’اپنے نہیں، کیوی اوپنرز کا سوچیے‘
پاکستان کی اوپننگ جوڑی میں تبدیلی سے متعلق جو سوال اس وقت پاکستان کے کرکٹ حلقوں میں زیرِ بحث ہے، کیا وہ واقعی پاکستان کے ڈریسنگ روم میں غوروخوض کا متقاضی ہونا چاہیے؟ کیونکہ کوئی بھی سٹریٹجک قدم لینے سے پہلے یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ شائقین کی یاداشت بہت محدود ہوا کرتی ہے۔
زیادہ پرانے نہیں، وہ ماضی قریب کے ہی دن تھے جب بابر اعظم شائقین کے دلوں کی دھڑکن ہوا کرتے تھے اور ان کا موازنہ وراٹ کوہلی سے کیا جاتا تھا اور تب نمبر ون بلے باز محمد رضوان کو سپرمین سے تشبیہہ دی جاتی تھی مگر انگلینڈ کے خلاف سیریزمیں بابر کی فارم کچھ گری اور شائقین کی محدود یاداشت بھی اچانک کہیں کھو گئی۔
مگر ثقلین مشتاق کے ڈریسنگ روم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بیرونی آرا پر زیادہ توجہ نہیں دیتا اور اپنی سی ہی کرکٹ کھیلنے کو ترجیح دیتا ہے۔ گو یہ اپروچ بعض اوقات خسارے کا بھی سبب ہوتی ہے، مگر اسی لائحہ عمل نے حال میں ہی کئی کامیابیاں بھی سمیٹی ہیں۔
یہاں سوال یہ بھی ہے کہ بابر اعظم اور محمد رضوان کے سٹرائیک ریٹ کا دنیا کی عظیم اقوام سے موازنہ کرتے ہوئے اس حقیقت سے صرفِ نظر کیوں کیا جاتا ہے کہ گذشتہ دو سال میں انھوں نے اپنی بیشتر کرکٹ سست ایشیائی وکٹوں پر کھیلی ہے۔