یورپ میں متاثرین 15 لاکھ سے زائد، چین کے شہر سوہلان میں لاک ڈاؤن نافذ

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 41 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ دو لاکھ 82 ہزار سے زیادہ افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے اپنے خطاب میں تصدیق کی ہے کہ انگلینڈ میں نیو کووِڈ الرٹ سسٹم کا استعمال ہو گا جس کی مدد سے وائرس کی نشاندہی کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, یکم جون سے سکول کھل جائیں گے

    UK

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    برطانوی وزیراعظم نے کہا ہے کہ سکول جلد سے جلد، یکم جون تک کھل جائیں گے اور پہلے پرائمری سکولوں کو کھولا جائے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ آگے بڑھنے کا پہلا مرحلہ یہ ہو گا کہ دکانوں کو کھولا جائے اور پرائمری سکول کے بچوں کو واپس سکول بھجوایا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سکول واپسی مراحل میں ہو گی اس کی ابتدا پہلے سال سے چھٹے سال تک کے درمیان میں جانے والے بچوں کی ہو گی۔

    تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ یہ جلد بھی ہوا تو یکم جون تک ہی ہوگا جب ہاف ٹرم گزر چکی ہو گی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے سکینڈری جماعتوں کے طالبعلم اگلے سال اپنے امتحانات اور چھٹیوں سے قبل کم ازکم کچھ وقت اپنے اساتذہ کے ساتھ گزار سکیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ جلد ہی ہم اس حوالے سے تفصیلی رہنما اصول وضح کریں گے کہ سکولوں، دکانوں اور ٹرانسپورٹ کو کیسے فعال کرنا ہے۔

  2. بریکنگ, یہ وقت نہیں کہ لاک ڈاؤن کو اس ہفتے ختم کیا جائے

    وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ یہ بالکل بھی ایسا وقت نہیں کہ اس ہفتے لاک ڈاؤن کا خاتمہ کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس کے بجائے ہم پہلے احتیاطی قدم میں اقدامات میں ترمیم کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اب اس پر زور دینے کی ضرورت ہے کہ جو بھی گھر سے کام نہیں کر سکتا مثلاً تعمیرات اور مینیوفیکچرنگ کے شعبے سے منسلک افراد۔ ان کی کام پر جانے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

    • انگلینڈ میں نیو کووِڈ الرٹ سسٹم کا اعلان

      وزیراعظم بورس جانسن نے اپنے خطاب میں تصدیق کی ہے کہ انگلینڈ میں نیو گووِڈ الرٹ سسٹم کا استعمال ہوگا جس کی مدد سے وائرس کی نشاندہی کی جائے گی۔

      ان کا کہنا ہے کہ اس نظام میں آر نمبر یعنی کسی بھی علاقے میں کورونا کیسم کی شرح کو دیکھتے ہوئے الرٹ لیول ایک سے پانچ درجے تک ہو گا۔

      وزیراعظم نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ حکومت لاک ڈاؤن کے خاتمے کے لیے پانچ ٹیسٹ کرے گی۔

      جن میں این ایچ ایس کی حفاظت، ہلاکتوں میں مسلسل کمی، انفیکشن میں کمی چیلنجز سے نمٹنا مثلا پی پی ای، آر نمبر کو ایک سے بڑھنے سے روکنا شامل ہے۔

      ان کا کہنا تھا کہ ان پانچ ٹیسٹ سے مطمئن ہوئے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔

      وزیراعظم نے نیو الرٹ سسٹم کے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسے نیو جوائنٹ بائیو سکیورٹی سینٹر چلائے گا۔

      ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے متعلق ملک کا لیول بنیادی طور پر آر نمبر اور کورونا وائرس کے کیسز سے معلوم ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے پتہ چلے گا کہ ہمیں سماجی دوری پرکس قدر سختی سے عمل پیرا ہونا ہوگا۔

