آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس: دنیا میں اب تک کیا ہوا؟

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. خود ساختہ تنہائی (آئسولیشن) کیسے ممکن؟

    اگر آپ کو شبہ ہے کہ آپ کورونا وائرس کا شکار ہیں، یا آپ کسی ایسے شخص سے رابطے میں رہے ہیں جسے کورونا وائرس ہو چکا ہے، یا کسی ایسی جگہ ہو کر آئے ہیں جہاں اس وائرس کے بہت سارے کیسز موجود ہیں، تو خود کو سب سے الگ تھلگ کر لیں۔

    لیکن اس خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے اور اس کا درست طریقہ کیا ہے؟ خود ساختہ تنہائی کے بارے میں یاد رکھنے والی پانچ اہم باتیں اس ویڈیو میں۔۔۔

  2. چین کے کارخانوں کا پہیہ دوبارہ گھومنے لگا

    منگل کو عالمی معیشت کے لیے اچھی خبر یہ تھی کہ چین کے کارخانوں میں کام بحال ہونا شروع ہو گیا ہے۔

    فروری میں ملک گیر لاک ڈاؤن ک وجہ سے کارخانوں سے ہونے والی پیداوار اپنی سب سے نچلی سطح پر آگئی تھیں۔

    لیکن اب چین کے قومی ادارہ برائے شماریات نے کہ ہے کہ مارچ میں کارخانوں کی پیداوار 52 پوائنٹس تھی جبکہ فروری کی پیداوار صرف 35.7 پوائنٹس تھی۔

    50 سے اوپر پوائنٹس کا مطلب ماہانہ پیداوار میں اضافہ ہے جبکہ 50 سے نیچے کا مطلب پیداوار میں کمی ہے۔

    تاہم ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ان اعداد و شمار کو دیکھ کر اتنا خوش نہیں ہونا چاہیے۔ کورونا وائرس کے عالمی پھیلاؤ کی وجہ سے چینی معیشت دباؤ میں رہے گی کیونکہ دوسرے ممالک میں اس کی اشیا کی مانگ کم رہے گی۔

  3. صدر ٹرمپ: آنے والے دنوں میں کورونا سے نمٹنے کے لیے بہتر حالت میں ہوں گے

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب تک کورونا وائرس کی وبا اپنے عروج پر پہنچے گی تو امریکہ وینٹی لیٹرز کے اعتبار سے ’بہتر حالت میں‘ آ چکا ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ کم از کم 10 امریکی کمپنیاں طبی آلات بنا رہی ہیں جن میں سے کچھ آلات کو شاید برآمد بھی کرنا پڑے۔

    کورونا وائرس کی وجہ سے سانس لینے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں کیونکہ یہ پھیپھڑوں پر حملہ کرتا ہے۔ وینٹی لیٹر کی مدد سے لوگ قدرے آسانی سے سانس لے پاتے ہیں۔

    امریکہ میں اس وقت کورونا وائرس کے ایک لاکھ 63 ہزار مصدقہ متاثرین ہیں اور تین ہزار ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

    نیویارک امریکہ میں سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہے جہاں 914 ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔

    گذشتہ ہفتے امریکہ میں متاثرین کی تعداد تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے اس نے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں اٹلی اور چین کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔

  4. ہر گھنٹے بعد قرنطینہ سے ایک سیلفی بھیجنا لازم!

    جی، آپ نے صحیح پڑھا۔ انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک میں خود ساختہ قرنطینہ میں موجود افراد کے لیے لازم قرار دے دیا گیا ہے کہ وہ حکام کو ہر گھنٹے بعد ایک سیلفی بھیجیں۔

    ایسے لوگ جو اس اصول کی پاسداری نہیں کریں گے انھیں زیادہ لوگوں والے بڑے قرنطینہ مراکز میں بھیج دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ان بڑے مراکز کے بارے میں تاحال زیادہ اچھی باتیں سامنے نہیں آئی ہیں۔

    حکام ایسے لوگوں کی نشاندہی کر چکے ہیں جنھیں خود ساختہ قرنطینہ میں رہنے کا کہا گیا ہے تاکہ وہ یاد رکھیں کہ وہ باہر نہیں نکل سکتے۔ لیکن یہ طریقہ زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہوا اس لیے نگرانی کا یہ نیا اصول بنایا گیا ہے۔

