برطانیہ: ایسٹر کے بعد سے کیئر ہومز میں 4343 ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 30 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہے۔ دوسری جانب روس میں ایک دن میں چھ ہزار چار سو سے زیادہ افراد میں کورونا کی تشخیص کے بعد ملک میں متاثرین کی کُل تعداد ایران سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. کورونا وائرس: ویکسین کی تیاری کے لیے دنیا انڈیا کی طرف کیوں دیکھے گی؟, سوتِک بسواس، انڈیا سے بی بی سی کے نامہ نگار

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا میں عام ادویات اور ویکسین تیار کرنے والے سب سے بڑے صنعت کاروں میں انڈیا سرِفہرست ہے۔

    اب انڈیا کی نصف درجن کمپنیاں کووڈ-19 بیماری کا باعث بننے والے وائرس کے خلاف ویکسین تیار کر رہی ہیں۔

    انھی میں سے ایک سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا ہے جو تیار اور فروخت کی جانے والی خوراک کی تعداد کے حساب سے دنیا کا سب سے بڑا ویکسین بنانے والا ادارہ ہے۔

    اس فرم نے برطانوی حکومت کی حمایت سے آکسفورڈ یونیورسٹی میں تیار کی جانے والی ویکسین کی بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے شراکت داری کی ہے۔

    جمعرات کو آکسفورڈ میں اس ویکسین کے انسانوں پر ٹرائلز کا آغاز ہوا۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو ستمبر تک کم از کم ایک ملین خوراکیں تیار کی جا سکیں گی۔

    یہ بات توواضح ہے کہ دنیا کو لاکھوں خوراکوں کی ضرورت پڑے گی اور اس کام کے لیے انڈیا میں ویکسین تیار کرے والوں کو دوسروں پر سبقت حاصل ہو گی۔

    صرف سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا میں ہی 400 سے 500 ملین خوراکیں تیار کرنے کی اضافی صلاحیت موجود ہے۔

  2. 1000 برس پہلے ویکسین کا خیال کہاں سے آیا تھا؟

  3. فرانس: بلیک مارکیٹ میں فروخت ہونے والے ماسک کی سب سے بڑی کھیپ پکڑی گئی

    masks

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    فرانسیسی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں چہرے کے ماسک کی سب سے بڑی کھیپ قبضہ میں لے لی ہے جو بلیک مارکیٹ میں فروخت ہونے والی تھی۔

    افسران نے پیرس کے قریب ایک کاروباری شخص کو گھر میں 140000 ماسک ذخیرہ کرتے ہوئے پکڑ لیا۔

    طبی عملے کو ضروری سامان کی فراہمی کے لیے فرانس نے گذشتہ ماہ فیس ماسک بنانے والی کمپنیوں کو مزید پیداوار کا حکم دیا تھا۔

    اس حکم پر عمل درآمد سے قبل ہی آن لائن اور دکانوں میں ماسک کی قیمتیں تین گنا بڑھ گئیں تھیں۔

  4. مساجد میں جمع ہوئے لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال, ول رؤس، افریقہ ایڈیٹر ، بی بی سی ورلڈ سروس

    comoros

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    مشرقی افریقہ کے ملک کوموروس کی سکیورٹی فورسز نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے اور مساجد میں جمع ہوئے لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔

    یہ واقعہ سنیچر کے روز انجوآن جزیرے میں پیش آیا۔

    حزب اختلاف کے سیاستدانوں نے اس کی مذمت کی ہے۔

    رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مسلمان طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کھانے، پینے، تمباکو نوشی اور جنسی تعلقات سے پرہیز کرتے ہیں اور عام طور پر شام کے وقت جمع ہو کر افطار اور نماز ادا کرتے ہیں۔

    اگرچہ یہ ملک افریقہ کے ان دو ممالک میں شامل ہے جہاں ابھی تک کوورنا وائرس کا ایک کیس بھی سامنے نہیں آیا لیکن اس کے باوجود صدر ازالی اسومانی نے رات کے اوقات میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔

    دوسرا ملک لیسوتھو ہے۔

  5. ناگاساکی میں لنگر انداز اطالوی جہاز: عملے کے 148 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق

    ship

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ناگاساکی میں لنگر انداز اطالوی بحری جہاز پر موجود عملے کے ایسے اراکین کو ان کے ممالک واپس بھیجنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں جن کے کووڈ-19 ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔

    اطالوی رجسٹرڈ کوسٹا اٹلانٹیکا بحری جہاز، عملے کے 623 افراد کے ساتھ جنوری سے ناگاساکی کی بندرگاہ میں لنگر انداز ہے۔ اس پر کوئی مسافر سوار نہیں ہے۔

    عملے کے تقرییاً 148 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور ان میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

  6. کورونا کا ’کرشماتی علاج‘ جو وائرس سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے

  7. چلی: حکومت شہریوں کو ’امیونیٹی سرٹفیکیٹ‘ جاری کرے گی

    chile

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چلی کی حکومت نے اپنے شہریوں جو کہ کورونا سے صحت یاب ہو چکے ہیں کو ایک سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    چلی میں نائب وزیر صحت پاؤلا ڈازا نے کہا کہ ان افراد کو دستاویز دی جائے گی تاکہ وہ کام پر واپس لوٹ سکیں۔

    تاہم یہ ایک متنازع منصوبہ ہے کیونکہ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ اگر ایک شخص کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد صحت یاب ہو چکا ہے تو وہ دوبارہ اس میں مبتلا نہیں ہوسکتا یا اس میں اس کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا ہو چکی ہے۔

    ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ سرٹیفکیٹ وائرس کے پھیلاؤ میں مدد کر سکتا ہے۔

    چلی میں اب تک وائرس سے 189 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور وہاں مصدقہ کیسز کی تعداد 13000 ہے۔

    ’امیونیٹی سرٹفیکیٹ‘ کیا ہوتے ہیں اور ان کے حوالے سے کیا خدشات ہیں؟ جاننے لیے کلک کیجیے

  8. لاک ڈاؤن اور گھریلو تشدد: تین ہفتوں میں 14 خواتین کا قتل

    UK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں میڈیکل پروٹیکشن سوسائٹی کی کا کہنا ہے کہ قومی سطح پر گھریلو تشدد کے واقعات سے متعلق ہیلپ لائن سے رابطے میں 49 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    تشدد کی اطلاعات میں اضافے کے پیش نظر اس ادارے نے اپنی رپورٹ میں حکومت سے کہا ہے کہ وہ وبا کے دوران گھریلو تشدد کے حوالے سے اپنی سٹریٹیجی بنائے۔

    میڈیکل پروٹیکشن سوسائٹی، ایم پی ایس کا کہنا ہے کہ متاثرین کے لیے محفوظ جگہیں ہونی چاہیے۔

    خواتین کی ہلاکتوں سےمتعلق ڈیٹا اکٹھا کرنے والے ریسرچرز کا کہنا ہے کہ 14 خواتین اور دو بچوں کو لاک ڈاؤن کے پہلے تین ہفتوں کے دوران ہلاک کیا گیا۔

    یہ گیارہ سال کے دوران تین ہفتوں میں قتل ہونے والی خواتین اور بچوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    اسی طرح گھریلو تشدد سے متعلق قومی ہیلپ لائن پر آنے والی کالز کی اوسط تعداد بھی معمول سے 25 فیصدزیادہ تھی اور یہ تین ہفتوں بعد 49 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئیں۔

  9. کیا لاک ڈاؤن کے دوران کھانے پینے کی عادات تبدیل ہونے پر پریشان ہونا چاہیے؟

  10. اٹلی میں چار مئی سے لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں نرمی کا اعلان

    italy

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اٹلی کے وزیراعظم جوزیپے کونٹے نے قوم سے خطاب میں بتایا ہے کہ کیسے اب ان کا ملک دوسرے مرحلے میں کورونا کے باعث لگے لاک ڈاؤن کو اٹھانے کے اقدامات کرے گا۔

