گذشتہ رات امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ کابل ایئرپورٹ پر امریکی سپاہیوں کی موجودگی کی مدت میں توسیع نہیں کریں گے۔
اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے صدر جو بائیڈن نے شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان (آئی ایس کے پی) سے امریکی فوجیوں کو لاحق ممکنہ خطرے سے خبردار کیا تھا۔
خراسان ایک تاریخی خطے کا نام ہے جو موجودہ دور کے افغانستان اور پاکستان پر مشتمل تھا۔
دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان میں پہلے افغانستان اور پاکستان دونوں شامل تھے تاہم سنہ مئی 2019 میں دولتِ اسلامیہ نے صوبہ پاکستان کے نام سے ایک نئی شاخ کا اعلان کیا تھا۔
دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان کا قیام جنوری 2015 میں عمل میں آیا تھا اور اس میں مبینہ طور پر پاکستانی اور افغان طالبان کے سابقہ ارکان شامل ہیں۔
یہ افغان طالبان کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت گیر ہے اور دونوں گروہ ایک دوسرے کے سخت مخالف ہیں۔
اس گروہ کے نزدیک طالبان ’مرتد‘ ہیں اور اس لیے دولتِ اسلامیہ کے مطابق ان کا قتل جائز ہے۔
دولتِ اسلامیہ کی جانب سے امریکہ اور طالبان کے درمیان 29 فروری 2020 کو ہونے والے امن معاہدے کو بھی مسترد کیا گیا تھا اور انھوں نے لڑائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
اسی طرح اس گروپ نے طالبان کے افغانستان پر حالیہ قبضے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے خفیہ معاہدے کے تحت افغانستان طالبان کے حوالے کر دیا۔
سنہ 2019 کے اواخر میں عسکری جھڑپوں میں پہنچنے والے نقصانات اور اپریل 2020 میں سینیئر رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد سے دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان کو کافی دھچکا پہنچا ہے۔
تاہم اس تنظیم نے دوبارہ سر اٹھاتے ہوئے طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے دوران ہونے والے حملوں اور دھماکوں کی ذمہ دار قبول کی تھی۔
اپنے قیام سے اب تک اس گروہ نے افغانستان بھر میں کئی ہلاکت خیز حملے کیے ہیں۔
یہ گروپ سب سے زیادہ فعال مشرقی صوبے ننگرہار اور اس کے دارالخلافہ کابل میں ہے، مگر اس نے کُنڑ، جوزجان، پکتیا، قندوز اور ہرات میں بھی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان کی جانب سے افغان سکیورٹی فورسز، افغان سیاست دانوں اور وزارتوں، طالبان، مذہبی اقلیتوں بشمول شیعہ مسلمانوں اور سکھوں، امریکی اور نیٹو افواج اور بین الاقوامی اداروں بشمول امدادی تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ستمبر 2018 میں اس نے ایران میں ایک حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