جوہری مسئلہ صرف سربراہی ملاقات میں حل نہیں ہو سکتا
ٹرمپ اور کم کی ملاقات سے پہلے جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان نے اپنے ٹویٹس میں اس امید کا اظہار کیا یہ سربراہی ملاقات ’امن سے جنگ کے تاریخی سنگ میل کے طور پر تسلیم کی جائے گی۔‘
انھوں نے اس حقیقت پسندی بھی ظاہر کی ہے کہ کس طرح تیزی سے چیزوں کو حاصل کیا جا سکتا ہے اور یہ کہ جوہری مسئلہ مکمل طور پر ایک سربراہی ملاقات میں حل نہیں کیا جا سکتا‘ لیکن اس مکمل کرنے میں ایک سال، دو سال یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔‘