پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ میں کورونا وائرس
سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 17 ہوگئی ہے اور ان میں سے دو کیسز ہفتے کے روز سامنے آئے ہیں۔
سندھ سیکریٹری صحت زاہد عباسی کے مطابق ایک مریض سعودی عرب سے کراچی آئے تھے جبکہ دوسرے مریض کے والد حال ہی میں برطانیہ سے آئے تھے یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ نے والد کا بھی
سیمپل لینے کی ہدایت کی ہے۔
اس سے قبل، وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ وہ کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے مستقل طور پر کوشش کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اسی وجہ سے میں پورے سندھ میں ہر طرح کے سماجی،
سیاسی اور مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد کر رہا ہوں۔
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کے لیب ٹیسٹ کے لیے 26
نمونے بھیجے گئے ہیں اور ان کے نتائج آنا باقی ہیں۔
حکومت سندھ کے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن نے صوبائی
کابینہ کے فیصلوں کا نوٹیفیکشن جاری کردیا ہے، جس کے تحت صوبے کے تمام نجی اور سرکاری
تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند رہیں گے جبکہ امتحانات کو ری شیڈیول کیا جائے گا۔
حکم نامے کے مطابق صوبے کے تمام ہی اقسام کے شادی ہال، سینما گھر تین ہفتوں کے لیے بند کر دیے گئے ہیں جبکہ تمام سماجی، مذہبی،
اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
اسی طرح مزارات بھی آئندہ تین ہفتوں کے لیے زائرین
کے لیے بند ہوں گے جبکہ رسموں کی ادائیگی، دھمال اور شاہ لطیف کے مزار پر
گائیکی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
تمام ہسپتالوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ تیمارداروں کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ملاقات کا وقت کم سے کم کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ سطح پر خاندانوں کا ڈیٹا لینا شروع کریں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں لوگوں کو ان کی خوراک، ادویات اور دیگر متعلقہ سامان اور مدد مہیا کی جا سکے۔
ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سینما گھروں، شادی ہالوں، لانز، مزاروں اور عرس پروگرام کو بند کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم کلبوں میں شادی کے پروگرام کی اجازت نہیں دے سکتے مگرلوگ شادی کی تقریبات کو اپنے گھروں تک محدود رکھ سکتے ہیں۔‘
ویڈیو لنک کے ذریعے کمشنر سکھر نے اجلاس کو بتایا کہ سات بسوں میں 293 زائرین سکھر پہنچ گئے ہیں اور ان سب کو آئیسولیشن سینٹر لے جایا گیا ہے، جہاں ان کا میڈیکل چیک اپ اور دیگر ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کمشنر سکھر کو تمام 293 زائرین کے نمونے جمع کر کے انھیں ٹیسٹ کے لیے کراچی بھیجنے کی ہدایت کی۔
انھوں نے مزید کہا کہ سکھر میں ٹیسٹنگ کی کوئی سہولت موجود نہیں لہٰذا انھوں نے اپنا ہیلی کاپٹر سکھر روانہ کیا تاکہ تفتان سے آئے ہوئے 293 زائرین کے نمونے ہیلی کاپٹر کے ذریعے لائے جا سکیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر سکھر کو مزید ہدایت کی کہ وہ تمام زائرین کا ڈیٹا تیار کریں تاکہ آئندہ کی حکمت عملی کے لیے ان کے گھر کے پتے کا اندراج ہونا چاہیے۔
’آئیسولیشن مرکز میں زائرین کے کمروں میں ٹی وی سیٹس لگائیں تاکہ وہ تنہائی محسوس نہ کریں اور انھیں ایسا لگے کہ ان کی مناسب دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔
مراد علی شاہ نے کمشنر کو بتایا کہ 648 زائرین کا ایک اور قافلہ تفتان سے سکھر آنے کے لیے تیار ہے، لہٰذا ان کے رہائش کے انتظامات اسی مناسبت سے کیے جائیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ورلڈ بینک نے اپنے 10 ملین ڈالر کے فنڈ کو سندھ ریزلینس پروجیکٹ کو کورونا وائرس سپورٹ پروگرام میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا ہے جو حکومت سندھ کے ذریعہ شروع کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے چیف سکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ و ینٹیلیٹر، آکسیجن سلنڈرز، بیڈ اور دیگر آلات کی خریداری کے لیے رقم استعمال کریں۔
سکریٹری صحت زاہد عباسی نے وزیر اعلیٰ سندھ کو بتایا کہ جمعہ کی شام تک 3300 مسافر جناح ٹرمینل پہنچے، ان میں سے سات کو مشتبہ سمجھا گیا تھا اور انھیں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور ان کے نمونے لیے گئے ہیں۔