آسٹریلیا کی افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی کرکٹ نہ کھیلنے کی تنبیہ

آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ اگر طالبان کی حکومت نے خواتین کو اس کھیل سے دور رکھا تو وہ ایک طے شدہ ٹیسٹ میچ کے لیے افغانستان کی میزبانی نہیں کریں گے۔ ادھر سعودی وزیر خارجہ نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ عبوری حکومت کے قیام سے افغانستان میں استحکام لایا جاسکے گا۔

لائیو کوریج

  1. طالبان اور القا‏‏عدہ کے درمیان بیعت کا معاملہ کتنا گھمبیر ہے؟

  2. طالبان کے تابع افغانستان میں ایک نئے دور کا آغاز کیسا ہے

  3. اگر عورتوں کی ٹیم بین ہوئی تو مردوں کا ٹیسٹ میچ کینسل ہو جائے گا: آسٹریلیا

    سنہ 2013 کی ہرات کی ایک تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنسنہ 2013 کی ہرات کے ایک سکول کی تصویر: یہ مناظر طالبان کے دور میں شاید نہ دیکھے جا سکیں

    کرکٹ آسٹریلیا نے کہا ہے کہ اگر افغانستان میں خواتین کے کھیلوں پر پابندی کی خبریں درست ہوئیں تو مردوں کی ٹیم کے ساتھ ٹیسٹ میچ کینسل ہو جائِے گا۔

    بدھ کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے کہا تھا کہ انھیں طالبان کے ثقافتی کمیشن کے نائب سربراہ احمد اللہ واثق کے بیان سے تشویش ہوئی ہے۔ احمد اللہ واثق نے آسٹریلیا کے براڈکاسٹر ایس بی ایس سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میرے خیال میں خواتین کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت نھیں دی جائے گی۔‘

    کرکٹ آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ وہ ہر سطح پر خواتین کی کرکٹ میں شمولیت کی حمایت کرتے ہیں۔

    ’اگر حالیہ خبریں کہ افغانستان میں خواتین کو کرکٹ کھیلنے نھیں دی جائے گی درست ثابت ہوئیں تو ہمارے پاس ہوبارٹ میں مجوزہ ٹیسٹ میچ میں افغانستان کی میزبانی سے منع کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نھیں رہے گا۔‘

    شیڈول کے مطابق آسٹریلیا نے افغانستان کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ 26 نومبر سے کھیلنا تھا۔ یاد رہے کہ 8 دسمبر سے آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان ایشز سیریز شروع ہو رہی ہے۔

    افغانستانن میں مردوں کی کرکٹ ٹیم کو طالبان کی حمایت مل چکی ہے مگر آئی سی سی کے مطابق اس کے تمام بارہ رکن ممالک کے لیے خواتین کی ٹیم ہونا بھی لازمی ہے۔

  4. قطر کی ’سمارٹ پاور‘: چھوٹا سا خلیجی ملک ایک مضبوط عالمی ثالث کیسے بنا؟

  5. طالبان کا صحافیوں پر تشدد: ’کابینہ کے اعلان کے بعد اب حکومتی عہدیدار مار پیٹ کریں گے؟‘

  6. غنی حکومت کے آخری چند گھنٹے، جب صدر کے ذاتی محافظ بھی آپس میں لڑ پڑے

  7. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں ہوگا

    افغانستان سے بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔

    تازہ ترین خبروں اور معلومات کے لیے ہمارے تازہ لائیو پیج پر آئیں۔

  8. کابل ڈائری: بش بازار میں شاپنگ پر نکلے طالبان

  9. ’خواتین کو کرکٹ کی اجازت نہ ملی تو افغانستان کے ساتھ ٹیسٹ میچ نہیں کھیلیں گے‘, کرکٹ آسٹریلیا کا بیان

    ’خواتین کو کرکٹ کی اجازت نہ ملی تو افغانستان کے ساتھ ٹیسٹ میچ نہیں کھیلیں گے‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ اگر طالبان کی حکومت نے خواتین کو اس کھیل سے دور رکھا تو وہ افغانستان کے ساتھ ایک طے شدہ ٹیسٹ میچ نہیں کھیلیں گے۔

