اٹلی کے شہریوں کے لیے ہر نیا دن ایک نئی جدوجہد کا پیغام لے کر آ رہا ہے۔ اٹلی ایک ایسا ملک بن چکا ہے جو ہر گذرتے دن کے ساتھ اپنے ایک چھوٹے گاؤں کی آبادی کے برابر اپنے شہریوں کو کھو رہا ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اٹلی کے علاقے لومبارڈی میں 541 افراد وبا کے ہاتھوں اپنی جان گنوا بیٹھے۔ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں دہشت زدہ کر دینے والی ہیں۔
فی الحال امید کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی ہے۔
اٹلی گذشتہ دو ہفتوں سے مکمل لاک ڈاؤن کی زد میں ہے اور اس دوران بہتری کی جانب ہونے والی پیش رفت بہت سست اور ناہموار ہے۔ خوفزدہ کر دینے والی خبریں لگاتار سامنے آ رہی ہیں۔ جب سے اٹلی میں یہ وبا پھیلی ہے اس وقت سے اب تک 46 ایسے ڈاکٹرز ہلاک ہو چکے ہیں جو وبا کا شکار افراد کا علاج کر رہے تھے۔
اٹلی کی قومی صحت کونسل کا کہنا ہے کہ ایک بات واضح ہے کہ وبا پر قابو پانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو شاید ممکنہ طور پر آئندہ کئی مہینوں کے لیے طول دینا پڑے۔
اٹلی کی معیشت کورونا کے باعث زبوں حال ہے اور اس طرح کی خبر نہ صرف اٹلی بلکہ دنیا بھر میں مزید اضطراب کو جنم دے گی۔
دنیا کے لیے یوں کہ اٹلی میں حکام کی جانب سے لاگو کردہ شہری پابندیوں کو دنیا کے بہت سے ممالک ایک ماڈل کے طور دیکھتے اور پیروی کرتے ہیں۔
وبا کے پھیلاؤ، اس کے اثرات اور لاک ڈاؤن میں اٹلی باقی یورپ سے ایک یا دو ہفتے آگے ہیں۔ چنانچہ یہاں جو کچھ بھی ہو گا یورپی ممالک اس پر گہری نظر رکھیں گے۔