آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ دوسری جانب احمد مسعود نے پنجشیر میں نو ہزار جنگجو جمع کر لیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. افغان مترجمین کو تنہا چھوڑنے کا الزام، برطانوی وزیرِ خارجہ تنقید کی زد میں

    برطانوی وزیرِ خارجہ ڈومینیک راب کو افغانستان میں پیدا ہونے والے بحران کے معاملے پر کڑی تنقید کا سامنا ہے کیونکہ جمعے کو یہ بات سامنے آئی کہ برطانوی فوج کی مدد کرنے والے مترجمین کی مدد کے لیے جو فون کال اُنھوں نے گذشتہ ہفتے کرنی تھی، وہ نہیں کی۔

    ایک جونیئر وزیر کو افغانستان میں حکام سے بات کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا تاہم دفترِ خارجہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث افغان حکومت کے ختم ہونے سے قبل فون کال کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔‘

    اس دوران وزیرِ خارجہ یونان میں چھٹیوں پر تھے۔ جب یہ بات سامنے آئی کہ ڈومینیک راب افغان وزیرِ خارجہ حنیف اتمر کو گذشتہ ہفتے کال کرنے کے لیے موجود نہیں تھے تو اپوزیشن جماعتوں نے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

    اپوزیشن کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ برطانوی حکومت نے افغانستان پر طالبان کے قبضے کے دوران اُن افراد کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے جنھوں نے برطانوی فوج کے لیے مترجم کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔

    کابینہ میں اُن کے ساتھیوں نے وزیرِ خارجہ کی حمایت کی ہے جو استعفے کے مطالبے مسترد کر رہے ہیں تاہم اُن کی اپنی جماعت کے کچھ ارکانِ پارلیمنٹ بھی ان سے خوش نہیں ہیں۔

  2. طالبان کے آنے سے ’مستقبل میں خطرات میں اضافہ ہوگا‘

    برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کے سابق سربراہ لارڈ جوناتھن ایوانز نے کہا ہے کہ برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے افغانستان مں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں پر توجہ دینے کے بجائے تعمیر نو پر توجہ دینا اس ’بڑی ناکامی‘ کا سبب بنا ہے۔

    بی بی سی ریڈیو فور سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے ہے کہ ’ہمیں چاہیے تھا کہ ہم انسداد دہشت گردی کے مقاصد پر کام کرتے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اب آنے والے وقتوں میں افغانستان سے دو مختلف نوعیت کے خطرات سامنے آئیں گے۔

    ’میرے خیال میں دو مسئلے ہیں۔ اب وہاں پر القاعدہ جیسے گروہ کو مزید جگہ ملے گی اور پھر یہ بھی خبریں ہیں کہ دولت اسلامیہ کے عناصر وہاں موجود ہیں۔ اگر ان گروہوں کو موقع مل گیا کہ وہ اپنی موجودگی مستحکم کر لیں تو یہ مغربی ممالک کے لیے دوبارہ خطرہ بن سکتے ہیں۔‘

    ’دوسرا نفسیاتی اثر جو لوگوں پر آئے گا یہ دیکھتے ہوئے کہ مغربی ممالک افغانستان میں شکست کھا گئے تو یہ ان کو مزید راغب کرے گا اور اس کی وجہ سے وہ گروپ جو برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں ہیں انھیں مزید حوصلہ ملے گا۔ تو میرے خیال میں نہ صرف عملی طور پر بلکہ نفسیاتی طور پر بھی آنے والے مہینوں اور سالوں میں خطرات میں اضافہ ہوگا۔ ‘

  3. کابل ایئرپورٹ: آزادی کی منزل یا خطرات سے بھرا راستہ

    گذشتہ اتوار کو طالبان کے قبضے کے بعد سے کابل کا حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہزاروں افراد کے لیے امید کی آخری کرن کے طور پر ابھرا ہے جہاں وہ تمام افراد جو ملک چھوڑنے کے لیے بیتاب ہیں وہ وہاں کا رخ کر رہے ہیں۔

    افغان شہری ہوں یا غیرملکی، تمام افراد کی ساری امید اب اس بات سے وابستہ ہے کہ وہ کس طرح کابل ایئرپورٹ میں داخل ہو جائیں۔

