انگلینڈ 6-165, بین سٹوکس 14، عادل رشید 0
انگلش ٹیم کی رن بنانے کی رفتار جہاں کم ہوئی ہے وہیں وکٹیں گرنے کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور مشکلات بڑھ رہی ہیں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کارڈف کے میدان پر آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے پہلے سیمی فائنل میں پاکستان انگلینڈ کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر فائنل میں پہنچ گیا ہے۔
انگلش ٹیم کی رن بنانے کی رفتار جہاں کم ہوئی ہے وہیں وکٹیں گرنے کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور مشکلات بڑھ رہی ہیں۔
فخر زمان نے جنید خان کی گیند پر باؤنڈری کے قریب معین علی کا شاندار کیچ پکڑ کر پاکستان کو چھٹی کامیابی دلوا دی ہے۔ فخر زمان چیمپیئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں اپنی زندگی کا تیسرا انٹرنیشنل میچ کھیل رہے ہیں۔ انھوں نے جنید خان کی گیند پر معین علی کو جو کیچ پکڑا ہے وہ شائقین کرکٹ کے ذہنوں میں طویل عرصے تک محفوظ رہے گا۔
معین علی کا کیچ ایک ایسے مرحلے پر پکڑا گیا جب میچ آخری دس اوور میں داخل ہو رہا تھا۔ جنید خان کی شارٹ بال کو معین خان نے پُل کیا،گیند فضا میں بلند ہوئی اور شائقینِ کرکٹ اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔
فخر زمان نے اپنے بائیں ہاتھ کی طرف دوڑنا شروع کیا اور آخری لمحے میں تقریباً ڈائیو لگائی اور جب وہ زمین پر گرے تو گیند ان کے ہاتھ میں تھی۔ سٹیڈیم میں ایک شور بلند ہوا اور پاکستان جیتےگا کے نعروں سے سٹیڈیم گونجنے لگا۔
کپتان سرفراز اور باقی سارے کھلاڑی جو سانس روکے یہ منظر دیکھ رہے تھے خوش میں چھلانگیں لگاتے فخر کی طرف بھاگے اور انھیں سینے سے لگا لیا
محمد حفیظ 38 واں اوور کرایا جس میں معین نے ایک چوکا مارا۔ اس اوور میں چھ رنز بنے۔
37 ویں اوور میں جنید خان نے انگلینڈ پر دباؤ پرقرار رکھا اور صرف دو رنز دیے۔
پاکستان کے سپنرز نے پہلے انگش بلے بازوں کو محتاظ انداز اپنانے پر مجبور کیا تو بعد میں فاسٹ بولرز نے انھیں باندھ کر رکھ دیا ہے
انگلش اننگز کے 150 رنز 36ویں اوور میں مکمل ہوگئے ہیں تاہم اس سنگِ میل تک پہنچتے پہنچتے پانچ بلے باز پویلین لوٹ چکے ہیں اور اس وقت معین علی اور بین سٹوکس کریز پر موجود ہیں۔
جنید خان کو واپس لانے کا فیصلہ درست ثابت ہوا اور انھوں نے کپتان سرفراز کے ہاتھوں ہی بٹلر کو کیچ کروا کے پاکستان کو پانچویں کامیابی دلوا دی ہے۔
34 اوورز کی تکمیل پر اس وقت میچ میں پانی کا وقفہ ہے
پچ سے تیز گیند بازوں کو مدد ملتی دیکھ کر سرفراز نے جنید خان کو واپس اٹیک کے لیے بلا لیا ہے تاہم سٹوکس اور بٹلر محتاط انداز اپنائے ہوئے ہیں۔
ایئن بٹلر کپتان مورگن کی جگہ بلے بازی کے لیے آئے ہیں اور انگلینڈ نے 32 اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 142 رنز بنا لیے ہیں
حسن علی کو ایک بار پھر بولنگ کے لیے لایا گیا ہے اور انھوں نے آتے ہی پاکستان کو چوتھی کامیابی دلوا دی ہے۔ آؤٹ ہونے والے بلے باز کپتان مورگن تھے جو 33 رنز بنا سکے۔
محمد حفیظ کے اوور میں مورگن بال بال بچے جب گیند انھیں چکمہ دینے کے بعد وکٹوں کے انتہائی قریب سے نکل گئی
30 اوورز کا کھیل اپنے اختتام کو پہنچا اور انگلینڈ نے تین وکٹوں کے نقصان پر 135 رنز بنا لیے ہیں
محمد حفیظ نے اپنے چھٹے اور اننگز کے 29ویں اوور میں بھی انگلش بلے بازوں کو کھل کر نہیں کھیلنے دیا ہے اور مجموعی سکور میں ایک رن کا ہی اضافہ ہو سکا ہے۔
آل راؤنڈر بین سٹوکس چوتھے نمبر پر بلے بازی کے لیے آئے ہیں۔ انگلینڈ کو آج ان سے ایک بڑی اننگز کی امید ہے
نوجوان پاکستانی بولر شاداب خان جو روٹ کی قیمتی وکٹ حاصل کر لی ہے۔ وہ 46 رنز بنانے کے بعد وکٹ کیپر سرفراز کے ہاتھوں کیچ ہوئے ہیں۔