آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ٹرمپ اور کم کی تاریخی ملاقات: کب کیا ہوا؟

کم جونگ ان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک اعلامیے پر دستخط کیے ہیں جس میں شمالی کوریا نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

لائیو کوریج

ذیشان حیدر، شجاع ملک، وقاص علی، سارہ حسن

  1. کم جونگ کی تفریح

    گذشتہ رات بعض حقیقت پسندانہ مناظر اس وقت دیکھنے کو ملے، جب کم جونگ نے غیر اعلانیہ طور پر سنگاپور میں مرانیہ بے کا دورہ کیا۔

    وہ چند گھنٹے اس سیاحتی مقام پر سنگاپور کے حکام اور حکومتی وزرا کے ساتھ رہے گھومتے پھرتے رہے اور اس خلیج پر سیاحوں کا دلچیسپ مقام ’فیوچرسمٹک گارڈن‘ پہنچے۔

  2. شمالی کوریا کا نرم رویہ؟

    شمالی کوریا کافی عرصے سے اپنی عوام کے سامنے امریکہ کو اُن کے دشمن کے طور پر پیش کرتا رہا ہے لیکن عام شمالی کوریائی افراد سے بات چیت کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کے رویے میں اب نرمی آ رہی ہے۔ شمالی کوریائی شہری سن ہوئی نے ٹرمپ کم ملاقات سے قبل بی بی سی کو بتایا کہ ’اب چیزیں بدل رہی ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’حال ہی میں اب وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں تمام افراد کی بہتر زندگی کے لیے امریکہ کے ساتھ امن سے رہنا چاہیے۔‘

  3. حقوقِ انسانی پر بات کیوں نہیں ہو رہی؟

    بوسان یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ کیلی کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہی ہے کہ جب بھی امریکہ اس بارے میں بات کرتا ہے شمالی کوریا کا ردعمل بہت برا ہوتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں شمالی کوریا سے بات چیت حقوقِ انسانی کے موضوع کی وجہ سے ہی ناکام ہو چکی ہے اس لیے امریکہ نے فی الحال اسے موخر کر دیا ہے۔ تاہم اگر مذاکرات کا عمل جاری رہتا ہے تو پھر حقوقِ انسانی کے عالمی گروپوں کی طرف سے دباؤ بڑھے گا کہ اس معاملے پر بھی بات کی جائے۔

  4. کھانے میں کیا ہے؟

    اب سیاستدانوں کو بھی بھوک تو لگتی ہے نا سو کھانے کا انتظام بھی ہے۔ اب ہم جانتے ہیں کہ ٹرمپ اور کم صرف ہیم برگر ہی نہیں کھائیں گے جس کی خواہش کچھ عرصہ قبل کی گئی تھی بلکہ مینو مغربی اور روایتی کوریائی کھانوں کا امتزاج ہے۔

  5. اب تک کیا ہوا ہے؟

    اگر آپ نے ابھی ابھی ہماری کوریج دیکھنا شروع کی ہے تو خوش آمدید!

    سنگاپور میں ایک تاریخی دن ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے درمیان مصافحے کے بعد پرائیوٹ ملاقات کا سلسلہ مکمل ہو چکا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے 38 منٹ تک ملاقات کی اور مترجموں کی مدد سے بات چیت کی۔

    یہ ملاقات تاریخی کیوں ہے؟ اس لیے کہ آج تک کوئی امریکی صدر اپنے دورِ اقتدار میں کسی شمالی کوریائی رہنما سے نہیں ملا۔ شمالی کوریا کو دہائیوں تک دھتکارا جاتا رہا ہے کیونکہ اس کا حقوقِ انسانی کے معاملے میں ریکارڈ برا ہے اور اس نے جوہری ہتھیار بھی بنا لیے ہیں۔

    کچھ ماہ قبل صدر ٹرمپ نے کم جونگ ان سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کی تھی اور ان کے آج کے مصافحے سے یقیناً تاریخ کا رخ تبدیل کیا ہے۔

