برطانیہ: ایسٹر کے بعد سے کیئر ہومز میں 4343 ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 30 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہے۔ دوسری جانب روس میں ایک دن میں چھ ہزار چار سو سے زیادہ افراد میں کورونا کی تشخیص کے بعد ملک میں متاثرین کی کُل تعداد ایران سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. کورونا وائرس: وٹس ایپ پر فارورڈڈ پیغامات میں 70 فیصد کمی

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وٹس ایپ کے مطابق فارورڈڈ پیغامات میں 70 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس قسم کے پغامات جن سے کورونا وائرس سے متعلق غلط فہمی پھیل سکتی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وبا سے متعلق اس طرح کی جعلی خبریں سچ تک پہنچنے میں مشکلات کا سبب بنتی ہیں۔

    دو ہفتے قبل وٹس ایپ نے ایسے پیغامات کی ترسیل پر پابندی عائد کر دی تھی جو صارفین کے درمیان پانچ سے زائد بار بھیجا گیا ہو یا ایک وقت میں ایک گروپ سے زائد کو بھیجا گیا ہو۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی بھی غلط اطلاعات کو روکنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

    وٹس ایپ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ وٹس ایپ اپنے طور وائرل پیغامات کا رستہ روکنے کی تگ و دو میں یکسوئی سے کام کر رہا ہے۔

  2. بریکنگ, کورونا وائرس: امریکہ کا گلوبل ہیلتھ کیئر فنڈنگ میں کمی نہ کرنے اعلان, چین افریقی ممالک کو قرضوں کی دلدل میں پھنسا رہا ہے: امریکہ

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ان کا ملک افریقہ میں کسی بھی ملک سے ذیادہ کووڈ-19 کے خلاف برسرپیکار ہے۔

    افریقہ میں صحافیوں سے فون پر بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود کے ان کے ملک نے عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روک دی ہے مگر امریکہ نے گلوبل ہیلتھ کیئر سے متعلق کسی قسم کی کمی نہیں کی ہے۔

    مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ہم اپنے افریقی دوست ممالک سے مل کر کووڈ-19 کے خلاف بھرپورانداز میں لڑ رہے ہیں۔

    ان کے مطابق جتنا کچھ امریکا کر رہا ہے، اس کے مقابلے میں دنیا کا کوئی بھی ملک اتنا نہیں کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے افریقہ میں اس وبا سے نمٹنے کے لیے 170 ملین ڈالر سے زائد دینے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

    مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ واشنگٹن صحت کے شعبے میں مالی مدد کو کم نہیں کرنا چاہتا بلکہ امریکہ یہ چاہتا ہے کہ یہ رقم دنیا کے مختلف ممالک کے اداروں کے پاس جائے جو درحقیقت اس کا بتہر استعمال عمل میں لا سکتے ہیں۔

    جب بی بی سی افریقہ کے نمائندہ اینڈریو ہارڈنگ نے پوچھا کہ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈٹرجنٹ کے ذریعے کووڈ-19 کےعلاج سے متعلق تجویز کے بعد امریکہ کا دنیا میں تشخص خراب ہوا ہے تو اس پر امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ دیگر ممالک اور میڈیا غلط خبریں پھیلا رہا ہے۔

    مائیک پومپیو چین سے متعلق تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چین افریقی ممالک کو تھوڑی سی امداد کے بدلے قرضوں کی دلدل میں پھنسا رہا ہے۔

  3. کورونا وائرس: کن ممالک کی ٹیسٹنگ کی صلاحیت بہتر ہے؟

    کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لیے دنیا کے متعدد ممالک کو اس وقت اس وائرس کے متاثرہ مریضوں کا پتا چلانے کا چلینج درپیش ہے۔

    اس کے لیے جن ممالک کی ٹیسٹنگ کی صلاحیت بہتر ہے وہ اس وبا پر قابو پانے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔

    جرمنی اور جنوبی کوریا کی مثالیں ذیادہ نمایاں ہیں۔

    برطانیہ کے وزیر صحت نے اپنی بریفنگ میں بتایا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 37 ہزار 24 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ یہ اب تک کے برطانیہ میں ایک دن میں سب سے زیادہ ٹیسٹ ہیں۔

    ان کے مطابق برطانیہ نے ابھی تک کل چھ لاکھ اور ستر ہزار ٹیسٹ کیے ہیں۔ گذشتہ ہفتے برطانیہ کی روزانہ ٹیسٹنگ کی اوسط 23 ہزار بنتی ہے۔

