آسٹریلیا کی افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی کرکٹ نہ کھیلنے کی تنبیہ
آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ اگر طالبان کی حکومت نے خواتین کو اس کھیل سے دور رکھا تو وہ ایک طے شدہ ٹیسٹ میچ کے لیے افغانستان کی میزبانی نہیں کریں گے۔ ادھر سعودی وزیر خارجہ نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ عبوری حکومت کے قیام سے افغانستان میں استحکام لایا جاسکے گا۔
لائیو کوریج
امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر طالبان کے حوالے کرنے والے پائلٹ کا شاندار استقبال اور انعامات کی برسات
،تصویر کا ذریعہSocial Media
آپ کو افغان پائلٹ، ادریس مہمند تو یاد ہوں گے جن کی تصویر چند دن قبل سوشل میڈیا پر وائرل تھیں؟
اب طالبان سوشل میڈیا سے ایسی ویڈیوز شئیر کی جا رہی ہیں جن میں کئی طالبان اراکین ادریس کو ہار پہنا کر گلے لگا رہے ہیں۔
ان اکاؤنٹس کے مطابق ’امارت اسلامی کے حکام نے بلیک ہاک طیارہ محفوظ مقام پر لے جانے کے بعد واپس لانے پر پائلٹ ادریس مہمند کا استقبال کیا اور ملکی املاک کی حفاظت پر ادریس مہمند کو انعامات سے نوازا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
افغانستان کے جغرافیے میں چھپا وہ راز جو اسے ’سلطنتوں کا قبرستان‘ بناتا ہے
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
19 ویں صدی میں برطانوی سلطنت، جو اس وقت دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی، اس نے اپنی پوری طاقت سے اسے فتح کرنے کی کوشش کی۔ لیکن سنہ 1919 میں برطانیہ کو بالآخر افغانستان چھوڑ کر جانا پڑا اور افغانوں کو آزادی دینی پڑی۔
اس کے بعد سوویت یونین نے سنہ 1979 میں افغانستان پر حملہ کیا۔ اس کا ارادہ یہ تھا کہ سنہ 1978 میں بغاوت کے ذریعے قائم کی گئی کمیونسٹ حکومت کو گرنے سے بچایا جائے۔ لیکن انھیں یہ سمجھنے میں دس سال لگے کہ وہ یہ جنگ نہیں جیت پائیں گے۔
برطانوی سلطنت اور سوویت یونین کے درمیان ایک قدر مشترک ہے۔ جب دونوں سلطنتوں نے افغانستان پر حملہ کیا تو وہ اپنی طاقت کے عروج پر تھے۔ لیکن اس حملے کے ساتھ آہستہ آہستہ دونوں سلطنتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگیں۔
سنہ 2001 میں امریکی قیادت میں افغانستان پر حملہ ہوا اور کئی سالوں تک جاری رہنے والی جنگ میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے 20 سال بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے اپنی فوج کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ ایک متنازعہ فیصلہ تھا جس پر پوری دنیا میں شدید تنقید کی گئی۔ اس ایک فیصلے کی وجہ سے طالبان نے افغان دارالحکومت کابل پر انتہائی تیزی سے قبضہ کر لیا ہے۔
بائیڈن نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکی شہریوں کو 'ایسی جنگ میں نہیں مرنا چاہیے جسے افغان خود لڑنے کے لیے تیار نہ ہوں۔'
بائیڈن نے افغانستان کی 'سلطنتوں کے قبرستان' کے طور شہرت کو یاد کرتے ہوئے کہا: ' چاہے کتنی ہی فوجی قوت کیوں نہ لگا لیں ایک مستحکم، متحد اور محفوظ افغانستان کا حصول ممکن نہیں ہے۔'
افغانستان میں آخر ایسی کیا بات ہے کہ اسے پوری دنیا 'سلطنتوں کے قبرستان' کے نام سے جانتی ہے؟ آخر امریکہ، برطانیہ، سوویت یونین سمیت دنیا کی تمام بڑی طاقتیں اسے جیتنے کی کوشش میں کیوں ناکام ہوئیں؟
جب ویڈیو گیم میں لڑائی کو افغانستان میں پاکستانی فوج کی کارروائی قرار دیا گیا
طالبان کے زیرِ کنٹرول ہرات میں زندگی اب کیسی ہے؟
