جنرل باجوہ کے کہنے پر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی: مولانا فضل الرحمان
جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ میجر جنرل فیض حمید نے ایک ملاقات میں تمام سیاسی جماعتوں کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اس کی تردید کی ہے اور ایسی کسی ملاقات سے اپنی لاعلمی ظاہر کی ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان باقاعدہ رابطے شروع ہوگئے ہیں۔
لائیو کوریج
بریکنگ, عمران خان چاہتے ہیں کہ ہم مرکز، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اپنی حکومت بنائیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے بات نہیں ہو گی: بیرسٹر گوہر
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی مرکز، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حکومت بنائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’مرکز اور پنجاب میں چھوٹی پارٹیوں سے بات کریں گے لیکن پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ سے بات نہیں ہو گی۔‘
انھوں نے کہا کہ اس وقت تک صرف خیبر پختونخوا میں وزارت اعلی کے لیے نامزدگی ہوئی ہے اور عمران خان نے ملاقات میں علی امین گنڈہ پور کے نام کی منظوری دے دی ہے۔
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کے پاس زیادہ مرکز اور پنجاب میں سادہ اکثریت نہیں ہے اور حکومت بنانے کے لیے اسے کسی بڑی جماعت کے ساتھ اتحاد کرنا پڑے گا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے قومی اسمبلی اور پنجاب اور سندھ کی صوبائی اسمبلی کی متعدد سیٹوں پر دھاندلی کا الزام عائد کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں جماعت کی جانب سے الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹس سے رجوع کر لیا گیا ہے۔
اب کرنا کیا ہے؟ عاصمہ شیرازی کا کالم
عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے لیے علی امین گنڈا پور کے نام کی منظوری دے دی
عمران خان نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے لیے علی امین گنڈا پور کے نام کی منظوری دے دی ہے۔
نومئی کے واقعات سے متعلق درج ہونے والے مقدمات
کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی اور سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے
ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے علی امین گنڈا پور کو کے پی کے کا وزیر
اعلیٰ نامزد کیا ہے۔
جیل میں اس ملاقات میں موجود انگریزی روزنامہ ’دی نیشن‘ کے نمائندے علی حمزہ نے بی بی سی کو اس منظوری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے میڈیا کو یہ بتایا کہ ان کی جماعت کا ’پیپلز پارٹی نون لیگ اور ایم کیو ایم سے اتحاد نہیں ہو سکتا۔‘
عمران خان نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی سے ملک میں عدم
استحکام بڑھے گا۔
علی حمزہ کے مطابق عمران خان نے کہا کہ سیکریٹری
اطلاعات پی ٹی آئی رؤف حسن سے ملاقات ہوئی انھیں تین جماعتوں کے علاوہ سب کو اکٹھا
کرنے کا کہا ہے۔
اس گفتگو میں
عمران خان نے کہا کہ ’دھاندلی زدہ انتخابات کا معیشت پر برا
اثر پڑے گا، کہتا
رہا کہ ازاد اور شفاف انتخابات واحد حل ہیں۔‘
عمران خان نے مزید بتایا کہ دھاندلی کے خلاف
اواز اٹھانے والی تمام جماعتوں کو اکٹھا کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’منی لانڈرنگ سنڈیکیٹ کو لانے
کی کوشش ہو رہی ہے۔ شریف خاندان ملک کا سب سے بڑا منی لانڈرر ہے۔‘
ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ڈالرز ہیں اور یہ ڈالر
بیرون ملک بھیجتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ’جیل میں کسی بھی اعلی سرکاری عہدے دار سے کوئی
ملاقات نہیں ہوئی۔‘
ن لیگ، پیپلز پارٹی کے درمیان ’فارمولے پر اتفاق‘ کی اطلاعات پر شہباز شریف کا موقف
ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان حکومت کے قیام کے حوالے سے کسی فارمولے پر اتفاق کیا گیا ہے جس کے تحت شہباز شریف تین سال جبکہ بلاول بھٹو دو سال کے لیے وزیر اعظم رہیں گے۔
