افغانستان پر قبضے کے بعد طالبان یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملک میں حالات اب معمول پر آرہے ہیں۔
اسی سلسلے میں انھوں نے سڑک کی تعمیر اور تعمیراتی کام کی بحالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں۔
طالبان کے عربی زبان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ نے 19 اگست کو ایک ویڈیوشائع کی جس میں بہت سے لوگ کھڑے ہیں اور ایک اعلان کیا جا رہا ہے۔
ٹویٹر پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ طالبان کی 'وزارت تعمیرات عامہ' نے ایک کمپنی کے ساتھ صوبہ زابل میں قلات اور صوبہ میدان وردک کے میدان شہر کے درمیان ایک سڑک بنانے کا معاہدہ کیا ہے۔
ٹویٹ میں کمپنی کا نام گلو گلیکسی کنسٹرکشن بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ تین ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔
ایک دن پہلے پوسٹ کی گئی ویڈیو کو امارات اسلامی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شئیر کرتے ہوئے ساتھ لکھا گیا کہ وزارت تعمیرات عامہ ملک بھر میں سڑکوں کی تعمیر نو کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔
یہ بھی کہا گیا کہ قندھار اور ہرات کے درمیان سڑک کی تعمیر تیزی سے شروع ہوئی ہے۔
اس سے پہلے یہ دونوں ویڈیوز ایک اور ٹوئٹر اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی تھیں جس نے خود کو طالبان کی وزارت پبلک ورکس کا آفیشل اکاؤنٹ قرار دیا ہے۔
طالبان نے 15 اگست کو افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضہ کر لیا تھا تاہم حکومت کا اعلان کرنا ابھی باقی ہے۔
ٹویٹر ہینڈل جو خود کو وزارت کا آفیشل اکاؤنٹ بتاتا ہے، اس کے علاوہ طالبان کا عربی زبان کا اکاؤنٹ اور طالبان کے ترجمان محمد نعیم کا اکاؤنٹ بھی اسی قسم کی پوسٹس شئیر کر رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں افغانستان میں تعمیر نو سے متعلق بہت سی پوسٹس اس اکاؤنٹ سے شئیر کی گئی ہیں، جن میں سے کئی نعیم نے بھی شیئر کی ہیں۔
ان پوسٹس میں افغانستان کے کئی صوبوں اور علاقوں جیسے لوگر، میدان وردک، زابل میں سڑکوں کی تعمیر کی تصاویر ہیں۔
یہ ٹوئٹر اکاؤنٹ پہلی بار دسمبر 2014 میں بنایا گیا تھا۔ تاہم اس پر پہلی پوسٹ اس سال 9 جولائی کو دیکھی گئی ہے۔