    انھوں نے بتایا کہ چار مئی سے ملک میں معمولات زندگی پر لگی پابندیوں کو نرم کرنے کا آغاز ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ماسک پہن کر ااپنے عزیز و اقارب سے ملنے کی اجازت دی جائے گی۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس میں کم تعداد میں میل جول کی اجازت ہو گی۔

    پارکس دوبارہ کھول دیے جائیں گے لیکن سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ستمبر تک ہی ممکن ہو سکے گا۔

    یورپ میں اٹلی میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں اور یہیں سب سے طویل ترین لاک ڈاؤن رہا۔

    اب تک وہاں 197675 کیسز سامنے آچکے ہیں۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 26644 ہو چکی ہے۔

    اٹلی میں کیسز کی تعداد کم ہو رہی ہے تاہم اتوار کو 260 ہلاکتیں ہوئیں یہ 14 مارچ کے بعد کسی بھی ایک دن میں ہلاکتوں کی سب سے کم تعداد ہے۔

  11. کورونا وائرس: عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ ’امیونیٹی پاسپورٹ‘ کورونا کی وبا کو پھیلا سکتے ہیں

    world

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے ایسے ’شواہد موجود نہیں‘ ہیں جو اس بات کی غمازی کر سکیں کہ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کے جسموں میں اینٹی باڈیز تیار ہو چکے ہیں جو اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایسے افراد دوبارہ وائرس کا شکار نہیں ہو سکتے۔

  12. امریکہ: مزید ریاستوں میں لاک ڈاؤن اٹھانے کا آغاز

    us

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں مزید ریاستوں میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا آغاز ہو گیا ہے۔ تاہم حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سماجی دوری کے احکامات پر عمل کرنا موسم گرما کے دوران ضروری رہے گا۔

    ان ریاستوں کے گورنرز نے انتباہی پیغام میں کہا ہے کہ زندگی تیزی سے معمول پر نہیں آ سکتی اور کچھ جگہوں پر اب بھی پابندیاں رہیں گی تاکہ وائرس دوبارہ نہ پھیل سکے۔

    جمعے کو امریکہ میں ایک روز میں سب سے زیادہ کورونا متاثرین کے کیسز سامنے آئے۔

    لیکن وبا کے مرکز نیویارک سمیت بہت سے علاقوں میں ہسپتالوں میں وبا کا تناسب نمایاں طور پر کم رہا۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 9400000 ہو چکی ہے اور اب تک 54000 اموات ہو چکی ہیں۔

    محکمہ صحت سے متعلق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تیزی سے لاک ڈاؤن اور پابندیاں ہٹانے سے وبا کی دوسری لہر پھیلنے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔

    امریکہ میں موجودہ صورتحال میں 26 لاکھ سے زیادہ افراد بے روز گار ہو چکے ہیں بے روزگاری کی شرح 16 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔

    ایسی صورتحال میں ریاستوں کےگورنرز نے ان احکامات کو ختم کیا اور کچھ شہروں میں میئرز نے لاک ڈاؤن کے احکامات کو ختم کرنے کے لیے اپنے الگ لائحہ عمل جاری کیے۔

    جارجیا، اوکلاہوما، الاسکا اور جنوبی کیرولائینا میں پہلے ہی کچھ کاروبار دوبارہ کھولنے کی اجازت دی جا چکی ہے۔ ان اور چند دیگر ریاستوں نے ایسے پلان جاری کیے ہیں جن میں اعلان کیا گیا ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں مزید پابندیاں کم کی جائیں گی۔