    لیکن طالبان نے کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ افغان افراد ملک چھوڑ کر جائیں۔ انھوں نے ایئرپورٹ جانے والے مرکزی راستے میں جگہ جگہ رکاوٹیں قائم کر دی ہیں اور ان افراد پر کہیں کہیں حملے بھی کیے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک طالبان ترجمان نے کہا ہے کہ ان واقعات میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب ایئرپورٹ کے کمپاؤنڈ اندر چار ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جنھوں نے ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ اتوار کے بعد سے کمپاؤنڈ کے اندر کم از کم دس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے چار افراد وہ تھے جو ملک چھوڑنے کی کوشش میں امریکی طیارے سے لپٹ گئے لیکن پرواز کے بعد گر کر ہلاک ہو گئے۔

    ان ہلاک ہونے والوں میں سے ایک افغانستان کی یوتھ فٹبال ٹیم کا ایک کھلاڑی بھی شامل ہے۔

  4. افغانستان کے پڑوسی ممالک سے پناہ گزینوں کے لیے سرحدیں کھولنے کی اپیل

    اقوام متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین یو این ایچ سی آر نے جمعہ کو کہا کہ وہ افغان جو ملک چھوڑے نے کے خواہشمند ہیں ان کی بڑی تعداد ایسا کرنے سے قاصر ہے اور ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں اگر انھیں ’باہر جانے کا راستہ نہ ملا۔‘

    یو این ایچ سی آر کی ترجمان شبیہ منتو نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کے تمام پڑوسی ممالک اپنی سرحدیں کھولیں تاکہ پناہ حاصل کرنے والے افغان افراد وہاں جا سکیں۔

    جنیوا میں ایک پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یو این ایچ سی آر کو افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے خدشات ہیں، بالخصوص خواتین اور بچوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں۔‘

  5. برطانوی وزیر دفاع: امید ہے طالبان بدل گئے ہوں گے

    برطانیہ کے وزیر دفاع جیمز ہیپی کو امید ہے کہ یہ طالبان وہ نہیں جو پہلے افغانستان پر قابض ہوئے تھے۔

    ’مجھے امید ہے کہ طالبان بدل گئے ہوں گے۔ توقع ہے کہ وہ بین الاقوامی بدنامی نہیں چاہیں گے اور اس بار ان کا رویہ مختلف ہوگا۔‘

    برطانوی چینل آئی ٹی وی کے پروگرام ’گڈ مارننگ بریٹین‘ میں بات چیت کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا: ’ہم نے طالبان کی اصلیت سے منھ نہیں موڑا لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ویسے نہیں ہوں گے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ ویسے نہیں ہوں گے۔‘

    انھوں نے اعتراف کیا کہ انھیں اس بات پر دکھ ہے کہ برطانیہ افغانستان میں ان کے ساتھ کام کرنے والے ہر شخص کو نہیں نکال پائیں گے تاہم ان کی افواو کی کوشش ہوگی کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نکالنے کی کوشش کریں گے

  6. بریکنگ, نام نہاد دولت اسلامیہ: طالبان نے کچھ فتح نہیں کیا، امریکہ ملک ان کے حوالے کر گیا ہے, بی بی سی مانیٹرنگ

    افغانستان میں طالبان کے غلبے کے بعد جاری ہونے والے اپنے پہلے تبصرے میں نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے کہا ہے کہ اس کے جہادی حریف نے افغانستان میں کوئی فتح حاصل نہیں کی بلکہ امریکہ نے ملک ان کے حوالے کر دیا ہے۔

    دولت اسلامیہ نے 19 اگست کو اپنے ہفتہ وار اخبار النبا کے اداریے میں لکھا ہے ’یہ امن کی فتح ہے، اسلام کی فتح نہیں۔۔ مذاکرات کی فتح ہے، جہاد کی نہیں‘۔

    دولت اسلامیہ نے ’نئے طالبان‘ کو ’اسلام کی آڑ میں ایک آلے کے طور پر‘ پیش کیا، جسے امریکہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور خطے میں دولت اسلامیہ سے لڑنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