تاہم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دل کی بات کروں ’مجھے کوئی ٹرم نہیں چاہیے‘ بلکہ وہ صرف عوام کی خوشحالی چاہتے ہیں۔
انھوں نے ان اطلاعات کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کو اکثریت حاصل ہے: شہباز شریف
شہباز شریف نے مزید کہا کہ ہر سیاسی جماعت کو حق حاصل ہے کہ آزاد امیدواروں سے رابطے کریں اور انھیں اپنی جماعت میں شامل کریں۔
انھوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کو اکثریت حاصل ہے مگر اس کے باوجود مشاورت جاری رہے گی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’آپ دیکھیں گے کہ ہم نواز شریف کی قیادت میں ملک کو متحد کریں گے۔‘
’صدر دعوت دیا کرتے تھے مگر اب یہ آئینی شق ختم ہوچکی ہے۔ اب ایوان خود اپنا فیصلہ کرے گا۔ آئین کہتا ہے کہ الیکشن ختم ہونے کے 21 روز بعد پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جائے گا۔‘
اگر آزاد امیدوار حکومت بنا سکتے تو بڑے شوق سے بنائیں: شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہEPA
سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار حکومت بنانے کے لیے اپنی اکثریت دکھا سکتے ہیں تو مسلم لیگ ن اپوزیشن میں بیٹھنے کو تیار ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’نتائج آ چکے، اب اگلا مرحلہ ہے۔ پارلیمان میں اگر آزاد امیدوار حکومت بنا سکتے ہیں تو بڑے شوق سے بنائیں۔ آئین کا تقاضہ ہے، جس کی بھی تعداد زیادہ ہے، اس پر ووٹنگ ہوتی ہے۔
’اگر آزاد امیدوار اپنی اکثریت دکھا سکتے ہیں تو ہم اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔ اگر وہ حکومت نہیں بنا سکتے تو دوسری سیاسی جماعتیں باہمی مشاورت سے وزارت عظمیٰ کا اپنا امیدوار دیں گی۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اس الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہوتی تو خواجہ سعد رفیق جنھوں نے شکست تسلیم کی وہ کیسے ہار گئے۔ ’گوجرانوالہ میں خرم دستگیر، فیصل آباد میں رانا ثنا اللہ سمیت دیگر ہار گئے۔ آزاد جیت رہے ہیں، ہمارے امیدوار سینیئر سیاستدان ہار رہے ہیں۔ دوسری طرف دھاندلی کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ یہ کیسا تضاد ہے؟‘
وہ کہتے ہیں کہ انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق ’ہمارے امیدواروں کی درخواستوں کو بھی عدالتوں نے نمٹایا ہے۔۔۔ الیکشن سے ثابت ہوا سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن ہے، آزاد امیدواروں کو دیکھا جائے تو ان کا نمبر زیادہ ہے۔‘
شہباز شریف نے کہا قانون کے مطابق تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار صرف آزاد ہیں، چاہے وہ خود کو پی ٹی آئی کے آزاد لوگ کہیں یا کچھ اور۔
وہ کہتے ہیں کہ ملک میں چیلنجز بہت ہیں مگر وقت کم ہے۔ ’ہم نے انتخابات میں ایک دوسرے کا مقابلہ کر لیا، اب ہم نے مہنگائی کا مقابلہ کرنا ہے، امن و امان قائم کرنا ہے۔‘
پاکستانی حکام الیکشن کے بعد اقتدار کی پُرامن منتقلی یقینی بنائیں: ہیومن رائٹس واچ
،تصویر کا ذریعہEPA
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم
ہیومن رائٹس واچ نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹھ فروری کے الیکشن کے بعد
پُرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی یقینی بنائی جائے۔ جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو نتائج کا جلد اعلان کرنا چاہیے اور ’تمام سیاسی جماعتوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیق کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔‘
ایک بیان میں ہیومن رائٹس
واچ نے کہا کہ پاکستانی حکام نے اظہار رائے اور اجتماعات کی آزادی کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جبکہ
تحریک انصاف اور اس کے حامیوں کو بڑے پیمانے پر ظلم اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا
پڑا۔ ’حکام نے الیکشن کے روز موبائل سروس بند کر کے اور پھر نتائج کے اعلان میں
تاخیر سے انتخابی عمل کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا۔ کئی امیدواروں نے کچھ مقامات
پر دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔‘
ہیومن رائٹس واچ کی ایشیا کی
ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر پیٹریشیا گوسمین نے کہا کہ ’پاکستانی حکومت کو انتخابات کے
نتائج کا احترام اور اقتدار کی پُرامن منتقلی کو یقینی بنانا ہوگا۔‘
’پاکستان میں انسانی حقوق اور
معاشی بحران سے واضح ہوتا ہے کہ عوام کی نمائندہ حکومت بنیادی حقوق اور آزادی کو
فروغ دے گی۔‘
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق الیکشن
کے نتائج تین بڑی سیاسی جماعتوں تحریک انصاف، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں
تقسیم ہوئے ہیں۔ ’جب تک یہ معاملہ حل نہیں ہوتا، موجودہ حالات میں کوئی پیشرفت نہ
ہونے سے بات احتجاجی مظاہروں تک جا سکتی ہے۔‘
انسانی
حقوق کی تنظیم نے کہا کہ پاکستانی حکام کو پُرامن احتجاج کی اجازت دینا ہوگی اور
پُرتشدد ردعمل سے گریز کرنا ہوگا۔ ’یورپی یونین، امریکہ اور برطانیہ سمیت بین
الاقوامی مبصرین نے انتخابی عمل میں تمام سیاسی جماعتوں کے لیے شفافیت پر تشویش
ظاہر کی اور بے ضابطگیوں کے دعوؤں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔‘
پیٹریشیا گوسمین نے مزید
کہا کہ ’پاکستانی حکومت کی جانب سے اظہار رائے اور اجتماعات کی آزادی کے خلاف
مسلسل کریک ڈاؤن ملک کے انتخابات کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
’سیاسی عمل میں اصلاحات
درکار ہیں تاکہ الیکشن میں مداخلت ختم ہوسکے۔‘
پنجاب اسمبلی کے آزاد امیدوار کی مسلم لیگ ن میں شمولیت
پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 49 سیالکوٹ سے کامیاب آزاد امیدوار رانا فیاض نے سابق وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات میں پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔
اس دوران نومنتخب رکن قومی اسمبلی وسیم قادر نے بھی ن لیگ کے صدر سے ملاقات کی۔
مسلم لیگ ن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ نومنتخب آزاد امیدوار ’پاکستان اور عوام کے مفاد میں مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے ہیں۔‘
شہباز شریف کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ’ہم سب پاکستان کو خوشحال بنائیں گے اور عوام کی زندگیوں میں آسانی لائیں گے۔ پاکستان کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ اتحاد، اتفاق اور قومی تعاون کی سوچ سے ہو سکتا ہے۔‘
مسلم لیگ ن کا دعویٰ ہے کہ اسے پنجاب اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے سادہ اکثریت (149) حاصل ہوگئی ہے۔ الیکشن 2024 کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن نے پنجاب اسمبلی کی 137 سیٹیں جیتی تھیں۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں مبینہ دھاندلی کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال
حالیہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔
اس ہڑتال کی کال پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی پر مشتمل چار جماعتی اتحاد نے دی تھی جبکہ عوامی نیشنل پارٹی اور انجمن تاجران بلوچستان کی جانب سے اس کی حمایت کی گئی ہے۔
ہڑتال کے باعث کوئٹہ شہر میں تمام تجارتی مراکز بند ہیں جبکہ شہر میں ٹریفک بھی معمول سے کم ہے۔
کوئٹہ کی طرح بلوچستان کے دیگر بڑے شہروں میں بھی کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ کوئٹہ شہر کو شمالی علاقوں سے ملانے والی شاہراہیں بھی دھاندلی کی وجہ سے بند ہیں۔
اس سے قبل کوئٹہ کو کراچی، تفتان اور جیکب آباد سے ملانے والی شاہراہیں بند تھیں لیکن آج ان علاقوں میں شاہراہیں کھلی ہیں۔