    کورونا ٹیسٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے مقابلے میں جرمنی ہفتے میں ساڑھے چار لاکھ افراد کے ٹیسٹ کرتا ہے۔ جرمنی کے وزیر خارجہ کے مطابق یہ روزانہ 64 ہزار ٹیسٹ بنتے ہیں۔

    برطانیہ کے وزیر صحت کا بریفنگ میں کہنا تھا کہ ٹیسٹنگ میں برطانیہ جرمنی جتنی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔

    جنوبی کوریا میں روزانہ ہونے والے ٹیسٹ سے اعدادوشمار کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ 31 مارچ کو جنوبی کوریا نے ایک دن میں سب ذیادہ 15 ہزار اور 370 ٹیسٹ کیے تھے۔

    برطانوی وزیر صحت کے مطابق ان کا ملک اس صلاحیت میں جنوبی کوریا سے آگے نکل گیا ہے تاہم ابھی بھی جرمنی کے مقابلے میں ذیادہ محنت درکار ہو گی۔

  4. کورونا وائرس: نیو یارک میں اموات میں مسلسل کمی

    نیو یارک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیو یارک میں کورونا وائرس کی وجہ سے اموات میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔

    نیو یارک کے گورنر اینڈریو کومو نے یہ اعدادوشمار پیش کیے ہیں۔ امریکہ میں نیو یارک کورونا وائرس کی وبا سے سب سے ذیادہ متاثرہ ملک ہے۔

    گذشتہ روز نیویارک میں 337 اموات ہوئیں۔ نیویارک میں ابھی بھی اس وائرس سے متاثرہ روزانہ 1000 نئے مریض سامنے آرہے ہیں

    ریاست نیو یارک کے کچھ علاقوں کو 15 مئی کے بعد کھول دیا جائے گا۔ تاہم گورنر نے واضح کیا ہے کہ مقامی اور دیگر علاقوں کے قانون ساز اس حوالے سے چوکنا رہیں اور قومی صحت گائیڈ لائن کے مطابق ہی سب کریں۔

    گورنر نے اس تنقید کا بھی جواب دیا جس میں کہا گیا کہ کچھ ریاستیں وفاق سے مالی مدد طلب کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیویارک مالی مدد دینے والی ریاست ہے اور اس سے زیادہ کسی نے بھی قومی خزانے میں پیسے جمع نہیں کرائے ہوں گے۔

  5. برطانوی حکومت: کورونا وائرس سے مرنے والے ہیلتھ ورکر کے خاندان کو 60 ہزار پاؤنڈز ملیں گے

    وزیر صحت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے وزیر صحت نے لائف اشورنس سکیم کا اعلان کیا ہے جس کے تحت محکمہ صحت کے کسی اہلکار کی کورونا وائرس سے موت کی صورت میں اس کے خاندان کو 60 ہزار پاؤنڈز دیے جائیں گے۔

    وزیر صحت کا کہنا تھا کہ حکومت دوسرے شعبوں کے کارکنان سے متعلق بھی اس سکیم کے اطلاق کے بارے میں سوچ رہی ہے کہ انھیں بھی کورونا وائرس کی وجہ سے یہ رقم مل سکے۔

  6. بریکنگ, دنیا بھر میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد تین ملین سے زائد ہو گئی

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہbb

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد تین ملین سے زائد ہو چکی ہے۔

    اس وائرس سے دنیا میں مرنے والوں کی تعداد دو لاکھ آٹھ ہزار ہو چکی ہے۔

  7. نیو یارک شہر میں 40 میل تک سڑکیں کھولنے کا اعلان

    نیو یارک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسیو نے کہا ہے کہ نیو یارک شہر میں جلد 40 میل سڑکیں کھول دی جائیں گی تاکہ شہری باہر نکل کر سماجی فاصلے کے اصول کی پابندی کرتے ہوئے چل پھر سکیں۔

    میئر کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں ہم سٹریٹس اور پارکس کے ارد گار علاقوں کو کھول رہے ہیں۔ ان کے مطابق ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ قریبی علاقوں میں بہت رش بڑھ جاتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے گرم موسم قریب آتا جا رہا ہے تو ویسے ویسے کچھ سٹریٹس کو واک کےلیے کھولنا ہو گا۔ ان کے مطابق پیدل چلنے والوں کے لیے 100 میل تک جگہ کھول دی جائی گی۔

    یہ دوسری بار میئر نیو یارک میں رہنے والوں کے لیے کچھ جگہیں کھولنا چاہتے ہیں۔ ان کی پہلی کوشش پولیس کی طرف سے تجاوزات سے متعلق تحفظات کے بعد ناکامی سے دوچار ہو گئی تھی۔

  8. فضائی آلودگی اور کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی شرح میں تعلق

  9. بریکنگ, کورونا وائرس: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ویڈیو کانفرنس اجلاس کب ہو گا؟

    UNSC

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    روس نے پیر کو کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کورونا وائرس کی وبا پر بحث کے لیے ویڈیو کانفرنس کے انعقاد پر متفق ہو گئے ہیں۔

    روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے علاوہ دیگر ممالک کے رہنماؤں نے بھی اس اقدام کی حمایت کی ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان ہیں۔ یہ وہ مضبوط فورم ہے جو کسی بھی قرارداد کا رستہ روک سکتا ہے۔ اس گروپ میں برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکہ شامل ہیں۔

    سرگے لاوروف کا کہنا ہے کہ یہ پانچ ممالک اب اپنے طور پر اس وائرس کے مقابلے کے لیے حکمت عملی بنانے پر غور کریں گے۔

    ان کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے ویڈیو کانفرنس کے انعقاد پر اتفاق ہوا ہے۔ اب اس پر بات ہو رہی ہے کہ یہ کانفرنس کس دن منعقد کی جائے۔

    کریملین کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ اس حوالے سے ابھی کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ اس وائرس کے پھوٹنے سے لے کر اب تک سلامتی کونسل مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ روس، امریکہ اور چین میں دوریوں کی وجہ سے ہے۔

  10. سویڈن میں کچھ کاروبار کی طلب میں 90 فیصد کمی, میڈی سیواج، بی بی نیوز، سٹاک ہام

    sweden

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سویڈن کے وزیر تجارت ابراہیم بیلان کا کہنا ہے کہ ملک میں ہوٹل، ریستوارن اور بار کے کاروبار مندی کا شکار ہیں۔

    وزیر تجارت نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی ریستوران، ہوٹلز اور بار کے کاروبار ابھی مشکل کا شکار ہیں، جن کی طلب میں اوسطاً 50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

    ان علاقوں میں جہاں کا بڑی تعداد میں سیاح رخ کرتے ہیں وہاں طلب 90 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

    وزیر تجارت نے سویڈن کے لاک ڈاؤن نہ کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ ان کے مطابق ایسے وقت میں جب حکام اس وائرس سے لڑ رہے ہیں تو ایسے میں اس وبا کے معاشی پہلو کو بھی قابو میں رکھنا ضرور ہے۔

    ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سویڈن نے دارالحکومت سٹاک ہام میں ایسے پانچ بار اور ریستوارن بند کرنے فیصلہ کیا ہے جو رات کی رنگینیوں کے حوالے سے مشہور تھی۔

    یہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب یہ شکایات موصول ہوئی ہیں کہ کچھ جگہوں پر سماجی اصولوں پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔

    ہفتے میں ایک درجن تک ایسی جگہوں کے مالکان کو تنبیہ کی ہے۔ لنڈ یونیورسٹی کا بھی معائنہ کیا گیا تھا تاہم وہاں تمام اصولوں کی پابندی کی جارہی تھی۔

  11. برطانیہ میں مزید 329 اموات، کل تعداد 18،749 ہو گئی

    england

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انگلینڈ میں کورونا وائرس سے مزید 329 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    انگلینڈ کی قومی ہیلتھ سروس این ایچ ایس کے مطابق مرنے والوں کی عمر 29 سے 100 سال تک تھی۔ انگلینڈ میں ہسپتالوں میں مرنے والوں کی کل تعداد 18749 ہو چکی ہے۔

    سکاٹ لینڈ میں مزید 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جس سے ملک میں مرنے والوں کی کل تعداد 1262 تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ ویلز میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں، جس سے وہاں اس وبا سے مرنے والوں کی تعداد 796 ہو گئی ہے۔