  6. یہ ملاقات جنوبی کوریا والوں کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟, کوریا میں بی بی سی نیوز کی مدیر کا تجزیہ

  7. تاریخی 38 منٹ

    وائٹ پاؤس نے تصدیق کر دی ہے کہ صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کی پرائیوٹ ملاقات 38 منٹ تک جاری رہی۔ اگر اس بات کو مدِنظر رکھا جائے کہ دونوں رہنما مترجم کے ذریعے بات کر رہے تھے تو بظاہر زیادہ بات چیت نہیں ہوئی۔

  8. کیا شمالی کوریا والے اس ملاقات سے آگاہ ہیں؟

    یقیناً شمالی کوریا کے باشندے جانتے ہیں کہ ان کے رہنما امریکی صدر سے ملاقات کے لیے سنگاپور میں ہیں۔ یہ بات وہاں کے سرکاری میڈیا میں رپورٹ ہوئی ہے۔

    شمالی کوریا میں تمام خبریں سرکاری میڈیا کے توسط سے ہی عوام تک پہنچتی ہیں جبکہ عوام کو خفیہ طور پر عالمی میڈیا تک رسائی کے جرم میں جیل تک بھیجا جا سکتا ہے۔

    ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں شمالی کوریا آخری نمبر پر ہے۔

  9. مون کا رت جگا

    جنوبی کوریا کے صدر مون جئے ان نے کہا ہے کہ انھوں نے اس سربراہ ملاقات سے قبل رات جاگ کر گزاری ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس ملاقات سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے، امن اور شمالی کوریا، جنوبی کوریا اور امریکہ کے تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔

  10. آرکڈ ڈپلومیسی

    براک اوباما، نریندر مودی اور شی جی پنگ دنیا کے ان رہنماؤں میں شامل ہیں جن کے دورۂ سنگا پور کے موقع پر ان کے نام سے ایک ایک آرکڈ منسوب کیا گیا ہے۔ آرکڈ سنگا پور کا قومی پھول ہے۔ تو کیا ہم ڈونلڈ ٹرمپ یا کم جونگ ان آرکڈ دیکھیں گے؟ یا ممکنہ طور پر مشترکہ سربراہی اجلاس کا یادگاری آرکڈ

  11. ملاقات کا خرچ سنگاپور اٹھا رہا ہے

    سنگاپور کا کہنا ہے کہ اس سربراہ ملاقات پر دو کروڑ سنگاپور ڈالر کے قریب خرچ آ رہا ہے۔ یہ اخراجات زیادہ تر سکیورٹی اور تین ہزار سے زیادہ غیرملکی صحافیوں کی مہمان نوازی کے ہیں جو اس ملاقات کی کوریج کے لیے شہر میں موجود ہیں۔ سنگاپور کم جونگ ان کے قیام کے اخراجات بھی ادا کر رہا ہے

  12. مختلف طریقہ

    روپرٹ ونگ فیلڈ ہیز کا یہ بھی کہنا ہے کہ سنگاپور میں جو کم جونگ ان دیکھنے کو مل رہے ہیں وہ ماضی کے شمالی کوریائی رہنماؤں سے بہت مختلف ہیں۔ وہ اپنے والد سے بھی کہیں مختلف ہیں۔

    لیکن جو سوال سب کے ذہنوں میں کلبلا رہا ہے وہ یہی ہے کہ سوچ میں کتنا فرق ہے۔ کیا یہ وہ شخص ہے کہ جو عالمی برادری کے بارے میں اپنے ملک کا موقف بدلنا چاہتا ہے؟

  13. الٹ صورتحال

    بی بی سی کے نامہ نگار روپرٹ ونگ فیلڈ ہیز کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ماضی سے مختلف ہے۔

    ان کے مطابق 1990 کی دہائی میں کلنٹن انتظامیہ اور کم کے والد کے درمیان جو فریم ورک طے پایا تھا وہ سفارتی معاملات اور جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے ماہرین کے بند کمروں میں ہونے والے طویل مذاکرات کا نتیجہ تھا اور اس کے بعد ہی امریکی وزیرِ خارجہ میڈیلن البرائٹ شمالی کوریا گئی تھیں۔