    ان افراد کو اپنی سیلفیز موبائل کے ذریعے ایک خاص نگرانی کی ایپ سے لینا ہوگی اور انھیں ہر گھنٹے بعد سیلفی بھیجنا ہوگا، سوائے رات 10 بجے سے صبح 7 بجے کے درمیان کیونکہ اسے سونے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان سیلفیز کا جائزہ لیں گے اور متاثرین کے گھروں کا بھی دورہ کریں گے۔

    یہ طریقہ کرناٹک نے ایجاد نہیں کیا۔ سنگاپور ایسے ہی اقدام کافی عرصے سے کر رہا ہے۔ جنوبی کوریا میں غیر ملکی افراد کے لیے لازم ہے کہ وہ ایسی ایک ایپ استعمال کریں۔

  5. انڈیا میں سٹیڈیم قرنطینہ مرکز میں تبدیل

    انڈیا میں کورونا وائرس کے نئے مریضوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور اس کے پیش نظر دارالحکومت نئی دہلی میں 60 ہزار سیٹوں پر مشتمل کھیلوں کا سٹیڈیم ایک قرنطینہ مرکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

    جواہر لعل نہرو سٹیڈیم انڈیا میں وہ پہلی کھیلوں کی جگہ نہیں جسے قرنطینہ مرکز بنایا گیا ہے۔ شمالی ریاست ہریانہ میں ایک باکسنگ سینٹر اور پنجاب میں ٹریننگ گراؤنڈ کو مریضوں کی مدد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    انڈیا میں صحت کے کمزور نظام سے متعلق یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آیا کورونا وائرس جیسی وبا پر اس کی محدود سہولیات سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ ملک میں ہر 10 ہزار لوگوں کے لیے آٹھ ڈاکٹر ہیں۔ یہ اعداد و شمار اٹلی میں 41 اور جنوبی کوریا میں 71 ہے۔

    انڈیا میں آبادی کے مقابلے آئسولیشن کے بستر، تربیت یافتہ نرسنگ کا عملہ، وینٹی لیٹرز اور انتہائی نگہداشت کے یونٹس کی بھی کمی ہے۔

    تو اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ حکام ان سہولیات کی کمی کے لیے دوسری جگہوں کا انتخاب کر رہے ہیں تاکہ ملک بھر میں طبی امداد میں تیزی لائی جا سکے۔

  6. سیاحتی مقامات سے متعلق آسٹریلیا کی تنبیہ, جے سیوج، بی بی سی

    آسٹریلیا میں کئی ایسے لوگ کورونا وائرس کے متاثرین ہیں جن کا تعلق خوشحال رہائشی علاقوں سے ہے، یا ایسی جگہیں جہاں سیاح جانا پسند کرتے ہیں۔

    مثلاً سٹدنی میں باؤنڈی بیچ یا ساحل سمندر سے متعلق کہا گیا کہ ابتدائی متاثرین وہاں جا چکے تھے۔ اس مقام پر کافی لوگ جمع ہوتے ہیں اور 10 دن قبل یہاں لوگوں نے عوامی اجتماعات سے متعلق حکومتی ہدایات کی بھی خلاف ورزی کی تھی۔

    لیکن ایسے میں کسی ایک گروہ پر الزام عائد نہیں کیا گیا تھا۔

    صحت کے حکام نے سیاحوں کو متنبہ کیا ہے اور حکم جاری کیا ہے کہ ایسے علاقوں میں ٹیسٹنگ بڑھائی جائے اور عارضی کلینک قائم کیے جائیں۔

    نیو ساؤتھ ویلز کے میڈیکل افسر کا کہنا ہے کہ یہ ہو سکتا ہے کہ لوگ کسی سیاح سے رابطے کی وجہ سے وائرس سے متاثر ہوئے ہوں اور اس وقت اس سیاح کو بھی نہ معلوم ہو کہ اس میں کووڈ 19 کا انفیکشن موجود ہے۔

    انھوں نے ایسے مقامات میں ٹیسٹنگ بڑھانے پر زور دیا ہے۔

  7. کورونا کے خلاف جنگ میں جان دینے والے ڈاکٹرز کی کہانی

  8. بریکنگ, جنوبی کوریا میں قرنطینہ سے باہر نکلنے پر جیل بھی ہوسکتی ہے

    جنوبی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران قرنطینہ سے بلا ضرورت باہر نکلنے پر قید بھی ہوسکتی ہے۔

