بریکنگ, انڈین ٹیم بھی میدان کی جانب روانہ!
انڈین کرکٹ بورڈ نے بھی ٹویٹ کے ذریعے بتایا کے انڈین ٹیم وراٹ کوہلی کی قیادت میں دبئی کے میدان کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر 12 راؤنڈ کا چوتھا میچ دبئی میں کھیلا گیا جہاں روایتی حریف انڈیا کے خلاف پاکستان نے انتہائی شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے 152 کا ہدف بغیر کسی نقصان کے پورا کر لیا اور ورلڈ کپ مقابلوں میں پہلی بار انڈیا کو شکست دی۔ اس سے قبل دن کے پہلے میچ میں سری لنکا نے بنگلہ دیش کو پانچ وکٹوں سے ہرا دیا تھا۔
انڈین کرکٹ بورڈ نے بھی ٹویٹ کے ذریعے بتایا کے انڈین ٹیم وراٹ کوہلی کی قیادت میں دبئی کے میدان کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اب سے کچھ دیر پہلے ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ہوٹل سے دبئی کے میدان کی طرف روانہ ہو گئی ہے۔
انڈیا کے کپتان وراٹ کوہلی پہلی بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔
گذشتہ کچھ عرصے سے ان کی بیٹنگ فارم میں اونچ نیچ دیکھنے میں آئی ہے اور آئی پی ایل میں بھی وہ بہت قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا سکے۔
لیکن ان کو توقع ہوگی کہ پاکستانی بولرز کے سامنے آنے سے وہ اپنا جادو دوبارہ دکھانے میں کامیاب ہو جائیں جن کے خلاف ان کی ماضی میں بہت اچھی کارکردگی رہی ہے۔
انھوں نے پاکستان کے خلاف اب تک مجموعی طور پر 284 رنز بنائے ہیں اور ان کی اوسط 84.67 رہی ہے۔ ان کا سب سے زیادہ سکور 78 ناٹ آؤٹ تھا۔
انڈین پریمئیر لیگ کی ٹیم ممبئی انڈینز نے ممبئی شہر کی چند تصاویر اپنے ٹوئٹر پر شائع کی جس میں ممبئی جیسا شہر سنسان نظر آ رہا ہے۔
ان تصاویر کے ساتھ کیپشن تھا: ’یہ لاک ڈاؤن نہیں، یہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان میچ کا وقت ہے۔‘
اس مرتبہ کرکٹ سیزن میں بی بی سی نے انڈیا اور پاکستان میں کرکٹ میں آگے بڑھنے کے لیے پرعزم نوجوانوں اور بچوں سے بات کی، اور پوچھا ہے کہ سرحد پار ان کا پسندیدہ کھلاڑی کون ہے۔
جب بھی پاکستان اور انڈیا کا کھیل کے میدان میں مقابلہ ہوتا ہے تو اسی طرح کا ایک مقابلہ سیاست کے میدان میں بھی چل رہا ہوتا ہے۔
چند روز قبل انڈیا کی عام آدمی پارٹی کی ایک رہنما نے مطالبہ کیا ہے کہ اتوار کو دبئی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان طے شدہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے میچ کو منسوخ کر دیا جائے۔
خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق آتشی مارلینا نے کہا ہے کہ ’مجھے یقین ہے کہ نہ صرف عام آدمی پارٹی بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی قیادت بشمول وزیرِ اعظم اتفاق کریں گے کہ جب تک ملک میں جاری ایسے انتہاپسند حملے رک نہیں جاتے تب تک ایسے میچ کھیلنا مناسب نہیں ہو گا۔‘
اس کے علاوہ وفاقی وزیر گریراج سنگھ نے جو اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں کہا ’مجھے لگتا ہے کہ اس میچ پر دوبارہ غور کیا جانا چاہیے کیونکہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالات سازگار نہیں۔‘
