آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انگلینڈ کی ٹیم 27 سال بعد فائنل میں پہنچ گئی

کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے دوسرے سیمی فائنل میں میزبان انگلینڈ نے دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا کے 224 رنز کے ہدف کے تعاقب میں جیسن رائے کی شاندار بیٹنگ کی بدولت آٹھ وکٹوں سے کامیابی حاصل کر کے فائنل میں رسائی حاصل کر لی ہے۔

لائیو کوریج

عابد حسین and محمد صہیب

  1. ’ووکس یہ مقابلہ جیت گئے‘

    کرکٹ پر تجزیوں اور تبصروں کی ویب سائٹ کرک وز کے مطابق ڈیوڈ وارنر نے ووکس کو اننگز کی پہلی گیند پر خوبصورت چوکا لگایا جس کے بعد اگلی ہی گیند پر ووکس نے اپنی لینتھ پیچھے کی۔ اس کے بعد اگلے اوور میں انھوں نے پھر سے آگے پھینکی جس کا جواب ووکس نے ایک شارٹ گیند سے دیا اور وارنر کی وکٹ حاصل کر لی۔

  2. بریکنگ, ایلیکس کیری زخمی!, آسٹریلیا 19/3، آٹھ اوورز مکمل

    جوفرا آرچر نے ایک اور زبردست اوور کرایا جس کی آخری گیند پر گیند بلے باز کیری کے ہیلمٹ پر اتنے زور سے لگی کہ نہ صرف ہیلمٹ اتر گیا بلکہ ان کی ٹھوڑی سے خون بھی نکلنے لگا۔

  3. آرچر کے نام ایک اور ریکارڈ!

    جوفرا آرچر جنھوں نے انگلینڈ کے لیے اپنا پہلا میچ مئی میں کھیلا تھا نے اب تک اس ٹورنامنٹ میں انگلینڈ کے لیے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کر لی ہیں۔

    یہ انگلینڈ کی تاریخ میں اب تک ایک ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ وکٹیں ہیں۔ انھوں نے ایئن بوتھم کی 1992 کے ورلڈ کپ میں 16 وکٹوں کا ریکارڈ توڑا ہے۔

  4. بریکنگ, کرس ووکس کی دوسری کامیابی!

    کرس ووکس نے اپنی خوبصورت بولنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پیٹر ہینڈز کومب کو بولڈ کر دیا جنھوں نے صرف چار رنز بنائے اور پوری اننگز مشکل میں نظر آرہے تھے۔

  5. تین اوورز میں صرف تین رنز, آسٹریلیا 14/2، چھ اوورز مکمل

    جوفرا آرچر کے تیسرے اوور میں بھی آسٹریلیا نے صرف ایک رن حاصل کیا۔

  6. ووکس کی زبردست سوئنگ بولنگ, آسٹریلیا 13/2، پانچ اوورز مکمل

    کرس ووکس نے اپنے تیسرے اوور میں سمتھ کو خوبصورت سوئنگ بولنگ کرائی اور متعدد بار انھیں مشکل میں ڈالا۔

  7. آرچر کے اوور میں سمتھ کی خوش قسمتی, آسٹریلیا 12/2، چار اوورز مکمل

    جوفرا آرچر نے اس ورلڈ کپ میں اپنی عمدہ بولنگ جاری رکھی اور اس بار سٹیون سمتھ کو شدید مشکلات سے دوچار کیا اور سمتھ کی خوش قسمتی تھی کہ وہ اس اوور میں بچ گئے۔

