آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

میتھیو ویڈ اور مارکس سٹوئنس کی ناقابل شکست شراکت، آسٹریلیا فائنل میں پہنچ گیا

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں دبئی کے میدان میں آسٹریلیا نے پاکستان کو انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد پانچ وکٹوں سے شکست دے دی اور اتوار کو نیوزی لینڈ کے خلاف فائنل میں جگہ بنا لی۔ اس جیت کے ساتھ آسٹریلیا نے ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلوں میں پاکستان کے خلاف جیت کا ریکارڈ برقرار رکھا۔

لائیو کوریج

محمد صہیب

  1. بریکنگ, شاہین آفریدی کے پہلے ہی اوور میں وکٹ، آسٹریلوی کپتان آؤٹ!, آسٹریلیا کا سکور: 1/1، ایک اوور مکمل

    پاکستانی کھلاڑی 177 کا دفاع کرنے میدان میں اترے اور ان کے سب سے خطرناک بولر شاہین شاہ آفریدی نے ایک بار پھر اپنی ٹیم کو پہلے اوور میں کامیابی دلا دی جب کپتان ایرون فنچ اپنی پہلی گیند پر صفر پر آؤٹ ہو گئے۔

    اگلی ہی گیند پر مچل مارش پر ایل بی ڈبلیو کی زوردار اپیل ہوئی اور وہ صرف ریویو پر بال بال بچ گئے۔

  2. ’رضوان ایک رات پہلے پھیھڑوں کے عارضے کے باعث ہسپتال میں تھے‘

    پاکستان کے بیٹنگ کنسلٹنٹ میتھیو ہیڈن کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ رات محمد رضوان پھیپھڑوں سے منسلک عارضے کے باعث ہسپتال میں تھے۔ وہ لڑنے والے کھلاڑی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں اس بیٹنگ لائن اپ کے ساتھ اس ورلڈکپ میں کام کر رہا ہوں اور انھوں نے پورے ٹورنامنٹ کی طرح آج بھی دکھایا ہے کہ ان میں کتنی صلاحیت ہے۔‘

    • بریکنگ, آخری اوور میں فخر زمان کی دھواں دھار بیٹگ، آسٹریلیا کو فائنل میں پہنچنے کے لیے 177 درکار, پاکستان کا سکور: 176/4، 20 اوور مکمل

      پاکستان نے اننگز کے آخری اوور میں فخر زمان کی دھواں دھار بیٹنگ کی مدد سے آسٹریلیا کو سیمی فائنل میں جیتنے کے لیے 177 رنز کا ہدف دیا ہے۔

      فخر، جو اب تک ٹورنامنٹ میں بجھے بجھے دکھائ دیے تھے اور آج بھی ان کے بلے میں اننگز کے شروع میں روانی نہیں تھی، انھوں نے آخری چار اوورز میں 54 رنز حاصل کیے۔

      پاکستان کے لیے بابر اعظم اور رضوان نے ایک بار پھر بڑی شاندار شراکت جوڑی لیکن جب دسویں اوور کی آخری گیند پر بابر 39 بنا کر آؤٹ ہوئے تو پاکستان کا سکور 71 تھا۔

      اس کے بعد آسٹریلیا نے اپنے سپنرز کی مدد سے کھیل میں کم بیک کیا اور سپنر زیمپا نے چار میں 44 جبکہ میکس ویل نے تین اوور میں صرف 20 رنز دیے۔

      آسٹریلیا نے اس کی مدد سے اگلے چھ اوور میں پاکستانی بیٹنگ کو محدود رکھا اور 16 اوور میں سکور صرف 122 تھا اور پاکستان کی جانب سے فخر زمان خاص طور پر مشکلات میں نظر آ رہے تھے۔

      لیکن پھر اگلے چار اوورز میں رضوان اور فخر نے دھواں دھار کھیل پیش کیا اور تین وکٹیں گرنے کے باوجود پاکستان نے 176 رنز کا مجموعہ بنا لیا۔

      آسٹریلیا کی جانب سے سٹارک نے دو جبکہ کمنز اور زیمپا نے ایک ایک وکٹ لی۔

    • ’سب فخر زمان سے معافی مانگیں!‘

    • ’پاکستان کا آخری اوورز میں رن ریٹ پورے ٹورنامنٹ میں سب سے بہتر‘

    • پیٹ کمنز کی بڑی اہم وکٹ، آصف علی پہلی دفعہ ٹورنامنٹ میں ناکام, پاکستان کا سکور: 161/3، 19 اوور مکمل