      انھوں نے کہا کہ کم لیول کا مطلب ہو گا کم اقدامات اور بڑے لیول کا مطلب ہوگا کہ ہمیں بہت سختی سے ان اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔

      boris johnson
    • وبا کی دوسری لہر آنے دینا پاگل پن ہوگا: بورس جانسن

      برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی دوسری لہر کو آنے دینا برطانیہ کی جانب سے کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد کو کنٹرول کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو ضائع کرنا اور پاگل پن ہوگا۔

    • نیا روڈ میپ کیا ہو گا؟ بورس جانس کا خطاب کچھ ہی دیر میں

      uk

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      انگلینڈ میں لاک ڈاؤن کے مستقبل کے حوالے سے وزیراعظم بورس جانسن کا خطاب کچھ ہی دیر میں نشر ہو گا۔

      بہت سے لوگ منتظر ہیں کہ بچے کب سکول جائیں گے، معیشت کیسے آگے بڑھے گی اور لوگ کیسے محفوظ رہیں گے گھر سے باہر سفر کرتے ہوئے اور کام پر جاتے ہوئے۔

    • حکومت فرنٹ لائن سٹاف کو مناسب حفاظتی آلات کی فراہمی میں ناکام کیوں ہوئی؟

      uk

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      برطانیہ میں ہیلتھ پروفیشنلز نے ایک قانونی چیلنج میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر یہ انکوائری کرے کہ حکومت فرنٹ لائن پر کام کرنے والے سٹاف کو مناسب حفاظتی آلات دینے میں کیوں ناکام رہی ہے۔

      حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس پر فوری کارروائی کی جائے تاکہ کووِڈ 19 کے بحران سے مستقبل کے لیے سبق حاصل ہو سکے۔

      ایک خط کی شکل میں یہ مطالبات ڈاکٹر ایسوسی ایشن اینڈ گڈ لا پراجیکٹ کی جانب سےبھجوایا گیا ہے۔

    • دنیا: لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد

      اٹلی

      ،تصویر کا ذریعہEPA

      دنیا کے مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد لوگ گھروں سے باہر نکلے۔

      پہلا منظر اٹلی کا ہے جہاں لاک ڈاؤن کے دوسرے مرحلے میں لوگوں کو گھر سے باہر نکلنے اور ورزش کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

      دوسری تصویر میں ریل کے ٹریک پر کھڑے یہ نوجوان انڈیا میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد ملک کے دوسرے علاقوں میں موجود اپنے اہلِ خانے سے ملنے جا رہے ہیں۔

      اور یہ تیسری تصویر شام کے ایک چرچ کی ہے۔

      شام اور اٹلی کی طرح پولینڈ نے بھی عوامی مقامات کو کھول دیا ہے اور لوگ آزادانہ طور پر گھر سے نکل رہے ہیں۔

      فرانس اور سپین نے کچھ علاقوں میں اب بھی لاک ڈاؤن میں نرمی نہیں کی یہ وہ علاقے ہیں جہاں کورونا وائرس کے زیادہ کیسز سامنے آئے تھے جیسا کہ میڈرڈ، بارسلونا، پیرس اور شمال مشرقی فرانس وغیرہ۔

      یہ آخری تصویر میڈرڈ کی ہے جہاں لاک ڈاؤن میں ابھی بھی نرمی نہیں کی گئی۔

      ادھر میکسیکو اور جنوبی افریقہ میں اب بھی لاک ڈاؤن جاری ہے۔

      اور برطانوی عوام وزیراعظم کی جانب سے لاک ڈاؤن کے حوالے سے نئے احکامات کے منتظر ہیں۔

      INDIA

      ،تصویر کا ذریعہAFP

      SYRIA

      ،تصویر کا ذریعہAFP

      MADRID

      ،تصویر کا ذریعہEPA

    • برتھ ڈے پارٹی منانے پر آٹھ افراد کو جرمانہ

      برطانیہ میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پر آٹھ افراد کو جرمانہ کیا گیا ہے۔ اس پارٹی میں 40 بالغ افراد اور بچے شامل تھے۔

      مانچیسٹر کے قریب بولٹن میں سنیچر کو یہ پارٹی ہو رہی تھی۔ پولیس نے چھاپہ مارا تو کچھ لوگوں نے پارٹی سے جانے سے انکار کر دا اور جان بوجھ کر کھانسنا اور تھوک پھینکنا شروع کر دیا۔