شاہراہوں کی بندش سے بلوچستان سے لوگوں کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاں ایک جانب شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے وہاں کوئٹہ شہر میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر چار جماعتی اتحاد کا مستقل کیمپ بھی قائم ہے۔
اس کیمپ کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر کا مین گیٹ بند ہے جس کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر کے دفتر تک عام لوگوں کی رسائی مشکل ہے۔
سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ بلوچستان میں 2000 کے بعد سے عام انتخابات کے حوالے سے احتجاج ہوتے رہے ہیں لیکن حالیہ عام انتخابات کے حوالے سے ان کی شدت زیادہ اور دائرہ وسیع ہے۔
چار جماعتی اتحاد میں شامل نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات اسلم بلوچ کا کہنا ہے کہ جو امیدوار ان انتخابات میں جیتے ہوئے تھے ان میں سے ایک بڑی تعداد کی کامیابی کو دھاندلی کے ذریعے شکست میں تبدیل کردیا گیا۔
احتجاجی کیمپ میں بی بی سی بات کرتے ہوئے اسلم بلوچ نے بتایا کہ اس مرتبہ جو دھاندلی ہوئی اس کی ماضی میں نظیر کم ملتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ جو امیدوار حقیقی معنوں میں جیتے ہوئے تھے انھی کے کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جب تک اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جاتا اس وقت تک نہ صرف ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے دفتر کے باہر یہ کیمپ قائم رہے گا بلکہ روزانہ کی بنیاد پر چار جماعتی اتحاد احتجاج میں شدت لانے کے حوالے سے فیصلہ بھی کرتا رہے گا۔
دوسری جانب حکومت بلوچستان کے ترجمان جان محمد اچکزئی نے بلوچستان میں عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان کے خلاف احتجاج کو بلاجواز قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے سیاسی جماعتوں اور ان کے امیدواروں کی شکایت کے ازالے کے لیے فورمز موجود ہیں اور اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو ان کو چاہیے کہ وہ ان فورمز سے رجوع کریں۔
پاکستان کے عام انتخابات کا موازنہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں 1987 کے الیکشن سے کیوں ہوا؟, ریاض مسرور/ بی بی سی اردو، سرینگر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی گونج انڈیا کے
زیرانتظام کشمیر میں بھی سُنائی دے رہی ہے۔
سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی
التجا مفتی، جو اُن کی میڈیا ایڈوائزر بھی ہیں، نے ایکس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے
پاکستان کے انتخابات کا موازنہ کشمیر میں ہوئے 1987 کے انتخابات کے ساتھ کیا ہے۔
انھوں
نے لکھا ہے کہ ’پاکستان میں جس طرح عمران خان سے ان کی انتخابی جیت چھینی جا رہی
ہے وہ 1987 میں یہاں ہوئی شرمناک دھاندلی کی
یاد دلا رہا ہے جب انتخابی نتائج کے ساتھ فراڈ کیا گیا۔
’یہ غیرمعمولی مماثلت ہے کہ
اُس وقت یہاں جماعت اسلامی پر کریک ڈاوٴن کیا گیا، آج وہاں پی ٹی آئی پر کریک ڈاوٴن کیا گیا۔‘
التجا مفتی نے پاکستانی فوج سے کہا ہے کہ وہ ’جموں کشمیر
کی خون میں ڈوبی تاریخ سے سبق لے کیونکہ انتخابی نتائج میں دھاندلیوں کی وجہ سے
یہاں مسلح تشدد بھڑکا جس کا خمیازہ کشمیری ابھی تک بھگت رہے ہیں۔‘
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دھاندلی کے الزامات کی تردید کی ہے جبکہ پاکستان کے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ انتخابی خلاف ورزیوں کے حوالے سے متعلقہ فورمز موجود ہیں۔
1987 میں کیا ہوا تھا؟
اُس سال جماعت اسلامی سمیت کئی
نظریاتی جماعتوں اور دیگر علیحدگی پسند گروپوں نے ’مسلم متحدہ محاذ‘ نامی سیاسی
اتحاد بنا کر انتخابات میں نیشنل کانفرنس کے رہنما فاروق عبداللہ کو انتخابات میں
چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔
فاروق نے کانگریس کے ساتھ سیاسی اتحاد کیا تھا، جس پر
اکثر لوگ اُن سے ناراض بھی تھے۔
چنانچہ الیکشن میں بڑے پیمانے پر
