آسٹریلیا کی افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی کرکٹ نہ کھیلنے کی تنبیہ

آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ اگر طالبان کی حکومت نے خواتین کو اس کھیل سے دور رکھا تو وہ ایک طے شدہ ٹیسٹ میچ کے لیے افغانستان کی میزبانی نہیں کریں گے۔ ادھر سعودی وزیر خارجہ نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ عبوری حکومت کے قیام سے افغانستان میں استحکام لایا جاسکے گا۔

لائیو کوریج

  1. امریکہ کو طالبان کی حکومت میں کچھ ناموں پر ’تشویش‘

    امریکہ کو طالبان کی حکومت میں کچھ ناموں پر ’تشویش‘

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکہ نے کہا ہے کہ اسے طالبان کی عبوری حکومت میں شامل کیے گئے ناموں پر تشویش ہے مگر وہ انھیں اقدامات پر جانچیں گے جن میں افغانوں کی آزادی شامل ہے۔

    امریکہ کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا ہے کہ جب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن افغانستان پر بات چیت کے لیے قطر کے دورے پر ہیں۔

    امریکہ کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ اس فہرست میں ایسے نام شامل ہیں جو طالبان کے رکن ہیں یا ان کے قریبی ساتھی ہیں اور ان میں خواتین شامل نہیں۔ ہمیں کچھ لوگوں کے ماضی اور وابستگیوں پر تشویش ہے۔‘

    خیال رہے کہ نئی افغان حکومت کے سربراہ ملا محمد حسن اخوند، جو کہ تحریک طالبان کے بانیوں میں سے ہیں، کا شمار اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں ہوتا ہے۔ جبکہ نئے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی مسلح گروہ حقانی نیٹ ورک کے رہنما رہ چکے ہیں اور ایف بی آئی کو مطلوب ہیں۔

    تاہم امریکی دفتر خارجہ کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں طالبان نے ایک عبوری کابینہ پیش کی ہے۔ لیکن ہم طالبان کو ان کے اقدامات پر جانچیں گے، نہ کہ ان کی باتوں پر۔۔۔ ہمیں امید ہے طالبان یہ یقینی بنائیں گے کہ ان کی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہ کی جائے۔‘

    امریکہ نے ایک بار پھر طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے افغانوں اور امریکی شہریوں کو افغانستان چھوڑنے کی اجازت دی جائے جو وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا ہے کہ فی الحال امریکہ طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا۔

    اس سے قبل بلنکن نے قطر میں کہا کہ طالبان اس وقت تک تعاون کر رہے ہیں جب تک مسافروں کے پاس سفری دستاویزات ہیں۔ ریپبلکن جماعت کے پارلیمانی رہنماؤں اور کارکنوں نے الزام لگایا ہے کہ کابل میں کچھ چارٹر طیارے پھنسے ہوئے ہیں۔

  2. ہرات: مظاہرے پر ’طالبان کی فائرنگ سے‘ تین ہلاکتوں کی اطلاع, کابل میں پاکستان مخالف مظاہرہ

    کابل میں پاکستان مخالف مظاہرہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    افغان شہر ہرات میں میڈیکل ورکرز کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرے پر فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ طالبان نے تاحال اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

    دوسری طرف کابل میں ایک پاکستان مخالف مظاہرہ دیکھا گیا جہاں طالبان کے مسلح جنگجوؤں نے ہوائی فائرنگ کے ذریعے سینکڑوں لوگوں کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔

    یہ مظاہرے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مزاحمت کے لیے بڑے اجتماع رہے ہیں۔

    کابل سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مظاہرین اپنی حفاظت کے لیے بھاگ رہے ہیں۔

    کئی مظاہرین نے براہ راست طالبان پر تنقید سے گریز کیا اور اپنے غم و غصے کا اظہار ہمسایہ ملک پاکستان کے حوالے سے کیا۔ وہ پاکستان پر طالبان کی حمایت کا الزام لگا رہے تھے۔ پاکستانی حکام اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔

  3. طالبان کی عبوری کابینہ کا اعلان: پہلے پالیسی بیان میں کیا کہا گیا ہے؟

  4. قندوز سے کوئٹہ آنے والے افغان شہریوں کو واپس بھیج دیا گیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    افغانستان

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں افغانستان کے علاقے قندوز سے پہنچنے والے اندازاً تین سو افغان شہریوں کو واپس افغانستان ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے۔

    یہ لوگ افغانستان سے بلوچستان کے سرحدی شہر چمن آئے تھے، وہاں سے وہ دوروز قبل کوئٹہ آئے اور بلیلی کے علاقے میں پڑاﺅ ڈالا تھا۔

    یہ لوگ مجموعی طور پر 50 خاندانوں پر مشتمل تھے۔

    یہ لوگ کسپمرسی کی حالت میں تھے اور ان کے ساتھ جو بچے تھے ان میں سے بعض بیمار بھی تھے۔

    ان لوگوں کے پاس کھانے پینے کی اشیاء بھی نہیں تھیں۔

    ان لوگوں نے صحافیوں کو بتایا کہ افغانستان میں خراب صورتحال کی وجہ سے وہ پناہ کی تلاش میں یہاں پہنچے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اُنھیں یہاں پناہ لینے کی اجازت دی جائے اور مردوں کو محنت مزدوری کی اجازت دی جائے تاکہ وہ ان کے لیے کھانے پینے کا انتظام کریں۔

    منگل کے روز جب میڈیا کے نمائندے اس علاقے میں گئے تو وہاں ان میں سے کوئی نہیں تھا۔

    جب ان کی عدم موجودگی کے بارے میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن سہیل الرحمان بلوچ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ غیر قانونی طور پر پاکستان آئے تھے اس لیے ان کو واپس افغانستان ڈی پورٹ کردیا گیا۔

    اُنھوں نے بتایا کہ جب تک حکومت کی جانب سے اجازت نہیں ہوگی اس وقت تک جو بھی افغان شہری غیر قانونی طور پر پاکستان آئیں گے ان کو واپس افغانستان بھیجا جائے گا۔

    افغانستان
    افغانستان
    افغانستان
    افغانستان
  5. بریکنگ, طالبان حکومت کا پہلا پالیسی بیان: ’ہم ملک کو جلد از جلد ترقی کی راہ پر ڈالنا چاہتے ہیں‘

    افغانستان میں طالبان کی طرف سے اپنی حکومت کے اعلان کے بعد ’امارت اسلامیہ افغانستان‘ کے مشن کے بارے میں پہلے تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ملک کو جلد از جلد ترقی کی راہ پر ڈالنا چاہتے ہیں اور تمام عوام کے لیے چاہے وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا چاہتے ہیں۔

    افغانستان کی نئی حکومت کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے انھیں ملک کے تمام کاروباری حضرات، سرمایہ کاروں اور ’سمجھ دار افغانوں‘ کی ضرورت ہے جو ملک کو غربت سے نکالنے، معیشت کو مضبوط کرنے، قومی دولت کو محفوظ کرنے اور سرکاری خزانے کو قومی مفاد میں استعمال کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا ملک کا اہم حصہ ہے۔ ’ہم میڈیا کی آزادی، اس کے فنکشن اور اس کے معیار کی بہتری کے لیے کام کریں گے۔‘

    ’ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ہماری نشریات میں اسلامی اصولوں، قومی مفاد اور غیرجانبداری کا خیال رکھا جائے۔‘

    بیان میں افغانستان کے پڑوسیوں، خطے کے ممالک اور پوری دنیا کے لیے پیغام میں کہا گیا کہ ’افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کی سکیورٹی کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔‘ نئی حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ افغانستان کی طرف سے کسی کو تشویش نہیں ہونی چاہیے اور یہ کہ وہ دوسروں سے بھی ایسے رویے کی توقع کرتی ہے۔

    طالبان
    طالبان
    طالبان
    طالبان
  6. ملّا محمد حسن اخوند اور ملّا عبدالغنی برادر کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہAFP/Getty

    ،تصویر کا کیپشنملّا محمد حسن اخوند (بائیں) اور ملّا عبدالغنی برادر (دائیں)

    طالبان کی نئی کابینہ میں رئیس الوزرا یا وزیرِ اعظم کا عہدہ ملّا محمد حسن اخوند کو دیا گیا ہے جن کے نائبین میں ملّا عبدالغنی برادر اور مولوی عبدالسلام حنفی شامل ہوں گے۔

    ملّا محمد حسن اخوند کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    • طالبان کی رہبری شوریٰ کے قائد ہیں
    • اطلاعات کے مطابق خود طالبان کے امیر ہبۃ اللہ اخوند زادہ نے ان کا انتخاب کیا
    • طالبان کے آخری دورِ حکومت میں گورنر اور وزیر رہے
    • طالبان کے بانی ملّا عمر کے قریبی مشیر رہے
    • اقوامِ متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہیں

    ملّا عبدالغنی برادر کون ہیں؟

    • امریکہ کے ساتھ فروری 2020 میں امن معاہدے پر طالبان کی جانب سے دستخط کیے
    • امارت اسلامی افغانستان کے نائب امیر ہیں
    • طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر کے انچارج بھی ہیں
    • ملا برادر طالبان دور میں ہرات صوبے کے گورنر اور طالبان کی فوج کے سربراہ رہے ہیں
    • فروری سنہ 2010 میں انھیں پاکستان کے شہر کراچی سے امریکہ اور پاکستان کی مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا
    • انھیں ستمبر 2013 میں پاکستانی حکومت نے رہا کر دیا تھا لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ پاکستان میں ہی رہے یا کہیں اور چلے گئے
    • ملا برادر طالبان رہنما ملا محمد عمر کے سب سے قابل اعتماد سپاہی اور نائب رہے
    • افغان انتظامیہ کے سینیئر عہدیداروں کو ہمیشہ ہی اس بات پر یقین تھا کہ برادر کے قد کا رہنما طالبان کو امن مذاکرات کے لیے آمادہ کر سکتا ہے

    سراج الدین حقانی کون ہیں؟

    طالبان نے سراج الدین حقانی کو بطور وزیرِ داخلہ نامزد کیا ہے

    • افغان طالبان کے تیسرے نائب امیر ہیں
    • ان کا تعلق ان کے والد جلال الدین حقانی کے حقانی نیٹ ورک سے ہے
    • حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی کا تعلق افغانستان کے صوبہ پکتیکا سے ہے
    • جلال الدین حقانی نے سنہ 1980 کی دہائی میں شمالی وزیرستان سے سابقہ سویت یونین کے افغانستان میں قبضے کے دوران منظم کارروائیاں کیں
    • جلال الدین حقانی کے بھائی خلیل حقانی کو وزیر برائے پناہ گزین افراد تعینات کیا گیا ہے
    • سراج الدین حقانی کے بھائی انس حقانی امریکہ سے مذاکرات کے دوران طالبان کی سیاسی ٹیم کا حصہ رہے
    • اس پس منظر کو دیکھتے ہوئے سراج الدین حقانی کے طالبان میں اثر و رسوخ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے

    طالبان کا کہنا ہے کہ موجودہ سیٹ اپ نگراں ہے اور ملکی معاملات کو فی الوقت چلانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ جلد ہی مکمل انتظام کا اعلان کیا جائے گا۔

    طالبان کے بارے میں مزید آپ ہمارے ان خصوصی فیچرز میں جان سکتے ہیں:

  7. طالبان کی نئی کابینہ میں کون کون شامل ہیں؟

    طالبان
    ،تصویر کا کیپشنطالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سات ستمبر 2021 کو نئی حکومت کے قیام کا اعلان کر رہے ہیں
    • ملا محمد حسن اخوند، وزیرِ اعظم
    • ملا عبدالغنی برادر، نائب وزیرِ اعظم
    • مولوی عبدالسلام حنفی، نائب وزیرِ اعظم
    • مولوی محمد یعقوب مجاہد، دفاع
    • ملّا سراج الدین حقانی، داخلہ
    • امیر خان متقی، خارجہ
    • ملّا ہدایت اللہ بدری، مالیات
    • ملّا خیراللہ خیر خواہ، اطلاعات و ثقافت
    • ملّا عبداللطیف منصور، پانی و بجلی
    • عبدالباقی حقانی، تعلیم
    • نجیب اللہ حقانی، برقی مواصلات
    • خلیل الرحمان حقانی، پناہ گزین افراد
    • عبدالحق وثیق، انٹیلیجنس
    • حاجی ادریس، سربراہ افغانستان بینک
    • قاری دین محمد حنیف، اقتصادیات
    • مولوی عبدالحاکم شریعہ، وزیرِ انصاف
    • نوراللہ نوری، سرحد و قبائل
    • یونس اخوندزادہ، دیہی ترقی
    • ملّا عبدالمنّان عمری، عوامی بہبود
    • ملّا محمد عیسیٰ اخوند، کان کنی
    • فصیح الدین، چیف آف سٹاف
    • شیر محمد عباس ستانکزئی، نائب وزیرِ خارجہ اُمور
    • مولوی نور جلال، نائب وزیرِ خارجہ
    • ذبیح اللہ مجاہد، نائب وزیرِ اطلاعات و ثقافت
    • ملّا تاج میر جواد، نائب سربراہ اوّل برائے انٹیلیجنس
    • ملّا رحمت اللہ نجیب، نائب سربراہ انٹیلیجنس
    • ملّا عبدالحق، نائب وزیرِ داخلہ برائے انسدادِ منشیات

    کایبنہ کی مکمل فہرست ساتھ منسلک تصاویر میں موجود ہے تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ یہ ایک عبوری سیٹ اپ ہے جسے فی الوقت ملکی معاملات چلانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

    کابل میں طالبان کی نئی کابینہ کے اعلان کے موقع پر ہمارے نمائندے سکندر کرمانی اور ملک مدثر میڈیا سینٹر میں موجود تھے جن کی بدولت تازہ ترین اطلاعات آپ تک پہنچ سکیں۔

    طالبان
    طالبان
  8. طالبان کی نئی کابینہ: نہ کوئی خاتون وزیر، نہ اُمورِ خواتین کی وزارت

    طالبان نے نئی حکومت کا اعلان کر دیا ہے مگر اس میں اُمورِ خواتین کی وزارت ہی شامل نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ میں بھی کسی خاتون وزیر کو شامل نہیں کیا گیا ہے تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ یہ کابینہ ابھی حتمی نہیں ہے۔

    جب نمائندہ بی بی سی سکندر کرمانی نے کسی خاتون کی عدم موجودگی کی نشاندہی کرتے ہوئے میڈیا سینٹر میں موجود طالبان رہنما احمداللہ واثق سے سوال کیا کہ اس سے کیا پیغام جاتا ہے، تو اُنھوں نے کہا کہ کابینہ کے ناموں کے اعلانات ابھی حتمی نہیں ہیں۔

    اُنھوں نے مزید کہا کہ افغانستان اب باقاعدہ طور پر ’امارتِ اسلامی افغانستان‘ ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. بریکنگ, ’وزارتوں کی تقسیم قومیت کی بنا پر نہیں ہوئی‘

    ہم نے کابینہ کی وزارتوں کی تقسیم قوم پرستی کی بنا پر نہیں کی بلکہ اُن کے کام کو دیکھتے ہوئے کی ہے۔

    دنیا کے تمام ممالک سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں، امریکہ کے ساتھ بھی جس نے ہمارے ساتھ جنگ کی۔

    ہم اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ امن کی فضا رکھنا چاہتے ہیں۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ بیرونی دنیا کے لوگوں کو یہاں کے نظام میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔

    ’باہر کے لوگوں کا کوئی لینا دینا نہیں کہ افغانستان میں سسٹم کیسا ہوگا۔ کسی کو ہمارے ملک کے داخلی اُمور میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

  10. ’پاکستانی حمایت کا الزام پروپیگنڈا ہے، رد کرتے ہیں‘

    افغانستان کے معاملات میں پاکستان کی مبینہ مداخلت کے الزام اور طالبان کو مبینہ پاکستانی حمایت کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ یہ ایک پروپیگنڈا ہے اور وہ اسے رد کرتے ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ پاکستان سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے، ہمیں کسی ملک سے کسی قسم کی امداد نہیں مل رہی۔