      وہاں موجود سات افراد کو گرفتار کر لیا گیا کیونکہ وہ نشے کی حالت میں تھے اور لاک ڈاؤن کے اصولوں کو توڑ رہے تھے۔

      گریٹر مانچیسٹر پولیس کا کہنا ہے کہ بعد میں ان پر جرمانے عائد کیے گئے۔ ایک اور شخص کو گرفتار تو نہیں کیا گیا تاہم اس جرمانہ ادا کرنے کو کہا گیا۔

    • مسلسل آٹھویں روز برطانیہ میں ٹیسٹ کا ہدف پورا نہ ہو سکا

      برطانوی حکومت مسلسل آٹھویں روز ملک میں ایک لاکھ ٹیسٹ کرنے میں ناکام رہی ہے۔

      محکمہ صحت اور سماجی کئیر کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران اتوار کی صبح نو بجے تک ملک میں 92837 ٹیٹسٹ کیے گئے جبکہ اس سے ایک روز قبل تک یہ تعداد 96878 تھی۔

      اب تک حکومت فقط دو مرتبہ کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے ایک لاکھ ٹیسٹ کرنے کے ٹارگٹ کو حاصل کر سکی ہے۔

      حکام نے تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے امریکہ کو 50 ہزارٹیسٹنگ کٹس بجھوائیں ہیں جن میں آپریشنل مسائل تھے۔

    • بریکنگ, برطانیہ میں مزید 269 ہلاکتیں

      برطانیہ میں کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے مزید 269 اافراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

      ان اعدادوشمار کے بعد کل ہلاکتوں کی تعداد 31855 ہو گئی ہے۔

      یہ ڈیٹا ہسپتالوں، کیئر ہومز اور گھروں میں ہونے والی ہلاکتوں کا ہے۔

      حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد حتمی نہیں کیونکہ کچھ جگہوں سے اطلاع دیر سے موصول ہوتی ہے۔

    • امریکہ اور کینیڈا کی صورتحال

      US

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد 80 ہزار کے قریب ہو چکی ہے اور ملک میں بے روزگاری کی شرح 14 اعشاریہ سات سے بڑھ چکی ہے۔

      صدر ٹرمپ نے اتوار کی صبح چالیس کے قریب ٹوئٹس میں اپنی انتظامیہ کی وبا کے دوران کارکردگی کو بہترین قرا دیا۔

      امریکہ اور کینیڈا میں کیا ہو رہا ہے؟

      • الینوائے کے گورنر جے بی پرٹزکر کا کہنا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس پر انحصار نہیں کر رہے ان کی حکومت مزید ٹیسٹ اور لوگوں کی نشاندہی کر رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم یہ سب اکیلے ہی کر رہے ہیں کیونکہ وائٹ ہاؤس نے ہم سب ریاستوں کو اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ شکاگو یہاں کا سب سے بڑا شہر ہے اور یہاں کورونا متاثرین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ہلاکتوں میں شکاگو چوتھے نمبر پر ہے۔
      • امریکی نائب صدر مائیک پینس کے پریس سیکریٹری میں کورونا وائرس کی تصدیق جمعے کو ہوئی تھی۔ وہیں کام کرنے والے ایک حکومتی مشیر کیون ہیسٹ نے سی این این سے گفتگو میں کہ اب یہاں کام کرنا خطرناک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کی بہترین ٹیسٹ کی سہولت اور بہترین طبّی ٹیم کے باوجود یہ جگہ نسبتاً غیر تسلی بخش ہے۔
      • ڈاکٹر انیتھونی فوسی کورونا وائرس کے خلاف لڑنے والی نمایاں شخصیت ہیں۔ وہ ان اعلی ترین مشیروں میں شامل ہیں جو ممکنہ طور پر کورونا وائرس کے مریض سے براہ راست رابطہ ہونے پر اب خود ساختہ تنہائی میں چلے گئے ہیں۔
      • کیوبیک کینیڈا میں کورونا وائرس کی وبا کا مرکز ہے اور وہاں وائرس کے پھیلاؤ کے بعد کاروبار زندگی معطل ہے۔ کارگل پلانٹ کے 64 ورکرز میں کورونا وائرس کی تصدیق کی وجہ سے کام بند کر دیا گیا تھا یہ تعداد کل کام کرنے والوں کی 13 فیصد ہے۔ اس قسم کی صورتحال امریکہ کے فوڈ پروسیسنگ پلانٹس میں ہونے کے بعد اب وہاں گوشت کی کمی کا سامنا ہے۔
      • مغربی کیوبیک میں ایلیمینٹری سکول کھول دیے گئے ہیں تاہم سکولوں میں حاضری لازمی نہیں ہے۔
    • بورس جانسن نے اجلاس سے پہلے ہی تقریر کے کچھ حصے ریکارڈ کروا لیے

