آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ٹرمپ اور کم کی تاریخی ملاقات: کب کیا ہوا؟

کم جونگ ان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک اعلامیے پر دستخط کیے ہیں جس میں شمالی کوریا نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

لائیو کوریج

ذیشان حیدر، شجاع ملک، وقاص علی، سارہ حسن

  1. چین کی تعریف

    چین نے سنگا پور میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی ملاقات کو سراہتے ہوئے اسے تاریخی قرار دیا ہے۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ ’دونوں رہنماایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں اور مساوی بات چیت کر سکتے ہیں۔ دونوں ممالک ایک نئی تاریخ بنا رہے ہیں۔‘ انھوں نے کوریائی جزیرہ نما میں کشیدگی کو حل کرنے کے لیے دوبارہ زور دیا۔

  2. جامع ایک اہم لفظ

    پروفیسر رابرٹ کیلی نے بی بی سی کو بتایا کہ جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ میں یہ افواہ گردش کر رہی ہے کہ یہ دستاویز جس پر دونوں رہنماؤں نے دستخط کیے ہیں امن معاہدہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو اس میں جنوبی کوریا بھی شامل ہو گا۔

    حقیقت یہ ہے کہ یہ ٹرمپ کہہ رہے کہ یے بہت ’جامع‘ ہے جس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اس میں انسانی حقوق، پابندیوں اور اقتصادی امداد سمیت تمام امور کو زیر غور لایا گیا ہے۔

  3. وائٹ ہاؤس آمد کی دعوت

    جب صحافیوں نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا وہ کم جونگ ان کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کریں گے تو ان کا جواب تھا یقیناً میں کروں گا

  4. بریکنگ, ’وہ ایک محبِ وطن ہیں‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ ایک ’زبردست‘ دن ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ایک دوسرے کے بارے میں اور ایک دوسرے کے ممالک کے بارے میں بہت کچھ جانا ہے۔

    کم جونگ اُن کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’وہ بہت ہی قابل شخص ہیں اور انھیں ملک سے بہت محبت ہے۔‘

  5. بریکنگ, ’خصوصی تعلق‘

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کم جونگ اُن کے ساتھ اُن کا ’خصوصی تعلق‘ بن گیا ہے۔ آج سے پہلے شمالی کوریا کے رہنما سب سے زیادہ دنیا کے سب سے زیادہ تنہا ملک کے رہنما تھے۔

  6. بریکنگ, دستاویز میں کیا ہے؟ پریس کانفرنس کا انتظار کرنا ہوگا

  7. مختلف صورتحال

    ٹرمپ اور کم ایک دوسرے کی جانب دیکھتے ہوئے مسکرائے اور ہاتھ ملایا، ٹرمپ نے کہا کہ ’بہت شکریہ یہ بہت زبردست ہے۔‘

    صدر ٹرمپ نے نامہ نگاروں کو بتایا ’آج جو کچھ بھی ہوا ہمیں اس پر بہت فخر ہے۔ ہمارے شمالی کوریا اور کوریائی جزیرے کے ساتھ تمام تعلقات ماضی کے مقابلے میں اب بہت مختلف ہیں۔‘

  8. بریکنگ, دستاویز پر دستخط ہو گئے

    ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ یہ ’جامع اور تاریخی‘ دستاویز کیا ہے تاہم صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ جلد ہی وہ اس بارے میں ایک پریس کانفرنس کریں گے۔

  9. بریکنگ, ’دنیا اب بڑی تبدیلیاں دیکھے گی‘

    دستاویز پر دستخط کرنے سے قبل کم جونگ ان نے کہا کہ ’ہم نے ماضی کو پسِ پشت ڈالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دنیا اب بڑی تبدیلیاں دیکھے گی۔‘ انھوں نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ یہ ملاقات ممکن ہو سکی۔

  10. بریکنگ, یہ ایک بہت جامع دستاویز ہے

    کیمروں کی کلکس کی آوازوں کے ساتھ کم جونگ اور ٹرمپ کمرے میں داخل ہوئے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ دستاویز جس پر دستخط کر رہے ہیں وہ بہت جامع ہے۔

  11. دستخط کے لیے ٹرمپ کا قلم

    یہ قلم اس میز پر موجود ہے کہ جہاں توقع ہے کہ دونوں رہنما کسی بھی وقت بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اس تصویر میں دکھائی دینے والا قلم ڈونلڈ ٹرمپ کا معلوم ہوتا ہے جس سے وہ ممکنہ طور دستخط کریں گے۔