  12. رمضان نشریات: سعودی عرب میں یہودی دایہ کے کردار والے ڈرامے کے چرچے

    Umm Haroun

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    رمضان میں سعودی عرب کے زیر کنٹرول ایم بی سی پر ایک قسط وار ڈرامے جس میں ایک یہودی دایہ کی مشکلات کو دکھایا گیا ہے پر تنقید بھی ہورہی ہے اور اسے عرب ممالک کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پرلانے کی ایک کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب اس ڈرامے کی تعریف کرنے والوں کا کہنا ہے کہ خلیج کی سماجی تاریخ کے حوالے سے یہ ایک بہت نایاب کوشش ہے۔

    ام ہارون،، ایک افسانوی سیریز ہے جوسنہ 1930 سے سنہ 1950 کی دہائی میں خلیجی عرب ریاست جس کی حدود کا تعین نہیں کیا گیا ہے میں کئی مذاہب کے ماننے والوں پر مشتمل کمیونٹی کو دکھایا گیا ہے۔ یہ ڈرامہ جمعے کو دکھایا جانا شروع ہوا ہے۔

    رمضان جیسے مقدس ماہ میں ان ایئر کرنے کے لیے ایم بی سی نے یہ ڈرامہ تیار کیا ہوا تھا۔ اب اس ڈرامے کو دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب متعدد خلیجی ریاستوں نے اپنے ماضی قریب سے جس میں اسرائیل کو نشانہ بنانا شامل تھا سے اپنا رشتہ ختم کرتے ہوئے، اب ایران کو اپنا مشترکا ہدف بنا لیا ہے۔

    ایم بی سی عرب دنیا کا بڑا نجی نشریاتی ادارہ ہے، کا کہنا ہے کہ ان کے اعدادوشمار کے مطابق یہ پانچ ڈراموں میں سے سعودی عرب اور پورے خطے میں سب سے ذیادہ دیکھے جانے والا ڈرامہ بن چکا ہے۔

    اس ڈرامے کو تحریر کرنے والے کا کہنا ہے کہ اس کا مرکزی کردار ام ہارون جس کے نام سے یہ ڈرامے کا نام بھی ہے، ایک حقیقی یہودی دایہ ام جان جو 1930 کی دہائی میں عراق سے بحرین آئی تھیں کی زندگی پر بنایا گیا ہے۔

  13. چین نے ’غلط معلومات پھیلانے‘ کے الزامات مسترد کر دیے

    china

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کے دفتر خارجہ نے ان دعووں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ بیجنگ نے جان بوجھ کر کورونا وائرس کے بارے میں غلط معلومات پھیلائی ہیں۔

    یورپی یونین کی ایک رپورٹ نے گذشتہ ہفتے چین کو سوشل میڈیا پر خفیہ آپریشن کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

    برطانوی قومی سلامتی کے حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ کے خیال میں چین کورونا وائرس کے متاثرین کے بارے میں درست اعدادوشمار ظاہر نہیں کر رہا ہے۔

    چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے پیر کے روز ہونے والی معمول کی پریس کانفرنس میں بیجنگ کے موقف کا دفاع کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ چین غلط معلومات کے پھیلاؤ کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق چین خود اس وبا سے متاثرہ ملک ہے۔

  14. پاکستانی وینٹیلیٹر: ’اس کا معیار عالمی سطح کا ہے اور قیمت کم ہو گی‘

  15. غزہ میں ریستوران کھولنے کا فیصلہ

    gaza

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    غزہ میں ریستوران مالکان کی اپیل کے بعد حکام نے پیر سے کھانے پینے کی دکانیں کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں ریستوران اور ہوٹل پیر سے کھل جائیں گے۔

    حکام نے وضاحت دی ہے کہ یہ فیصلہ وزارت صحت کی سفارش پر کیا گیا ہے، جس کے تحت سب کو سماجی فاصلے کے اصول کی پابندی کرنا لازمی ہوگا۔

    مارچ کے وسط سے حماس کی حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کیا تھا۔

    اس اعلان کے بعد سکول، یونیورسٹیاں، مساجد اور ریستوران بند کر دیے گئے تھے۔

    غزہ میں ابھی تک اس وائرس کے کُل متاثرین کی تعداد 17 بتائی جاتی ہے اور باہر سے آنے والوں کو آئسولیشن میں رکھا جاتا ہے۔

  16. بریکنگ, اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ویڈیو کانفرنس کے انعقاد پر اتفاق