    حال ہی میں طالبان کے ایک نمائندے نے کہا ہے کہ انھیں لگتا ہے خواتین کے لیے کرکٹ کھیلنا ’ضروری نہیں‘ اور یہ اسلام کے خلاف ہوگا اگر کسی حالت میں ان کا چہرہ اور جسم ڈھکا ہوا نہ ہو۔

    آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’عالمی سطح پر خواتین کی کرکٹ کی گروتھ کرکٹ آسٹریلیا کے لیے بہت اہم ہے۔ ہمارا ویژن ہے کہ یہ کھیل سب کے لیے ہونا چاہیے اور ہم اس کھیل کو خواتین کے لیے برابری کی سطح پر لانا چاہتے ہیں۔‘

    ’اگر افغانستان میں خواتین کی کرکٹ کو حمایت نہ ملنے کی حالیہ اطلاعات صحیح ثابت ہوتی ہیں تو کرکٹ آسٹریلیا کے پاس اس کے سوا کوئی متبادل نہیں ہوگا کہ وہ افغانستان کی میزبانی اس ٹیسٹ میچ کے لیے نہیں کریں گے جو ہوبارٹ میں کھیلا جانا ہے۔‘

    شیڈول کے مطابق آسٹریلیا نے افغانستان کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ میچ نومبر 27 کو کھیلنا تھا۔

  10. امریکہ نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا پیغام نہیں دیا: وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے ایسا کوئی پیغام نہیں دیا کہ وہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرے گا۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک عبوری کابینہ ہے۔ اس انتظامیہ میں کوئی بھی نہیں، نہ صدر اور نہ ہی ان کی قومی سلامتی کی ٹیم میں کوئی شخص یہ تجویز دے گا کہ طالبان عالمی برداری میں قابل احترام و قدر رکن ہیں۔

    ’انھیں یہ اعزاز نہیں ملا اور ہم نے کبھی اس کا جائزہ نہیں لیا۔‘

  11. ’افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام سے استحکام کی امید ہے‘, سعودی عرب کے وزیر خارجہ کا بیان

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سعودی وزیر خارجہ نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام سے استحکام لایا جاسکے گا اور پُرتشدد واقعات کے ساتھ انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔

    ملک کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق انھوں نے یہ بیان افغانستان کے بحران پر ایک اجلاس میں جاری کیا۔

    شہزادہ فیصل بن فرحان نے سعودی عرب کی جانب سے افغانستان کے مستقبل کے لیے ’افغانوں کی مرضی‘ کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا فیصلہ بیرونی مداخلت سے نہیں ہوگا۔

    ریاض کو امید ہے کہ افغان عبوری حکومت ’سلامتی و استحکام کے لیے صحیح راستہ ہے۔ اس سے پُرتشدد واقعات اور انتہا پسندی کو رد کیا جاسکے گا۔‘

    سعودی وزیر خارجہ کے مطابق سعودی عرب اپنی حمایت جاری رکھے گا تاکہ موجودہ چیلنجز سے افغانستان کو نکالا جاسکے۔

  12. افغانستان کی نئی طالبان حکومت کی جانب سے ملک میں مظاہروں پر پابندی، پیشگی اجازت لازمی قرار

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    افغانستان میں طالبان کی نئی حکومت کی جانب ملک میں ہونے والے مظاہروں کو بد نیتی پر مبنی اور سکیورٹی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    امارت اسلامیہ افغانستان کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کئی دنوں سے متعدد افراد بدنیتی پر مبنی جماعتوں کے اکسانے اور مالی اعانت کے ساتھ دارالحکومت کابل اور کچھ ریاستوں میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان مظاہروں کی آڑ میں سیکورٹی کی خلاف ورزی، شہریوں کو نقصان پہنچانے اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    طالبان حکومت کی وزرات دخلہ کے بیان میں یہ اعلان نے کیا گیا کہ وہ کسی بھی قسم کے مظاہرے کرنے کی کوشش نہ کریں۔

    بیان میںمزید کہا گیا ہے کہ’مظاہروں کو قانونی ہونا چاہیے ، کیونکہ یہ سب سے پہلے ضروری ہے کہ وزارت انصاف سے اجازت لی جائے اور پھر مظاہروں کو محفوظ بنانے کے لیے سکیورٹی سروسز کو اس سے آگاہ کیا جائے۔‘