تاہم کانگریس رہنما اور انڈین کرکٹ بورڈ کے نائب صدر راجیو شکلا نے اس میچ کی حمایت کی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ ’ہم ان حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ جہاں تک اس میچ کی بات ہے تو یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے۔ یہ آئی سی سی کا ٹورنامنٹ ہے اور ہم اسے نہیں روک سکتے۔‘
اسی طرح بی بی سی کے نمائندے نتن شریواستو نے بھی اپنی یادوں کو دہراتے ہوئے پاکستان اور انڈیا کے درمیان انڈیا میں کھیلے گئے چند مقابلوں کے بارے میں لکھا۔
ان میں سے ان کے لیے یادگار میچ پاکستان اور انڈیا کا 2011 ورلڈ کپ کا سیمی فائنل تھا جو کہ موہالی میں کھیلا گیا تھا، جسے دیکھنے کے لیے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی پہنچے تھے۔
بی بی سی اردو کے لیے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے سپورٹس رپورٹنگ کرنے والے عبد الرشید شکور نے بھی اپنی یادوں کو کھنگالتے ہوئے مضمون تحریر کیا جس میں انھوں نے دھونی کے سفید ہوتے بال، سنیل گاواسکر کے ساتھ ہنسی مذاق اور انڈیا کے دوروں پر پولیس تھانے جانے کے بارے میں واقعات بتائے۔
جب بھی عالمی مقابلوں میں کوئی پاک انڈیا میچ آتا ہے تو اس کو بیچنے کے لیے ہمہ قسمی میڈیا پر ایسا ہنگامہ مچایا جاتا ہے کہ ڈھول کی تھاپ میں ناچتے گاتے دونوں جانب کے شائقین کسی میدانِ جنگ کی تصویر بن جاتے ہیں اور کرکٹرز کو محاذ پر کھڑے فوجی سمجھ لیا جاتا ہے۔
گویا وہ ماضی کی پاک انڈیا عسکری مہم جوئیوں کا حساب بے باق کرنے کو میدان میں اترے ہوں۔ گو کرکٹ بیچنے کو تو یہ چورن اچھا ہے مگر اس شور شرابے میں یہ کوئی یاد ہی نہیں رکھنا چاہتا کہ پچھلے 10 سال میں ہوئے ایسے تمام میچز میں مسابقت کا معیار کیا رہا؟ جہاں ہر بار فاتح ٹیم اور مفتوح کی صلاحیتوں اور سکور کارڈز کے بیچ گہری خلیج دکھائی دی۔
انہی سوچوں میں غلطاں و پیچاں پاکستانی کرکٹ شائقین کی تیسری نسل آج بھی یہ سوال لیے بیٹھی ہے کہ پاکستان کبھی بھی انڈیا کو ورلڈ کپ میں ہرا کیوں نہیں پایا۔
بی بی سی اردو کے لیے کرکٹ تجزیہ کار سمیع چوہدری نے اپنی تازہ ترین تحریر میں پاکستان ٹیم کو یہی مشورہ دیا ہے کہ وہ ’’جِگرے‘ والی کرکٹ سے ذرا بچ کے‘ رہیں۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی سارے دن اس میچ کے بارے میں ٹویٹس کی جا رہی ہیں اور شائقین کا جوش و خروش بڑھایا جا رہا ہے۔
بی بی سی کی جانب سے اپنے قارئین کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے 16ویں میچ میں خوش آمدید۔
اور یہ کوئی معمولی میچ نہیں، بلکہ عالمی مقابلوں میں چند اہم ترین روایتی حریف انڈیا اور پاکستان کے مابین مقابلہ ہے جنھوں نے آخری مرتبہ دو سال قبل انگلینڈ میں ایک روزہ میچوں کے ورلڈ کپ میں ایک دوسرے سے کھیلا تھا۔
اور اس میچ میں بھی وہی ہوا تھا جو آج تک ان دونوں حریفوں کے درمیان عالمی مقابلوں میں ہوتا چلا آیا ہے، یعنی پاکستان کی شکست۔
دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا آج پاکستان انڈیا کے خلاف اپنی جیت کا کھاتہ کھول پائے گا یا نہیں۔