    UNSC

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    روس نے پیر کو کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کورونا وائرس کی وبا پر بحث کے لیے ویڈیو کانفرنس کے انعقاد پر متفق ہو گئے ہیں۔

    روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے علاوہ دیگر ممالک کے رہنماؤں نے بھی اس اقدام کی حمایت کی ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان ہیں۔ یہ وہ مضبوط فورم ہے جو کسی بھی قرارداد کا رستہ روک سکتا ہے۔ اس گروپ میں برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکہ شامل ہیں۔

    سرگے لاوروف کا کہنا ہے کہ یہ پانچ ممالک اب اپنے طور پر اس وائرس کے مقابلے کے لیے حکمت عملی بنانے پر غور کریں گے۔

    ان کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے ویڈیو کانفرنس کے انعقاد پر اتفاق ہوا ہے۔ اب اس پر بات ہو رہی ہے کہ یہ کانفرنس کس دن منعقد کی جائے۔

    کریملین کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ اس حوالے سے ابھی کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ اس وائرس کے پھوٹنے سے لے کر اب تک سلامتی کونسل مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ روس، امریکہ اور چین میں دوریوں کی وجہ سے ہے۔

  17. کورونا وائرس: برطانیہ میں مرنے والے ہیلتھ ورکرز کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی

    health

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن بھی منگل کو کورونا وائرس سے مرنے والے ہیلتھ ورکرز کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کریں گے۔

    یہ تقریب محکمہ صحت، رائل کالج نرسنگ اور رائل کالج مڈ وائیوز کی تجویز پر رکھی جارہی ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ منگل کو ورکرز کی یاد کا عالمی دن بھی ہے۔

    برطانوی وزیر اعظم کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم بورس جانسن گیارہ بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی اور انھوں نے کہا ہے کہ جو بھی حکومت کا حصہ ہے وہ اس میں شریک ہو۔

    سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نائیکولا سٹرجن کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس میں شریک ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فرنٹ لائن ہیروز اور جو اس وبا سے مر گئے ہیں انھیں خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔

  18. ڈچ شہریوں نے لاک ڈاؤن میں ’کنگز ڈے‘ کیسے منایا

    ڈچ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    نیدرلینڈ کے بادشاہ ولیم الیگزینڈر کی 53 ویں سالگرہ یعنی ’کنگز ڈے‘ منانے کے لیے پورے ملک میں چرچ کی گھنٹیاں بجائی گئیں۔

    اس موقع پر گھروں کے باہر ڈچ پرچم لہرائے گئے اور ہیگ کے آس پاس اور اس سے باہر کے گھروں سے قومی ترانے کی آوازیں ہر طرف سنی جا سکتی تھیں۔

    لیکن اس مرتبہ، اس مقبول دن کو منانے کے لیے روایتی بازاروں یا سٹریٹ پارٹیوں میں سے کچھ منعقد نہیں ہو گا۔ اس کے بجائے ہالینڈ کے وزیر اعظم نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ سال نیدرلینڈ کے شہری جو بہترین تحفہ بادشاہ کو دے سکتے ہیں وہ گھروں میں رہنا ہے۔

    کنگز ڈے کے مقابلے میں شاید کووڈ 19 نے ملک کو زیادہ سے زیادہ متحد کیا ہے۔ ڈچ افراد وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کی کوشش میں عائد کردہ معاشرتی دوری کے قواعد پر پوری توجہ سے عمل کرتے آ رہے ہیں۔

  19. کیا سانس روکنے سے کورونا وائرس کا علاج ہو سکتا ہے؟

    کیا سانس روکنے سے کورونا وائرس کا علاج ہو سکتا ہے؟ ایسے سوال اور ان سے جڑی کئی افواہیں انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہیں۔انٹرنیٹ پر پھیلنے والی افواہوں میں کتنی حقیقت ہے، جاننے کے لیے دیکھیے ہماری ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  20. کیا لہسن کھانے اور گرم پانی پینے سے کورونا وائرس بچا جا سکتا ہے؟

    کیا لہسن کھانے اور گرم پانی پینے سے کورونا وائرس بچا جا سکتا ہے؟ ایسے سوال اور ان سے جڑی کئی افواہیں انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہیں۔انٹرنیٹ پر پھیلنے والی افواہوں میں کتنی حقیقت ہے، جاننے کے لیے دیکھیے ہماری ڈیجیٹل ویڈیو میں۔