    اُنھوں نے کہا کہ اس بات کو ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان ہماری مدد کر رہا ہے۔ ’ہم لوگوں نے 20 سال اس ملک کی آزادی کے لیے جنگ کی ہے۔‘

  11. ’پنجشیر میں لوگ کہہ رہے ہیں کہ جنگ ہو رہی ہے مگر وہاں امن ہے‘

    ابھی بہت سی وزارتیں خالی ہیں، بہت سے سیکریٹریز رہتے ہیں، ہم اس پر کام کر رہے ہیں اور کوشش کریں گے کہ جلد از جلد انتظام کیا جا سکے۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ جو مظاہرے ہو رہے ہیں ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

    پنجشیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ پنجشیر میں جنگ ہو رہی ہے تاہم وہاں امن ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ پنجشیر کے رہنما ملک سے باہر جا چکے ہیں۔

  12. ’یہ کابینہ جز وقتی سیٹ اپ ہے، مکمل حکومت بعد میں بنائی جائے گی‘

    ذبیح اللہ مجاہد نے کہا یہ ایک جز وقتی ہے اور مزید منصوبہ بندی کر کے مکمل حکومت بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

    طالبان کی نئی کابینہ کے سربراہ ملّا محمد حسن اخوند ہوں گے جن کے نائبین میں ملّا عبدالغنی برادر اور مولوی عبدالسلام حنفی شامل ہوں گے۔

    اُنھوں نے کہا کہ وقتی طور پر حکومتی معاملات چلانے کے لیے سیٹ اپ بنایا گیا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ فی الوقت شوریٰ اس کے معاملات دیکھے گی اور پھر بعد میں دیکھا جائے گا کہ لوگوں کی اس حکومت میں شرکت و شمولیت کس انداز میں ہو گی۔

  13. مظاہرین کے پیچھے موجود لوگ ملک سے باہر ہیں: ذبیح اللہ مجاہد

    اب صحافیوں کے ساتھ سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

    مظاہروں میں صحافیوں کے ساتھ ہونے والی بدتمیزی کے واقعات بارے میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ابھی تک بحرانی حالات ہیں اور لوگ اس لیے احتیاط کریں۔

    اُنھوں نے کہا کہ ابھی جو مظاہرے ہو رہے ہیں جہاں سے مظاہرین کا دل کرتا ہے وہاں سے شروع کرتے ہیں اور جہاں دل چاہتا ہے ختم کرتے ہیں۔

    طالبان ترجمان نے کہا کہ مظاہرین کے پیچھے موجود لوگ ملک سے باہر ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ بحرانی کیفیت رہے۔

    ہمارے پاس ابھی تک نظام نہیں ہے اور قانون کی کوئی تعریف نہیں ہے اس لیے ہم لوگوں سے کہتے ہیں کہ وہ مظاہرے کرنے سے گریز کریں۔

  14. نئی کابینہ میں کون کون شامل ہے؟

    طالبان نے مندرجہ ذیل وزارتوں کا اعلان کیا ہے:

    • مولوی محمد یعقوب: وزیر دفاع
    • سراج الدین حقانی: قائم مقام وزیر داخلہ
    • مولوی عبدالحاکم شریعہ: قائم مقام وزیرِ انصاف
    • خلیل الرحمان حقانی: وزیر برائے پناہ گزین افراد
    • ملّا عبدالغنی برادر اخوند ملّا محمد حسن اخوند کے نائب ہوں گے۔
  15. طالبان نے نئی کابینہ کے ناموں کا اعلان کر دیا

    طالبان

    کابل سے تازہ خبر یہ ہے کہ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی پریس کانفرنس شروع ہو چکی ہے۔

    اپنی پریس کانفرنس کی ابتدا میں اُنھوں نے کہا کہ دشمن جا چکا ہے، جنگ ختم ہو چکی ہے اور اسلامی امارت بنانے کے لیے میدان صاف ہو چکا ہے۔

    اس وقت وہ طالبان کابینہ میں مختلف عہدوں پر نامزد افراد کے ناموں کا اعلان کر رہے ہیں۔