    شدت پسند تنظیم کے حامیوں نے پہلے کہا تھا کہ افغان طالبان اب واشنگٹن کا ’گند صاف‘ کریں گے۔

    طالبان اور دولت اسلامیہ ایک دوسرے کے سخت حریف ہیں۔

    واضح رہے کہ طالبان نے افغانستان میں دولت اسلامیہ کی موجودگی کو نمایاں طور پر کمزور کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر 2019 میں جب طالبان کے حملوں اور امریکی اور افغان فورسز کی بیک وقت کارروائیوں کی وجہ سے دولت اسلامیہ مشرقی افغانستان میں اپنے گڑھ سے نکلنے پر مجبور ہو گئی تھی۔

    اس کے بعد سے دولت اسلامیہ نے طالبان پر امریکہ کے ساتھ ملی بھگت کا الزام لگایا۔ اپنے تازہ ترین اداریے میں دولت اسلامیہ نے کہا ہے کہ اس کے عسکریت پسند جہاد کے ایک نئے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    طالبان نے فروری 2020 میں امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے اور افغانستان کو بین الاقوامی جہادی گروپوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہونے دینے کے عزم کے بعد، آئی ایس نے کہا کہ وہ کسی معاہدے کا پابند نہیں ہے اور ملک میں اپنی جہادی مہم جاری رکھے گا۔

    اداریے میں دولت اسلامیہ نے اس شک کا اظہار کیا ہے کہ طالبان ’اصل‘ شریعت لاگو نہیں کریں گے بلکہ وہ ’قدرے نرم‘ نوعیت کی شریعت نافذ کریں گے۔

  7. جرمن خبر رساں ادارے کے صحافی کی تلاش میں طالبان نے ’ایک رشتہ دار کو قتل، دوسرے کو گولی مار دی‘

    جرمنی کے خبر رساں ادارے ڈوئچے ویلے کے مطابق طالبان عسکریت پسندوں نے ان کے ایک صحافی کی تلاش کے دوران اس کے رشتہ دار کو قتل کر دیا ہے جبکہ ایک اور شخص کو گوی مار کر شدید زخمی کیا گیا ہے۔

    ڈوئچے ویلے کے صحافی کو ڈھونڈنے کے لیے طالبان کے جنگجو مغربی شہر ہرات میں گھر گھر تلاشی لے رہے تھے۔

    اطلاعات کے مطابق صحافی کے دیگر رشتہ دار طالبان سے بچ کر فرار ہو گئے ہیں۔

    ڈوئچے ویلے کے ڈائریکٹر جنرل پیٹر لمبرگ کا کہنا ہے ’کل ہرات میں طالبان کے ہاتھوں ہمارے ایک ایڈیٹر کے قریبی رشتہ دار کا قتل ایک افسوسناک سانحہ ہے اور یہ ہمارے تمام ملازمین اور ان کے خاندانوں کو لاحق خطرات کا ثبوت ہے۔‘

    ’یہ واضح ہے کہ طالبان نے کابل اور دیگر صوبوں میں صحافیوں کو ڈھونڈنے کے لیے منظم تلاش شروع کر دی ہے۔ وقت ختم ہو رہا ہے۔‘

    طالبان نے حالیہ ہفتوں میں ڈوئچے ویلے کے کم از کم تین صحافیوں کے گھروں پر حملے کیے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی ایک دستاویز بتاتی ہے کہ طالبان نیٹو اور امریکی افواج کے لیے کام کرنے والوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن تیز کر رہے ہیں۔

  8. ’میرے نہیں پوری قوم کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے‘

    ’مجھے صدمہ پہنچا ہے اور یقین نہیں آ رہا۔‘

    اشرف غنی کی حکومت کی وزیرِ تعلیم رنگینہ حمیدی کا کہنا ہے کہ انھیں صدر غنی سے ایسے ملک چھوڑ جانے کی توقع نہیں تھی۔

    دیکھیے بی بی سی کے ساتھ ان کی خصوصی گفتگو۔

  9. پانچ سالہ افغان بچہ جنگ سے بچ نکلا مگر برطانیہ پہنچ کر زندگی کی بازی ہار گیا

    پانچ سالہ افغان پناہ گزین محمد منیب مجیدی کا خاندان برطانیہ میں اپنی جان بچانے کے لیے آیا تھا، وہ یہاں نئی ​​زندگی شروع کرنے آئے تھے لیکن قسمت کو ایسا منظور نہ تھا۔