    اس حوالے سے دی گئی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکام کو مظاہروں کے مقصد ، نعرے اور بینر جو ان میں استعمال کیے جائیں گے ، ان کے مقام اور ان کے آغاز اور اختتام کے وقت سے کم از کم 24 گھنٹے پہلے آگاہ کیا جانا چاہیے۔

    شر پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی تنبیہ

    بیان میں تنبیہ کی گئی مذکورہ قانونی طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد مظاہرے کیے جا سکتے ہیں اور شہریوں میں انتشار پھیلانے اور نقصان سے گریز کیا جائے۔

    بیان میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ ’ممکن ہے کہ کچھ جماعتیں مظاہرین کی سلامتی کو خطرے میں ڈالیں تاکہ بدنیتی پر مبنی سیاسی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔‘

    بیان میں خبوردار کیا گیا ہے کہ کسی بھی بدامنی کی صورت میں ذمہ داری شرپسندوں کی ہوگی اور ان کے ساتھ سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’امارت اسلامیہ شہریوں کے تمام جائز حقوق اور مطالبات کو پورا کرنے کا عہد کرتی ہے ، اور اسے (حکومت کو) موقع دیا جانا چاہیے، تاکہ وہ ملک میں سکیورٹی قائم کر سکے، اس کے بعد دیگر مسائل اور چیلنجز سے نمٹا جائے گا۔ ‘

  13. نئی طالبان کابینہ 11 ستمبر کو حلف اٹھائے گی

    افغانستان میں طالبان نے اعلان کیا ہے کہ نئی کابینہ 11 ستمبر کو اپنے اپنے عہدوں کا حلف اٹھائے گی۔

    واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے گذشتہ روز اپنی کابینہ کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اُنھوں نے کہا تھا کہ یہ حتمی کابینہ نہیں ہے۔

    دنیا کے کئی ممالک کی جانب سے اس کابینہ کو غیر جامع قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس میں خواتین کی نمائندگی نہیں ہے۔

    گیارہ ستمبر کو امریکہ پر حملوں کے 20 سال مکمل ہو جائیں گے جن کے ردِ عمل میں امریکہ نے ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ شروع کرتے ہوئے پہلے افغانستان اور پھر عراق پر حملہ کر دیا تھا۔

    افغانستان پر امریکی حملے کے بعد دسمبر سنہ 2001 میں طالبان کی حکومت ختم ہو گئی تھی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. ملّا عمر کے بیٹے ملّا محمد یعقوب کی تصویر جاری

    افغان طالبان نے اپنے ٹوئٹر پیج پر ملّا محمد عمر کے بیٹے ملّا محمد یعقوب کی تصویر جاری کی ہے۔

    اُنھیں طالبان کی نئی کابینہ میں وزیرِ دفاع کا عہدہ دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ملّا عمر طالبان تحریک کے بانی تھے اور قندھار کے ایک مدرسے میں استاد تھے جہاں سے طالبان تحریک کا آغاز ہوا تھا۔ وہ سنہ 2013 میں وفات پا گئے تھے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. پاکستان کی جانب سے افغانستان کے لیے انسانی امداد

    حکومت پاکستان نے افغانستان کے عوام کے لیے خوراک اور ادویات پر مشتمل انسانی امداد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پاکستان کی وزرات خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق تین سی ون تھرٹی طیارے افغانستان بھیجے جا رہے ہیں۔

    فضا کے ذریعے پہلی فوری امداد کے بعد مزید رسد زمینی راستوں سے فراہم کی جائے گی۔

    بان کے مطابق حکومت پاکستان افغان بھائیوں کی مدد کے لیے اپنی پوری کوشش جاری رکھے گی۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان عالمی برادری پر بھی زور دیتا ہے کہ وہ ممکنہ انسانی بحران سے بچنے کے لیے افغانستان کے لوگوں کی مدد کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

  16. افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورت حال پر پاکستان کی گہری نظر ہے: وزرات خارجہ

    پاکستان کیوزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورت حال پر پاکستان کی گہری نظر ہے۔

