بریکنگ, بیٹنگ کے ہیرو سمتھ اب بولنگ اٹیک میں!
اپنا کرئیر لیگ سپن سے شروع کرنے والے سٹیو سمتھ کو اب کپتان فنچ نے بولنگ کے لیے بلایا ہے۔ آسٹریلوی اننگز میں 85 رنز بنانے والے سمتھ کیا بولنگ میں بھی کمال دکھا سکیں گے؟
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے دوسرے سیمی فائنل میں میزبان انگلینڈ نے دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا کے 224 رنز کے ہدف کے تعاقب میں جیسن رائے کی شاندار بیٹنگ کی بدولت آٹھ وکٹوں سے کامیابی حاصل کر کے فائنل میں رسائی حاصل کر لی ہے۔
عابد حسین and محمد صہیب
اپنا کرئیر لیگ سپن سے شروع کرنے والے سٹیو سمتھ کو اب کپتان فنچ نے بولنگ کے لیے بلایا ہے۔ آسٹریلوی اننگز میں 85 رنز بنانے والے سمتھ کیا بولنگ میں بھی کمال دکھا سکیں گے؟
انگلینڈ کے اوپنر نے اچھے آغاز کے بعد اب جارحانہ انداز اپنا لیا ہے۔ پچھلے پانچ اوورز چھ چوکے اور ایک چھکا لگے ہیں۔
جیسن رائے اس وقت 54 جبکہ جونی بیئر سٹو 32 رنز پر کریز پر موجود ہیں۔
جیسن رائے نے اس ورلڈ کپ میں اپنی شاندار فارم جاری رکھتے ہوئے سات چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 54 رنز بنا لیے ہیں۔
انھوں نے یہ سنگِ میل صرف 50 گیندوں پر عبور کیا۔
کرک وز کے مطابق یہ جیسن رائے اور جونی بیئر سٹو کی اوپننگ جوڑی نے سب سے زیادہ 70 رنز کی اوسط سے رنز بنائے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔
گورڈن گرینیج اور ڈیسمنڈ ہینز کی مایہ ناز اوپننگ جوڑی اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔
آسٹریلیا کے کپتان ایرن فنچ نے فاسٹ بولرز کی پہلے دس اوورز میں ناکامی کے بعد نیتھن لائن کو بولنگ کے لیے بلایا ہے۔
لیکن جیسن رائے نے ان کا مڈ آن پر شاندار چھکے سے کیا ہے۔
ان کے پہلے اوور میں 13 رنز بنے۔
انگلینڈ کے اوپنرز نے دباؤ میں آنے کی بجائے پر اعتماد انداز اپنایا ہے۔ پہلے دس اوورز میں چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 50 رنز مکمل کر لیے ہیں۔
اس وقت جیس رائے نے 27 اور جونی بیئرسٹو نے 20 رنز بنا رکھے ہیں۔
پیٹ کمنز نے اپنے اوور کی پہلی پانچ گیندوں پر کوئی رن نہیں بننے دیا لیکن رائے نے ان کی آخری گیند پر سکویر لیگ کی جانب عمدہ سٹروک کھیل کر چار رنز وصول کیے اور ان کا اچھا اوور خراب کر دیا۔
جیسن رائے اور جونی بیئرسٹو کی جوڑی نے انگلینڈ کو ایک اچھا آغاز فراہم کیا ہے۔
آسٹریلیا کے اوپننگ بولرز کسی سے کم نہیں ہیں لیکن رائے اور بیئرسٹو نے پر اعتماد بیٹنگ کرتے ہوئے انھیں اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔
اب تک آٹھ اوورز میں پانچ چوکے اور ایک چھکا لگ چکا ہے اور انگلینڈ کو جیتنے کے لیے 184 رنز درکار ہیں۔
پیٹ کمنز نے اب تک اس ٹورنامنٹ میں 13 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔
پیٹ کمنز کو ایک ایسے موقع پر بولنگ پر لایا گیا ہے جب آسٹریلیا کو وکٹوں کی اشد ضرورت ہے۔
اس ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے مچل سٹارک کو جیسن رائے نے فائن لیگ باؤنڈری کے اوپر سے شاندار چھکا لگایا ہے۔
اس سے پہلے اس ہی اوور میں بیئر سٹو نے انھوں پوائنٹ پر چوکا مارا تھا۔ سٹارک کا ایک اور مہنگا اوور رہا جس میں انھیں 12 رنز پڑے۔