    محمد کے والد افغانستان میں برطانوی سفارت خانے کے لیے کام کرتے تھے اور حکومت کی سکیم کے تحت برطانیہ پہنچے تھے تاکہ ان ترجمانوں اور معاون عملے کو دوبارہ آباد کیا جا سکے جن کی جانوں کو طالبان سے خطرہ ہو۔

    محمد منیب مجیدی کا خاندان افغانستان کی جنگ سے تو بچ کر نکل آیا مگر برطانیہ پہنچنے کے بعد اپنے بیٹے کو کھو دیا۔

    گذشتہ روز پولیس نے شیفیلڈ ہوٹل کی کھڑکی سے گر کر ہلاک ہونے والے اس پانچ سالہ لڑکے کی شناخت کر لی ہے جن کا نام محمد منیب مجیدی بتایا گیا ہے۔

    مجیدی نویں منزل کے کمرے سے گر گیا جہاں وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہ رہا تھا۔

    ہوٹل میں محمد کے خاندان کے ساتھ رہنے والے ایک ساتھی افغان نے بتایا کہ مجیدی کا خاندان 15 دن پہلے برطانیہ پہنچا تھا۔

    انھیں افغانی شہریوں کی نقل مکانی اور امدادی پالیسی (اے آر اے پی) سکیم کے تحت برطانیہ منتقل کیا گیا تھا۔

    افغانستان میں برطانوی فوج کے مترجم کے طور پر کام کرنے والے اس شخص نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے انھیں لڑکے کے گرنے کے بارے میں بتایا اور وہ مدد کے لیے باہر گئے۔

    انھوں نے بتایا کہ ہوٹل میں موجود ہر شخص اس واقعے کے بعد سے پریشان ہے۔

  10. پاکستانی سفیر: اسلام آباد افغان طالبان سے رابطے میں ہے

    افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد افغان طالبان کے ساتھ رابطے میں ہے اور کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد عالمی برادری کو سہولت فراہم کر رہا ہے۔

    کابل میں پاکستان کے نجی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے منصور احمد خان کا کہنا تھا کہ ’طالبان سے رابطہ ہوا ہے، ہم ان کے ساتھ دوحہ امن عمل میں بھی شامل تھے، قطرمیں ملا عبدالغنی برادر اور دیگر سے بات چیت ہوئی تھی اور عبداللہ عبداللہ کی سربراہی میں افغان وفد سے بھی ہماری بات ہوئی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ وہ ’دونوں فریقوں سے رابطے میں ہیں‘ لیکن ان لوگوں کے نام بتانے سے گریز کیا جن سے وہ بات چیت کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں شراکت داری پر مبنی حکومت دیکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ خطے میں پائیدار امن کی طرف بڑھ سکے۔

    پاکستانی سفیر نے کہا کہ اسلام آباد پہلے جب بھی کابل سے مذاکرات کرتا رہا ہے، اس نے ہمیشہ افغانستان سے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو عسکریت پسند گروہوں جیسے تحریک طالبان پاکستان، نام نہاد دولت اسلامیہ، القاعدہ یا ای ٹی آئی ایم (جس سے چین کو خطرہ ہے) کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔

    چند روز قبل طالبان کے دارالحکومت پر قبضے کے بعد افغانستان میں سفارتی بحران کے بارے میں بات کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے اس نازک موڑ پر عالمی برادری اور افغانیوں کو سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  11. افغانستان کا بحران: امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ انتھونی بلنکن اور برطانوی وزیرِ خارجہ ڈومینک راب پر شدید تنقید

    امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کی ایک خبر کے مطابق افغانستان میں تقریباً 25 امریکی سفارت کاروں نے گذشتہ ماہ ایک خط میں سیکریٹری آف سٹیٹ انتھونی بلنکن کو کابل پر طالبان کی جانب سے قبضے کے خدشے کے حوالے سے آگاہ کیا تھا۔

    خبر میں کہا گیا ہے کہ یہ خط و کتابت 13 جولائی کو ایک خفیہ ذریعے کے راستے بھیجی گئی جس کا مقصد احتجاج ریکارڈ کرنا تھا اور اس میں بحران کے خاتمے اور انخلا کو تیز کرنے کے طریقوں پر سفارشات موجود تھیں۔

    بائیڈن حکومت پر تنقید کی جاری ہے کہ اس نے سفارت کاروں اور دیگر شہریوں کے ساتھ معاونوں اور مترجموں کو بھی ملک سے نکالنے کی کوششوں میں تاخیر کی ہے۔

    امریکی حکام نے تفصیلات کی تصدیق کرنے یا خط و کتابت کے مندرجات کو شیئر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

    دوسری جانب افغانستان کے بحران سے نمٹنے کے حوالے سے برطانوی سیکریٹری خارجہ ڈومینک راب بھی شدید تنقید کی زد میں ہیں۔

    بتایا جا رہا کہ حکومت نے سیکرٹری راب سے کہا تھا کہ وہ افغانستان سے مترجموں کو نکالنے میں مدد حاصل کرنے کے لیے ایک فون کال کریں، لیکن سیکرٹری دیگر کالوں میں مصروف تھے لہذا ایک جونیئر وزیر کو یہ کام سونپا گیا۔

    تاہم اب بتایا جا رہا ہے کہ یہ فون کال ممکن نہیں ہو سکی۔

    جب یہ انکشاف ہوا کہ گذشتہ جمعہ کو جب طالبان کابل کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے، سیکرٹری راب چھٹیوں پر تھے اور یہ اہم فون کال کرنے کے لیے دستیاب نہیں تھے

    اپوزیشن جماعتوں نے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

  12. طالبان کا افغانستان: 23 برس قبل جب طالبان نے مزارِ شریف فتح کیا

    15 اگست 2021 کو طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضہ کر لیا اور ملک کے صدر اشرف غنی افغانستان چھوڑ کر چلے گئے۔

    طالبان اس سے قبل نوے کی دہائی میں افغانستان میں برسراقتدار رہ چکے ہیں۔ جانیے اس وقت کا آنکھوں دیکھا حال اس آڈیو سٹوری میں جس کے مصنف ہیں افغان صحافی مرتضیٰ بلخی۔

  13. جنرل ٹیلر: موسم اجازت دے تو امریکہ کابل سے یومیہ 9000 افراد کو نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے

    افغان بحران پر جو بائیڈن کی حکومت پر تنقید بڑھنے کے بعد، پینٹاگون نے کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے افغان شہریوں کے باقاعدہ انخلا کی تصاویر جاری کی ہیں۔

    نیٹو کے ایک عہدیدار اور ایک طالبان عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ طالبان عسکریت پسندوں سے فرار ہونے کے لیے حال ہی میں کابل ایئرپورٹ پر حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    امریکی فوج نے جمعرات کو کہا کہ اس کی افواج کابل ہوائی اڈے کی حفاظت کر رہی ہیں۔

    پینٹاگون نے ٹوئٹر پر تصاویر شائع کی ہیں جن میں امریکی فوجی لوگوں کو کھانا پہنچا رہے ہیں اور افغان شہری طیاروں میں سوار ہونے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔

    پینٹاگون نے کہا ہے کہ وہ افغانستان سے انخلا کے عمل کو تیز کرے گا۔ پینٹاگون کا یہ بھی کہنا ہے کہ پچھلے پانچ دنوں میں 7000 شہری ان پروازوں کے ذریعے ملک سے نکلے ہیں۔

    جنرل ہینک ٹیلر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ صرف گذشتہ 24 گھنٹوں میں 2 ہزار افراد کو نکالا گیا ہے۔

    جنرل ٹیلر نے کہا کہ اگر اب موسم اجازت دے تو امریکہ کابل سے روزانہ 9000 افراد کو نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

  14. ایمنسٹی انٹرنیشنل: جولائی میں طالبان نے ہزارہ افراد کا قتل عام کیا

    انسانی حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ طالبان نے حال ہی میں افغانستان میں ہزارہ اقلیت کے کئی افراد کا ’قتل عام‘ کیا اور ان پر وحشیانہ تشدد کیا۔