      BORIS

      ،تصویر کا ذریعہPA Media

      ویسٹ منسٹر میں اس بات پر سرگوشیاں اور تنقید سننے کو مل رہی ہے کہ وزیراعظم بورس جانسن نے جمعے اور سنیچر کو اپنی تقریر کے کچھ حصے ریکارڈ کروا لیے تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ انھوں نے آج اتوار کو وزرا ، مشیروں اور منتقل شدہ حکومتوں کے سربراہان کے ساتھ ہونے والے ہنگامی اجلاس میں کی جانے والی بحث کے نتائج کا انتظار نہیں کیا تھا۔

      سیاسی امور سے منسلک بی بی سی کے نامہ نگار بِن رائٹ نے ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ میں ایک ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم نے اپنی تقریر کا کچھ حصہ

      تاہم اس ذریعے سے معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم اپنی باقی ماندہ تقریر آج ہی کریں گے اور وقت سے اہمیت کو منسلک نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ عام طور پر تقریر ایسے ہی ریکارڈ کی جاتی ہے۔

    • 'سکاٹ لینڈ میں اصول نہیں بدلیں گے'

      scotland

      سکاٹ لینڈ میں حکومتی سربراہ نکولا سٹرجین نے برطانوی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ان کے ملک میں 'stay alert' یعنی چوکس رہنے کا پیغام نہ دیں۔

      وہ کہتی ہیں کہ لوگوں کو گھروں تک ہی محدود رہنا چاہیے اور بس۔

      انھوں نے لاک ڈاْؤن کے اقدامات میں معمولی کمی کی ہے جیسا کہ دن میں ایک وقت ورزش کی حد کو ختم کر دیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت کو ملے جلے پیغامات کے ذریعے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

      حکومت کی جانب سے نئے پیغام پر پوچھے جانے والے سوال پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھیں سمجھ نہیں آ رہی کہ 'چوکنّا رہیں' کا مطلب کیا ہے۔

      انھوں نے تصدیق کی کہ وہ سی او بی آر کی ہنگامی میٹنگ میں موجود تھی جو آج سہ پہر وزیراعظم بورس جانسن کی سربراہی میں منعقد ہوئی ہے۔

      ان کا کہنا تھا کہ شاید ہم آج وزیراعظم کی جانب سے فوری طور پر کی جانے والی تبدیلوں کے بارے میں ان کی تقریر میں سنیں۔

      تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی شک کو دور کرنے کے لیے مجھے یہ واضح کرنے دیں کہ سکاٹ لینڈ میں اصول نہیں بدلیں گے۔

    • برطانیہ: وزیرِ اعظم بورس جانسن آج کووِڈ-19 الرٹ سسٹم لانچ کریں گے

      انگلینڈ میں کووِڈ-19 کے لیے ایک الرٹ نظام متعارف کروایا جائے گا اور اتوار کو وزیرِ اعظم بورس جانسن متوقع طور پر اس کا اعلان کریں گے۔

      یہ سسٹم ایک سے پانچ کے درجے پر کورونا وائرس سے خطرے کی درجہ بندی کرے گا اور اس میں ڈیٹا کے ذریعے تبدیلیاں کی جاتی رہیں گی۔