ہرات آبادی کے لحاظ سے افغانستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ بی بی سی نے ہرات کے شہریوں سے پوچھا کہ طالبان کے زیرِ کنٹرول اس شہر میں اب زندگی کیسی ہے؟
کابل کی دیواروں پر مٹتی تصاویر اور نوجوانوں کے ’ٹوٹتے خواب‘
سنہ 1990 کی دہائی میں جب افغانستان میں طالبان کی پہلی حکومت بنی تھی تو فن کو ’تخریب کاری‘ قرار دیا گیا تھا، سوائے مذہبی نغموں کے، موسیقی پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ کتابیں اور ثقافتی نوادرات، بامیان کے کھڑے بدھوں کی طرح، تباہ کردیے گئے تھے۔ اور ہر قسم کے فنکارانہ اظہار پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
پچھلے مہینے طالبان کے اقتدار میں دوبارہ سے آنے کے بعد سے تاریخ اپنے آپ کو دہراتی دکھائی دے رہی ہے۔
براہ راست موسیقی کے پروگرام پیش کرنے کو ایک بار پھر غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے، اور انہی طالبان نے میورلز کے آرٹ کو جو کبھی کابل کی سڑکوں پر افغان زندگی کی بہترین عکاسی کرتے تھے، ان کے بارے حکم دیا ہے کہ اُنھیں وائٹ واش کر دیا جائے۔
کابل میں دولتِ اسلامیہ کے ’ہمدرد‘ سمجھے جانے والے مذہبی رہنما کے قتل کے محرکات کیا ہیں؟
وہ افغان جو ملک چھوڑ نہ سکے طالبان کے سائے میں ان کی زندگی کیسی ہے؟
کابل میں افغان خواتین اور نوجوانوں کا احتجاج: پاکستان مخالف نعرے بازی، طالبان کی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ
،تصویر کا ذریعہ@TOLOnews
،تصویر کا کیپشنمظاہرے میں شامل خواتین نے ایک بینر اٹھا رکھا ہے جس پر لکھا ہے ’پاکستان پاکستان بیرون شو افغانستان (پاکستان پاکستان افغانستان سے نکلو)‘
کابل سے بی بی سی کے مدثر ملک کے مطابق، دارالحکومت کی سڑکوں پر اس وقت ایک احتجاجی مارچ جاری ہے جس میں افغان خواتین اور نوجوان اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان مخالف نعرے بازی بھی کر رہے ہیں۔
احتجاج میں شامل افراد ’اللہ اکبر، ہم ایک آزاد ملک چاہتے ہیں، ہمیں پاکستان کی کٹھ پتلی حکومت نہیں چاہیے، پاکستان افغانستان سے نکلو‘ جیسے نعرے لگا رہے ہیں۔
یہ مظاہرین صدارتی محل کی جانب جانے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم طالبان جنگجو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کر رہے ہیں۔
طلوع نیوز کے ڈائریکٹر لطف اللہ نجفی زادہ نے ٹویٹ کی کہ میڈیا کے کیمرے ضبط کر لیے گئے ہیں، صحافیوں کو فلم نہ بنانے کے لیے کہا جا رہا ہے اور کچھ کو روکا جا رہا ہے۔ لیکن مظاہرین نے بندوق کی نوک پر کابل میں مارچ جاری رکھا۔
وہ پوچھتے ہیں کہ ’احتجاج کرنے کی آزادی اور احتجاج کے بارے میں خبر دینے کی آزادی کہاں ہے؟‘
سوشل میڈیا پر مظاہرے میں شامل چند صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ طالبان نے انھیں روکنے کے لیے مارا پیٹا اور ان کے کیمرے توڑ دیے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
گذشتہ رات کابل سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں بھی کئی افراد کو ’قومی مزاحمتی محاذ زندہ باد‘ اور پاکستان مخالف نعرے لگاتے سنا جا سکتا ہے۔
گذشتہ روز احمد مسعود نے ایک آڈیو پیغام میں افغان عوام سے کہا تھا کہ وہ پورے افغانستان میں طالبان کے خلاف ملگ گیر قومی بغاوت شروع کریں۔
مسعود نے کابل اور مزار شریف میں خواتین کے احتجاج کو اس مزاحمت کی مثالیں قرار دیا تھا۔ انھوں نے افغانستان کے باہر طالبان کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی بھی تعریف کی تھی۔