    صوبہ غزنی میں جولائی کے اوائل میں ہونے والی ہلاکتوں کے متعلق عینی شاہدین نے دل دہلا دینے والے بیانات دیے ہیں۔

    حالیہ ہفتوں میں افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد سے طالبان نے اپنا ایک بدلا ہوا روپ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ طالبان کی خوفناک طرزِ حکمرانی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

    ہزارہ برادری افغانستان کا تیسرا بڑا نسلی گروہ ہے جو مذہبی لحاظ سے شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور سنی اکثریت والے افغانستان میں طویل مدت سے امتیازی سلوک اور ظلم و ستم کا سامنا کرتے آئے ہیں۔

    جمعرات کو شائع ہونے والی رپورٹ میں ایمنسٹی نے کہا کہ مشرقی صوبے غزنی کے ضلع مالستان میں 4 اور 6 جولائی کے درمیان نو ہزارہ افراد کو قتل کیا گیا۔

    گروپ نے عینی شاہدین کے انٹرویو کیے اور قتل کے بعد فوٹو گرافی کے شواہد کا جائزہ لیا۔

    گاؤں والوس نے بتایا کہ وہ حکومتی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان لڑائی میں شدت آنے پر پہاڑوں کی طرف بھاگ گئے تھے۔

    جب ان میں سے کچھ کھانا لینے کے لیے منڈارخت گاؤں واپس آئے تو طالبان نے ان کے گھر لوٹ لیے ہیں اور ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ مرد جو اپنے گھروں کی طرف جاتے ہوئے منڈارکھٹ سے گزرے تھے ان پر بھی حملہ کیا گیا۔

    مبینہ طور پر کُل چھ افراد کو گولیاں ماری گئیں، کچھ کو سر میں بھی گولیاں ماری گئیں جبکہ تین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق ایک شخص کا اس کے اپنے رومال سے گلا گھونٹا گیا اور اس کے بازو کے پٹھوں کو کاٹ کر الگ کر دیا گیا۔ دوسرے کے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا۔

    ایک عینی شاہد نے بتایا کہ انھوں نے جنگجوؤں سے پوچھا کہ ان کی برادری کے افراد پر ایسا ظلم کیوں کیا؟

    مبینہ طور پر ایک جنگجو نے جواب دیا ’لڑائی میں ہر کسی کو مرنا پڑتا ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے پاس بندوقیں ہیں یا نہیں۔ یہ جنگ کا وقت ہے۔‘

  15. برطانوی سیکرٹری دفاع: کابل سے کوئی طیارہ خالی نہیں آ رہا

    برطانیہ کے سکریٹری دفاع کا کہنا ہے کہ کابل سے برطانوی اور افغانیوں کو لے جانے والا کوئی بھی طیارہ خالی پرواز نہیں کر رہا۔

    بین والیس نے ان رپورٹوں کو مسترد کیا کہ کابل سے آنے والی کچھ پروازوں میں صرف چند لوگ شامل تھے۔

    انہوں نے بی بی سی بریک فاسٹ کو بتایا کہ ’ہر گھنٹہ اہم ہے‘ اور تصدیق کی کہ ’طالبان ہمارے لوگوں کو گزرنے دے رہے ہیں۔‘

    لیکن ایئر پورٹ کی حدود میں طالبان کی قائم کردہ چوکیوں سے افراتفری کے مناظر سامنے آ رہے ہیں۔

    تقریباً 4500 امریکی فوجی کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر عارضی کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں، تقریباً 900 برطانوی فوجی بھی انخلا کی پروازوں کو محفوظ بنانے کی کوششوں کے حصے کے طور پر گشت پر ہیں۔

    طالبان سفری دستاویزات کے بغیر افغانیوں کو داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے ایک طالبان عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ اتوار سے اب تک کابل ہوائی اڈے کے ارد گرد بارہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    لیکن درست کاغذات رکھنے والوں کو بھی ہوائی اڈے تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے، اطلاعات کے مطابق کچھ لوگوں کو طالبان کے محافظوں نے مارا پیٹا بھی ہے۔

  16. کابل ائیرپورٹ پر فوجیوں کے حوالے کیے جانے والے بچے کی ڈرامائی تصویر کے پیچھے کہانی

