یورپ میں متاثرین 15 لاکھ سے زائد، چین کے شہر سوہلان میں لاک ڈاؤن نافذ

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 41 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ دو لاکھ 82 ہزار سے زیادہ افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے اپنے خطاب میں تصدیق کی ہے کہ انگلینڈ میں نیو کووِڈ الرٹ سسٹم کا استعمال ہو گا جس کی مدد سے وائرس کی نشاندہی کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. کورونا وائرس: دنیا کی تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید۔

    دنیا میں متاثرین کی کُل تعداد 40 لاکھ 24 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور عالمی سطح پر کم از کم دو لاکھ 79 ہزار 313 افراد اس مرض کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق امریکہ متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کا سب سے زیادہ متاثر ملک ہے جہاں 13 لاکھ سے زائد افراد میں اس مرض کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 79 ہزار 794 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ برطانیہ ہلاکتوں کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ متاثر ملک ہے۔

    • دنیا کے دیگر ممالک کی صورتحال کچھ یوں ہے
    • سپین: متاثرین دو لاکھ 23 ہزار 578، ہلاکتیں 26 ہزار 478
    • اٹلی: متاثرین دو لاکھ 18 ہزار 268، ہلاکتیں 30 ہزار 395
    • برطانیہ: متاثرین دو لاکھ 16 ہزار 525، ہلاکتیں 31 ہزار 662
    • روس: متاثرین ایک لاکھ 98 ہزار 676، ہلاکتیں 1827
    • فرانس: متاثرین ایک لاکھ 76 ہزار 782، ہلاکتیں 26 ہزار 313

    اس کے علاوہ

    • کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبوں نے اپنی معیشتیں کھولنے میں جلد بازی کی تو کورونا وائرس وبا کی دوسری لہر کینیڈا کو ‘رواں گرمیوں میں ایک مرتبہ پھر نظربند کر دے گی۔’
    • چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے مزید 14 متاثرین سامنے آئے ہیں جو کہ 28 اپریل کے بعد سامنے آنے والے نئے متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
    • سپین کے وزیراعظم نے عوام سے خطاب میں کہا ہے کہ وہ ملک سے جزوری طور پر لاک ڈاؤن کی پابندیاں ختم ہونے سے پہلے مکمل احتیاط برتیں۔
  2. ‘کووِڈ-19 سے منسلک’ عارضے سے نیویارک میں تین بچے ہلاک

    کورونا وائرس، نیویارک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو نے کہا ہے کہ ان کی ریاست میں تین بچے ایک ایسے پراسرار اور نایاب عارضے سے ہلاک ہوئے ہیں جو ممکنہ طور پر کووِڈ-19 سے منسلک ہے۔

    یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ وبا کا خطرہ نہایت کم عمر افراد میں بھی موجود ہے۔

    اینڈریو کومو نے سنیچر کو یومیہ بریفنگ میں کہا کہ وہ ایسے عارضے کے بارے میں پریشان ہیں جس کی علامات جسم میں زہر پھیلنے (ٹاکسک شاک) اور رگوں کی سوجن (کاواساکی ڈزیز) سے ملتی جلتی ہیں جس سے دل کو مہلک نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ تین بچے اب تک ان علامات سے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ان کا کورونا وائرس یا اس جیسی اینٹی باڈیز کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ ریاستی حکام ایسے مزید 73 معاملات کی پڑتال کر رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ عام طور پر یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ بچے کووِڈ-19 سے متاثر نہیں ہوتے۔

    سائنسدان اب بھی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا یہ عارضہ کورونا وائرس سے منسلک ہے یا نہیں، کیونکہ اس سے متاثر بچوں میں سے کئی ایسے ہیں جن کا کورونا کا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔

  3. امریکہ میں پھنسے انڈین اور پاکستانی طلبا کن حالات میں ہیں؟

  4. امریکہ: ڈاکٹر فاؤچی کورونا متاثر سے رابطے میں آنے کے بعد 'ترمیم شدہ قرنطینے' میں, ایف ڈی اے اور سی ڈی سی کے اعلیٰ حکام پہلے ہی قرنطینہ اختیار کر چکے ہیں

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے قومی ادارہ برائے الرجی اور متعدی امراض (این آئی اے آئی ڈی) کے ڈائریکٹر اور وائٹ ہاؤس کی کورونا وائرس ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی نے سی این این کو بتایا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کے عملے میں شامل ایک کورونا متاثرہ شخص سے ‘کم خطرناک’ رابطے میں آنے کے بعد ‘ترمیم شدہ قرنطینہ’ اختیار کریں گے۔

    ‘کم خطرناک’ کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص میں وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، وہ ان کے قریب موجود نہیں تھے۔

