امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے دشمنوں کو معاف نہیں کریں گے۔
جو بائیڈن نے جمعرات کو کابل کے لیے
ایک ’مشکل دن‘ قرار دیا۔
اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا یہ ’دہشت گرد‘ حملہ اسی قسم
کا تھا جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں اور جس کی ہمیں فکر تھی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’کابل میں بدلتی صورتحال
سے مجھے مسلسل باخبر رکھا جارہا ہے۔‘
انھوں نے ان فوجیوں کی تعریف کی جو ان کے بقول ’دوسروں
کی زندگیاں بچانے کے خطرناک مشن میں مصروف‘ تھے۔
جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکی ’ان تمام افغان خاندانوں
کے لیے دکھی ہیں جنھوں نے اس ظالمانہ حملے میں بچوں سمیت اپنوں کو کھو دیا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’ہم غصہ ہونے کے ساتھ ساتھ دل شکستہ
بھی ہیں۔‘
امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا ’ہمیں بہت کچھ کرنا ہے۔ ہم یہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمیں صرف ثابت قدم رہنا ہے۔‘
’ہم اپنا مشن مکمل کریں گے اور فوجیوں کے انخلا کے بعد ہم ان ذرائع کی وضاحت کریں گے جن کے ذریعے ہم کسی بھی امریکی کو تلاش کر سکتے ہیں جو افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے۔‘
’ہم انہیں ڈھونڈیں گے اور ہم انہیں باہر نکالیں گے۔‘
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ’یہ حملہ کرنے والے اور ان کے علاوہ جو کوئی بھی امریکہ کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے وہ یہ جان لے: ہم معاف نہیں کریں گے۔ ہم نہیں بھولیں گے۔ ہم آپ کا شکار کریں گے اور آپ کو اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔‘
ان کے خیال میں یہ حملہ آور شاید ان جیلوں سے آئے ہوں گے جو طالبان نے افغانستان پر اپنی فتح کے دوران کھول دے تھیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا ’ہم دہشت گردوں سے گھبرائیں گے نہیں۔ ہم مشن کو نہیں روکیں گے۔ ہم انخلا جاری رکھیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ ان حملہ آوروں کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا۔