بریکنگ, بٹلر کی براہ راست تھرو، سمتھ آؤٹ!
انگلینڈ کے کیپر جوز بٹلر نے 48ویں اوور کی پہلی گیند پر سٹیو سمتھ کو شاندار فیلڈنگ کرتے ہوئے براہ راست تھرو کر کے رن آؤٹ کر دیا جنھوں نے 85 رنز بنائے تھے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے دوسرے سیمی فائنل میں میزبان انگلینڈ نے دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا کے 224 رنز کے ہدف کے تعاقب میں جیسن رائے کی شاندار بیٹنگ کی بدولت آٹھ وکٹوں سے کامیابی حاصل کر کے فائنل میں رسائی حاصل کر لی ہے۔
عابد حسین and محمد صہیب
انگلینڈ کے کیپر جوز بٹلر نے 48ویں اوور کی پہلی گیند پر سٹیو سمتھ کو شاندار فیلڈنگ کرتے ہوئے براہ راست تھرو کر کے رن آؤٹ کر دیا جنھوں نے 85 رنز بنائے تھے۔
جب عادل رشید اور جوفرا آرچر نے آسٹریلوی مڈل آرڈر کو آؤٹ کر دیا تو لگ رہا تھا کہ وہ شاید 200 بھی نہ کر سکیں لیکن مچل سٹارک نے سمتھ کا بہترین ساتھ دیا اور ان دونوں نے 57 گیندوں پر 50 رنز کی شراکت قائم کر لی ہے۔
خراب آغاز کے باوجود سٹیو سمتھ نے ہمت نہیں ہاری اور وہ اپنی ٹیم کو 200 کے ہندسے تک لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ پلنکٹ کے اس اوور میں آسٹریلیا نے ایک چھکے اور ایک چوکے کی مدد سے 14 رنز حاصل کر لیے۔ سمتھ اب 82 رنز پر کھیل رہے ہیں۔
اننگز کے 45ویں اوور میں مچل سٹارک نے پلنکٹ کو شاندار چھکا رسید کیا اور آسٹریلیا کو ایک قابل قبول سکور تک پہنچنے کی امیدیں ابھی بھی روشن ہیں۔
کرکٹ پر تجزیے اور تبصرے کرنے والی ویب سائٹ کرک وز کے مطابق ایجبیسٹن کی یہ پچ اس ٹورنامنٹ میں بیٹنگ کے لیے گیارہویں بہترین پچ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سیمی فائنل میں ہدف کا تعاقب کرنا مشکل ضرور ہوتا ہے لیکن یہ پچ اتنی مشکل نہیں جتنی اس سے پہلے دیکھنے کو ملی تھیں۔
نمبر تین پر آنے والے بلے باز اور سابق کپتان سٹیو سمتھ اس وقت 77 رنز پر بیٹنگ کر رہے ہیں اور آسٹریلوی امیدوں کا سارا دار و مدار ان پر ہی ہے۔
آسٹریلیا نے اب تک 40 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 175 رنز بنائے ہیں۔
آسٹریلیا کی جانب سے سٹیو سمتھ 74 جبکہ سٹارک چار رنز بنا کر کریز پر موجود ہیں۔
اس وقت آسٹریلیا کے لیے مقررہ پچاس اوورز کھیلنا ہی بڑی بات ہو گی لیکن دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا سمتھ اپنی سنچری مکمل کر پائیں گے اور ان کا ساتھ دینے کے لیے کون آخر تک موجود رہے گا۔
انگلینڈ کی جانب سے جوفرا آرچر نے اپنا سپیل مکمل کر لیا جس میں انھوں نے صرف 32 رنز کے عوض دو وکٹیں حاصل کی اور اس طرح اس ورلڈ کپ میں ان کی دس میچوں میں کُل 19 وکٹیں ہو گئی ہیں۔
انگلینڈ کے لیگ سپنر عادل رشید کی بہترین بولنگ کا سلسلہ جاری رہا اور انھوں نے اپنے آخری اوور میں پیٹ کمنز کو بھی سلپ میں کیچ آؤٹ کر وا دیا جنھوں نے صرف چھ رنز بنائے۔ مجموعی طور پر انھوں نے سپیل میں 54 رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کی ہیں۔
جوفرا آرچر کو عمومی طور پر آخری مرحلے میں بولنگ کے لیے لایا جاتا ہے لیکن انگلینڈ نے ان کو 30 سے 40 اوور میں لایا اور انھوں نے نہایت عمدہ بولنگ کی ہے۔
ایک روزہ ناک آؤٹ میچوں میں سٹیو سمتھ نے 76.2 کی اوسط سے رنز بنائے ہیں۔ اس کے بر عکس عام میچوں میں انھوں نے 41.58 کی اوسط سے رنز بنائے ہیں۔
جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سمتھ بڑے اور دباؤ والے میچوں میں عمدہ بلے بازی کرتے ہیں۔
انگلینڈ کہ کپتان مورگن کا جوفرا آرچر کو بولنگ کے لیے واپس لانے کا جوا کامیاب ثابت ہوا اور انھوں نے 22 رنز پر میکس ویل کی اننگز ایک زبردست سلو ڈلیوری کی مدد سے تمام کر دی۔
ایک بار پھر آسٹریلیا نے عادل رشید کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے اور ان کے آٹھویں اوور میں آٹھ رنز حاصل کیے۔ عادل نے اب تک 49 رنز دیے ہیں اور دو کٹیں حاصل کی ہیں۔
پانی کے وقفے کے بعد کھیل دوبارہ شروع ہوا تو جوفرا آرچر کے اوور میں صرف دو رنز بنے۔
’بگ شو‘ گلین میکس ویل نے عادل رشید کو شاندر چھکا رسید کیا اور ایسا لگتا ہے کہ وہ آج موڈ میں ہیں۔
آسٹریلوی آل راؤنڈر گلین میکس ویل اپنی جارحانہ بیٹنگ کے لیے معروف ہیں اور انھیں ’میڈ میکس‘ بھی کہا جاتا ہے لیکن دیکھنا ہوگا کہ وہ آج اپنا جادو دکھا پائیں گے یا نہیں۔
کرکٹ کے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اچھی ٹیمیں آخری 20 اوورز میں اپنے پہلے 30 اوورز کے سکور کو دگنا کر دیتی ہیں لیکن کیا آسٹریلیا اپنی آخری پانچ وکٹوں کے ساتھ ایسا کر سکے گا؟
آسٹریلوی بلے باز سٹیو سمتھ کی یہ ورلڈ کپ ناک آوٹ میں تیسری نصف سنچری ہے۔ انھوں نے 2015 کے ورلڈ کپ کوارٹرفائنل میں پاکستان کے خلاف 65، انڈیا کےخلاف سیمی فائنل میں 105 اور نیوزی لینڈ کے خلاف 56 رنز کی ناقابلِ تسخیر اننگز کھیلی تھی۔
سمتھ نے یہ نصف سنچری چار چوکوں کی مدد سے مکمل کی۔