محاذ کو ووٹ ملے، لیکن نتائج کا اعلان ہوا تو اسے صرف پانچ سیٹوں پر فاتح قرار دیا
گیا جب کہ باقی سبھی سیٹوں پر نیشنل کانفرنس کی جیت کا اعلان ہوا۔
2002 میں بی بی سی کے ساتھ گفتگو کے دوران کانگریس کی خاتون رہنما
کھیم لتا وکھلو نے بتایا: ’ہاں یہ سچ ہے کہ اُس الیکشن میں شرمناک دھاندلی ہوئی۔
جیتے ہوئے امیدواروں کو ہارنے والوں کی لِسٹ میں رکھا گیا اور ہارنے والوں کو
جیتنے والوں کی لسٹ میں رکھا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی،
اتحادالمسلمین اور پیپلز کانفرنس وغیرہ اُس وقت ہارنے والوں کی فہرست میں تھے۔ مگر
پھر ان ہی گروپوں نے حریت کانفرنس بنائی جس کا موقف انڈیا سے علیحدگی تھا۔
یہاں کے اکثر سیاسی حلقے اُن
دھاندلیوں کے لیے فاروق عبداللہ کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھی
دھاندلیوں کی وجہ سے نوجوانوں کا جمہوری طریقوں سے بھروسہ اُٹھ گیا اور انھوں نے ہتھیار اُٹھا کر مسلح
تشدد کا راستہ اپنایا۔
حالانکہ التجا مفتی نے نیشنل
کانفرنس یا فاروق عبداللہ کا نام نہیں لیا ہے تاہم نیشنل کانفرنس کی ترجمان افراٴ
جان نے ایک بیان میں عمران خان کی موجودہ سیاسی حالت پر افسوس کا اظہار کیا اور اس
کا موازنہ 1989 کے کشمیرسے کیا۔
’یہ صورتحال
(پاکستانی انتخابات) نیشنل کانفرنس کی دہائیوں پر مبنی اُس جدوجہد کی یاد دلاتی ہے
جو پراکسی پارٹیوں کے خلاف کرنا پڑی تھی۔ 1989 میں انڈین حکومت کے اُسوقت کے وزیرداخلہ مفتی سید (محبوبہ
کے والد) نے نیشنل کانفرنس کے اعتراض کے باوجود جگموہن ملہوترا کو کشمیر میں
تعینات کیا جسے تشدد کا طویل سلسلہ شروع ہوا۔‘
سابق میئر اور اپنی پارٹی‘ کے ترجمان جنید عظیم متو نے بھی ایکس پر لکھا: ’پاکستان میں فوج، عدلیہ، پولیس اور الیکشن کمیشن سمیت سبھی اداروں کو بکھرتا ہوا دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان خود اپنے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔ شکر خدا کا ہم نے 1947 میں پاکستان نہیں بلکہ انڈیا کو چُن لیا تھا۔‘
ہمیں عوام نے واضح مینڈیٹ اور حکومت بنانے کا حق دیا ہے، عمران خان کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی: لطیف کھوسہ
این اے 122 کے فاتح آزاد امیدوار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’ہم نے 25 کروڑ عوام کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کیا اور عوام نے ہمیں واضح مینڈیٹ دیا ہے۔‘
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران تحریک انصاف کے وکیل لطیف کھوسہ نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی فتح کو ’ظلم کا بدلہ ووٹ سے لینے‘ کے مترادف قرار دیا۔
’عمران خان کے بغیر پاکستان کی جمہور نہیں چل سکتی۔ عوام نے عمران خان کی جھوٹے مقدمات میں سزائیں مسترد کیں۔‘
انھوں نے عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا ’آرٹیکل 45 پر ان پر تمام مقدمات اور سزائیں کالعدم قرار دے کر صدرِ پاکستان انھیں فوراً رہا کریں۔‘
’جس تیزی سے انھیں سزائیں ہوئیں اسی تیزی سے ان کی اپیلیں لگائی جائیں۔‘
لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’ہم سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھرے۔ پی ٹی آئی پر پابندی نہیں لگی۔ تمام آزاد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی پر پی ٹی آئی درج ہے۔‘
وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ جس انداز سے تحریک انصاف کو ہاتھ پاؤں باندھ کر میدان جنگ میں اتارا گیا، اس کے باوجود وہ جیتے۔ ’عوام کا اختیار ہے کہ وہ اپنے نمائندوں کو پارلیمان میں بھیجیں۔۔۔ ہر شہری پر واجب ہے کہ وہ عوام سے وفاداری اور آئین کی تابعداری کرے۔ چاہے بات عسکری قیادت، عدلیہ، صدر یا کوئی بھی ہو۔‘
لطیف کھوسہ کہتے ہیں کہ ’عوام کی وفاداری کا ہر کوئی پابند ہے۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ جن 60 حلقوں میں مبینہ طور پر الیکشن کے نتائج تبدیل کیے گئے ’ان کے فارم 45 ہمارے پاس موجود ہیں۔ فارم 45 کے مطابق ہمارے 170 لوگ جیتے۔‘