    سی این این کے مطابق ڈاکٹر فاؤچی نے بتایا ‘ترمیم شدہ قرنطینے’ کا مطلب یہ ہے کہ وہ 14 دن تک گھر پر رہیں گے، وہیں سے کام کریں گے، اور ماسک کا استعمال کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ وہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ میں اپنے دفتر بھی جائیں گے لیکن صرف تب جب وہاں کوئی اور نہ ہو۔ اس کے علاوہ ان کی روزانہ ٹیسٹنگ کی جائی گی۔

    انھوں نے بتایا کہ کل ان کا ٹیسٹ کیا گیا تھا جو منفی آیا ہے۔

    یاد رہے کہ امریکہ میں خوراک اور دواؤں کے نگراں ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے کمشنر ڈاکٹر سٹیفن ہان اور وبائی امراض کی روک تھام کے ذمہ دار ادارے سینٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ بھی وائٹ ہاؤس میں کورونا سے متاثر ہونے والے ایک شخص سے رابطے میں آنے کے بعد دو ہفتے کے لیے قرنطینہ اختیار کریں گے۔

    یاد رہے کہ جمعے کو امریکی نائب صدر مائیک پینس کی پریس سیکریٹری کیٹی ملر میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

    وہ اکثر اوقات وائٹ ہاؤس کی کورونا وائرس ٹاسک فورس کے اجلاس میں شریک ہوتی ہیں۔

  5. چین میں کورونا وائرس کے 14 نئے کیس

    چین کی نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے مزید 14 کیس سامنے آئے ہیں جو کہ 28 اپریل کے بعد سامنے آنے والے نئے کیسز کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    ان میں سے دو کیس بیرون منلک سے منتقلی کبکہ 12 مقامی منتقلی کے ہیں تاہم کوئی نئی ہلاکت سامنے نہیں آئی ہے۔

    چین میں کورونا وائرس سے اب تک 82901 افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ اس سے ہونے والی اموات کی تعداد 4633 ہے۔

    چین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  6. بریکنگ, کورونا وائرس: دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد چالیس لاکھ سے بڑھ گئی

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی یونیورسٹی جان ہاپکنز کے اعداوشمار کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد چالیس لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کیسز کی اصل تعداد بہت زیادہ ہونے کا امکان ہے کیونکہ بہت سے ممالک میں ٹیسٹنگ کی شرح انتہائی کم ہے۔

    عالمی اعدادوشمار کے مطابق کورونا وائرس کے متاثرین میں سے 13 لاکھ امریکہ سے ہیں۔

  7. لاک ڈاؤن میں 20 ہزار کلو سبزیاں مفت تقسیم کرنے والی خاتون

  8. بریکنگ, اوباما نے کورونا وائرس پر امریکی ردعمل کو’تباہ کن‘ قرار دے دیا

    امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما نے کورونا وائرس کے بحران پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ردعمل پر کڑی تنقید کی ہے۔

    ایک نجی فون کال میں انھوں نے امریکہ کے اس وبائی امراض سے نمٹنے کو ’مکمل تباہی‘ قرار دیا۔

    اوباما نے یہ بھی کہا کہ وہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن کی حمایت میں ایک بڑا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

    سی این این کے مطابق باراک اوباما کے یہ نئے ریمارکس ایک ایسی کال میں دیے گئے، جس کا مقصد بائیڈن کی مہم میں کام کرنے کے لیے سابقہ ​​عملے کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

    اوبامہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  9. کورونا وائرس: فرانس میں یومیہ اموات میں کمی

    فرانس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانس میں کورونا وائرس سے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 80 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں جو ایک مہینے میں ہونے والی یومیہ اموات کی سب سے کم تعداد ہے۔

    اس کے ساتھ انتہائی نگہداشت میں داخل مریضوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔

    جمعے کے روز ہونے والی اموات کی تعداد 243 جبکہ اس سے ایک روز قبل 178 افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہوئے تھے۔

    واضح رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہونے والی سب سے زیادہ اموات میں فرانس کا پانچواں نمبر ہے جہاں اب تک 26 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  10. کورونا وائرس: کیا آپ صحت یابی کے بعد دوبارہ کووڈ-19 کا شکار ہو سکتے ہیں؟

    کیا آپ کو صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ بھی کورونا وائرس نشانہ بنا سکتا ہے؟ کچھ مریض دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بیمار کیوں ہیں؟ کیا یہ مرض ہر سردی میں واپس آئے گا؟

    کیا ویکسین کارگر ثابت ہو گی؟ کیا امیونٹی پاسپورٹ کی مدد سے ہم میں سے کچھ لوگ کام پر واپس جا سکتے ہیں؟ اس وائرس سے نمٹنے کے لیے کن طویل المدتی اقدامات کی ضرورت ہے؟