      یہ نیا نظام صرف انگلینڈ میں نافذ ہوگا لیکن حکومت برطانیہ کی خود مختار اقوام کے ساتھ مل کر ان کے اپنے اپنے نظام پر کام کر رہی ہے۔

      وزیرِ اعظم جانسن آج قوم کو لاک ڈاؤن کے اقدامات پر پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔

      یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ وزیرِ اعظم ایک نیا نعرہ دیں گے جس میں عوام سے کہا جائے گا کہ ‘ہوشیار رہیں، وائرس کنٹرول کریں، زندگیاں بچائیں۔’

      لیکن یہ متوقع نہیں ہے کہ وہ 23 مارچ سے نافذ لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کریں گے یا اس حوالے سے کوئی تاریخیں فراہم کریں گے۔

      اس نئے نظام سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ ملک کا کون سا حصہ کورونا وائرس سے کتنا متاثر ہے، اور اس بنیاد پر مقامی سطحوں پر لاک ڈاؤن میں نرمی یا سختی کا فیصلہ کیا جا سکے گا۔

      BORIS

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • بریکنگ, انگلینڈ کے ہسپتالوں میں مزید 178 ہلاکتیں

      انگلینڈ میں این ایچ ایس نے کورونا کے مزید 178 مریضوں کے ہسپتالوں میں ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ اب وہاں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 23150 ہو گئی ہے۔

      سکاٹ لینڈ میں 10، ویلز میں مزید 12 اور شمالی آئرلینڈ میں پانچ مریص ہلاک ہوئے ہیں۔

      برطانیہ میں کل ہلاکتیں جن میں کیئر ہومز میں ہونے والی ہلاکتیں بھی شامل ہیں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

      ماہرین نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ اکثر ہلاکتوں کی تعداد دیر سے پہنچتی ہے اس لیے روزانہ کی بنیاد پر موصول ہونے والے اعداد کو حتمی نہ سمجھا جائے۔

      اسی طرح بہت سے ہسپتالوں کی جانب سے ہفتے کے اختتام پر ہلاکتوں کی رپورٹ نہیں دی جاتی اور نئے ہفتے میں اس بارے میں اطلاع دی جاتی ہے۔

    • بیلجیئم میں محدود سماجی میل جول کی اجازت

      belgium

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      بیلجیئم میں اب کسی گھر میں چار افراد بطور مہمان داخل ہو سکتے ہیں۔ ملک میں پابندیوں میں نرمی کا اطلاق آج سے ہو گا۔

      وزیراعطم نے سوفی ولیمز نے گذشتہ ہفتے ایک محدود تعداد میں دوستوں اور خاندان کے اقارب کے میل جول کی اجازت دی۔

      لیکن ملکی پولیس کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر عملدرآمد کرنا مشکل ہو گا۔

      جمعے کو حکومتی ترجمان سٹیون وین نے لوگوں پر زور دیا تھا کہ وہ بہت احتیاط کے ساتھ یہ سوچیں کہ وہ کس خاندان سے ملکنا چاہتے ہیں۔

      ان کا کہنا تھا کہ آپ یک خاندان کو منتخب کریں اور پھر اسی محدود دائرے میں رہیں۔

      دیگر ممالک میں برطانیہ کی جانب سے بھی ایسے اقدامات زیر غور ہیں۔

    • دنیا: کورونا سے اموات 277000 سے بڑھ گئیں

      جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا میں کورونا کے متاثرین کی تعداد چالیس لاکھ سے بڑھ چکی ہے اور ہلاکتوں کی تعداش 277000 سے زیادہ ہے۔

      ان میں سے ہر تیسری موت امریکہ میں ہوئی اور مصدقہ کیسز کی ایک چوتھائی تعداد امریکہ میں ہے۔

      ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ممکنہ طور پر کورونا متاثرین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے ممالک میں ٹیسٹ کیے جانے کی شرح بہت کم ہے۔

      world
    • ہفتوں بعد ووہان میں کورونا کا نیا کیس

      wuhan

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      چین کا شہر ووہان جہاں سے کورونا وائرس وبا کی صورت میں پھیلا میں ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد کورونا کا نیا کیس سامنے آیا ہے۔