کابل میں حالیہ دنوں میں کئی احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔ کچھ افراد نے افغانستان کے پرچم کو اتارنے کے خلاف احتجاج کیا اور حالیہ دنوں میں خواتین نے بھی مختلف شہروں میں اپنے حقوق کے لیے مظاہرے کیے ہیں۔
گذشتہ روز صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزار شریف میں خواتین کے ایک گروپ نے اپنے حقوق اور آزادی کا مطالبہ کرنے کے لیے ریلی نکالی تھی
مظاہرین نے بلخ کی صوبائی انتظامیہ کی عمارت کے سامنے مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ طالبان اپنی حکومت میں افغان خواتین کے حقوق کا تحفظ کریں۔
ریلی کے شرکا میں سے ایک نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ اگرچہ مارچ پرامن تھا، طالبان کے ارکان نے انھیں اور صحافیوں کو مارنے کی دھمکیاں دیں۔
،تصویر کا ذریعہTOLOnews
ڈالر کے مقابلے میں افغانی کرنسی کی قدر میں چھ فیصد اضافہ
،تصویر کا ذریعہgettyimages
افغانستان کی سابقہ حکومت کے خاتمے کے بعد افغانی کرنسی کی قدر تیزی سے گرنے کے بعد اب مستحکم ہونا شروع ہو گئی ہے، شہزادہ سرائے کھلنے کے تین دن بعد ڈالر کے مقابلے میں افغانی کرنسی کی قدر میں چھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔
آج ایک ڈالر کا ریٹ = 82.60 افغانی ہے۔
یاد رہے طالبان نے گذشتہ ماہ کابل پر قبضے کے بعد تین دن قبل افغانستان کے سب سے بڑی منی ایکسچینج بازار ’پرنس پیلس (شہزادہ سرائے) کو کھولنے کا اعلان کیا تھا۔
افعانستان کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر عمر زاخیلوال نے ٹوئٹر پر یہ خبر شیئر کرتے ہوئے اسے تسلی بخش آئند قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آج کا ریٹ افغانی کرنسی کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں اسی قیمت پر واپس لے آیا ہے جو طالبان کے کابل پر قبضے سے قبل تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے لوگوں کی معاشی مشکلات کچھ حد تک کم ہو جائیں گی لیکن امید ہے کہ غریبوں اور کمزوروں کے لیے بین الاقوامی انسانی امداد کی آمد میں بھی تیزی آئے گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
احمد مسعود کی ’قومی بغاوت‘ کی اپیل پر واشنگٹن میں بھی افغانوں کا احتجاج
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
قومی مزاحمتی محاذ کے سربراہ احمد مسعود کی افغانوں سے ’قومی بغاوت‘ کی اپیل پر واشنگٹن میں مقیم افغان برادری نے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔
گذشتہ روز احمد مسعود کی اپیل کے چند گھنٹے بعد کابل اور مزار شریف کے متعدد شہری بھی رات کو اپنے گھروں سے نکلے تھے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق کابل سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں انھیں ’قومی مزاحمتی محاذ زندہ باد‘ کے نعرے لگاتے سنا جا سکتا ہے۔
گذشتہ روز احمد مسعود نے اپنے فیس بک پیج پر ایک آڈیو پیغام میں افغان عوام سے کہا تھا کہ وہ پورے افغانستان میں طالبان کے خلاف ملگ گیر قومی بغاوت شروع کریں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ پنجشیر اور اندراب وادیوں میں مزاحمت جاری ہے۔
لوگر: افغان افواج اور طالبان کی جنگ میں گھرے ہیں دیہی علاقوں کے عام لوگ
افغانستان کے دیہی علاقوں نے پچھلے کچھ برسوں میں افغان افواج اور طالبان کے درمیان شدید لڑائی دیکھی ہے، وہاں رہنے والے بہت سے لوگ اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھ کر راحت محسوس کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ امن ہو گا تو معیشت بھی بہتر ہو گی۔ دیکھیے بی بی سی کے سکندر کرمانی اور مدثر ملک کی افغانستان کے مشرقی صوبے لوگر میں ایسے ہی ایک گاؤں سے یہ رپورٹ۔
