پاکستان نے اننگز کے آخری اوور میں فخر زمان کی دھواں دھار بیٹنگ کی مدد سے آسٹریلیا کو سیمی فائنل میں جیتنے کے لیے 177 رنز کا ہدف دیا ہے۔
فخر، جو اب تک ٹورنامنٹ میں بجھے بجھے دکھائ دیے تھے اور آج بھی ان کے بلے میں اننگز کے شروع میں روانی نہیں تھی، انھوں نے آخری چار اوورز میں 54 رنز حاصل کیے۔
پاکستان کے لیے بابر اعظم اور رضوان نے ایک بار پھر بڑی شاندار شراکت جوڑی لیکن جب دسویں اوور کی آخری گیند پر بابر 39 بنا کر آؤٹ ہوئے تو پاکستان کا سکور 71 تھا۔
اس کے بعد آسٹریلیا نے اپنے سپنرز کی مدد سے کھیل میں کم بیک کیا اور سپنر زیمپا نے چار میں 44 جبکہ میکس ویل نے تین اوور میں صرف 20 رنز دیے۔
آسٹریلیا نے اس کی مدد سے اگلے چھ اوور میں پاکستانی بیٹنگ کو محدود رکھا اور 16 اوور میں سکور صرف 122 تھا اور پاکستان کی جانب سے فخر زمان خاص طور پر مشکلات میں نظر آ رہے تھے۔
لیکن پھر اگلے چار اوورز میں رضوان اور فخر نے دھواں دھار کھیل پیش کیا اور تین وکٹیں گرنے کے باوجود پاکستان نے 176 رنز کا مجموعہ بنا لیا۔
آسٹریلیا کی جانب سے سٹارک نے دو جبکہ کمنز اور زیمپا نے ایک ایک وکٹ لی۔