کورونا وائرس سے یورپ میں ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اٹلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں اب تک سب سے زیادہ 475 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
روس نے اپنی پہلی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
بیلجیئم میں سات جبکہ ڈنمارک میں دو نئی ہلاکتوں کے بعد ملک میں کل تعداد چھ ہوگئی ہے۔
خدشہ ہے کہ اٹلی میں متاثرین کی تعداد چین سے بڑھ جائے گی۔
چین میں اب تک اس عالمی وبا کے 81139 جبکہ اٹلی میں 35713 کیسز سامنے آچکے ہیں۔
اٹلی میں کورونا وائرس سے 2900 سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں جبکہ چین میں 3249 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
اٹلی اور فرانس میں حکام نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کئی لوگ لاک ڈاؤن کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
اٹلی کے وزیرِ اعظم جیوزیپی کونٹے نے لوگوں سے اس کے خلاف اپیل کی ہے جبکہ اٹلی کے ایک دوسرے وزیر نے ’عمارتوں سے باہر سرگرمیوں پر مکمل پابندی‘ کا مشورہ دیا ہے۔
فرانس کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ’کچھ لوگ اصول توڑ کر خود کو جدید دور کا ہیرو سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ احمق ہوتے ہیں جو خود کے لیے بھی خطرے کا باعث ہیں۔‘
اٹلی کے وزیرِ اعظم جیوزیپی کونٹے نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لاک ڈاؤن میں 3 اپریل تک توسیع کی گئی ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ فوراً پہلے جیسے حالات حاصل کر لینا ممکن نہیں۔
شمالی اٹلی کورونا وائرس سے خاص طور پر متاثر ہے۔ یہاں ڈاکٹروں کو ایسے فیصلے بھی کرنے پڑ رہے ہیں کہ کس مریض کو آئی سی یو میں رکھا جائے۔
سپین کے بادشاہ نے بدھ کو قوم سے خطاب میں کہا کہ ’وائرس ہمیں شکست نہیں دے سکے گا بلکہ یہ ہمیں ایک مضبوط سماج میں تبدیل کر دے گا۔‘
سپین کے رہائشی کیئر ہومز میں کم از کم 79 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