بریکنگ, عادل رشید کی اوور میں دوسری وکٹ!, آسٹریلیا 118/5، 28 اوورز مکمل
عادل رشید نے بہترین کم بیک کرتے ہوئے اپنے پانچویں اوور میں دو وکٹیں حاصل کر لیں جب انھوں نے اوور کی آخری گیند پر نئے آنے والے مارکس سٹوئنس کو صفر پر ایل بی ڈبلیو کر دیا۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے دوسرے سیمی فائنل میں میزبان انگلینڈ نے دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا کے 224 رنز کے ہدف کے تعاقب میں جیسن رائے کی شاندار بیٹنگ کی بدولت آٹھ وکٹوں سے کامیابی حاصل کر کے فائنل میں رسائی حاصل کر لی ہے۔
عابد حسین and محمد صہیب
عادل رشید نے بہترین کم بیک کرتے ہوئے اپنے پانچویں اوور میں دو وکٹیں حاصل کر لیں جب انھوں نے اوور کی آخری گیند پر نئے آنے والے مارکس سٹوئنس کو صفر پر ایل بی ڈبلیو کر دیا۔
عادل رشید نے اپنے پچھلے اوور میں 10 رنز دینے کے باوجود گیند کو فلائٹ دی اور اس کے نتیجے میں ایلیکس کیری 46 رنز بنا کر ڈیپ مڈ وکٹ کی باؤنڈری پر جیمز ونس کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے جس کے ساتھ ہی ان کی سٹیو سمتھ کے ساتھ 103 رنز کی شراکت ختم ہو گئی۔
خراب آغاز کے بعد سمتھ اور کیری نے عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے 20 اوورز میں اپنی 100 رنز کی شراکت مکمل کر لی ہے اور دونوں بلے باز اپنی نصف سنچریوں کے قریب ہیں۔
سٹیو سمتھ اور ایلیکس کیری نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو مشکلات سے نکالا اور 25 اوورز پر آسٹریلیا نے ٹیم کے 100 رنز مکمل کر لیے ہیں۔
انگلینڈ کی جانب سے سکواڈ میں واحد سپنر، عادل رشید کو کپتان مورگن اٹیک میں لائے ہیں لیکن اس اوور میں آسٹریلیا نے ان کو اعتماد سے کھیلا اور ایک چوکے کی مدد سے چھ رنز حاصل کیے۔
آسٹریلیا نے آہستہ آہستہ اپنی اننگز کو مستحکم کرنا شروع کر دیا ہے اور آخری پانچ اوورز میں انھوں نے 27 رنز بنائے ہیں۔ سٹیو سمتھ کا اس میں واضح حصہ ہے جنھوں نے 50 گیندوں پر 33 رنز بنائے ہیں جس میں چار چوکے شامل ہیں۔
لیم پلنکٹ کے دوسرے اوور میں ایلیکس کیری نے احتیاط سے کام لیا اور چار رنز حاصل کیے۔
مارک ووڈ کی تیز گیندوں کے باوجود سٹیو سمتھ بڑے پر اعتماد انداز میں بیٹنگ کر رہے ہیں اور اب انھوں نے مارک ووڈ کے اوور کی آخری گیند پر بھی چوکا لگایا اور اس وقت وہ 47 گیندوں پر 27 رنز پر کھیل رہے ہیں۔
کرک وز کے مطابق سمتھ نے اب تک ہر بری گیند کے خلاف جارحانہ بیٹنگ کی ہے جس کے باعث اب آسٹریلیا کی اننگز سنبھلنے لگی ہے۔
اس ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی جانب سے آٹھ وکٹیں حاصل کرنے والے لیم پلینکٹ بولنگ کے لیے آئے ہیں جن کے پہلی اوور میں آسٹریلیا کے سابق کپتان سمتھ نے شاندار شاٹ کھیل کر چوکا لگایا اور اوور میں آٹھ رنز حاصل کیے۔
ایلیکس کیری کے ہیلمٹ پر جوفرا آرچر کی گیند لگی جس کے بعد ان کے سر پر پٹی باندھی گئی۔ صحافی جیروڈ کمبر نے اس سے پہلے ایسے کھلاڑیوں کی تصویریں لگائی ہیں جن کے ساتھ ایسا ہی کچھ ہوا تھا۔ ان کھلاڑیوں میں انڈیا کے انیل کمبلے بھی شامل ہیں۔
سٹیون سمتھ اور ایلیکس کیری نے پہلے دس اوورز کے بعد اب تھوڑا کھل کر کھیلنا شروع کیا ہے اور بین سٹوکس کے اوور میں نو رنز حاصل کیے۔
ایرن فنچ اور ڈیوڈ وارنر نے اس ورلڈ کپ میں 44.9 فیصد رنز بنائے تھے۔ ’ دونوں نے مل کر 46.41 فیصد گیندیں کھیلی ہیں۔
ان میں اگر ایلیکس کیری کو بھی شامل کر لیا جائے تو ان تینوں نے مل کر اس ورلڈ کپ میں 60 فیصد رنز بنائے ہیں۔
لیکن اس کے برعکس آسٹریلیا کا مڈل آرڈر اب تک خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکا۔ عثمان خواجہ کے علاہ بقیہ مڈل آرڈر نے صرف 27.4 کی اوسط سے رنز بنائے ہیں۔
کیا سٹیو سمتھ آج آسٹریلوی بیٹنگ کو سہارا دے پائیں گے؟
جوفرا آرچر کے پانچ اوور کے سپیل کے بعد انگلینڈ نے آل راؤنڈر بین سٹوکس کو بولنگ کے لیے بلایا جنھوں نے اپنے پہلے اوور میں صرف ایک رن دیا۔
انگلینڈ کی جانب سے کامیاب بولر کرس ووکس نے چھ اوورز میں صرف 16 رنز دیے ہیں اور دو وکٹیں حاصل کی ہیں۔
1996، 1999 اور 2003 میں بھی آغاز میں آسٹریلیا کی ٹیم مشکلات میں گھری تھی لیکن وہ پھر بھی جیت سے ہمکنار ہوئے۔
آرچر اور ووکس کی عمدہ بولنگ کا سلسلہ جاری رہا اور دس اوورز کے اختتام پر آسٹریلیا نے اس ورلڈ کپ میں اپنا سب سے کم سکور بنایا ہے۔
زخمی ہونے کے بعد ایلیکس کیری کی ٹھوڑی پر پٹی لگا دی گئی جس کے بعد انھوں نے کرس ووکس کے اوور میں پراعتماد انداز میں کھیلا اور آخری گیند پر خوبصورت چوکا لگایا۔