’یہ آپ کا ملک ہے‘
’یہ آپ کا دن ہے، آپ کا جشن ہے، اور یہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ آپ کا ملک ہے۔ ہمارے ملک کے فراموش کر دیے گئے مردوں اور خواتین کو اب مزید فراموش نہیں کیا جائے گا۔ اب ہر کوئی آپ کو سن رہا ہے۔‘
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کے 45 صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے جبکہ اس موقع پر ان کے حامیوں اور مخالفین کی جانب سے امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔
’یہ آپ کا دن ہے، آپ کا جشن ہے، اور یہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ آپ کا ملک ہے۔ ہمارے ملک کے فراموش کر دیے گئے مردوں اور خواتین کو اب مزید فراموش نہیں کیا جائے گا۔ اب ہر کوئی آپ کو سن رہا ہے۔‘
چند لمحوں کے لیے مائیک پینس اوباما کے نائب صدر۔۔۔۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف اٹھانے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ ’ہم واشنگٹن ڈی سی سے اقتدار منتقل کر رہے ہیں اور آپ کو لوٹا رہے ہیں، آپ لوگوں کو۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’واشنگٹن نے ترقی کی لیکن عوام کو اس کا حصہ نہیں ملا‘
ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے 45ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔
امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔
ہمیں نومنتخب صدر ٹرمپ کی تقریر کے متن کے بارے میں تو علم نہیں لیکن ان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی تقریر 20 منٹ تک جاری رہے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے رفقا سٹیفن ملر، کونوے، رائنس پریبس اور سٹیون بینن نے اس تقریر میں ان کی مدد کی ہے۔ لیکن ٹرمپ کی ٹیم کا اصرار ہے کہ زیادہ تر تقریر ٹرمپ نے خود لکھی ہے۔
براک اوباما کچھ ہی دیر میں صدر کے عہدے سے سکبدوش ہو کر تاریخ کا حصہ بن جائیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد ہوئی ہے تاہم انھیں اپنا نام پکارے جانے تک انتظار کرنا ہوگا۔
براک اوباما نے اپنی قریب بیٹھے ٹرمپ کے خاندان سے مصافحہ کیا ہے۔ وہ اپنی اہلیہ مشیل کے ہمراہ جو بائیڈن اور ان کی اہلیہ کے ساتھ بیٹھے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اہلیہ میلانیا امریکی فوجی کے ہمراہ پلیٹ فارم تک آئی ہیں۔ وہ اور ان کا بیٹا بیرن فوری طور پر واشنگٹن ڈی سی منتقل نہیں ہوں گے۔ دس سالہ بیٹے کے سکول کا سال ختم ہونے تک انتظار کیا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے بچوں اوانکا ٹرمپ، ٹفنی ٹرمپ، ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ایرک ٹرمپ کی کیپیٹل ہل آمد ہوئی ہے۔
مشیل اوباما جو بائیڈن کے ہمراہ پلیٹ فارم تک آئی ہیں۔
دوسری جانب ہلیری کلنٹن کو جارج ڈبلیو بش کے ساتھ گفتگو کرتے دیکھا گیا ہے۔ برنی سینڈرز بھی تقریب میں موجود ہیں۔
کینیڈا کے شہر مونٹریال میں امریکی قونصل خانے نے امریکی شہریوں کو شہر میں منعقد ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران محتاط رہنے کا ’سکیورٹی پیغام‘ جاری کیا ہے۔
قونصل خانے کی جانب سے جاری کر دہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ مظاہرے پرامن رہنے کی توقع لیکن یہ پرتشدد شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ پیغام میں امریکی شہریوں کو مظاہرے کے مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کینیڈا میں جمعے اور سنیچر کو ملک بھر میں ڈونلڈ ٹرمپ مخالف مظاہرے منعقد کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
صحافی گڈیون ریسنک کے مطابق مظاہرین کی جانب سے توڑ پھوڑ کی گئی۔