    کابل ایئر پورٹ کے باہر لوگوں کے بڑھتے ہوئے ہجوم میں سے ایک چھوٹا بچہ جمعرات (19 اگست) کو کابل ائیرپورٹ کی حفاظت کرنے والے ایک امریکی فوجی کے ہاتھوں حفاظت کے لیے لگائی گئی خاردار تاروں سے گزارا گیا۔

    سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی یہ فوٹیج بہت سے افغانیوں میں مایوسی کے اس احساس کی عکاسی کرتی ہے جو طالبان کی اقتداد میں واپسی سے خوفزدہ ہیں۔

    ہزاروں لوگ کابل ہوائی اڈے سے بیرون ملک جانے والی فوجی اور سویلین پروازوں سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن افراتفری کے مناظر کے درمیان کچھ ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں اور ہجوم پر قابو پانے کے لیے مسلح طالبان کے ارکان ہوا میں فائرنگ کر رہے ہیں۔

    امریکی فوجی بھی وہاں تعینات ہیں تاکہ ہوائی اڈے کو بند نہ کیا جائے جبکہ غیر ملکیوں اور افغانیوں کا انخلا جاری ہے۔

    دریں اثنا کابل پر طالبان کے قبصے کے بعد امریکی فوج 20 سال کی لڑائی کے بعد افغانستان سے انخلا مکمل کر رہی ہے۔

  17. لندن کی افغان نژاد کونسلر کی کابل سے بچ نکلنے کی داستان

  18. بریکنگ, ’طالبان افغان حکومت، مغربی افواج کے ساتھ کام کرنے والوں کی تلاش میں گھر، گھر جا رہے ہیں‘

    اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ طالبان سابق افغان حکومت یا نیٹو افواج کے ساتھ کام کرنے والے افغانوں کی تلاش میں گھر، گھر جا رہے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان جنگجو ایسے لوگوں کے خاندانوں کو بھی ہراساں کر رہے ہیں۔

    حالیہ دنوں میں طالبان کی جانب سے کئی بار یقین دہانی کروائی گئی کہ سابق حکومت یا مغربی افواج کے ساتھ کام کرنے والوں کے لیے ’عام معافی‘ ہے اور ’کسی سے بلدہ نہیں لیا جائے گا۔‘

    تاہم بین الاقوامی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ کو ان دعوؤں پر شک ہے۔

    یہ دعوی اقومِ متحدہ کے ساتھ کام کرنے والے RHIPTO نارویجن سنٹر فار گلوبل انیلیسیز کی جانب سے ایک خفیہ دستاویز میں سامنے آیا۔ یہ ادارہ اقاومِ متحدہ کو خفیہ معلومات قراہم کرتا ہے۔

    ادارے کی سربراہ کرسچن نعلیمین نے بی بی سی کو بتایا: ’اس وقت لوگوں کی ایک بڑی طالبان کے ہدف پر ہے اور ان کے لیے خطرہ صاف ظاہر ہے۔‘

    ادارے کے مطابق طالبان نے تحریری حکم جاری کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے آپ کو طالبان کے حوالے نہیں کرتے تو ایسے لوگں کے خاندان والوں کو حراست میں لے کر سزائیں دی جائیں گی۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ ’طالبان کی بلیک لسٹ‘ پر موجود ہر شخص کی جان خطرے میں ہے اور خدشہ ظاہر کیا کہ سابعق حکومتی یا فوجی اہلکاروں کو بڑے پیمانے پر ہلاک کیا جا سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ بین الاقوامی مشن اپنے شہریوں کو تیزی سے کابل سے نکال رہے ہیں۔ ایک نیٹو اہلکار کے مطابق گذشتہ پانچ دنوں میں تقریباً 18 ہزار غیر ملکیوں کو کابل ایئر پورٹ کے ذریعے ملک سے نکالا گیا ہے۔

  19. ٹرمپ کا ’شاندار معاہدہ‘ جس نے افغانستان کی قسمت کا فیصلہ کر دیا

  20. کابل میں مسلسل فائرنگ کی گونج اور قندھار کے سوئمنگ پول میں ڈبکیاں لگاتے طالبان