پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر
برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا ہے کہ ’پاکستان ہمیشہ سے انسانی بحران کی
صورت میں مدد کے لیے فرنٹ لائن پر رہا ہے۔ اس معاملے میں ہم نے اب 18 ممالک کے سات
ہزار افراد کے انخلا میں مدد کی ہے‘۔
وہ بی بی سی کے ’ٹو ڈے پروگرام‘
میں مشعل حسین کے اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ کیا پاکستان زمینی راستوں سے آنے والے
افغان پناہ گزینوں کے لیے تیار ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ یا تو ان افراد
نے پاکستان سے ٹرانزٹ کیا ہے یا یہ پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان میں سے پانچ
سو سے زیادہ افراد پاکستان نے بڑی مشکل صورتحال میں اپنی فضائی ضروریات پر ترجیح دیتے
ہوئے، خود اپنی ایئرلائن کے ذریعے نکالے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان نے
24 گھنٹوں میں 25 خواتین صحافیوں کی افغانستان سے نکلنے میں معاونت کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان بین
الاقومی برادری کے ساتھ دن رات کام کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہوائی یا سرحدی راستوں
کے ذریعے ، جو ہو سکتا ہے پاکستان کر رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان نے جتنا
کیا ہے وہ اب تک کسی ملک نے نہیں کیا۔
انھوں نے کہا کہ سرحدوں پر کوئی
افراتفری کی صورتحال نہیں ہے۔ پاکستان نے ویزا کے حصول میں آسانیاں پیدا کی ہیں ’ہم
لوگوں کو اجازت دے رہے ہیں کہ اگر وہ شرائط پر پورا اترتے ہیں تو وہ سرحد پر آکر ویزا
حاصل کر سکتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان پوری
بین الاقوامی برادری کے ساتھ کام کر رہا ہے اور وہ اس کے معترف ہیں‘۔