      پیٹ کمنز نے اننگز کا 19واں اوور پھینکا جس میں انھوں نے پہلی ہی گیند پر پاکستان کے سب سے جارحانہ بلے باز آصف علی کو صفر پر کیچ کروا دیا۔ یہ پہلی دفعہ تھا کہ آصف علی اس ٹورنامنٹ کے کسی میچ میں آؤٹ ہوئے ہوں۔

      اگلی گیند پر فخر زمان نے بھی اونچا شاٹ مارا لیکن ان کا کیچ سٹیو سمتھ نے چھوڑ دیا۔

      مجموعی طور پر یہ پیٹ کمنز کا بہت اچھا اوور گیا جس میں انھوں نے صرف دو رنز دیے۔

    • ’آصف علی سے ہر میچ میں اچھے کی امید کرنا مشکل کام ہے‘

    • بریکنگ, محمد رضوان آؤٹ لیکن فخر کا زوردار چھکا!, پاکستان کا سکور: 158/2، 18 اوور مکمل

      اننگز کے 18ویں اوور میں محمد رضوان سٹارک کی گیند پر 67 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے لیکن اس کے بعد اوور کی باقی چار گیندوں پر فخر زمان نے انتہائی بہترین انداز میں کھیلتے ہوئے 15 رنز حاصل کیے جس میں ایک انتہائی اونچا چھکا تھا۔

      اس کے بعد انھوں نے ایک چوکا مارا جو امپائر کے چہرے کے انتہائی نزدیک سے ہوتا گیا۔

    • بریکنگ, فخر کے چھکے کے بعد رضوان کا ایک اور بلند و بالا چھکا!, پاکستان کا سکور: 143/1، 17 اوور مکمل

      فخر زمان جو کہ اب تک کافی بجھے بجھے نظر آ رہے تھے، انھوں نے ہیزل ووڈ کو بڑا شاندر چھکا لانگ آف پر مارا اور اس سے تھوڑا اعتماد حاصل کیا۔

      اس کے بعد محمد رضوان نے ہیزل ووڈ کو نشانہ بنایا اور نو بال پر چوکا اور پھر فری ہٹ پر ایک چھکا لگا کر اوور میں 21 رنز حاصل کر لیے۔

    • زیمپا کا ایک اور اچھا اوور، فخر زمان کی خراب فارم آسٹریلیا کے لیے فائدہ مند!, پاکستان کا سکور: 122/1، 16 اوور مکمل

      لیگ سپنر ایڈم زیمپا نے اپنے چار اوور کے سپیل میں بڑی عمدہ بولنگ کی آخری اوور میں صرف پانچ رنز دیے۔

      ادھر پاکستان کے لیے مشکل یہ ہے کہ فخر زمان انتہائی آؤٹ آف فارم نظر آ رہے ہیں اور وہ نہ گیند پر جارحانہ انداز اختیار کر پا رہے ہیں اور نہ ہی آؤٹ ہو رہے ہیں۔ وہ اب تک 16 گیندوں پر 17 رنز بنا چکے ہیں۔

    • ’دیکھنے میں یہ ٹوٹل اچھا لگ رہا ہے، لیکن آسٹریلیا اتنے ٹوٹل کی امید کر رہا ہو گا‘

    • پیٹ کمنز بولنگ کے لیے واپس, پاکستان کا سکور: 117/1، 15 اوور مکمل

      پاکستان کو اب کوشش کرنی ہوگی کہ 180 حاصل کرنے کے لیے جارحانہ انداز اختیار کریں۔

      اس سلسلے میں جب پیٹ کمنز آئے تو ان کی پہلی گیند پر فخر نے چار رنز حاصل کیے مگر فری ہٹ پر صرف ایک رن بنا ہے۔

      آسٹریلیا نے پاور پلے کے بعد سے کھیل پر قابو رکھا ہے اور خاص کر بڑی عمدہ فیلڈ سیٹ کی ہے اور پاکستانی کھلاڑیوں کو کھلی جگہ میں کھیلنے کا موقع نہیں دیا ہے۔

    • ’آسٹریلوی بولرز کی درمیان کے اوورز میں اچھی بولنگ‘

      صحافی ایاز میمن کا کہنا ہے کہ ’مڈل اوورز میں آسٹریلوی بولرز اور پاکستانی بلے بازوں کی کشمکش جاری ہے۔ حالانکہ آسٹریلیا نے کوئی وکٹ نہیں حاصل کی لیکن انھوں نے کنٹرولڈ بولنگ کے ذریعہ پاکستان بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے نہیں دیا۔‘

