کابل میں ایک عینی شاہد نے ایئرپورٹ پر موجود ایک صحافی کو بتایا کہ ایئرپورٹ کے ابے گیٹ کے قریب ہونے والا دھماکہ بہت زوردار تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کی طرف سے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ایک شخص کہہ رہا ہے کہ جس جگہ پر ہم موجود تھے وہاں اچانک دھماکہ ہوا۔
اس شخص کے مطابق اس نے دھماکے والی جگہ کے قریب کم از کم 400 سے 500 کے قریب لوگ دیکھے ہیں اور اس شخص کے مطابق اس دھماکے کے کچھ متاثرین غیر ملکی افواج سے تعلق رکھتے تھے۔
اس عینی شاہد کے مطابق ہم نے سٹریچرز پر زخمیوں کو ہسپتال کی طرف لے کر گئے۔۔۔ اس دوران میرے کپڑے مکمل خون میں لت پت ہو گئے تھے۔
سابقہ مترجم: یہ ایک قیامت خیز لمحہ تھا
دیبورا ہینز، سکائی نیوز کے فارن افئیرز کے ایڈیٹر ہیں۔ انھوں نے برطانوی افواج کے ساتھ کام کرنے والے ایک سابق افغان مترجم سے بات کی ہے جو اپنی اہلیہ اور چھوٹے بچے کے ساتھ ایئرپورٹ پر بیرون ملک جانے کے لیے اپنی پرواز کا انتظار کر رہے تھے جب یہ دھماکہ ہوا۔
سابق مترجم کے مطابق یہ قیامت خیز منظر تھا، ہر طرف زخمی افراد تھے۔ انھوں نے سکائی نیوز کی ایڈیٹر کو مزید بتایا کہ اس نے دیکھا کہ لوگوں کے چہروں اور جسم پر خون ہی خون تھا اور وہ ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں۔