    خود اُنھیں وزارت اطلاعات کا قلمدان سونپا گیا ہے۔

  16. تین ہفتے گزرنے کے باوجود طالبان حکومت کیوں نہیں بنا سکے؟

  17. طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی پریس کانفرنس جلد متوقع

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    افغانستان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اب سے کچھ دیر میں پریس کانفرنس کرنے والے ہیں جس میں اہم اعلانات متوقع ہیں۔

    کابل میں ہمارے نمائندے ملک مدثر اس وقت میڈیا سینٹر میں موجود ہیں اور ہم اُن کے ذریعے آپ کو پریس کانفرنس کی تفصیلات سے آگاہ رکھیں گے۔

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہbbc

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہbbc

  18. طالبان کی کابل میں مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اطلاعات

    کابل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    منگل کو کابل کے مختلف حصوں میں ہونے والے طالبان مخالف مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے طالبان کی جانب سے ہوائی فائرنگ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق کابل میں تین مختلف جگہوں پر مظاہرے کیے گئے۔

    ان میں سے ایک مظاہرے میں سارہ فہیم نامی احتجاجی خاتون نے اے ایف پی سے کہا: ’افغان خواتین اپنے ملک کو آزاد دیکھنا چاہتی ہیں۔ وہ اپنے ملک کی تعمیرِ نو چاہتی ہیں۔‘

    یہ مظاہرہ کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے باہر کیا گیا تھا۔

    اُنھوں نے کہا کہ ’ہم اپنے لوگوں کے لیے نارمل زندگیاں چاہتے ہیں۔ آخر ہم کب تک اسی صورتحال میں رہیں گے؟‘

    کابل میں طالبان کے سکیورٹی انچارج جنرل مبین نے اے ایف پی کو بتایا کہ اُنھیں موقع پر موجود طالبان سپاہیوں نے بتایا تھا کہ ’خواتین یہاں مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔‘

    جنرل مبین نے دعویٰ کیا کہ ’یہ مظاہرین یہاں صرف غیر ملکی انٹیلیجنس کی سازشوں کی بنیاد پر جمع ہوئے ہیں۔‘

    مظاہرے کی کوریج کرنے والے ایک افغان صحافی نے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان نے اُن کا پریس کارڈ اور کیمرا ضبط کر لیا اور اُنھیں لات مار کر وہاں سے چلے جانے کو کہا۔

  19. افغانستان کے دیہات:طالبان کا قبضہ، کچھ لوگوں کے نزدیک لڑائی کا خاتمہ ہے

  20. کابل میں نئی حکومت کے اعلان کی تیاریاں، دارالحکومت کی دیواروں پر ’فن پاروں کی جگہ نعروں‘ نے لے لی

    tolonews

    ،تصویر کا ذریعہtolonews

    ماضی میں کابل کی دیواریں مختلف فن پاروں سے سجی ہوتی تھیں، لیکن ان دنوں ان دیواروں پر نئے نعرے دیکھے جا رہے ہیں۔

    کچھ جگہوں پر امارات اسلامی کا سفید و سیاہ پرچم اور کچھ پر طالبان رہنماؤں کے پیغامات لکھے گئے ہیں۔

    طلوع نیوز کے مطابق طالبان کلچرل کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ نئی حکومت کے اعلان کے لیے شہر کو نئے نعروں سے سجا رہے ہیں۔

    طالبان کے ثقافتی کمیشن کے نائب سربراہ احمد اللہ واثق نے طلوع نیوز کو بتایا کہ ’نئی حکومت کے اعلان کی تیاری کے لیے شہر میں کچھ نعرے اور پلے کارڈز لگائے جائیں گے۔‘

    نئی حکومت کا اعلان کب کیا جائے گا، یہ تو ابھی تک واضح نہیں مگر طالبان کے مطابق نئی حکومت کے اعلان کی تقریب میں غیر ملکی مہمانوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

    واثق نے بتایا ’کچھ اہم ممالک کے نمائندے، عہدیدار اور سفارتکار بھی اس تقریب میں شرکت کریں گے۔‘

    OmaidSharifi

    ،تصویر کا ذریعہ@OmaidSharifi