کرکٹ پر تجزیوں اور تبصروں کی ویب سائٹ کرک وز کے مطابق جیسن رائے کو ایک اچھی لینتھ پر گیند کریں تو وہ محتاط ہو کر کھیلتے ہیں۔
اس کے بر عکس آگے پڑنے والی اور شارٹ گیندوں پر وہ 7.5 رنز کی اوسط سے رنز بناتے ہیں۔
مچل سٹارک کو بالآخر جیسن رائے نے عمدگی سے کھیلتے ہوئے دو خوبصورت چوکے لگائے ہیں۔
سٹارک کے اس اوور میں دس رنز بنے۔
جیسن بہرنڈورف یہ بتا رہے ہیں کہ انھیں اتنی کم عمر میں اتنی زیادہ شہرت کیسے حاصل ہوئی۔
جونی بیئرسٹو جو پچھلی دونوں میچوں میں عمدہ بیٹنگ کرتے دکھائی دیے تھے وہ بہرنڈورف کے سامنے بوکھلائے ہوئے دکھائی دیے۔ یہ اننگز کا پہلا میڈن اوور تھا۔
اگر آخری گیند پر وائڈ نہ ہوتی تو یہ اس اننگز کا پہلا میڈن اوور ہوتا۔ مچل سٹارک نے اپنے پہلے اوور میں جیسن رائے کو باندھے رکھا اور انھیں کھل کر کھیلنے کا کوئی موقع نہیں دیا۔
آسٹریلیا کی تمام امیدیں سٹارک سے وابستہ ہوں گی کیوںکہ انھوں نے اب تک ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 26 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔
جیسن بہرنڈورف نے انگلینڈ کے خلاف 25 جون کو کھیلے جانے والے راؤنڈ روبن میچ میں پانچ کھلاڑیوں کوآؤٹ کیا تھا۔ آج انھوں نے بولنگ کا آغاز کیا ہے اور پہلے اوور میں رائے ان کی بولنگ پر بال بال بچے۔
جبکہ جونی بیئرسٹو نے انھیں پوائنٹ اور کور کے بیچ میں سے خوبصورت چوکا رسید کیا۔
تمام نظریں جیسن رائے اور جونی بیئسٹو کی اوپننگ شراکت پر ہوں گی۔ ان دونوں نے اب تک ایک روزہ میچوں میں دس سنچری اور سات نصف سنچری شراکتیں بنا رکھی ہیں۔
ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ میچوں میں یہ دوسری دفعہ ہوا ہے کہ آسٹریلیا کی تمام ٹیم آؤٹ ہوئی ہو۔ البتہ آخری دفعہ ایجبسٹن کے میدان میں 1999 کے ورلڈ کپ کا یادگار سیمی فائنل سنسنی خیز مقابلے کے بعد ٹائی ہوا تھا۔ آج سمتھ نے وہ کردار اپنایا جو اُس میچ میں سٹیو وا نے اپنایا تھا اور آسٹریلیا کو اکیلے ہی ایک ایسے ٹوٹل تک رسائی دلائی جو شاید اس پچ کی مناسبت سے تو کم ہے لیکن بہرحال آسٹریلوی بولرز کے پاس دفاع کرنے کے لیے کم از کم کچھ تو ہے۔ سمتھ نے 119 گیندوں پر چھ چوکوں کی مدد سے 85 رنز بنائے۔ ان کا ساتھ صرف وکٹ کیپر ایلیکس کیری نے دیا جو منہ پر ہیلمٹ لگنے کے باعث زخمی ہوئے مگر 46 رنز کی اننگز کھیل گئے اور سمتھ کے ساتھ 100 رنز کی شراکت جوڑی۔ انگلینڈ کی جانب سے کرس ووکس نے وہ کردار نبھایا جو کل کے پہلی سیمی فائنل میں میٹ ہینری نے نیوزی لینڈ کے لیے نبھایا تھا۔ انھوں نے تین کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ دوسری جانب جوفرا آرچر کے عمدہ سپیل نے آسٹریلوی بیٹنگ کی کمر توڑ دی۔ انھوں نے کپتان ایرن فنچ اور گلین میکسویل کی قیمتی وکٹیں حاصل کیں۔ انگلینڈ اگر اس ہدف کا تعاقب کر لیتا ہے تو یہ 1992 کے بعد پہلی مرتبہ ہو گا کہ انھوں نے ورلڈ کپ کے فائنل تک رسائی حاصل کی ہو گی۔
مارک ووڈ نے 49ویں اوور کی آخری گیند پر بہرینڈروف کو بولڈ کر کے آسٹریلیا کی اننگز ختم کر دی جس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے 50 اوورز بھی پورے نہیں کھیل سکے۔
کرس ووکس نے اپنے آٹھویں اوور کی دوسری گیند پر مچل سٹارک کو بھی بٹلر کے ہاتھوں کیچ کروا دیا اور اس طرح اننگز میں اپنی دوسری وکٹ حاصل کر لی۔