    کولاراڈو کے گورنر جیرڈ پولس کا کہنا ہے کہ پیر سے ریٹیل پک اپ کی بھی اجازت دی ہے۔ جمعے سے ہی وہاں حجام کی دکان اور پارلر کھل چکے ہیں۔

    ٹنیسی میں پیر سے ریسٹورنٹ کھل جائیں گے۔ پیر کو ہی مسیسیپی میں لاک ڈاؤن کی مدت ختم ہو جائے گی۔

    مونتانا کے گورنر نے چرچ دوبارہ کھولنے کی اجازت اتوار کو دے دی تاہم وہاں سماجی دوری کا ضابطہ اپنانا ہوگا۔ ریسٹورنٹ اور سکول سات مئی سے کھل جائیں گی۔

    امریکہ کی آٹھ ریاستوں جہاں ریپبلکن پارٹی کے گورنرز ہیں نے گھر میں محدود رہنے کے احکامات جاری ہی نہیں کیے تھے۔ ان میں شمالی ڈکوٹا،جنوبی ڈکوٹا، نبراسکا، آرکنساس، اوکالاہوما شامل ہیں۔

  13. خنزیر کے گوشت کی فیکٹری امریکہ میں کورونا کی وبا کا مرکز کیسے بنی؟

    امریکہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی اتنی بڑی تعداد ساؤتھ ڈکوٹا کے ایک چھوٹے سے کونے سے کیسے سامنے آئی؟ پورک (خنزیر)پراسیسنگ فیکٹری میں انفیکشن کیسے پھیلیا اور ایسے کئی سوالات کے جواب ابھی ملنا باقی ہیں جیسا کہ کمپنی نے عملے کے تحفظ کے لیے کیا کیا؟

    us
  14. بی بی سی اردو کے ورلڈ لائیو پیج پر خوش آمدید

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا بھر سے کورونا وائرس سے متعلق تازہ ترین خبریں آپ بی بی سی اردو کے اس لائیو پیج پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

    اتوار تک کی ہماری کوریج ہمارے گذشتہ پیج پر یہاں دستیاب ہے۔

    دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس سے 29 لاکھ 54 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ دو لاکھ پانچ ہزار سے زائد افراد اس مرض سے ہلاک ہوئے ہیں۔

    امریکہ اب تک 54 ہزار سے زائد ہلاکتوں کے ساتھ دنیا کا سب سے زیادہ متاثر ملک ہے۔

    دنیا کے دیگر ممالک کی تازہ ترین صورتحال مختصراً کچھ یوں ہے:

    • سپین میں یومیہ ہلاکتوں کی تعداد 20 مارچ سے اب تک کی کم ترین سطح پر رہی ہے اور اتوار کو 288 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ لاک ڈاؤن میں معمولی نرمی کرتے ہوئی ہسپانوی بچوں کو دن میں ایک گھنٹے کے لیے بالغ افراد کی نگرانی میں باہر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔
    • برطانیہ میں اموات کی تعداد 20 ہزار 732 ہوگئی ہے جبکہ ہسپتالوں میں مزید 413 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ یہ رواں ماہ ہونے والی ہلاکتوں کی کم ترین یومیہ تعداد ہے۔
    • فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پولیس نے ایک لاکھ 40 ہزار ماسک ضبط کر لیے ہیں جنھیں بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جانا تھا۔ حکام نے ان ماسکس کو ایک ٹرک سے اتار کر گھر میں رکھے جانے کے وقت ضبط کیا۔
    • برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن کورونا سے صحتیاب ہونے کے بعد پیر سے کام پر واپس آئیں گے۔ بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ وہ کابینہ کے اجلاس اور ممکنہ طور پر برطانوی حکومت کی یومیہ بریفنگ کی بھی سربراہی کریں گے۔
    • امریکہ کی کورونا وائرس رسپانس کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ڈیبوراہ برکس نے کہا ہے کہ امریکیوں کو سماجی دوری کے قوانین کے گرمیوں میں بھی جاری رہنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