    • بریکنگ, فخر زمان کا پہلا چوکا، اور پھر رضوان کا بہترین چھکا!, پاکستان کا سکور: 106/1، 14 اوور مکمل

      فخر زمان جو کہ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کے سب سے کم فارم والے کھلاڑی دکھائی دیے ہیں، انھوں نے جوش ہیزول ووڈ کے اوور میں لیگ سائیڈ پر بڑا اچھا شاٹ مار کر اپنا پہلا چوکا حاصل کیا۔

      اوور کی پانچویں گیند پر محمد رضوان نے بڑے بہترین انداز میں اپنے تیسرا چھکا مارا اور پاکستانی اننگز کے 100 رنز مکمل کیے اور آخری گیند پر سنگل لے کر انھوں نے اپنی نصف سنچری مکمل کی جو کہ ان کی ٹورنامنٹ میں تیسری نصف سنچری ہے۔

    • آسٹریلیا کے لیے مچل سٹارک بولنگ کے لیے واپس, پاکستان کا سکور: 92/1، 13 اوور مکمل

      اپنے پارٹ ٹائم بولرز کی جانب سے چار اوور مکمل کرانے کے بعد آسٹریلیا نے اپنے بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر مچل سٹارک کو ایک بار پھر گیند دی۔

      انھوں نے اس اوور میں چوتھی گیند پر محمد رضوان کو بہترین شارٹ گیند پھینکی جو رضوان کے ہیلمٹ سے جا لگی۔

      زیمپا کے گذشتہ اوور میں 14 رنز دینے کے بعد آسٹریلیا نے اس اوور میں صرف دو رنز دیے۔

    • بریکنگ, محمد رضوان کے سال 2021 میں 1000 رنز مکمل!

      پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان وہ واحد بیٹر ہیں جنھوں نے ایک سال میں 1000 سے زیادہ رنز بنائے ہیں۔

    • بریکنگ, رضوان کا دوسرا چھکا! پاکستان کے لیے سودمند اوور, پاکستان کا سکور: 89/1، 12 اوور مکمل

      گذشتہ تین اوور میں صرف 13 رنز اور ایک وکٹ گرنے کے بعد آسٹریلیا میچ میں واپس آنے کی کوشش رہا تھا تو ایڈم زیمپا کے اوور میں محمد رضوان نے انھیں شاندار چھکا رسید کیا اور اگلی گیند پر بائی کے چار رنز مل گئے۔

    • آسٹریلوی سپنرز کی جانب سے عمدہ کنٹرول, پاکستان کا سکور: 75/1، 11 اوور مکمل

      آسٹریلیا کی جانب سے میچ میں کم بیک کیا گیا ہے اور اس کے لیے انھوں نے سپنرز کا سہارا لیا ہے۔

      گلین میکس ویل نے اپنے تیسرا اوور پھینکا اور اس میں بھی انھوں نے صرف چار رنز دیے۔

    • پہلے 10 اوورز پاکستانی اوپنرز کے نام، لیکن بابر اعظم آؤٹ!

      پاکستان کے اوپنرز نے پہلے دس اوورز میں بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کیا ہے تاہم پانی کے وقفے سے ایک گیند قبل بابر اعظم ایڈم زیمپا کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔

      اس وقت پاکستان کا رن ریٹ سات اعشاریہ ایک کا ہے۔ تاہم پاکستان اس سے پہلے بھی آخری اوورز میں جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کر چکا ہے۔

      دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا فخر زمان امیدوں پر پورا اتر پائیں گے اور آسٹریلوی سپنرز کے خلاف جارحانہ انداز اپنائیں گے؟

    • بریکنگ, ایڈم زیمپا کا کامیاب اوور، کپتان بابر اعظم آؤٹ, پاکستان کا سکور: 71/1، دس اوور مکمل

      پاکستان کے لیے اننگز میں پانے کے وقفے سے قبل دسویں اوور کی آخری گیند پر ان کو پہلا نقصان ہوا جب ایڈم زیمپا کے عمدہ اوور میں کپتان بابر اعظم آخری گیند پر 39 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

      زیمپا نے اس اوور میں پاکستانی پلئیرز کو باندھ کر رکھا اور وہ کھل کر نہ کھیل سکے۔ اور آخری گیند پر جب بابر نے کوشش کی کہ وہ اونچا کھیلیں، تو گیند ڈیوڈ وارنر کے ہاتھ میں جا گری۔