آسٹریلیا کے لیے میکس ویل کا اچھا اوور!, پاکستان کا سکور: 68/0، نو اوور مکمل
آسٹریلیا کے لیے گلین میکس ویل اپنا دوسرا اوور کرانے آئے جس میں انھوں نے صرف چھ رنز دیے۔
پاکستان کی کوشش ہوگی کہ وہ ان کے اوورز میں زیادہ سے زیادہ رنز حاصل کر سکے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں دبئی کے میدان میں آسٹریلیا نے پاکستان کو انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد پانچ وکٹوں سے شکست دے دی اور اتوار کو نیوزی لینڈ کے خلاف فائنل میں جگہ بنا لی۔ اس جیت کے ساتھ آسٹریلیا نے ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلوں میں پاکستان کے خلاف جیت کا ریکارڈ برقرار رکھا۔
محمد صہیب
آسٹریلیا کے لیے گلین میکس ویل اپنا دوسرا اوور کرانے آئے جس میں انھوں نے صرف چھ رنز دیے۔
پاکستان کی کوشش ہوگی کہ وہ ان کے اوورز میں زیادہ سے زیادہ رنز حاصل کر سکے۔
گذشتہ آٹھ میچوں میں یہ پانچویں مرتبہ ہے کہ بابر اعظم اور محمد رضوان کی اوپننگ شراکت نے پچاس رنز کی شراکت بنائی ہے۔
آسٹریلیا کی جانب سے مچل مارش اوور کرانے آئے تو بابر اعظم نے مڈ وکٹ پر دو کھلاڑیوں کے بیچ سے کھیلتے ہوئے ایک انتہائی دلکش چوکا مارا۔
وہ اب تک پانچ چوکے لگا چکے ہیں۔
آسٹریلیا کی کوشش ہوگی کہ مچل مارش، سٹوئنس اور میکس ویل کو ملا کر وہ چار اوور کفایت شعاری سے نکال لیں تاکہ ان کہ دیگر مرکزی بولرز پر دباؤ نہ پڑے۔
پاکستان نے پاور پلے کے بعد ایڈم زیمپا کے پھینکے گئے پہلے اوور میں تین رنز بنائے اور یہ پہلا اوور تھا جس میں کوئی باؤنڈری نہ پڑی ہو۔
البتہ اس اوور میں چار رنز حاصل کر کے ان دونوں نے ایک بار پھر نصف سنچری کی شراکت مکمل کر لی۔
پاکستان نے پاور پلے کے چھ اوورز میں اب تک بڑی پر اعتماد بیٹنگ کی ہے اور ہر اوور میں کم از کم ایک باؤنڈری حاصل کرتے ہوئے سات رن فی اوور سے اوپر کی اوسط برقرار رکھی ہے۔
اس اوور میں محمد رضوان نے چوکا مارا اور آخری گیند پر ایک اور کوشش کی لیکن گیند فیلڈر کے ہاتھ سے نکل گئی۔ یہ آسٹریلیا کا دوسرا ڈراپ کیچ تھا۔
محمد رضوان اس وقت 21 جبکہ بابر اعظم 24 رنز پر کھیل رہے ہیں۔
آسٹریلیا اپنے 20 اوورز میں سے چار اوورز آلراؤنڈرز سے کرواتا آیا ہے جس میں گلین میکسویل، سٹوئنس، مارش شامل ہیں۔
تاہم دو دائیں ہاتھ سے کھیلنے والے اوپنرز کے سامنے میکسویل سے بولنگ کروانے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
آج پاکستان کی اوپنرز جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور یہ اس سے خاصا مختلف ہے جو ہم اس ٹورنامنٹ میں اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔
جوش ہیزل ووڈ اپنے دوسرے اوور کے لیے آئے تو رضوان نے ان کو اپنی پہلی گیند پر زوردار چھکا رسید کیا جو سکوائر لیگ کے اوپر سے ہوتا چلا گیا۔
یہ واضح نظر آ رہا ہے کہ پاکستان نے نئی حکمت عملی آزمائی ہے اور آسٹریلوی بولرز پر تھوڑا جارحانہ انداز اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آسٹریلیا کے سب سے خطرناک فاسٹ بولر پیٹ کمنز اننگز کا چوتھا اوور کرانے آئے تو ان کو بابر اعظم نے لیگ سائیڈ پر خوبصورت انداز میں کھیل کر ایک اور چوکا لگایا۔
پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے میتھیو ہیڈن کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تاریخ میں ایک ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز کرنے کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ میتھیو ہیڈن نے سنہ 2007 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں 265 رنز بنائے تھے جبکہ بابر اعظم یہ ریکارڈ توڑ چکے ہیں۔
محمد رضوان جنھوں نے اپنی پانچ گیندوں پر کوئی رن نہیں بنایا تھا، نئے آسٹریلوی بولر، سپنر میکس ویل کو اٹیک کرنے گئے اور اونچا شاٹ کھیلا۔
ڈیوڈ وارنر بال کے پیچھے گئے لیکن برق رفتاری سے بال تک پہہنچنے کے بعد وہ کیچ ڈراپ کر گئے اور چوکا ہو گیا۔
ادھر اوور کی آخری گیند پر بابر اعظم نے ایک اور چوکا مار دیا۔
جوش ہیزل ووڈ دوسرا اوور کرانے آئے تو آسٹریلیا کو امید تھی کہ وہ بابر کو نکال سکیں، جن کا پاکستانی کپتان کے خلاف اچھا ریکارڈ ہے۔
البتہ بابر اعظم نے اپنے دلکش شاٹس کا سلسلہ جاری رکھا اوور کوورز پر انھیں ایک اور چوکا مارا۔
دوسرے اینڈ پر محمد رضوان پر تھوڑا دباؤ ہوگا کیونکہ وہ پانچ گیندوں کے بعد ابھی تک صفر پر کھیل رہے ہیں۔
آسٹریلیا کی جانب سے مچل سٹارک نے پہلا اوور پھینکا جس میں اننگز کی پہلی گیند پر رضوان نے ایک سنگل لیا اور اس کے بعد بابر اعظم نے اوور میں دو بڑے دلکش شاٹ لگائے لیکن وہ سیدھے فیلڈرز کے پاس گئے۔
البتہ چوتھی گیند پر انھوں نے لیگ سائیڈ پر گیند کھیل دی اور چار رنز حاصل کیے۔
اسلام آباد یونائیٹڈ کے مینیجر حسن چیمہ کا کہنا ہے کہ ’جنوبری 2016 کے بعد سے 28 مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ٹیموں نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 180 رنز سے زیادہ کا ہدف دیا ہے۔ ان کا ریکارڈ 24 فتوحات، ایک ٹائی، اور تین مرتبہ شکست۔‘
یہاں ان پاکستانی کھلاڑیوں نے جتنی کرکٹ کھیلی ہے، مجھے امید ہے کہ انھیں معلوم ہو گا کہ انھیں کتنا ہدف دینا ہے۔‘
پاکستان کو بدھ کو روز اس بات کی یقیناً پریشانی ہوئی ہو گی کہ رضوان اور شعیب ملک کو فلی ہے لیکن دونوں کھلاڑی میچ کے لیے فٹ قرار دے دیے گئے ہیں اور پاکستان ایک بار پھر بغیر کسی تبدیلی کے میدان میں اتر رہا ہے۔
محمد رضوان (وکٹ کیپر)
بابر اعظم (کپتان)
فخر زمان
محمد حفیظ
شعیب ملک
آصف علی
شاداب خان
عماد وسیم
حسن علی
شاہین شاہ آفریدی
حارث رؤف
کرکٹ کمنٹیٹرعاطف نواز کا کہنا ہے کہ ’پاکستان بھی ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ ہی کرنا چاہتا، لیکن یہاں گذشتہ دو میچوں میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے اور جیتنے کا تجربہ کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔‘
آسٹریلیا نے اپنے ویسٹ انڈیز کے خلاف کھلائی گئی ٹیم کو اس میچ کے لیے بھی برقرار رکھا ہے۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا نے اس ٹورنامنٹ میں جس میچ میں ہدف کا تعاقب کیا ہے وہ اس میں کامیاب رہے ہیں۔
اس میچ میں ان کی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگی۔
ڈیوڈ وارنر
ایرون فنچ (کپتان)
مچل مارش
سٹیون سمتھ
گلین میکس ویل
مارکس سٹوئنس
میتھیو ویڈ (وکٹ کیپر)
پیٹ کمنز
مچل سٹارک
ایڈم زیمپا
جوش ہیزل ووڈ