    اس مرتبہ معاملہ الٹ ہے۔ دونوں رہنم مل رہے ہیں جبکہ ابھی ماہرین کی جانب سے بیشتر تفصیلات طے ہونا باقی ہیں سو یہ ابھی کام کا آغاز ہے۔

  14. ملاقات میں کون کون موجود ہے؟

    امریکی وفد میں وزیرِ خارجہ مارک پومپیو، امریکی صدر کے ایک جانب موجود ہیں تو دوسری جانب ان کے چیف آف سٹاف جان کیلی بیٹھے ہیں۔

    اگر غور سے دیکھے تو آپ کو سلامتی کے مشیر جان بولٹن میز کے کونے پر دکھائی دیے جا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ جان بولٹن ہی تھے جن کے بیان کی وجہ یہ بات چیت منسوخ ہوتے ہوتے رہ گئی تھی۔

    شمالی کوریا کے رہنما اپنے ساتھ کم یونگ چول کو لائے ہیں جنھیں ان کا دایاں ہاتھ کہا جاتا ہے۔ وہ رواں ماہ کے آغاز میں سربراہ ملاقات کی تیاریوں کے سلسلے میں امریکہ بھی گئے تھے۔

    اس کے علاوہ ملاقات میں ری یونگ ہو بھی موجود ہیں جو شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ہیں۔ سابق وزیرِ خارجہ ری سو یونگ کو بھی دیکھا جا سکتا ہے جو اب بھی پیانگ یانگ کے اعلیٰ ترین عہدیداران میں شامل ہیں۔

  15. ’ایک لین دین‘

    جنوبی کوریا میں بوسان یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ کیلے نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ اور کم کی ملاقات میں ’دونوں جانب سے ایک بڑا لین دین ہو گا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا ’شمالی کوریا سب کچھ نہیں چھوڑے گا اور اگر وہ کچھ چھوڑے گا تو پابندیوں سے متعلق ریلیف طلب کرے گا یا وہ کچھ مدد طلب کرے گا اور ان تفصیلات پر کام کرنا مشکل ہو گا۔‘

  16. وفود کی سطح پر ملاقات کا آغاز

  17. بریکنگ, ون آن ون ملاقات ختم

    .

    ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کی ون آن ون ملاقات اختتام پذیر ہو گئی ہے اور جب وہ باہر نکلے تو صحافیوں کا پہلا سوال تھا مسٹر کم کیا آپ اپنے جوہری ہتھیار ترک کرنے پر تیار ہیں؟

  18. جاپان

    جاپان بھی اس ساری صورتحال کو ایک کنارے سے دیکھ رہا ہے۔ شمالی کوریا اسے دشمن سمجھتا ہے اور وہ اس کے میزائلوں کی پہنچ میں بھی ہے۔ اس کھیل میں ٹوکیو کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہے۔ وزیراعظم شنزو ایبے نے امریکی صدر سے کئی ملاقاتیں کی ہیں تاکہ جاپان کا موقف بیان کیا جا سکے

  19. کون کون موجود نہیں ہے؟

    اس صورتحال میں سب سے بڑا کھللاڑی جو باہر سے کھیل میں شریک ہہے وہ یقیناً چین ہے۔ چین دہائیوں سے شمالی کوریا کا اقتصادی معاون رہا ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ کم جونگ ان امریکہ کے ساتھ جس معاہدے پر بھی متفق ہوتے ہیں اسے چین کی آشیرباد کی بھی ضرورت ہو گی۔

    شمالی و جنوبی کوریا کی بات چیت سے قبل بھی کم سرکاری دورے پر چین گئے تھے جو کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کا پہلا غیرملکی دورہ تھا۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ اپنے سفارتی اقدامات میں چین کا مشورہ مقدم رکھتے ہیں۔ وہ سنگاپور بھی چینی طیارے میں آئے ہیں اور چین سے ہوتے ہوئے آئے ہیں۔