      چین میں قومی صحت سے متعلق کمیشن کی جانب سے جو 14 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں یہ کیس ان میں سے ایک ہے۔

      مریض کی عمر 89 برس بتائی گئی ہے اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے ان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تو اس وقت ان میں بظاہر اس کی علامات نہیں پائی جاتی تھیں۔

      رپورٹس کے مطابق مریض کے گھر کے گردو نواح میں موجود رہائشیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

      اب تک چین میں کورونا وائرس کے 82901 کیسز سامنے آ چکے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد 4633 ہو چکی ہے۔

      ملک میں سخت لاک ڈاؤن کی وجہ سے وبا کو پھیلاؤ کو کنٹرول کیا گیا ہے۔

    • برطانیہ میں لاک ڈاؤن میں نرمی میں جلدی سے 'ایک لاکھ سے زیادہ ہلاکتیں ہو سکتی ہیں'

      uk

      ،تصویر کا ذریعہAFP

      برطانیہ میں سائنسی شعبے سے متعلق مشیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن میں جلد بازی میں نرمی کی گئی تو رواں برس کے آخر تک ملک میں اموات کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ سکتی ہے۔

      سنڈے ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز میں حکومت کو ممکنہ ہلاکتوں کے بارے میں خبردار کر دیا گیا تھا۔ یہ تنبیہ ایک نامعلوم حکومتی مشیر کی جانب سے کی گئی تھی۔

      وزیراعظم بورس جانس آج قوم سے خطاب کریں گے اور لاک ڈاؤن میں نرمیوں کے حوالے سے روڈ میپ سے آگاہ کریں گے۔

    • ’برطانوی عوام کو اعداد و شمار سے ڈرایا گیا ہے‘

      برطانیہ میں یونیورسٹی آف کیمبرج میں شعبہ شماریات سے منسلک ایک ماہر نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا ہے کہ برطانیہ میں حکومت نے عوام کو اصل معلومات دینے کے بجائے اعداد کا خطرہ بتایا ہے۔

      ڈیوڈ سپائی گلہالٹر نے حکومت کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر دی جانے والے بریفنگ پر تنقید کی اور کہا کہ حکومت کی کوارڈینیشن ٹیم ماہرین کے بجائے اعدادوشمار پر رابطے کر رہی ہے۔

      ان کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ یہ اعدادوشمار وہ لوگ پیش کرتے جو واقعی جانتے ہیں کہ حدود و قیود کیا ہیں اور کس قدر استطاعت ہے اور وہ لوگ سامعین سے کچھ احترام برت سکتے۔

      ڈیوڈ سپائی نے اپریل میں روزنامہ گارڈین میں ایک آرٹیکل لکھا تھا جس میں انھوں نے ایک حکومتی وزیر کا حوالہ دیا تھا جو دیگر اقوام کی نسبت برطانیہ میں زیادہ شرح اموات کا موازنہ کیے جانے کے خلاف بحث کر رہے تھے۔

      بی بی سی کے اینڈریو مار سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ میں جس پر بات کر رہا تھا کہ میں جن ممالک کے درمیان موازنے کی بات کر رہا تھا وہ یورپ کے وہ ممالک ہیں جہاں حالات خراب ہیں جیسا کہ برطانیہ، فرانس، اٹلی اور بیلجیم۔

      وہ کہتے ہیں میں یہ نہیں کہہ رہا تھا کہ ہم ان میں کوئی موازنہ نہیں کر سکتے۔ انھوں نے رواں ہفتے کے آغاز میں اپنی ایک ٹویٹ میں وزرا سے کہا کہ وہ ان کے آرٹیکل کا حوالہ دینا بند کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جاننا واضح طور پر اہم ہے کہ ہم ایک گروپ کی حیثیت سے جرمنی، پرتگال، ناروے سے آگے ہیں جہاں شرح اموات کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہے وہ ناگزیر نہیں تھا۔