وہ افغان جو ملک چھوڑ نہ سکے طالبان کے سائے میں ان کی زندگی کیسی ہے؟
عبدل، بدخشاں میں رہائش پزیر ڈاکٹر ہیں۔ وہ اس وقت طالب علم تھے جب پچھلی دفعہ طالبان کی ملک پر حکومت تھی۔
انھوں نے کہا کہ ’اس وقت حالات بہت خراب تھے اور اب بھی ان کا رویہ ویسا ہی ہے جیسا ماضی میں تھا۔ مجھے کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔‘
عبدل نے بی بی سی کو اس علاقے کے ایک ہسپتال سے کئی تصاویر بھیجی ہیں۔ یہ ہسپتال اب طالبان کی نگرانی میں ہے۔ ایک تصویر میں ایک 18 ماہ کا کمزور سا بچہ بستر پر لیٹا ہوا ہے اور اس کی ماں اس سے بچانے کے لیے طبی عملے کے سامنے گڑگڑا رہی ہے۔ عبدل کے مطابق اس کی ماں کے پاس اسے کھانا کھلانے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ روز بروز مزید بچے غذائی قلت کا شکار ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں پانچ سال سے کم عمر کے آدھے سے زیادہ بچے اگلے سال شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اس صوبے میں بہت سے لوگوں کے لیے غربت پہلے ہی ایک کڑوی حقیقت تھی لیکن جب سے طالبان نے اقتدار سنبھالا ہے اور سرکاری ملازمین کی نوکریاں ختم ہوئی ہیں خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کچھ ابھی بھی پچھلے چند مہینوں سے ادائیگی کے منتظر ہیں۔
عبدل کو صوبے میں خواتین کے حقوق کے متعلق بھی خدشات ہیں۔ ابھی تو خواتین میڈیکل سٹاف کو کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ بہت سی دوسری خواتین کو اپنی ملازمت جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور انھیں غیر یقینی مستقبل کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔
عبدل نے کہا کہ چھٹی جماعت سے اوپر کی لڑکیوں کو اب سکول جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’لوگوں کو اپنے مستقبل کی کوئی امید نہیں ہے۔ بدخشاں میں لوگوں کے لیے مواقع نہیں ہیں۔‘
طالبان حکومت میں سب کی نمائندگی ہو گی تو تسلیم کریں گے: روس
،تصویر کا ذریعہgettyimages
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغان طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ ایک جامع حکومت بنائیں اور تمام اقلیتی گروہوں کو شامل کریں۔
انھوں نے پیر کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ اگر طالبان نے ایسا کیا تو روس حکومت کو تسلیم کرنے اور یہاں تک کہ حلف برداری میں شرکت کے لیے تیار ہے۔
لاوروف نے یہ بھی تسلیم کیا کہ انھیں طالبان نے نئی حکومت کے اعلان میں شرکت کی دعوت دی تھی۔
ایک طالبان عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا کہ روس کے علاوہ پاکستان، چین، ترکی اور قطر کو بھی تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
لاوروف کا کہنا ہے کہ ’ہم افغانستان میں ایسی حکومت کے قیام کی حمایت کرتے ہیں جو معاشرے کے تمام طبقات کی نمائندگی کرتی ہے۔ ایسی حکومت جس میں پشتونوں کے علاوہ ہزارہ، ازبک اور تاجک شامل ہوں۔‘
روس پہلا ملک ہے جس نے واضح طور پر طالبان حکومت کو قبول کرنے کا عندیہ دیا ہے تاہم ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھی ہے۔
