بریکنگ, حارث رؤف کی وکٹ، پانڈّیا آؤٹ
حارث رؤف نے اپنی ہلکی گیندوں کا سلسلہ جاری رکھا اور اسی طرح انھوں نے پانڈیا کو بھی چکمہ دیا اور انھیں اونچا شاٹ کھیلنے پر مجبور کیا جس کے بعد کپتان بابر اعظم نے ان کا کیچ پکڑ لیا۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر 12 راؤنڈ کا چوتھا میچ دبئی میں کھیلا گیا جہاں روایتی حریف انڈیا کے خلاف پاکستان نے انتہائی شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے 152 کا ہدف بغیر کسی نقصان کے پورا کر لیا اور ورلڈ کپ مقابلوں میں پہلی بار انڈیا کو شکست دی۔ اس سے قبل دن کے پہلے میچ میں سری لنکا نے بنگلہ دیش کو پانچ وکٹوں سے ہرا دیا تھا۔
حارث رؤف نے اپنی ہلکی گیندوں کا سلسلہ جاری رکھا اور اسی طرح انھوں نے پانڈیا کو بھی چکمہ دیا اور انھیں اونچا شاٹ کھیلنے پر مجبور کیا جس کے بعد کپتان بابر اعظم نے ان کا کیچ پکڑ لیا۔
انڈین کپتان وراٹ کوہلی جو کہ اب تک پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچوں میں آج تک آؤٹ نہیں ہوئے تھے، شاہین شاہ آفریدی کے ہاتھوں 57 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
آفریدی نے اپنا آخری اوور بڑا اچھا کرایا لیکن بدقسمتی سے ایک چوکا ان کو پانڈیا نے لگایا جب یارکر پر گیند بلے کے کنارے سے تھرڈ مین پر چلی گئی اور اوور کی آخری گیند پر نو بال تھی جس پر پانڈیا نے ایک اور چکا حاصل کیا۔
لیکن پاکستان کے لیے سب سے بڑا دھچکہ تھا جب فری ہٹ پر شاہین آفریدی نے پانڈیا کو بیٹ کر دیا، لیکن اوور تھرو کے باعث وہ گیند باؤنڈری کے باہر چلی گئی۔
انتہائی عمدہ بولنگ کے باوجود شاہین آفریدی نے اپنا سپیل 31 رنز دے کر ختم کیا اور 19ویں اوور میں 19 رنز بنے۔
ایک مہنگے سپیل کے بعد حسن علی کی بولنگ اختتام کو پہنچی جس میں انھوں نے 44 رنز دیے لیکن اپنے آخری اوور میں وہ رویندرا جڈیجا کو آؤٹ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
انڈیا اور پاکستان دونوں میں شائقین انڈین کپتان ویرات کوہلی کی نصف سنچری پر انھیں داد دے رہے ہیں۔
ٹوئٹر پر کرکٹ والا نامی صارف کہتے ہیں کہ انڈیا کی بیٹنگ کو مدنظر رکھتے ہوئے کوہلی نے بہترین باری کھیلی ہے۔
انڈین کپتان نے اپنی بہترین کارکردگی دکھائی اور جہاں ایک جانب پاکستانی بولرز حاوی ہونے کی کوشش کر رہے تھے، وہاں پر انھوں نے اپنے تجربے کا مظاہرہ کیا اور حسن علی کے اوور میں اپنی 50 مکمل کی۔
اس کے فوراً بعد انھوں نے حسن علی کی ہلکی گیند کو سمجھتے ہوئے ایک اور چوکا لگایا۔
ایک سنگل کے بعد جڈیجا سامنے آئے اور انھوں نے بھی حسن علی کی ایک بری گیند کو لیگ سائیڈ پر سے پیچھے کھیل دیا اور چار رنز حاصل کیے۔
حارث رؤف نے اپنی عمدہ بولنگ جاری رکھی اور اب تک انھوں نے تین اوورز میں صرف 19 رنز دیے ہیں جس میں سے 17ویں اوور میں چار رنز تھے۔
انھوں نے اس اوور میں وراٹ کوہلی کو قابو میں رکھا اور ہلکی گیندوں کی مدد سے انھیں چکمہ دیا۔
انڈین کپتان وراٹ کوہلی نے اپنی عمدہ بیٹنگ جاری رکھی اور حسن علی کی اچھی گیندوں پر بھی بہترین انداز کی بلے بازی کی اور اوور میں دو چوکے حاصل کر لیے اور اس کے علاوہ دو اور سنگل بھی لیے۔
اب تک حسن علی پاکستان کے سب سے مہنگے بولر ثابت ہوئے ہیں جنھوں نے اب تک تین اوورز میں 31 رنز دیے ہیں۔
شاداب خان نے اپنے آخری اوور میں بہت عمدہ بولنگ کی اور جڈیجا اور کوہلی کو تیز کھیلنے کا موقع نہیں دیا اور صرف چار رنز دیے۔
اس اوور کے اختتام پر انڈیا کا سکور 100 رنز ہو گیا اور اب اننگز کے صرف پانچ اوور مزید باقی ہیں۔
ٹوئٹر پر بعض صارفین اس میچ میں بے انتہا دلچسپی کو سمجھ نہیں پا رہے۔
جیسے اشوک سوان کہتے ہیں کہ ’انڈیا اور پاکستان ایک کرکٹ میچ کھیلنے جا رہے ہیں۔ یہ کوئی جنگ نہیں۔
’انڈیا کی آبادی پاکستان کے مقابلے سات گنا ہے۔ انڈین کرکٹ بورڈ کا سالانہ بجٹ پاکستانی کرکٹ بورڈ سے 11 گنا زیادہ ہے۔ کیا یہ ظاہر نہیں انڈیا ہی جیتے گا؟‘
پاکستان کے خلاف بہترین ریکارڈ رکھنے والے وراٹ کوہلی ایک بار پھر اپنی عمدہ بیٹنگ جاری رکھے ہوئے ہیں اور 35 کے سکور پر موجود ہیں۔
حارث رؤف کے اوور میں انھوں نے بغیر کوئی خطرہ مول لیے نو رنز بٹور لیے جس میں ایک چوکا بھی شامل ہے۔
عاطف نواز ٹوئٹر پر شاداب خان کی بولنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’انھوں نے پنت کو گوگلی کر کے غلط شاٹ کھیلنے پر مجبور کیا۔‘
’انڈیا کی یہ شراکت (پاکستان کے لیے) خطرناک تھی۔‘
لیگ سپنر شاداب خان واپس بولنگ کے لیے آئے تو اپنی تیسرے اوور کی پہلی دو گیندیں لائن پر بالکل نہیں تھیں اور ڈر تھا کہ کہیں پنت ان کے خلاف جارحانہ مزاج اپنائیں گے، اور پھر ایسا ہی ہوا لیکن وہ شاداب کی گوگلی نہ سمجھ سکے اور عماد وسیم کے ہاتھوں اونچا شاٹ کھیلتے ہوئے آؤٹ ہو گئے۔
حسن علی نے جب اپنا دوسرا اوور شروع کیا تو پہلی بال پر تو رن نہ بنا لیکن اگلی دونوں گیندوں پر رشبھ پنت نے اپنے جوہر دکھائے اور حسن علی کی ہلکی گیندوں کو بھی سمجھتے ہوئے ایک چھکا لیگ سائیڈ پر اور ایک چھکا بولر کے اوپر سے کھیلتے ہوئے لگایا۔
چوتھی گیند پر دو رنز حاصل کیے اور پانچویں گیند پر ایک سنگل لیا۔ اس طرح 15 رنز کے ساتھ یہ اوور اننگز کا سب سے مہنگا اوور بن گیا۔
اس وقت پنت خود 37 اور کوہلی 28 رنز پر کھیل رہے ہیں۔
حارث رؤف نے اننگز کا 11واں اوور کرایا جس میں انھوں نے انڈین بلے بازوں کو قابو میں رکھا اور صرف چھ رنز دیے۔
لیکن اب میچ کا وہ مرحلہ ہے جہاں انڈین کھلاڑی تیز کھیلنا شروع کر سکتے ہیں۔
پاکستان اور انڈیا دونوں میں شائقین اس میچ کو بھرپور جذبات کے ساتھ دیکھ رہے ہیں اور اپنی ٹیم کی جیت کی امید رکھتے ہیں۔
پاکستانی کرکٹر جویریہ خان نے ایک ٹویٹ شیئر کی ہے جس میں لوگوں کو اس میچ سے بھرپور لطف حاصل کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
لیکن ایک ٹویٹ میں کاظم کا مشورہ ہے کہ ’آج بہت سے ٹی وی بھی ٹوٹیں گے۔ اپنے ٹی وی کی حفاظت خود کریں اور جذبات پر قابو رکھیں اس سے پہلے وہ آپ پر حاوی ہوجائیں۔
’ہار اور جیت کھیل کا حصہ ہوتی (ہے)۔‘
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ابتدا میں انڈیا کی تین وکٹیں گِرنے سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ اور وہ اس کے باوجود ایک اچھا ہدف دے سکتے ہیں۔
نکھل سمجھتے ہیں کہ 15 اوورز میں 90 رنز بن سکتے ہیں جبکہ اس پچ پر 150 رنز بھی کافی ہوں گے۔ ’ابتدا میں (انڈیا کے لیے) مشکلات تھیں لیکن ابھی میچ باقی ہے۔‘
پاکستان کی جانب سے نپی تلی بولنگ کا سلسلہ جاری رہے اور شاداب خان نے اپنے اوور کی پہلی پانچ گیندوں پر انڈین بلے بازوں کو قابو میں رکھا۔ لیکن آخری گیند پر پنت نے لیگ پر کیپر کے پیچھے سے شاٹ اچھال دیا اور چار رنز حاصل کر لیے۔
ٹوئٹر پر ریحان کہتے ہیں کہ بابر نے اس میچ میں اب تک کافی اچھی کپتانی کی ہے۔
’اچھی تبدیلیاں کی گئیں جس میں وہ پنت کی باری حفیظ کو لائے۔ چھٹے بولر کے آنے سے پاکستان کے پاس آپشن بڑھ گئے ہیں۔‘
حسن علی کی گیند پر رضوان نے ایک عمدہ کیچ پکڑا۔
مظہر ارشد کے مطابق یہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ان کا 100واں کیچ تھا۔
محمد حفیظ کے اوور کی چوتھی گیند پر انھوں نے رشبھ پنت کے بلے کے قریب گیند کرائی لیکن محمد رضوان کی پرجوش اپیل کے بعد ریویو میں نظر آیا کے گیند ان کے بلے اور گلووز کو چھوئے بغیر چلی گئی۔
اس اوور میں محمد حفیظ نے چار رنز دیے۔