عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے حوالے سے تائیوان کے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور تائیوان کی جانب سے وائرس کے خلاف کیے جانے والے اقدامات سے سبق بھی سیکھ رہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب تائیوان نے اعتراض اٹھایا ہے کہ ادارے کی جانب سے انھیں جان بوجھ کر نظر انداز کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ تائیوان عالمی ادارہ صحت کا رکن نہیں ہے کیونکہ چین نے اس کی رکنیت پر اعتراضات اٹھا رکھے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ تائیوان دراصل چین کا حصہ ہے۔
تائیوان کی حکومت نے بارہا کہا ہے کہ اسے عالمی ادارہ صحت سے علیحدہ رکھنا تائیوان کی عوام کی زندگیوں کے ساتھ سیاست کھیلنے کے مترادف ہے۔ تاہم عالمی ادارہ صحت اور چین کا کہنا ہے کہ تائیوان کو ضرورت کے تحت امداد دی جا چکی ہے۔
گذشتہ ہفتے تائیوان نے عالمی ادارہ صحت پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے آغاز میں ان کے سوالات نظر انداز کرنے کا الزام لگایا تھا۔ تائیوان کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے اسے عالمی اداروں سے باہر رکھنے کے بعد یہی ہوتا ہے۔
تائیوان نے اب تک کورونا وائرس کے صرف 298 کیسز رپورٹ کیے ہیں جن میں سے اکثر غیر ملکی ہیں اور صحت کے ماہرین نے تائیوان کے اس حوالے سے تیز ردِ عمل اور دیگر اقدامات کی تعریف کی ہے۔
اتوار کے روز تائیوان کے وزیر خارجہ جوزف وو نے ٹویٹ میں عالمی ادارہ صحت پر تنقید کی۔ اس ٹویٹ کا پسِ منظر عالمی ادارہ صحت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل بروس ایلوارڈ کا ایک رپورٹر کو تائیوان سے متعلق سوال کا جواب نہ دینا تھا۔
انھوں نے لکھا کہ ’بہت خوب، کیا عالمی ادارہ صحت میں تائیوان کا نام بھی نہیں لے سکتے؟ ہمیں ایک عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے سیاست کو پسِ پشت ڈالنا ہو گا۔‘
عالمی ادارہ صحت نے خبر رساں ادارہ روئٹرز کو ایک ای میل کے ذریعے دیے گئے جواب میں کہا کہ تائیوان کی رکنیت عالمی ادارہ صحت کے رکن ممالک کے ہاتھ میں ہے ان کے سٹاف کے ہاتھ میں نہیں۔