پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد مکمل طور پر پرسکون ہے اور تاحال کوئی بھی افغان پناہ گزین پاکستان نہیں آئے ہیں۔
بدھ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے انڈین میڈیا کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’کوئی افغان مہاجر پاکستان نہیں آ رہا۔‘
’طورخم اور چمن بارڈر بالکل پر سکون ہیں اور تجارت معمول کے مطابق جاری ہے۔ جتنے ٹرک آئے گئے ہیں وہ سب آرام سے گئے ہیں۔‘
ان کے مطابق سرحد پر کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ’14 اگست سے اب تک 613 پاکستانیوں کو وطن واپس لایا جا چکا ہے اور دو دن کے اندر اندر تمام پاکستانیوں کو ملک واپس لے آئیں گے۔ جو وہاں رہنا چاہیں وہ رہ سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ تمام ایئر پورٹس اور سرحدوں پر افغانستان سے آنے والے غیر ملکی سفارتکاروں اور میڈیا کے نمائندوں کو آمد پر ویزے دیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ اس عمل میں عموماً چھ ہفتے لگتے ہیں لیکن عمران خان کے حکم کے مطابق ایک دن میں ویزے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
ان کے مطابق تاحال 900 غیر ملکی سفارتکاروں کو اب تک پاکستان لایا جا چکا ہے۔
پاکستان کو خطے کی ’چرچل پوسٹ‘ قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھی کوئی سپر پاور پاکستان کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔
اپنی پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے طالبان کے ترجمان کی حالیہ پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو ذبیع اللہ مجاہد نے پریس کانفرس میں کہا ’وہی ہماری نیشنل سیکیورٹی کونسل کا ایجنڈا ہے۔‘
’ہم کسی کی زمین پر پاکستان سے مداخلت نہیں ہونے دیں گے اور کسی کو اپنی طرف مداخلت بھی کرنے نہیں دیں گے۔ ہم امن چاہتے ہیں۔۔۔ افغان اپنے مسئلوں کو مل بیٹھ کر حل کریں۔ ایک مستحکم افغانستان ایک پرسکون پاکستان کے لیے ضروری ہے۔‘
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا یا نہ کرنا وزیراعظم عمران خان یا دفتر خارجہ کا کام ہے۔