  8. بریکنگ, وارنر بھی پویلین واپس!, آسٹریلیا 11/2، تین اوورز مکمل

    اوور کی تیسری گیند پر وارنر نے ووکس کو خوبصورت چوکا لگایا لیکن اگلی ہی گیند پر کرس ووکس نے ڈیوڈ وارنر کی وکٹ حاصل کر لی جب ایک تیز اور اونچی گیند ان کے بلے کا باہری کنارہ لیتے ہوئے سلپ میں کھڑے بئیرسٹو کے پاس چلی گئی۔ وارنر نے نو رنز بنائے اور ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر انھوں نے 647 رنز بنائے ہیں۔ نئے آنے والے بلے باز پیٹر ہینڈز کومب کو پہلی ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو کی اپیل کا سامنا کرنا پڑا جس پر انگلینڈ نے ریویو لیا مگر وہ سود مند نہ ہوا۔

  9. بریکنگ, کپتان فنچ پہلی گیند پر آؤٹ!, آسٹریلیا 6/1، دو اوورز مکمل

    جی ہاں! جوفرا آرچر نے اپنی پہلی ہی گیند پر آسٹریلوی کپتان آرون فنچ کو ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ فنچ نے امپائر کے فیصلے کو ریویو کیا لیکن گیند وکٹوں کو لگ رہی تھی جس کے نتیجے میں نہ صرف آسٹریلیا کو اپنا کپتان کھونا پڑا بلکہ ان کا ریویو بھی ضائع ہو گیا۔

  10. ’ٹاس جیتنے والی ٹیم کو فائدہ ہو گا‘

    آئی سی سی کی پریزینٹر زینب عباس نے سری لنکا کے سابق کپتان کمارا سنگاکارا اور مائیکل سلیٹر سے ٹاس سے پہلے بات کی۔

    سنگاکارا کا کہنا تھا کہ جو ٹیم ٹاس جیتے گی اس کو بہت فائدہ ہو گا، جبکہ دوسری جانب مائیکل سلیٹر کا کہنا ہے کہ ٹاس جیتنے والی ٹیم باآسانی میچ جیت جائے گی۔

  11. بریکنگ, پہلی گیند پر چوکا!, آسٹریلیا 4/0، پہلا اوور

    ڈیوڈ وارنر کا زبردست آغاز، ووکس کی پہلی گیند کو کور کی جانب کھیل کر انھوں نے چار رنز حاصل کیے۔

  12. بریکنگ, آسٹریلوی بلے باز میدان میں

    آسٹریلیا کے اوپنرز ڈیوڈ وارنر اور کپتان آرون فنچ میدان میں آگئے ہیں اور میچ شروع ہونے والا ہے۔ انگلینڈ کی جانب سے کرس ووکس بولنگ کا آغاز کریں گے۔

  13. ’ٹاس کی اتنی اہمیت نہیں ہے‘

    صحافی جارج ڈوبیل کا کہنا ہے انھیں نہیں لگتا کے اس ٹاس کی اتنی اہمیت تھی جتنی پچھلے کچھ میچوں میں دیکھنے میں آئی تھی۔

    وہ کہتے ہیں کہ وہ اس پچ کو دوسری اننگز میں مزید سست پڑتا نہیں دیکھ رہے۔

  14. انگلینڈ 27 سال بعد سیمی فائنل میں

    میزبان ٹیم اینگلینڈ نے پہلے پانچ ورلڈ کپس کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی تھی جس میں سے تین میں وہ کامیاب ہوئے اور دو میں انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن 1992 کے بعد سے وہ آج تک ورلڈ کپ میں کبھی قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا سکے۔

  15. بریکنگ, آسٹریلیا کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

    آسٹریلیا کے کپتان ایرن فنچ کا کہنا ہے کہ وہ چاہیں گے کہ ایک اچھا ٹوٹل بنائیں تاکہ انگلینڈ کو دباؤ میں لا سکیں۔

    فنچ کا مزید کہنا تھا کہ پچ بیٹنگ کے لیے بہت اچھی لگ رہی ہے لیکن ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ اس میں دوسری اننگز میں زیادہ تبدیلی آئے گی۔

    آسٹریلیا نے اپنی ٹیم میں ہیمسٹرنگ انجری کی باعث باہر ہونے والے عثمان خواجہ کی جگہ پیٹر ہینڈسکومب کو شامل کیا ہے۔

    انگلینڈ کے کپتان اوئن مارگن کا کہنا ہے کہ وہ بھی پہلے بیٹنگ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کے ورلڈ کپ سے پہلے تو وہ بھی ہدف کے تعاقب کو ترجیح دیتے تھے تو اس بات سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔

    انگلینڈ نے اپنا آخری میچ کھیلنے والی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔

  16. ڈیوڈ وارنر کے پاس سچن کا ریکارڈ توڑنے کا سنہری موقع

    بدھ کو پہلے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ سے شکست کے بعد انڈیا کے اوپنر روہت شرما سچن تندولکر کا ایک ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ نہیں توڑ پائے۔

    البتہ آج ڈیوڈ وارنر کے پاس یہ کارنامہ سرانجام دینے کا سنہری موقع ہے۔

    وارنر نے اب تک ٹورنامنٹ میں 638 رنز بنائے ہیں جن میں تین سنچریاں اور تین نصف سنچریاں شامل ہیں۔ یاد رہے کے سچن تندولکر نے 2003 کے ورلڈکپ میں 673 رنز بنائے تھے۔

    دوسری جانب انگلینڈ کی جانب سے بیٹسمین جو روٹ نے اب تک سب سے زیادہ 500 رنز بنائے ہیں۔

  17. مچل سٹارک ٹورنامنٹ کے بہترین بولر

    آسٹریلیا کے فاسٹ بولر مچل سٹارک نے اب تک اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 26 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔

    انھوں نے مایہ ناز آسٹریلوی فاسٹ بولر گلین مگرا کا ایک ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ 26 وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ برابر کر دیا ہے۔

    انگلینڈ کی جانب سے فاسٹ بولر جوفرا آرچر نے سب سے زیادہ 17 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ یاد رہے کے جوفرا آرچر نے انگلینڈ کی شہریت ملنے کے بعد مئی میں پاکستان کے خلاف انگلینڈ کے لیے اپنا پہلا میچ کھیلا تھا۔

  18. ٹاس سے پہلے آسٹریلوی کیمپ میں خوشگوار ماحول!

  19. آسٹریلیا سیمی فائنلز میں ناقابل شکست, سات میچ کھیلے، سات میچ جیتے

    آسٹریلیا نے آج کے سیمی فائنل سے قبل اب تک ہونے والے عالمی مقابلوں میں سے سات کے سیمی فائنل تک رسائی کی ہے اور کسی میں بھی انھیں شکست نہیں ہوئی ہے۔ سنہ 1975 میں ہونے والے سب سے پہلے عالمی کپ میں آسٹریلیا نے میزبان انگلینڈ سے ہیڈینگلے لیڈز میں میچ کھیلا تھا جس میں انھوں نے گیری گلمور کی بولنگ کی مدد سے آسان فتح حاصل کر لی تھی۔

  20. انگلینڈ بمقابلہ آسٹریلیا کی لائیو کوریج میں خوش آمدید, دوسرا سیمی فائنل، ایجبیسٹن

    کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کی ٹیمیں آج ایجبیسٹن کے میدان پر آمنے سامنے ہیں۔

    یہ روایتی حریف اس سے پہلے اس ورلڈ کپ کے راؤنڈ رابن مرحلے کے دوران 25 جون کو آمنے سامنے آئے تھے۔ جس میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 285 رنز بنائے تھے جس کے جواب میں انگلینڈ کی پوری ٹیم 221 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔

    آسٹریلیا نے اس میچ میں 64 رنز سے فتح حاصل کی جس میں جیسن بہرینڈورف کی پانچ اور مچل سٹارک کی چار وکٹیں شامل ہیں۔ آسٹریلوی کپتان نے اس میچ میں سنچری سکور کی تھی۔

    انگلینڈ نے آج تک کبھی کوئی ورلڈ کپ نہیں جیتا، جبکہ آسٹریلیا نے اب تک پانچ مرتبہ عالمی کپ اپنے نام کیا ہے۔