اب یہ اس بات پر منحصر ہے کہ طالبان افغانستان میں دوبارہ ’اسلامی امارت‘ کا اعلان کرتے ہیں یا حکومت کی ایک مختلف شکل قائم کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ روس نے ٹرویکا پلس ممالک کے ساتھ مل کر حال ہی میں کہا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی اسلامی امارت ان کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔
افغانستان کے دو دیگر ہمسایہ ممالک چین اور پاکستان نے بھی ٹرویکا پلس اجلاس میں شرکت کی تھی۔
لیکن افعانستان میں اگلی حکومت کے متعلق ابھی تک بیجنگ اور اسلام آباد نے سرکاری پوزیشن واضح نہیں کی۔
امریکہ نے کہا ہے کہ وہ طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا، لیکن طالبان کے ساتھ مل کر نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو شکست دے سکتا ہے۔
برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ طالبان کو ان کے اقدامات سے جانچیں گے، ان کے الفاظ سے نہیں اور بات چیت کے بجائے گروپ کے اقدامات پر نظر رکھے گا۔
کینیڈا نے واضح کیا ہے کہ وہ کبھی بھی طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا۔
ذبیح اللہ مجاہد: آئی ایس آئی چیف کو ڈیورنڈ لائن کی سکیورٹی پر تشویش تھی
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے کابل دورے کے دوران انھوں نے طالبان رہنماؤں سے ملاقات کی اور جیلوں سے رہا ہونے والے قیدیوں کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔
مزید جانیے مدثر ملک کی اس ویڈیو میں۔
احمد مسعود کی ’قومی بغاوت‘ کی اپیل کے جواب میں کابل میں متعدد افراد کا احتجاج
،تصویر کا ذریعہFacebook\ahmadmassoud1
قومی مزاحمتی محاذ کے سربراہ احمد مسعود کی افغانوں سے ’قومی بغاوت‘ کی اپیل کے چند گھنٹے بعد کابل اور مزار شریف کے متعدد شہری رات کو اپنے گھروں سے نکلے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق کابل سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں انھیں ’قومی مزاحمتی محاذ زندہ باد‘ کے نعرے لگاتے سنا جا سکتا ہے۔
گذشتہ روز احمد مسعود نے اپنے فیس بک پیج پر ایک آڈیو پیغام میں افغان عوام سے کہا تھا کہ وہ پورے افغانستان میں طالبان کے خلاف ملگ گیر قومی بغاوت شروع کریں۔
’تم محرم کے بغیر سفر کیوں کر رہی ہو‘
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
’تم محرم کے بغیر سفر کیوں کر رہی ہو؟‘ طالبان گارڈ نے اکیلی سفر کرتی ہوئی ایک نوجوان عورت سے پوچھا۔
وہ پیلے رنگ کی پرانی ٹیکسی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ ٹیکسی باقی سب گاڑیوں کی طرح، طالبان کے ایک ناکے پر آ کر رکی تھی۔
طالبان گارڈ نے اپنی بندوق کندھے پر رکھتے ہوئے خاتون سے اپنے شوہر کو بلانے کا حکم دیا۔ جب اس خاتون نے کہا کہ اس کے پاس فون نہیں ہے تو اس گارڈ نے ایک اور ٹیکسی ڈرائیور کو کہا کہ اس کو گھر لے کر جاؤ اور پھر اس کے شوہر کے ساتھ اسے واپس لاؤ۔ یہ مسئلہ طالبان گارڈ کی مرضی کے مطابق حل ہو گیا۔
کابل میں اب بھی ٹریفک جام ہوتے ہیں۔ ریڑھیوں پر انگور، آلو بخارے نظر آتے ہیں۔ اور پھٹے ہوئے کپڑے پہنے بچے اس رش میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک دوڑ رہے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
کابل کے شمال میں ہندو کش کی چوٹیوں سے گھری وادی پنجشیر طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری بڑا گڑھ ہے۔ طالبان اور مزاحمتی فورس نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے درمیان لڑائی اور بات چیت دونوں جاری ہے۔ پنجشیر وادی میں صورتحال کیا ہے اور اس کو مزاحمت کا گڑھ کیوں کہا جاتا ہے؟
طالبان کا وادی پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہTaliban
طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل کے شمال مشرق میں واقع پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ وہ آخری صوبہ ہے جو اس سے پہلے تک طالبان کے زیر اثر نہیں رہا۔ اسے طالبان کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا تھا۔
پیر کی شب انٹرنیٹ پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں یہاں طالبان جنگجوؤں کو اپنے پرچم لہراتے دیکھا جاسکتا ہے۔ تاہم طالبان مخالف مزاحمتی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی وہاں ’تمام سٹریٹیجک پوزیشنز‘ پر موجود ہیں اور ’جنگ جاری رکھیں گے۔‘
ان کے رہنما نے طالبان کے خلاف ملک گیر مزاحمت کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
قومی مزاحمتی فورس کے رہنما احمد مسعود نے سوشل میڈیا پر ایک آڈیو پیغام میں عالمی برادری پر طالبان کو تسلیم کرنے کا الزام لگایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عالمی برادری نے طالبان کو فوجی اور سیاسی اعتماد دیا۔
انھوں نے اس پیغام میں کہا ہے کہ ’آپ جہاں بھی ہیں، اندر یا باہر، میں آپ سے عزت، آزادی اور خوشحالی کے لیے قومی بغاوت کی اپیل کرتا ہوں۔‘
تین افراد پر افغان شہریوں کو جرمنی سمگل کرنے کا الزام
جرمنی میں پولیس نے ان تین افراد سے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جن پر افغانستان سے لوگوں کی سمگلنگ کا الزام ہے۔
پولیس کو شبہ ہے کہ ان افراد نے افغان شہریوں کو جرمنی میں سمگل کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 14 افغان جو چند ہفتے پہلے ہی فوج کی جانب سے انخلا کی پروازوں کے ذریعے اٹلی پہنچے ہیں۔ اس کے بعد انہیں جرمنی میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش میں گرفتار کیا گیا ہے۔
ان سب لوگوں نے اٹلی میں پناہ کی درخواست کی تھی تاہم اب وہ وہاں رہنا نہیں چاہتے تھے۔
پہلے کیس میں ا آئرلینڈ کے ایک شحص کو گرفتار کیا گیا جو کہ ایک افغان خاندان کو ملک میں لا رہا تھا۔ بعد میں پولیس نے اسے تو رہا کر ریا لیکن دو افغان جوڑوں کو ان کے بچوں سمیت پناہ گزینوں کے سینٹر میں بھجوا دیا گیا ہے۔
ایک اور واقعے میں پولیس نے ایک گاڑی کو روکا جس میں دس افغان موجود تھے اور وہ حال ہی میں اٹلی پہنچے تھے۔
ان کے ہمراہ ایک ایسا شخص موجود تھا جس کے پاس جرمنی میں پناہ گزینوں کا پاسپورٹ تھا اور وہ جرمن نژاد افغان تھا۔ ان دونوں افراد پر شبہ ہے کہ وہ انسانی سمگلنگ کر رہے تھے۔
دس افغان شہریوں پر بھی یہاں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کا شبہ ہے۔
کابل ایئرپورٹ کی شکل تبدیل
،تصویر کا ذریعہAFP
کابل سے امریکی انخلا کو آج تقریباً ایک ہفتہ ہوگیا ہے اور جیسے جیسے شہر اور ملک کے حالات میں تبدیلی آئی اسی طرح کابل ایرپورٹ کی شکل بھی تبدیل ہوئی ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار لیس ڈوسیٹ کے مطابق ائیرپورٹ میں جہاں ’آئی لو کابل، کا جو سائن بورڈ لگا ہوا تھا اس پر سے دل کی تصویر ہٹا دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ دو سابق افغان صدور کے حوالہ جات بھی وہاں موجود نہیں۔ ان میں سے ایک سابق افغان صدر کرزئی کا نام ہے۔ ان کی جگہ اب وہاں طالبان کا جھنڈا لگایا گیا ہے اور ’اسلامی امارات افغانستان لکھا نظر آتا ہے۔
امریکی انخلا کے بعد ایئرپورٹ ابھی بھی قابلِ استعمال نہیں۔ حالانکہ طالبان کے ترجمان نے پیر کے روز یہ بتایا کہ بین الاقوامی پروازوں کو بحال کرنے کے عمل پر کام جاری ہے۔