد معمول پر آ جائے گی، تو طیاروں پر
سماجی دوری برقرار رکھنا اگر ناممکن نہ بھی ہوا تو چیلنج ضرور ہوگا۔
توقع کی جا رہی ہے کہ برطانوی حکومت جمہوریہ
آئرلینڈ کے سوا کہیں سے بھی برطانیہ آنے والوں کا 14 روزہ قرنطینے میں رہنا لازم
قرار دے دے گی۔
ہوائی اڈوں کا کہنا ہے کہ قرنطینہ ہوابازی کی
صنعت کے لیے تباہ کن اثرات کا حامل ہوگا۔
ایئرپورٹ آپریٹرز ایسوسی ایشن کی چیف ایگزیکٹیو افسر
کیرن ڈی نے بی بی سی کے پروگرام بریک فاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر سماجی
دوری ممکن نہ ہوئی تب بھی ایسے اقدامات کرنے پڑیں گے کہ مسافر اور عملہ بحفاظت سفر
کر سکیں۔
انھوں نے کہا: ‘کیا ان اقدامات میں ہوائی اڈوں پر بہتر صفائی
اور ہینڈ سینیٹائزرز کی دستیابی شامل ہوں گے؟ کیا ہمیں مسافروں کو ماسک اور دستانے
فراہم کرنے ہوں گے؟ کیا ہوائی اڈوں پر درجہ حرارت چیک کرنا ہوگا، یا کسی اور طرح
کی ٹیسٹنگ کرنی ہوگی جو کیا پتا اگلے چند دنوں یا ہفتوں میں تیار ہو جائے؟’
روس میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں تقریباً 11 ہزار نئے متاثرین، ہلاکتوں کی کُل تعداد 1827
،تصویر کا ذریعہReuters
روسی حکام نے سنیچر کو اطلاع دی ہے کہ گذشتہ روز
کورونا وائرس کے 10 ہزار 817 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں، جس کے بعد ملک میں
متاثرین کی کُل تعداد ایک لاکھ 98 ہزار 676 ہوگئی ہے۔
روس کی کورونا وائرس ٹاسک فورس کا کہنا ہے کہ
104 مزید افراد کی ہلاکت ہوئی ہے اور یوں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1827 تک پہنچ
گئی ہے۔
روس میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں
رواں ہفتے تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
لگاتار کئی دنوں تک یومیہ 10 ہزار سے زیادہ
متاثرین سامنے آنے کے بعد اس نے فرانس اور جرمنی کو متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے
پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
روس میں دنیا میں پانچویں نمبر پر سب سے زیادہ
متاثرین ہیں۔
سنگاپور: 753 نئے متاثرین سامنے آنے کے بعد کُل تعداد 22 ہزار 460
،تصویر کا ذریعہReuters
سنگاپور میں سنیچر کو کورونا وائرس کے 753 نئے
متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد اس شہری ریاست میں متاثرین کی کُل تعداد 22 ہزار
460 ہوگئی ہے۔
وزارتِ صحت نے بتایا ہے کہ نئے متاثرہ افراد میں
زیادہ تر لوگ اجتماعی رہائش گاہوں میں رہنے والے تارکینِ وطن مزدور ہیں جبکہ نو
افراد سنگاپور کے مستقل شہری ہیں۔
'چین اور روس امریکہ کے خلاف پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں'
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ نے چین اور روس پر الزام عائد کیا ہے کہ
وہ کورونا وائرس کے متعلق جعلی معلومات پھیلانے کے لیے پروپیگنڈا مہمات چلا رہے
ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ایک اہلکار نے کہا کہ چین
اور روس سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس امریکہ مخالف پیغامات پھیلا رہے ہیں۔
لیا گیبریئل نے کہا کہ ‘کووِڈ-19 کے بحران سے پہلے بھی ہم نے روس اور عوامی
جمہوریہ چین کے درمیان پروپیگنڈا کے میدان میں کچھ حد تک تعاون دیکھا تھا۔’
انھوں نے کہا کہ چین اور روس ‘اپنے مقاصد کے تحت کووِڈ-19 کے بارے میں عوامی فہم تشکیل
دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔’
امریکہ چین کے ساتھ وائرس کی ابتدا اور اس پر
چین کے ردِ عمل کے بارے میں الفاظ اور خبروں کی جنگ میں الجھا ہوا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان ژاؤ لیجیان نے
حال ہی میں بغیر ثبوت بار بار اس خیال کو فروغ دیا ہے کہ کووِڈ-19 امریکہ سے شروع
ہوا تھا۔
اس کے مقابلے میں امریکہ نے بار بار یہ عندیہ
دیا ہے کہ کورونا وائرس ووہان کی ایک لیبارٹری سے لیک ہوا، لیکن امریکہ نے بھی
اپنے اس دعوے کے بارے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیے ہیں۔
گذشتہ دنوں امریکی انٹیلیجنس برادری نے بھی اپنے
ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ سائنسدانوں کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ کورونا
وائرس انسان کا بنایا ہوا نہیں ہے۔
'اولمپک کھیل اب دوبارہ مؤخر نہیں کیے جائیں گے'
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے ایک سینیئر اہلکا
نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ٹوکیو اولمپکس کو ایک مرتبہ پھر مؤخر کرنے کا کوئی
منصوبہ زیرِ غور نہیں ہے۔
ٹوکیو اولمپکس اب 23 جولائی سے 8 اگست 2021 کو
منعقد کیے جائیں گے۔ انھیں کورونا وائرس کی وبا کے پیشِ نظر مؤخر کیا گیا ہے۔
انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے اسنپیکٹریٹ کے سربراہ
جان کوٹس نے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ کھیل آج تک کے ‘عظیم ترین کھیل ہوں۔’انھوں
نے اس موقع پر 20 ویں صدی کی عالمی جنگوں کے بعد ہونے والے کھیلوں کا حوالہ دیا۔
لیکن انھوں نے ٹوکیو گیمز کے سربراہ یوشیرو موری
کی طرح کہا کہ کھیلوں کو دوبارہ ملتوی نہیں کیا جا سکتا۔
جان کوٹس نے کہا کہ ‘ہم اس بنیدا پر آگے بڑھ رہے ہیں کہ کھیلوں کو
مؤخر کرنے کا کوئی بھی پلان بی وغیرہ نہیں ہے۔’
'وباؤں سے نمٹنے کے لیے چین نظامِ صحت میں اصلاحات لائے گا'
،تصویر کا ذریعہReuters
چین نے کہا ہے کہ وہ طبی نظام میں کورونا وائرس
کی وبا کے نتیجے میں عیاں ہونے والی خامیوں کو دور کرنے کے لیے نظام میں اصلاحات
لائے گا۔
چین پر داخلی اور خارجی سطح پر تنقید کی گئی ہے
کہ اس نے وبا پر ردِعمل دینے میں تاخیر کی۔ چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا یہ
وائرس اب دنیا بھر میں پھیل چکا ہے۔ اس سے تقریباً 40 لاکھ لوگ متاثر ہو چکے ہیں
جبکہ دو لاکھ 74 ہزار 934 لوگ اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چینی نیشنل ہیلتھ کمیشن کے نائب وزیر لی بِن نے
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘کورونا وائرس کی یہ وبا ہمارے ملک کے نظامِ حکمرانی اور
ہماری حکمرانی کی صلاحیت کے لیے سب سے بڑا امتحان ہے، اور اس نے بڑی وباؤں پر
ہمارے ردِ عمل اور عوامی نظامِ صحت میں موجود خامیوں کو عیاں کر دیا ہے۔’
انھوں نے کہا کہ کمیشن وبا کے انسداد اور اس پر
قابو پانے کے نظام میں اصلاحات کر کے اسے جدید خطوط پر استوار کرنا چاہتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ چین اہم ٹیکنالوجی پر تحقیق میں
اضافہ، طبی انشورنس کو بہتر بنانا، اور ہنگامی اشیا کی دستیابی کو یقینی بنانا
چاہتا ہے۔
چین میں کورونا وائرس کے سبب گذشتہ 24 دن میں
کوئی نئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔
میکسیکو میں تین نرس بہنوں کی لاشیں برآمد، قتل کا شبہ
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنپولیس نے وہ گھر سیل کر رکھا ہے جہاں سے نرسوں کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں
شمالی میکسیکو میں تین نرسیں مردہ حالت میں پائی
گئی ہیں اور تینوں ہی کی گردنوں پر گلا گھونٹے جانے کے نشانات موجود تھے۔
تینوں نرسیں آپس میں بہنیں تھیں۔
تہرے قتل کی یہ مبینہ واردات کورونا وائرس کی
وبا کے دوران طبی کارکنوں پر حملوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ وہ جرم کی تفتیش کر رہے ہیں
لیکن ابھی تک اس پیچھے کارفرما عوامل واضح نہیں ہیں۔
حالیہ چند ہفتوں میں میکسیکو میں طبی شعبے سے
منسلک افراد کو وائرس سے خوف زدہ عوام کی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ریاستی اٹارنی جنرل گیرارڈو مارکیز نے کہا کہ دو
سے تین مجرمان اس میں ملوث ہو سکتے ہیں لیکن ابھی تک کوئی گرفتاریاں نہیں ہوئی
ہیں۔ یہ بھی ابھی تک واضح نہیں ہو سکا ہے کہ ان کی ہلاکت کب ہوئی۔
میکسیکو کی وزارتِ صحت کا اندازہ ہے کہ جنوبی
امریکہ کی دوسری بڑی معیشت میں وائرس اس ہفتے اپنے عروج پر پہنچ جائے گا۔
میکسیکو میں اب تک 31 ہزار 522 افراد اس مرض سے
متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 3160 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ متاثرین
اور ہلاک شدگان کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