برطانوی انتخابات: کب کیا ہوا
برطانیہ میں جمعرات کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد 650 میں سے 640 سے زیادہ نشستوں کے نتائج آ چکے ہیں اور کوئی بھی جماعت حکومت سازی کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔
لائیو کوریج
’ٹریزا مے کا وزیراعظم رہنا مشکل‘
’ّڈگری والے ووٹروں نے لبرل ڈیموکریٹس کو ووٹ دیا‘
لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے یہ نتائج ملے جلے تھے۔ انھوں نے آٹھ نئی سیٹیں جیتی ہیں مگر تین پر ان کے اراکین اپنی نشت کھو بیٹھے ہیں جن میں سابق لیڈر نک کلیگ بھی شامل ہیں۔ پارٹی کی پوزیشن تھوڑی سی بہتر ہوئی ہے مگر ووٹنگ کے لحاظ سے ان کی حمایت میں سب سے زیادہ اضافہ پڑھے لکھے ڈگری والے ووٹروں میں ہوا۔
پاکستان سے الیکشن کی ٹویٹس میں دلچسپی
پاکستان سے ایک صارف حسن چیمہ نے عام انتخابات سے متعلق ٹویٹس میں دلچسپی ظاہر کی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
کوربن اور ٹرمپ کی ’ملاقات‘
پاکستانی صحافی عمر قریشی کی دلچسپی اس بات میں تھی کہ آیا کوربن اور ٹرمپ کی ملاقات کیسی ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
اب تک کے تنائج

کیا ٹریزا مے گذشتہ 94 سالوں کی سب سے کم مدت والی وزیراعظم ہوں گی؟
بی بی سی کے ڈیوڈ ویمبلی کا کہنا ہے کہ اگر ٹریزا مے کو وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنا پڑتا ہے تو گذشتہ 94 سالوں میں سب سے کم مدت والی وزیراعظم ہوں گی۔ انھوں نے جولائی 2016 میں یہ عہدہ سنبھالا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پہلی مرتبہ سکھ خاتون برطانوی پارلیمان میں منتخب
برمنگھم ایجبیسٹن کی سیٹ پر لیبر پارٹی کی پریت گِل کامیاب ہوئی ہیں۔ اس سیٹ پر 1953 سے خواتین ہی کامیاب ہوتی رہی ہیں تاہم 44 سالہ پریت گِل پہلی سکھ خاتون ہیں جو کہ برطانوی پارلیمان کی رکن بنی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPA
اب تک کے نتائج

’ہمیں انتقام کی نہیں استحکام کی ضرورت ہے‘
پینشنز کے سابق وزیر ایئن ڈنکن سمتھ کا کہنا ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کو اگلے 24 گھنٹوں میں ’استحکام‘ کی ضرورت ہے نہ کہ ’انتقام‘ کی۔
کنزرویٹو پارٹی کے سمتھ اپنی سیٹ جیت گئے ہیں اور ٹریزا مے کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں اس وقت لیڈرشپ کے انتخاب کے بحران میں جانا سنگین غلطی ہوگی‘

پاکستان سے مبارک کے پیغام
پاکستانی صحافی مرتضیٰ سولنگی نے بولٹن ساؤتھ ایسٹ سے لیبر کی امیدوار یاسمین قریشی کو ان کی جیت پر مبارک باد دی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
’وزیر اعظم ٹریزا مے کا اب کیا کرنا ہے‘
بی بی سی کی پولیٹیکل ایڈیٹر لارا کونزبرک کا کہنا ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کے ممبران کے درمیان وزیراعظم ٹریزا مے کے مستقبل پر بات چیت شروع ہوگئی ہے۔
ان کے مطابق ’ایک سابق وزیر کا کہنا تھا کہ اس نتیجے کے بعد ان کے لیے یہ مشکل ہوگا کے ٹریزا مے اپنے عہدے پر رہیں۔‘
اس کا انحصار حتمی نتیجے پر ہوگا کہ آیا وہ شمالی ائرلینڈ کی مدد سے ’آسانی‘ سے حکومت بنا سکیں گی یا نہیں۔
’ایک وزیر لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ سکون سے سو جائیں اور اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ کوئی ایسا حل نکالا جائے کہ دوبارہ عام انتخبات نہ کروانے پڑیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اب تک نتیجہ کیا ہے؟

کینٹربری میں 99 برس بعد شکست
کنزرویٹو پارٹی 99 برس بعد کینٹربری کی سیٹ ہار گئی ہے۔
کنزرویٹو پارٹی کے سر جولیئن بریزیئر کینٹ کے اس علاقے سے گذشتہ 30 برس سے رکن پارلیمان منتخب ہو رہے تھے۔

