کچھ شمالی کوریائی فنکاروں کے لیے یہ ملاقات دردناک ہے
شمالی کوریا کے کچھ فنکار جنھوں نے ان کی قیادت میں مظالم سہے ہیں، کہتے ہیں کہ امن مذاکرات اس ’آمر‘ کو تبدیل نہیں کر سکیں گے۔
پڑھیے بی بی سی کا خصوصی مضمون ’ایک آمر کو اچھا نہ سمجھیں‘
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کم جونگ ان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک اعلامیے پر دستخط کیے ہیں جس میں شمالی کوریا نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ذیشان حیدر، شجاع ملک، وقاص علی، سارہ حسن
شمالی کوریا کے کچھ فنکار جنھوں نے ان کی قیادت میں مظالم سہے ہیں، کہتے ہیں کہ امن مذاکرات اس ’آمر‘ کو تبدیل نہیں کر سکیں گے۔
پڑھیے بی بی سی کا خصوصی مضمون ’ایک آمر کو اچھا نہ سمجھیں‘
اب سے کچھ دیر قبل صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر میں ایک پیغام میں کہا کہ نمائندوں اور سٹاف کے درمیان ملاقاتیں بہت اچھی جا رہی ہیں مگر آخر میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ ہمیں جلد ہی پتا چل جائے گا کہ کیا کوئی حقیقی معاہدہ، ماضی (کے معاہدے کے برعکس) طے پا سکتا ہے یا نہیں!
یاد رہے کہ اس ملاقات کے حوالے سے وائٹ ہاؤس پہلے واضح کر چکا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان ملاقات میں صرف مترجم موجود ہوں گے۔
سنگاپور میں دونوں سربراہان الگ الگ ہوٹلوں میں ٹھہرے ہیں جو زیادہ دور نہیں ہیں۔
شمالی کوریا کے امور کے ماہر پروفیسر رابرٹ کیلی کا کہنا ہے کہ ’کسی کا بھی یہ خیال نہیں ہے کہ شمالی کوریا آرام سے اپنے جوہری ہتھیار چھوڑ دے گا۔ انھوں نے انھیں بنانے میں 50 سال لگائے ہیں۔ وہ انھیں مفت میں نہیں چھوڑیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے بدلے بہت کچھ مانگیں گے اور صدر ٹرمپ کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کیا وہ اس سلسلے میں کوئی اہم چیز یا رعایت دینے کو تیار ہیں؟‘
خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس مختلف رینج کے 1000 میزائل ہیں جن میں انتہائی طویل رینج کے ایسے میزائل بھی شامل ہیں جو مستقبل میں امریکہ کو نشانہ بنانے کے قابل ہو سکیں گے۔
شمالی کوریا کے اسلحے کی تفصیلات جاننے کے لیے پڑھیے کہ شمالی کوریا کے پاس کیا کچھ ہے؟
اس اہم ملاقات سے ایک رات قبل کم جونگ ان شنگاپور پہنچ گئے تھے۔ انھوں نے اپنی شام سنگاپور کے تفریحی مقامات کا دورہ کرتے ہوئے گزاری۔
جب لاؤرا بیکر پیونگ یانگ گئیں تو انھوں نے وہاں کیا دیکھا، جاننے کے لیے پڑھیں ان کا دلچسپ مضمون شمالی کوریا کے اسلحہ خانے میں 'حسن کی فوج'۔
’جنوبی کوریا کے سربراہ مون جائے ان یا تو سیاسی طور پر انتہائی ذہین ہیں یا پھر ایک ایسے کیمونسٹ ہیں جو اپنے ملک کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔‘
یہ الفاظ ہیں بی بی سی کی سیول میں نامہ نگار لاؤرا بیکر کے۔ لاؤرا بیکر کا مزید تجزیہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
یہ پیچیدہ صورتحال ہے لیکن بنیادی طور پر یہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف ہیں جو ایک دوسرے کو اپنی بقا کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔امریکہ ایک امیر سرمایہ دارانہ جمہوریت ہے۔ شمالی کوریا ایک جماعتی، مطلق العنان ریاست ہے جو دوسری جنگِ عظیم کی افراتفری کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ان کا سامنا 1950 کی دہائی میں ایک جنگ میں ہو چکا ہے جب شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر چڑھائی کی اور امریکہ جنوبی کوریا کی مدد کو آیا۔
وہ جنگ کبھی باقاعدہ طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک معاہدے کے تحت رک گئی تھی۔ شمالی اور جنوبی کوریا تکنیکی طور پر آج بھی حالتِ جنگ میں ہیں۔
شمالی کوریا ایک تنہائی پسند، یک جماعتی ریاست بنا جس کے رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ اسے بقا کے لیے جوہری ہتھیار درکار ہیں۔ مزید تفصیلات کے لیے پڑھیے بی بی سی اردو کا اس حوالے سے خصوصی ضمیمہ۔
یہ جوہری ہتھیاروں کے حامل دو ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے حالات بہتر بنانے کی کوشش کی بات ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک وہ ایک دوسرے پر یہ ہتھیارچلانے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔شمالی کوریا کئی دہائیوں تک جوہری ہتھیاروں کے حصول کی انتھک کوششیں کرتا رہا ہے اور حقوقِ انسانی کے معاملات میں بھی اس کا ریکارڈ خاصا خراب ہے۔
شمالی کوریا کے رہنماؤں کا ہمیشہ سے یہ خیال تپا کہ ایک امریکی صدر سے بالمشافہ ملاقات کا مطلب یہ ہے کہ انھیں اہمیت دی جانے لگی ہے۔لیکن امریکہ اور بیشتر دیگر ممالک اس وقت تک شمالی کوریا کے ساتھ رابطوں سے انکار کرتے رہے ہیں جب تک وہ اپنا قبلہ درست نہیں کر لیتا۔یہ سب کچھ رواں برس کے آغاز میں تبدیل ہوا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے کم جونگ ان کی پیشکش کا جواب یہ کہہ کر دیا کہ انھیں بات کر کے خوشی ہو گی۔سو یہ ملاقات تاریخ کا رخ تبدیل کر سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ اور شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ ان کے درمیان آج ایک غیر معمولی ملاقات ہونے جا رہی ہے۔
بی بی سی اردو سروس کی اس تاریخی دن کی کوریج میں خوش آمدید۔ دونوں سربراہان کے درمیان ملاقات اب سے چند گھنٹے ہی دور ہے اور اس موقعے پر ہم لمحہ بہ لمچہ آپ کے ساتھ ہوں گے۔