  12. وہ میز جہاں دستخط ہوں گے مگر کس پر ہوں گے یہ تاحال معمہ ہے

  13. کیا صرف شاندار تصاویر؟

    بی بی سی کے اینتھونی زچر کے مطابق بین الاقوامی اُمور کے ماہر کہ اس بات تبصرہ کر سکتے ہیں کہ آیا یہ اجلاس ایک سرکش ملک کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک سکتا ہے، تاکہ وہ امریکہ سے برابری کی بنیاد پر مذاکرات کر سکے۔ سفارتکاروں کو شبہ ہے کہ شمالی کوریا آخر میں ماضی کی طرح معاہدے کی شرائط یا تو پوری نہیں کرے گا یا پھر اُسے ختم کر دے گا۔

    ڈیموکریٹس یہ شکایت کر سکتے کہ اگر اوباما اس طرح کی غیر مشروط ملاقات کرتے، یاں تفریحی مقصد کے گولف کھیلتے تو انھیں پر قدامت پرستوں سخت تنقید کا نشانہ بناتے۔

    گو کہ طویل مدت کے مسائل اور خدشات ہیں لیکن قلیل مدت میں دکھائی نہ دینے والی تباہی کو نظر انداز کرتے ہوئے اور یہاں تک کے سنگاپور کا اجلاس، اس کی اہمیت بھی اس سے زیادہ نہیں ہے کہ شاندار تصاویر صدر کی سیاسی جیت ہیں۔

  14. دستخط! کس چیز پر دستخط؟

    سنگاپور میں ہمارے نامہ نگار کیا کہہ رہے ہیں؟

  15. زیادہ بات اصول پر ہو گی

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اب کسی چیز پر دستخط کرنے جا رہے ہیں۔

    اُن کے اس بیان سے کیا نتیجہ اخذ کیا جائے اس بارے میں پروفیسر رابرٹ کیلی کا کہنا ہے کہ یہ کچھ بھی معمول کے مطابق ہو سکتا ہے جیسے مشترکہ اعلامیہ، جو دونوں کوریائی ممالک کے رہنماؤوں کی ملاقات کے بعد بھی سامنے آیا تھا۔

    ڈاکٹر کیلی کے مطابق جس چیز پر دستخط ہو رہے ہیں اُس میں زیادہ اصول پر بات ہو گی لیکن ان کی تفیصل مختصر ہو گی۔

  16. کوئی احتجاج نہیں ہوا

    آپ سوچ سکتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ اُن جیسے متنازع رہنما جہاں جاتے ہیں وہاں احتجاج ہوتا ہے لیکن انتہائی سخت ریاست سنگاپور میں ایسا نہیں ہو سکتا۔

    یہاں آپ کو احتجاج کے لیے خصوصی اجازت لینا ہوتی ہے جو کہ عموماً مشکل سے ملتی ہے۔ احتجاج صرف ایک پارک تک ہی محدود ہو سکتا ہے۔

    وہ ہوٹلز جہاں دونوں ملکوں کے رہنما مقیم ہیں، وہاں سکیورٹی کے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ پولیس کسی بھی وقت آپ کی مکمل تلاشی لے سکتی ہے۔ آپ اپنے ساتھ کوئی بھی احتجاجی بینر یا لاؤڈ اسپیکر نہیں لے کر جا سکتے۔

    اگرچہ گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ایک مختصرر ریلی کی اجازت ملی۔ مقامی صحافی اور سماجی کارکن نے اس کی تصاویر شیئر کیں۔

  17. بریکنگ, یہ شاندار ملاقات تھی

    صدر ٹرمپ نے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا ہے کہ یہ شاندار ملاقات تھی۔ بات بہت آگے بڑھی ہے اور سب سے بڑھ کر ہم دستخط کرنے جا رہے ہیں۔ آپ کو چند منٹ میں پتہ چل جائے گا۔

  18. نفاست سے سجی میز

    یہاں ذرا اُس میز پرتو نظر ڈالیے جہاں کم جونگ اُن اور ٹرمپ ورکنگ لنچ کریں گے۔

  19. جنوبی کوریا کی کابینہ کی نظر ملاقات پر

  20. اساس یا ٹھوس مواد

    بی بی سی کے نامہ نگار روپرٹ ونگ فیلڈ ہیز کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے پہلے ہی اس اجلاس کو کامیاب قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹرمپ اور کم اس وقت بند کمروں میں ورکنگ لنچ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

    نامہ نگار کے مطابق اس ملاقات میں اگر کسی چیز کی کمی ہے تو وہ اساس یا ٹھوس مواد کی ہے۔ یعنی دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر کیا لے کر آئے ہیں؟ اُن میں خاص امور کون سے ہیں؟ اور یہ کہ امریکہ نے کوریا سے کیا حاصل کیا اور واشنگٹن نے اس کے بدلے میں انھیں کیا پیشکش کی؟