’یہ آزاد اس لیے نہیں، تحریک انصاف وجود رکھتی ہے۔ ہمیں آزاد کہنا غلط ہے۔۔۔ مخصوص نشستیں شامل کر کے ہمارا نمبر 200 سے اوپر بنتا ہے۔ سب سے بڑی پارٹی کو حکومت بنانے کا حق حاصل ہوتا ہے مگر یہاں دو پارٹیوں میں بندر بانٹ ہو رہی ہے۔‘
بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر اعتراضات دور کرنے کی ہدایت
،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی بنی گالہ سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے رجسٹرار آفس کو اعتراضات دور کر کے آج ہی ڈائری نمبر لگانے کی ہدایت دی ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی جس دوران بشری بی بی کے وکیل عثمان ریاض گل عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کی درخواست پر کچھ اعتراضات ہیں، کچھ ایڈریس پورے نہیں لکھے گئے۔ درخواست کے ساتھ بیان حلفی بھی نہیں لگا ہوا۔‘
وکیل بشری بی بی نے کہا ’ہم آج ہی اعتراضات دور کر دیتے ہیں۔‘
بشریٰ بی بی کی درخواست میں استدعا کی گئی کہ چیف کمشنر آفس اسلام آباد کا اکتیس جنوری کا نوٹیفیکشن کالعدم قرار دیا جائے جس میں بنی گالہ کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیا گیا۔
اس میں لکھا ہے کہ ’کسی بھی عام قیدی کی طرح سزا آڈیالہ جیل میں کاٹنا چاہتی ہوں۔ تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں۔ دوسرے سیاسی ورکرز جیلوں میں عام قیدیوں کے ساتھ ہیں۔ بنی گالہ سب جیل میں منتقلی مساوی حقوق کے منافی ہے۔
’31 جنوری کو صبح دس بجے سے لے کر رات نو بجے تک مجھے اڈیالہ جیل میں انتظار کروانے کے بعد سب جیل میں منتقل کیا گیا۔ پوچھنے پر مجھے بتایا گیا بنی گالہ رہائش کو سب جیل قرار دے دیا گیا۔‘
بشریٰ بی بی کو احتساب عدالت کی جانب سے توشہ خانہ کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
حکومت سازی کے لیے سیاسی جوڑ توڑ کے دوران سٹاک مارکیٹ میں 1200 پوائنٹس سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور انڈیکس میں اب تک 1214 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
مارکیٹ میں مندی کی وجہ سے انڈیکس 60000 کی سطح سے نیچے 59850 کی سطح تک آگیا۔
پاکستان میں الیکشن کے انعقاد کے بعد سٹاک مارکیٹ میں مندی دیکھی جا رہی ہے اور اب تک تین کاروباری دنوں میں انڈیکس میں 4214 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں گذشتہ روز 1878 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی اور منگل کے دن اب تک مارکیٹ مین 1214 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
پاکستان میں سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کار مارکیٹ میں مندی کی وجہ ملک کے سیاسی حالات کو قرار دیتے ہیں جن میں الیکشن اور اس نتائج نے مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
تجزیہ کار ملک میں آنے والے دنوں میں مزید سیاسی کشیدگی کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔
تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں مندی کی سب سے بڑی وجہ سیاسی حالات ہیں کیونکہ الیکشن کے نتائج کے بعد ملک میں سیاسی عدم استحکام کے خدشات بڑھ گئے ہیں جس نے مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کیے۔
انھوں نے کہا کہ ایک مخلوط کمزور حکومت ایسے فیصلے کرنے سے قاصر نظر آئے گی جو غیر مقبول ہوں۔
انھوں نے کہا پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد، سبسڈی کے خاتمے اور ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے ایک مضبوط اور مستحکم حکومت کی ضرورت ہے جو سرمایہ کاروں کاروں کے مطابق اس الیکشن کے بعد نہیں بن پائے گی جس کی وجہ سے معیشت کے لیے اہم فیصلے لینا مشکل ہو گا۔
شہر یار بٹ نے کہا تین صوبوں میں تین مختلف پارٹیوں کی حکومت بنے گی جس کا مطلب ہے کہ محاذ آرائی بڑھے گی اور اسی طرح جو پارٹیاں ہار گئی ہیں وہ احتجاج کرنے کا اعلان کر چکی ہیں جس نے مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کیے۔