    دنیا میں کووڈ-19 کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد جہاں روز بروز بڑھ رہی ہے وہیں یہ سوالات بھی تواتر سے پوچھے جانے لگے ہیں۔

    کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  11. بریکنگ, امریکہ 'ایک تہائی' اموات کیئر ہومز میں ہوئیں

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی جانب سے کیے جانے والے ایک تجزیے کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی کل اموات میں سے ایک تہائی اموات کیئر ہومز اور نرسنگ کی سہولیات میں ہو سکتی ہیں۔

    حکام کی جانب سے اس سلسلے میں ابھی کوئی ڈیٹا جاری نہیں کیا گیا تاہم نیویارک ٹائمز کی جانب سے اکھٹے کیے جانے والے اعدادوشمار یہ تجویز کرتے ہیں کہ کم ازکم 25600 اموات کیئر ہومز میں رہنے والے افراد اور وہاں کام کرنے والوں کی ہوئی ہیں۔

    یہ بھی سامنے آیا ہے کہ 7500 کئیر ہومز اور نرسنگ کے مراکز میں 143000 کیسز سامنے آئے۔ کچھ ریاستوں جن میں میساچیوسٹس اور پنسلوینیا بھی شامل ہیں میں ہونے والی کل اموات میں سے نصف کیئر ہومز میں ہوئیں۔

    بیماریوں کی روک تھام اور ان سے بچاؤ کے ادارے نے اپنے رہنما اصولوں میں بیمار افراد کے لیے قائم نرسنگ کے مراکز کو سب سے زیادہ خطرے کی زد میں قرار دیا ہے۔

    انھوں نے یہ سہولیات فراہم کرنے والی انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ اپنے ہاں مقیم افراد کی سہولت کے لیے انتہائی اقدامات کریں جن میں وہاں صحت کے معیار کی جانچ بھی کی جائے اور باہر سے آنے والوں کو چیک بھی کیا جائے۔ امریکہ میں اب تک 13 لاکھ کے قریب افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور اموات کی تعداد 77 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔

  12. کورونا وائرس: بیلاروس میں وبا کے خطرے کے باوجود وکٹری پریڈ،روس میں منسوخ

  13. سپین کے وزیر اعظم کی عوام کو لاک ڈاؤن میں نرمی کے دوران احتیاط برتنے کی تلقین

    Spain

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سپین کے وزیراعظم نے عوام سے خطاب میں کہا ہے کہ وہ ملک سے جزوری طور پر لاک ڈاؤن کی پابندیاں ختم ہونے سے پہلے مکمل احتیاط برتیں۔

    منگل کو ملک میں سماجی دوری کے اقدامات میں نرمی کا پہلا مرحلہ ہو گا جس میں ملک کی نصف سے زیادہ آبادی پر مشتمل علاقے شامل ہوں گے۔

    ریسٹورنٹس اور بارز اب باہر موجود لوگوں کو ان کی پسندیدہ غذا یا مشروب فراہم کر سکیں گے۔ اب غیر ضروری دکانیں بھی کھولی جائیں گی۔ لیکن 10 سے زیادہ لوگوں کے اکھٹے ہونے پر پابندی عائد رہے گی۔

    وزیراعظم پیدرو سانچیز نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ جگہیں جہاں لاک ڈاؤن میں نرمی ہے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اگر کورونا سے متاثر رہے ہیں تو وہ احتیاط برتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وائرس ابھی ختم نہیں ہوا یہ ابھی بھی موجود ہے۔

    سنیچر کو کورونا کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 179 رہی جبکہ مجموعی ہلاکتیں 26478 ہو چکی ہیں۔ ایک روز میں 179 ہلاکتیں مارچ کے وسط سے اب نو مئی تک کے عرصے میں سب سے کم تعداد ہے۔ ملک میں اب تک کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 220000 سے زیادہ ہو چکی ہے جو کہ امریکہ کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔

  14. برطانیہ آنے والوں کے لیے قرنطینہ پالیسی کیا ہو گی؟

    airport

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی کے سیاسی امور کے نامہ نگار بین رائٹ نے برطانوی سیکریٹری سپورٹ سے پوچھا کہ فضائی سفر کر کے برطانیہ پہنچنے والے افراد کے لیے 14 روز تک قرنطینہ میں رہنے کے لیے کیا پالیسی ہو گی۔

    انھوں نے پوچھا کہ یہ پالیسی اب کیوں بنائی جا رہی ہے اور یہ ممکنہ طور پر پہلے سے ہی مشکلات کی شکار ائیر لائن انڈسٹری کو جو نقصان پہنچائے گی اس کا کیا ہو گا۔

    اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس کی تفصیلات وزیراعظم اتوار کو اپنے خطاب میں بتائیں گے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ سرحدوں پر کسی کی آمد کو دیکھے جانا سمجھ میں آتا ہے تاکہ زیادہ ٹیسٹ کیے جانے کے ساتھ ملک کے اندر کورونا وائرسکے انفیکشن کی شرح کم کی جا سکے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن سے پہلے حکومت کی جانب سے خود ساختہ تنہائی میں جانے کی پالیسی موجود تھی۔

    • برطانیہ: اقلیتوں میں کورونا زیادہ کیوں، مئی کے آخر تک رپورٹ دی جائے گی

      corona

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      سنیچر کو دی جانے والی بریفنگ میں یہ سوال بھی کیا گیا کہ ان شواہد کی موجودگی میں کہ جنوبی ایشیا کے لوگ غیر معمولی طور پر اس وائرس کا شکار ہو رہے ہیں حکومت برطانیہ میں موجود جنوبی ایشیائی خاندانوں اور کام کرنے والوں کی حفاظت کے لیے کیا کر رہی ہے۔

      وزیر ٹرانسپورٹ گرانٹ شپس نے جواب دیا کہ حکومت اقلیتی گروپوں میں بڑی تعداد میں ہونے والی ہلاکتوں پر بہت فکر مند ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کے محکمہ پبلک ہیلتھ کو کہا گیا ہے کہ وہ اس حوالے سے تیزی سے تحقیق کر کے مئی کے آخر تک حکام کو نتائج سے آگاہ کرے۔

      اس موقع پرچیف میڈیکل آفیسر جوناتھن وینتام نے کہا کہ حکومت اس معاملے کی تہہ تک جانے کے لیے پرعزم ہے لیکن وہ جلدی میں کچھ اخد نہیں کر سکتی کیونکہ معاملہ پیچیدہ ہے اور اس میں ممکنہ طور پر بہت سے عوامل شامل ہیں۔

      ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ٰضروری مسئلہ ہے اور حکومت اسے بہت ہی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

    • براہ کرم ویک اینڈ پر گھر میں رہیے: سیکریٹری ٹرانسپورٹ کا پیغام

      uk

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      بریفنگ کے دوران برطانوی سیکریٹری ٹرانسپورٹ سے سوال پوچھا گیا کہ رواں ہفتے کے آغاز میں یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ حکومت گھر میں محدود رہنے کے حکم کو واپس لے رہی ہے۔

      اس کے جواب میں کہا کہ براہ کرم رہنما اصولوں پر عمل پیرا ہوں۔ یہ اب درج ہے کہ گھر میں محدود رہیں۔

      انھوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اچھا ویک اینڈ منانے کے لیے سات ہفتوں تک کیے جانے والے عظیم کام کو ضائع نہ کریں۔

      انھوں نے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا کہ پابندیوں میں کسی بھی قسم کی نرمی ناقابل یقین حد تک احتیاط کے ساتھ کی جائے گی۔

    • برطانیہ: روڈ کے استعمال میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے

      انگلینڈ کے چیف میڈیکل آفیسر جوناتھن وینتام نے بتایا کہ عوام کی جانب سے پبلک ٹرانپسورٹ کے استعمال میں کمی بہت ہی متاثر کن رہی تاہم انھوں نے بھی تسلیم کیا کہ اب بظاہر لاک ڈاؤن میں مجموعی طور پر سڑکوں کا استعمال یعنی ٹریفک بڑھ رہی ہے۔

      TAM

      ،تصویر کا ذریعہPA MEDIA

      TRANSPORT
    • کورونا وائرس: انڈیا کے یہ دو سائنسدان کیا کمال کرنے والے ہیں؟

    • برطانیہ میں کورونا سے کل 31587 ہلاکتیں

      CORONA

      برطانوی حکام کے مطابق کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی کل تعداد 215260 ہو چکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 31587 تک پہنچ گئی ہے۔

      وزیر ٹرانپسورٹ کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا کہ گذشتہ روز نئے مصدقہ کیسز میں 3896 مریض سامنے آئے۔ ایک روز میں ہلاکتوں کی تعداد 346 ریکارڈ کی گئی۔

    • سائیکل پر اور پیدل دفتر جانے والوں کی سہولت کے لیے پیکج

      برطانوی وزیر ٹرانسپورٹ نے دو ارب برطانوی ڈالر کے پیکج کا اعلان سائیکل پر یا پھر پیدل چل کر دفتر جانے والوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے کیا ہے۔

      انھوں نے بتایا کہ قومی سطح پر سائیکلنگ کا پلان جون میں سامنے آئے۔

      گرانٹ شپس کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی پلان پیدل چلنے والوں کے لیے راستوں کو مزید چوڑا کیا جائے گا۔