افغان مترجمین کو تنہا چھوڑنے کا الزام، برطانوی وزیرِ خارجہ تنقید کی زد میں
برطانوی وزیرِ خارجہ ڈومینیک راب کو افغانستان میں پیدا ہونے والے بحران کے معاملے پر کڑی تنقید کا سامنا ہے کیونکہ جمعے کو یہ بات سامنے آئی کہ برطانوی فوج کی مدد کرنے والے مترجمین کی مدد کے لیے جو فون کال اُنھوں نے گذشتہ ہفتے کرنی تھی، وہ نہیں کی۔
ایک جونیئر وزیر کو افغانستان میں حکام سے بات کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا تاہم دفترِ خارجہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث افغان حکومت کے ختم ہونے سے قبل فون کال کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔‘
اس دوران وزیرِ خارجہ یونان میں چھٹیوں پر تھے۔ جب یہ بات سامنے آئی کہ ڈومینیک راب افغان وزیرِ خارجہ حنیف اتمر کو گذشتہ ہفتے کال کرنے کے لیے موجود نہیں تھے تو اپوزیشن جماعتوں نے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
اپوزیشن کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ برطانوی حکومت نے افغانستان پر طالبان کے قبضے کے دوران اُن افراد کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے جنھوں نے برطانوی فوج کے لیے مترجم کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔
کابینہ میں اُن کے ساتھیوں نے وزیرِ خارجہ کی حمایت کی ہے جو استعفے کے مطالبے مسترد کر رہے ہیں تاہم اُن کی اپنی جماعت کے کچھ ارکانِ پارلیمنٹ بھی ان سے خوش نہیں ہیں۔