    وزرات خارجہ کہ ایک بیان کے مطابق پاکستان کابل میں عبوری سیاسی سیٹ اپ کے قیام کے بارے میں تازہ ترین اعلان سے آگاہ ہے، جو افغانستان کے لوگوں کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انتظامی ڈھانچے کی ضرورت کو پورا کرے گا۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ نئی سیاسی تقسیم افغانستان میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مربوط کوششوں کو یقینی بنائے گی اور ساتھ ہی افغان عوام کی انسانی اور ترقیاتی ضروریات کا خیال رکھنے کے لیے کام کرے گی۔‘

    وزرات خارجہ کے مطابق ’پاکستان ایک پرامن، مستحکم، خودمختار اور خوشحال افغانستان کے قیام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔‘

  17. میک اپ آرٹسٹ: ’ہر لمحے ایسا لگتا ہے طالبان مجھے ڈھونڈتے ہوئے آ جائیں گے‘

  18. وہ پاکستانی مدرسہ جس کے طلبہ طالبان کابینہ میں بھی شامل رہے

  19. کابل چھوڑنے کا فیصلہ خانہ جنگی اور خونریزی سے بچنے کے لیے کیا: اشرف غنی کی قوم کو وضاحت

    اشرف غنی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان کے معزول صدر اشرف غنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ پندرہ اگست کو طالبان کے غیر متوقع طور پر کابل شہر میں داخل ہونے کے بعد اچانک شہر چھوڑ کر جانے پر افغان عوام کو وضاحت دینا چاہتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا وہ صدارتی محل کی سکیورٹی کی جانب سے مشورے کے بعد شہر کو 1990 کی خانہ جنگی جیسی صورتحال سے سے بچانے کے لیے وہاں سے چلے گئے تاکہ سڑکوں پر خوفناک لڑائی نہ چھڑ جائے۔

    اپنے بیان میں اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ’کابل کو چھوڑنا میرے لیے زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ تھا لیکن بندوقوں کو خاموش رکھنے اور کابل کے ساٹھ لاکھ شہریوں کو محفوظ رکھنے کا یہی واحد راستہ تھا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا ’میں نے اپنی زندگی کے 20 سال افغان لوگوں، جمہوریت اور ریاست کی بقا کے لیے کام کرنے کے لیے وقف کردیے۔ اپنے لوگوں اور اپنے نظریے کو چھوڑنے کا میرا ہرگز کبھی ارادہ نہیں تھا۔‘

    سابق افغان صدر کا کہنا تھا کہ یہ وقت مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے چلے جانے کے واقعات کی تفصیلات بتائیں تاہم وہ وہ اس بارے میں مستقبل قریب میں تفصیلات فراہم کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان پر افغان عوام کی ملکیت لاکھوں ڈالرساتھ لے جانے بے بنیاد الزامات کی وضاحت دینا ضروری ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ الزامات مکمل طور پر اور قطعی غلط ہیں۔‘

    ان کہنا تھا کہ کہ بدعنوانی ایک طاعون ہے جس نے ہمارے ملک کو دہائیوں سے سے جکڑ رکھا تھا اور بحیثیت صدر میری توجہ کا مرکز بد عنوانی کا خاتمہ تھا، مجھے یہ عفریت ورثے میں ملی جسے شکست دینا آسان نہیں تھا۔‘

    اشرف غنی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سرکاری آڈٹ کی پیشکش

    اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ان کے اور ان کی اہلیہ کے اثاثے سے ظاہر کیے گئے تھے اور انھوں نے پیش کش کی کہ اقوام متحدہ یا کسی آزاد ادارے سے وہ اپنا سرکاری آڈٹ یا معاشی تحقیقات کروانے کو تیار ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے قریبی اتحادی بھی اپنا معاشی آڈٹ کرانے کو تیار ہیں۔ انھوں نے دیگر سابق سینیئر حکام اور سیاسی شخصیات سے بھی ایسا ہی کرنے کو کہا۔

    اپنے بیان میں اشرف غنی نے تمام افغانوں خصوصاً افغان فوجیوں اور ان کے خاندانوں کی گذشتہ 40 سال کے دوران قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

    انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان قربانیوں کا یہ باب بھی اسی المیے پر ختم ہوا جو ان سے پہلے حکمرانوں نے دیکھا اور ان کے ملک کو استحکام نہ مل سکا۔

  20. افغان طالبان کی نئی حکومت اور کابینہ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