،تصویر کا کیپشنلیبر پارٹی کی روزی ڈفیلڈ نے کنزرویٹو پارٹی کے سر جولیئن بریزیئر کو شکست دی ہے پاکستان میں سوشل میڈیا پر برطانوی انتخابات
پاکستان میں صبح کے 8 بجنے والے ہیں اور UKElections2017 اس وقت دوسرا سب سے زیادہ ٹرینڈ کرنے والا ہیش ٹیگ ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
ٹریزا مے نے اپنی سیٹ جیت لی
کنزرویٹو پارٹی کی لیڈر اور برطانیہ کی وزیر اعظم نے میڈن ہیڈ سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔
اپنی جیت کے اعلان کے بعد ٹریزا مے کا کہنا تھا کہ وہ پولیس کی شکر گزار ہیں جس نے سکیوٹی پر کام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حلقے سے ان کا دوبارہ انتخاب ان کے لیے عزت کی بات ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ وہی کچھ کیا جو اس ملک کے مفاد میں ہے۔
ان کا کہنا تپا کہ ملک کو استحکام کی ضرورت ہے۔

جیریمی کوربن کی فتح،’ٹریزا میں کو اب چلے جانا چاہیے‘
اپوزیشن لیڈر اور لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن نارتھ ازلنگٹن سے اپنی سیٹ دوبارہ جیت گئے ہیں۔
جیریمی کوربن کا کہنا ہے کہ ان عام انتخابات کا پیغام یہ ہے کہ ٹریزا مے اب چلی جائیں اور لیبر کے لیے راستہ ہموار کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ان انتخابات کا اعلان اس لیے کیا تھا تاکہ وہ زیادہ اکثریت حاصل کر سکیں۔
کوربن کا کہنا تھا کہ وہ زیادہ مینڈیٹ چاہتی تھیں لیکن اس کی بجائے وہ کنزویٹو پارٹی کی سیٹیں ہاری ہیں اور اس کے ساتھ ووٹ اور اعتماد بھی۔
’میرے خیال میں یہ جانے کے لیے کافی ہے‘ اور کوربن کا مزید کہنا تھا کہ انہیں چاہیے کہ وہ ایک ایسی حکومت کے لیے راہ ہموار کریں جو کہ اس ملک کے عوام کی نمائندہ ہو۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اب تک کے نتائج

سابق نائب وزیراعظم نِک کلیگ کو شکست
لبرل ڈیموکریٹس پارٹی کے سابق لیڈر اور برطانیہ کے سابق نائب وزیر وزیراعظم نِک کلیگ کو شیفیلڈ ہیلم سے لیبر پارٹی کے امیدوار کے ہاتھوں شکست ہوگئی ہے۔
بی بی سی کی پولیٹیکل ایڈیٹر لارا کونزبرک کے مطابق لیبر کے ہاتھوں نِک کلیگ کی شکست ’ایک انتہائی کامیاب سیاسی کریئر کا اختتام‘ ہے۔
نِک کلیگ 12 مرتبہ شفیلڈ ہیلم کی اس سیٹ سے ممبر پارلیمان منتخب ہو چکے تھے۔
لبرل ڈیموکریٹس نے وعدہ کیا تھا کہ کامیابی کی صورت میں وہ یورپ میں رہنے کے بارے میں دوسرا ریفرینڈم کروائیں گے اور مسٹر کلیگ ایسا کروانے کے بہت بڑے حامی تھے۔

اب تک کی کہانی کیا ہے۔۔۔
مضمون کی تفصیل - مصنف, لارا کونزبرگ
- عہدہ, پولیٹیکل ایڈیٹر، بی بی سی
رات دو بج کر کچھ منٹ (برطانوی وقت کے مطاب) ہوئے ہیں۔ ابھی بہت سے نتائج آنے باقی ہیں۔ لیکن اس سٹیج پر کنزرویٹو پارٹی کے وزرا کا کہنا ہے کہ وہ ایگزٹ پول کے نتائج سے بہتر کارکردگی کی امید نہیں کر رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹوریز کی تمام تر امیدوں کے باوجود، وہ اعتماد جو انہوں نے لگ بھگ گذشتہ ہفتے حاصل کیا تھا، کنزرویٹو پارٹی اب اکثریت حاصل کرنے کی امید چھوڑ رہی ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئیں گے یا نہیں۔ ہمارے ایگزٹ پول کے مطابق وہ سب سے زیادہ سیٹیں جیتیں گے۔ لیکن دونوں صورتوں میں ٹریزا مے دباؤ میں ہیں۔ انہوں نے ان انتخابات کا اعلان اس لیے کیا تھا کیوں کہ وہ ٹوریز کی موجودہ اکثریت میں اضافہ چاہتی تھیں۔ اگر کنزرویٹو پارٹی مجموعی طور پر زیادہ سیٹیں جیت بھی لیتی ہے تب بھی ان کی قیادت کو نقصان پہنچے گا۔
,