    ملک میں قرنطینہ کے نئے قوانین کے مطابق باہر نکلنے والوں کو ایک سال قید یا 8200 ڈالر جرمانہ ہو سکتا ہے۔

    ان قوانین کا اطلاق 5 اپریل سے ہوگا۔

  9. چین پاکستان میں عارضی ہسپتال قائم کرے گا

    جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال:

    چین عارضی طور پر پاکستان میں ایک فیلڈ ہسپتال قائم کرے گا تاکہ اس ملک کی مدد کی جا سکے جہاں 1700 سے زیادہ مصدقہ متاثرین اور 20 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چین کی طرف سے فراہم کردہ طبی سامان اور ڈاکٹروں کی تکنیکی معاونت کو سراہا ہے۔

    • نیپال میں حکام نے ان 1200 غیر ملکی سیاحوں کے بچاؤ کے لیے اقدامات کیے ہیں جو ملک میں ایک ہفتے سے جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے پھنس گئے تھے۔
    • سری لنکا میں متاثرین کی تعداد 120 سے بڑھ گئی ہے اور پہلی ہلاکت بھی سامنے آئی ہے۔ 65 سالہ ذیابیطس کا مریض کووڈ 19 سے ہلاک ہوا۔
    • بنگلہ دیش میں کپڑے بنانے کی صنعت معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ صنعت کاروں کا دعویٰ ہے کہ وائرس کے بعد ان کے تین ارب کے آرڈرز کو نقصان پہنچا ہے۔ ملک میں کورونا وائرس کے 48 مصدقہ متاثرین ہیں جبکہ پانچ اموات پیش آئی ہیں۔
  10. یورپ کی تازہ صورتحال

    چین کے بعد یورپ اور پھر امریکہ کورونا وائرس کا مرکز بن گیا لیکن یورپ میں اب بھی اس عالمی وبا کی وجہ سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    اٹلی میں 11591 ہلاکتیں ہوگئی ہیں لیکن ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ نئی متاثرین کی شرح میں کمی آئی ہے، 5.4 فیصد سے اب یہ 2.2 فیصد ہوگئی ہے۔

    ملک میں اب بھی ایک لاکھ 739 متاثرین ہیں۔

    سپین میں چین سے زیادہ 87956 متاثرین ہوگئے ہیں۔ اٹلی کے بعد سپین میں ہلاکتیں سب سے زیادہ 7716 ہیں۔ حکومت نے کہا ہے کہ نئی متاثرین میں کمی آ رہی ہے۔

    برطانیہ میں کل متاثرین 22454 ہیں جن میں سے 1411 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ لوگ سماجی دوری اخیار کر رہے ہیں جس سے ابتدائی علامات ملی ہیں کہ اس سے فائدہ ہو رہا ہے۔

  11. کرسی سلامت رہے!

  12. بریکنگ, انڈیا: ایک دن میں مریضوں کی تعداد میں سب سے بڑا اضافہ

    کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے انڈیا میں لاک ڈاؤن نافذ ہے لیکن اب مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کووڈ 19 کے متاثرین کی تعداد میں ایک دن کے دوران سب سے بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق وزارت صحت نے کہا ہے کہ گذشتہ روز 227 لوگوں میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    اس سے انڈیا میں کل متاثرین کی تعداد 1200 سے زیادہ ہوگئی ہے۔

  13. ’دو کروڑ 40 لاکھ لوگ غربت سے نہیں نکل پائیں گے‘

    ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے مشرقی ایشیا اور بحرالکاہِل کے کئی ممالک میں اب دو کروڑ 40 لاکھ لوگ غربت سے نجات حاصل نہیں کر پائیں گے۔

    ادارے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ لگتا ہے کہ تمام ممالک کو ہونے والا معاشی نقصان ٹالا نہیں جا سکتا۔ ورلڈ بینک نے متنبہ کیا ہے کہ ایسے گھرانے زیادہ خطرے میں ہیں جن کی آمدن ایسی صنعتوں پر منحصر ہے جو وائرس کی وبا سے زیادہ متاثر ہوں گی۔

