برطانوی فوج کے سابق سربراہ لارڈ رچرڈ ڈینیٹ نے امریکہ کے صدر جو بائیڈن پر افغانستان میں برسہا برس کے ’صبر آزما اور جانفشانی سے‘ کیے گئے کام کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔
ریٹائرڈ جنرل رچرڈ ڈینیٹ 2006 سے 2009 تک برطانیہ کے چیف آف جنرل سٹاف رہے ہیں۔
برطانوی دارالامرا میں خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا: ’افغانستان میں بحران جس انداز میں اور جتنی جلدی ہوا، وہ صدر جو بائیڈن کی جانب سے گیارہ ستمبر کے 20 سال مکمل ہونے پر افغانستان سے تمام امریکی افواج نکالنے کے فیصلے کا براہِ راست نتیجہ ہے۔‘
’اُنھوں نے ایک ہی جھٹکے میں افغانستان میں نظام تیار کرنے، اُن کی معیشت کو ترقی دینے، اُن کی سول سوسائٹی کو نئے خطوط پر استوار کرنے اور اُن کی سکیورٹی فورسز کی صلاحیت میں اضافے کے گذشتہ پانچ، 10 اور 15 برس کے صبر آزما اور جانفشانی سے کیے گئے کام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ اب صرف ایک اُمید باقی رہ گئی ہے کہ سنہ 2021 کے طالبان سنہ 2001 والے طالبان نہیں ہوں گے۔
لارڈ ڈینیٹ نے افغانستان کی فوجی مہم پر عوامی انکوائری کا مطالبہ بھی کیا۔
اُنھوں نے کہا کہ اس انکوائری میں ’سیاسی اور سینیئر فوجی سطح‘ پر ہونے والے سٹریٹجک فیصلوں کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