پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی پمز کی آل ایمپلائرز ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر اسفند یار نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سٹاف کو کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کٹ فراہم کریں۔
اُنھوں نے کہا کہ جنگ بغیر اسلحے کے نہیں لڑی جاتی بلکہ یہ خودکشی تصور ہوتی ہے۔
ڈاکٹر اسفندیار کا کہنا تھا کہ حکومت ابھی تک ماسک تک فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور پورے پاکستان میں ڈاکٹر رو رہے ہیں لیکن میڈیا کو ’سب اچھا ہے‘ کی رپورٹ دی جا رہی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ پمز میں روزانہ 10 ہزار مریض آتے ہیں ’اگر ایک بھی مریض کا نتیجہ مثبت آیا تو پورے ہجوم کو متاثر کر دے گا۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ’ہمیں او پی ڈی بند کرنے کا شوق نہیں لیکن حکومت ہمیں ماسک تو فراہم کرے۔۔۔ ہمیں تنخواہ بھی نہیں چاہیے، صرف کِٹ فراہم کی جائیں اور یہ کام 23 مارچ تک کیا جائے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو وہ او پی ڈی بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
ڈاکٹر اسفندیار نے مزید مطالبہ کیا کہ آئسولیشن وارڈز ہسپتالوں کے باہر بنائے جائیں۔