    ان میں تھائی لینڈ میں سیاحت اور ویتنام اور کمبوڈیا جیسے ممالک میں پیداوار کے شعبے شامل ہیں۔

    بینک نے کہا ہے کہ اگر بدترین حالات پیش آتے ہیں تو تقریباً تین کروڑ 50 لاکھ افراد غربت میں رہیں گے۔ ان میں دو کروڑ 50 لاکھ صرف چین میں ہوں گے۔

    غربت کی تعریف یہاں یہ بیان کی گئی ہے کہ جو فرد ایک دن میں 5.5 ڈالر یا اس سے کم آمدن کماتا ہے تو وہ غربت کی لکیر سے نیچے شمار ہوتا ہے۔

    ادارے نے عالمی پیداوار میں کمی کی بھی پیش گوئی کی ہے اور تمام ممالک کو صحت کے نظام پر زیادہ توجہ دینے پر زور دیا ہے۔

  14. جاپان نے بھی غیر ملکیوں کے لیے سرحدیں بند کر دیں

    جاپان نے کہا ہے کہ وہ کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات میں امریکہ، چین، جنوبی کوریا اور برطانیہ سمیت یورپ کے کئی ممالک سے آنے والوں پر پابندی عائد کر رہا ہے۔

    جاپانی وزیر ِخارجہ نے کہا ہے کہ فی الحال 73 ممالک کے شہریوں کی آمد پر پابندی لگائی گئی ہے۔

    ملک مں اب تک کووڈ 19 کے 1953 مصدقہ متاثرین موجود ہیں جبکہ 56 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

  15. کورونا وائرس: ٹیلی کلینک آپ کے لیے کیسے مددگار؟

  16. ’وینٹی لیٹرز کی سپلائی کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگلے دو ہفتوں میں جب کورونا وائرس کی وبا اپنی اونچی سطح پر ہوگی امریکہ اپنی ریاستوں کو وینٹی لیٹرز کی سپلائی اور دیگر طبی آلات پہنچانے کے لیے اچھی پوزیشن میں ہوگا۔

    وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران انھوں نے بتایا کہ اس وقت دس کمپنیاں وینٹی لیٹر بنا رہی ہیں۔

    گذشتہ روز صدر ٹرمپ نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ کچھ ریاستوں کے گورنر طبی آلات کی ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں۔

  17. پانچ منٹ میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ لاکھوں افراد کا کورونا وائرس کی تشخیص کا ٹیسٹ کیا گیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے ایبٹ لیب کے اس نئے ٹیسٹ کی کٹ کے باکس کو کھولا۔

    یہ پانچ منٹ میں کیا جاتا ہے اور جو اعلیٰ سطح تک درست نتائج لاتا ہے۔ کے لیے کٹ کو کھولا۔

  18. ائیر کینیڈا نے ہزاروں ورکرز کو برطرف کر دیا

    کینیڈا کی سب سے بڑی ائیر سروس، ائیر کینیڈا نے عارضی طور پر 15000 ورکرز کو برطرف کر دیا ہے۔

    پریس رپورٹ کے مطابق ائیر لائن کی جانب سے پہلے ہی اعلان کیا جا چکا تھا کہ وہ پانچ ہزار ایک سو پچاس فلائٹ اٹینڈینٹس کو برطرف کرے گی اور چار ہزار چار سو پائلٹس میں سے 600 کو تنخواہ کے بغیر چھٹی پر بھجوائے گی۔

  19. پرنس چارلس کی سیلف آئسولیشن ختم

    پرنس چارلس سیلف آئسولیشن سے نکل آئے ہیں۔ 71 سالہ پرنس چارلس کا ٹیسٹ اس سے قبل مثبت آیا تھا اور وہ سکاٹ لینڈ میں تنہائی میں چلے گئے تھے۔

  20. اٹلی: لاک ڈاؤن میں 12 اپریل تک توسیع

    اٹلی کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن میں کم ازکم 12 اپریل تک توسیع کر دی گئی ہے۔

    حکومت کا یہ اعلان ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 11591 سے بڑھنے کے بعد کیا گیا ہے۔

    ٹلی وہ پہلا ملک ہے جس نے تین ہفتے پہلے لاک ڈان کا آغاز کیا تھا۔