جی، آپ نے صحیح پڑھا۔ انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک میں خود ساختہ قرنطینہ میں موجود افراد کے لیے لازم قرار دے دیا گیا ہے کہ وہ حکام کو ہر گھنٹے بعد ایک سیلفی بھیجیں۔
ایسے لوگ جو اس اصول کی پاسداری نہیں کریں گے انھیں زیادہ لوگوں والے بڑے قرنطینہ مراکز میں بھیج دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ان بڑے مراکز کے بارے میں تاحال زیادہ اچھی باتیں سامنے نہیں آئی ہیں۔
حکام ایسے لوگوں کی نشاندہی کر چکے ہیں جنھیں خود ساختہ قرنطینہ میں رہنے کا کہا گیا ہے تاکہ وہ یاد رکھیں کہ وہ باہر نہیں نکل سکتے۔ لیکن یہ طریقہ زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہوا اس لیے نگرانی کا یہ نیا اصول بنایا گیا ہے۔
ان افراد کو اپنی سیلفیز موبائل کے ذریعے ایک خاص نگرانی کی ایپ سے لینا ہوگی اور انھیں ہر گھنٹے بعد سیلفی بھیجنا ہوگا، سوائے رات 10 بجے سے صبح 7 بجے کے درمیان کیونکہ اسے سونے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان سیلفیز کا جائزہ لیں گے اور متاثرین کے گھروں کا بھی دورہ کریں گے۔
یہ طریقہ کرناٹک نے ایجاد نہیں کیا۔ سنگاپور ایسے ہی اقدام کافی عرصے سے کر رہا ہے۔ جنوبی کوریا میں غیر ملکی افراد کے لیے لازم ہے کہ وہ ایسی ایک ایپ استعمال کریں۔