چین میں کورونا وایرس کے مرکز ووہان کے شہریوں کو دو ماہ لاک ڈاؤن میں رہنے کے بعد بلآخر امید کی کرن نظر آئی ہے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ ایک کروڑ 10 لاکھ افراد پر سے سفری پابندیاں آٹھ اپریل کو ہٹا دی جائیں گی۔
زندگی پھر سے معمول کی طرف جا رہی ہے۔ سکول ابھی تک بند ہیں لیکن پبلک ٹرانسپورٹ بحال ہو گئی ہے اور شہری ماسک پہن کر پارکوں میں جا رہے ہیں۔
ووہان کے 53 سالہ رہائشی لی کہتے ہیں ’میں خوشی محسوس کر رہا ہوں کیونکہ ہم نے کم از کم 60 روز تک گھومنے پھرنے کی آزادی کھو دی تھی۔‘
تعمیرات کے کام سے وابستہ لی دوبارہ کام شروع کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ تعمیراتی کاموں کو روک دیا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ بچائے ہوئے پیسے ہوئے خرچ کر کے گزارہ کر رہے تھے۔ اب وہ اپنے عزیز و اقارب سے بھی ملنے کے خواہاں ہیں۔
لیکن ووہان کے رہائشی جشن کے موڈ میں نہیں ہیں۔
وائرس کے نتیجے میں کئی اموات ہوئیں مگر ان کی صحیح تعداد اب تک نہیں پتا۔ لی کے مطابق ووہان اور دنیا اب بھی درد سے گزر رہی ہے۔
کچھ لوگ پریشان ہیں کہ ووہان کے لوگوں کو طرح طرح کی باتیں سننی پڑیں گی۔ نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک وکیل نے بتایا ’یہاں کے لوگوں کو ہمارے ملک میں ہی تعصب کا سامنا ہے۔ لیکن لوگوں اور شہر کا کیا قصور ہے؟‘
ایک اور رہائشی شیو لونگ پریشان ہیں کہ پابندیاں ختم ہونے کے بعد شہری دوبارہ سے وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’ہم محتاط رہیں گے۔ میرا خیال ہے کہ ووہان کے لوگ وائرس سے لمبی جنگ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔‘