واشنگٹن پوسٹ کے رپورٹر کو گرایا گیا
ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں کیپیٹل ہل کے قریب واشنگٹن پوسٹ کے رپورٹر کو پولیس کی جانب سے سڑک پر گرایا گیا۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کے 45 صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے جبکہ اس موقع پر ان کے حامیوں اور مخالفین کی جانب سے امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔
ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں کیپیٹل ہل کے قریب واشنگٹن پوسٹ کے رپورٹر کو پولیس کی جانب سے سڑک پر گرایا گیا۔
صدر براک اوباما اور نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ موٹر کیڈ میں وائٹ ہاؤس سے کیپیٹل ہل کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔
بی بی سی نامہ نگار جیمز کک نے گذشتہ رات کچھ برہم مظاہرین سے بات کی۔
درجنوں کی تعداد میں تنظیمیں دارالحکومت پہنچی ہیں جن میں سے بظاہر کچھ انتہائی برہم اور پرتشدد ہیں۔
ڈسرپٹ جے 20 نامی گروپ نے سکیورٹی جیک پوائیٹس کو بلاک کرنے کی کوشش کی تاکہ ٹرمپ کے حامی نیشنل مال پر نہ پہنچ سکیں۔
تنبیہ: اس ویڈیو میں استعمال کی گئی زبان کے کچھ حصے نامناسب ہیں۔
امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کے بعد ملک کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کے ہمراہ کیپیٹل ہل کے لیے روانہ ہو گئے ہیں جہاں ٹرمپ امریکہ کے 45ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔
واشنگٹن کے چند حصوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ کالے کپڑوں میں ملبوس مظاہرین نے سڑکوں رکاوٹیں گھڑی کر دی ہیں اور دکانوں کے شیشے توڑے ہیں۔
’بلیک لائیوز میٹر‘ کی جانب سے کیے گئے مظاہرے کی وجہ سے سکیورٹی گارڈز نے پریڈ کی جانب جانے والا ایک راستہ بند کر دیا ہے۔
مظاہرین ٹرمپ مخلف نعرے لگا رہے ہیں اور ایک دوسروں کے بازو پکڑ لیے ہیں تاکہ لوگ اندر نہ جا سکیں۔ ٹرمپ کے حامی مظاہرین کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔
ڈیموکریٹ جماعت کی صدارتی امیدوار جن کو ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی وہ کیپیٹل ہل حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچ گئی ہیں۔ اس دن کے لیے انھوں نے خواب دیکھا تھا کہ وہ امریکہ کی پہلی خاتون صدر کے طور پر حلف اٹھائیں گی۔
اپنے حریف کو حلف اٹھاتے دیکھنا کئی بار امریکی تاریخ میں ہو چکا ہے بشمول 1961 میں نائب صدر رچرڈ نکسن اور 2001 میں ایل گور کے۔
امریکی عوام کو محسوس ہوا ہے کہ گذشتہ ایک دہائی میں قوم ہر سال مزید تقسیم ہوتی جا رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے حلف اٹھانے کی تقریب پر امریکی قوم کے خیال میں قوم تقسیم ہوتی جا رہی ہے سب سے زیادہ ہے۔
پیو ریسرچ کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق 86 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ماضی کے مقابلے میں قوم اب زیادہ تقسیم ہے۔
جب 2009 میں اوباما نے پہلی بار صدر کا حلف اٹھایا تھا اس وقت 46 فیصد امریکیوں کے خیال میں قوم تقسیم تھی۔
تازہ سروے کے مطابق صرف 24 فیصد کا خیال ہے کہ ملک میں سیاسی تفریق وقت کے ساتھ کم ہو جائے گی۔
بی بی سی نامہ نگار سارا رینزفورڈ کے مطابق روس میں وائٹ ہاؤس کے نئے مہمان کو خوش آمدید کہنے کے لیے تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے اور امید ظاہر کی جارہی ہے ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد ماسکو کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئے گی۔
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ماسکو کی سڑکوں پر ٹرمپ کے پوسٹرز دیکھے جا سکتے ہیں یہاں تک کہ ’ٹرمپ برگرز‘ اور ’ٹرمپ لالی پوپ‘ کی بھی فروخت کی جارہی ہے۔
دوسری جانب بی بی سی نامہ نگار ول گرانٹ کے مطابق میکسیکو میں عام افراد اور سیاست دانوں کی جانب سے ٹرمپ کے اقتدار میں آنے پر برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
واشنگٹن میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق واشنگٹن میں ٹرمپ کی تصاویر والے بینرز اور دیگر اشیا کی خریداری میں یہاں آنے والے افراد دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔
امریکہ کے 45ویں صدر کی حلف برداری میں کچھ ہی وقت باقی ہے اور سابق امریکی صدور سمیت اہم مہمانوں کی کیپیٹل ہل آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ اب سے کچھ دیر قبل جارج بش اور بل کلنٹن اپنی اہلیاؤں کے ہمراہ تقریب میں پہنچے ہیں۔
حلف برداری کی تقاریب منعقد کروانے والی دی جوائنٹ کانگریشنل کمیٹی آن اناگورل سیریمنیز کی جانب سے ویسٹ فرنٹ بالکونی کے مناظر پیش کیے گئے ہیں جہاں ڈونلڈ ٹرمپ حلف لیں گے۔
یہ وہ منظر ہے جب براک اوباما آخری بار صدر کی حیثیت سے اوول آفس سے باہر آئے اور 44ویں صدر کی طور پر ان کا دور صدارت اختتام ہونے کو ہے۔
لیجینڈ باکسر محمد علی کی بیٹی مریم علی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے خلاف اتوار کو خواتین کے مارچ میں حصہ لیں گی۔
کیپیٹل ہل میں حلف برداری کی تقریب کے لیے ویسٹ فرنٹ میں کرسیاں سجائی جاچکی ہیں۔
نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اہلیہ ملانیا کے ہمراہ وائٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اوباما اور مشیل کے ہمراہ کافی اور چائے پیئیں گے۔
چرچ سے نکلنے کے بعد اب ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ صدر اوباما کے ساتھ کافی پینے کے لیے وائٹ ہاؤس روانہ ہوں گے۔ جس کے بعد انھیں کیپٹل ہل پہنچایا جائے گا۔
بحیثیت صدر براک اوباما نے وائٹ ہاؤس کو الوداع کہہ دیا ہے۔ ماضی کی روایت کو جاری رکھتے ہوئے اوباما نے آنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اوول آفس میں ایک خط بھی چھوڑا ہے۔ جاتے جاتے انھوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ: ’یہ میرے لیے بہت فخر کی بات تھی کہ مجھے آپ سب کی خدمت کرنے کا موقع ملا۔ آپ کی وجہ سے میں ایک بہتر لیڈر اور ایک بہتر انسان بن سکا۔‘