شہر یار بٹ نے کہا سیاسی حالات کے علاوہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے توانائی کے شعبے میں حکومت کے گردشی قرضوں کے خاتمے کے منصوبے کو پروگرام کی شرائط سے ہم آہنگ نہ قرار دینے نے بھی مارکیٹ میں منفی رجحان پیدا کیا کیونکہ اس کہ وجہ سے تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بڑی کمی دیکھی گئی۔
’تحریک انصاف نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے صدر کو آگاہ کیا‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں روف حسن اور عمیر نیازی سے ملاقات کی جس میں انھیں عام انتخابات میں ’مبینہ دھاندلی کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔‘
ایک بیان میں ایوان صدر کا کہنا ہے کہ ’وفد نے صدرمملکت کو انتخابی عمل میں ہونے والی مبینہ بےضابطگیوں کے بارے میں پارٹی موقف سے آگاہ کیا۔ مختلف حلقوں میں جاری کردہ فارم 45 ہی انتخابی نتائج کے اصل حقائق بتاتے ہیں (جبکہ) پارٹی کو دبانے، انتخابی نشان چھیننے اور گرفتاریوں کے باوجود انتخابات میں کامیابی ملی۔‘
وفد نے صدر کو بتایا کہ ’زیادتیوں کے باوجود عام انتخابات میں عوام نے پارٹی کے امیدواروں پر اعتماد کا اظہار کیا۔‘
پرویز الہی کی گھر واپسی کے لیے دائر انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ملتوی
لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الہی کو عدالتی حکم کے باوجود بحفاظت گھر نہ پہچانے کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیل پر وکیل کی جانب سے روبرو پیش نہ ہونے پر سماعت ملتوی کر دی ہے۔
منگل کو جسٹس شہرام سرور چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اپیل پر سماعت کی مگر اس دوران پرویز الہی کی اہلیہ قیصرہ الہی کے وکیل عدالت کے روبرو پیش نہ ہوئے۔
اس پر عدالت نے سماعت ملتوی کر دی۔
راولپنڈی میں سابق رکن صوبائی اسمبلی کا قتل: تمام زاویوں سے تحقیقات ہوگی، پولیس
راولپنڈی کے علاقے سول لائینز میں سابق رکن صوبائی اسمبلی چوہدری عدنان کی فائرنگ میں ہلاکت پر پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق واقعے کا تعلق ذاتی دشمنی سے ہے مگر تمام زاویوں سے تحقیقات کی جائے گی۔
ایکس پر پیغام میں راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ ’سول لائینز کے علاقہ میں فائرنگ سے سابقہ ممبر صوبائی اسمبلی چوہدری عدنان کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر سی پی او سید خالد ہمدانی کا نوٹس۔
’ایس پی پوٹھوہار کو واقعہ میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری یقینی بنانے کا حکم۔ واقعے کی اطلاع پر سینیئر پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ لگتا ہے۔
’چوہدری عدنان نے حالیہ الیکشن میں آزاد امیدوار کی حیثیت میں الیکشن لڑا تھا، تمام زاویوں پر تحقیقات جاری۔ ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔‘
ذاتی شناخت، خاندانی اثرورسوخ یا پارٹی ووٹ بینک: بڑے مقابلوں میں جیتنے والی خواتین کی کامیابی کا سہرا کس کے سر؟
پاکستان کے انتخابات میں مداخلت اور دھاندلی کے دعوؤں کی مکمل تحقیقات چاہتے ہیں: امریکہ
،تصویر کا ذریعہUS STATE DEPARTMENT
امریکی محکمۂ خارجہ کے
ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ امریکہ نے یورپی یونین، برطانیہ اور دیگر ممالک کی
طرح عوامی سطح پر اور نجی طور پر بھی بے ضابطگیوں کے حوالے سے اپنے خدشات ظاہر کیے ہیں اور ’ہم نے پاکستانی حکومت سے کہا ہے کہ الیکشن میں سامنے آنے والے عوامی فیصلے کا احترام کیا جائے۔‘
12 فروری کی پریس بریفنگ کے دوران اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم سیاست
اور انتخابات سے متعلق پُرتشدد واقعات اور انٹرنیٹ و فون سروسز کی معطلی کی مذمت
کرتے ہیں۔ اس نے الیکشن کے نظام پر منفی اثرات چھوڑے۔‘
’ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان
کا عدالتی نظام مداخلت اور فراڈ کے دعوؤں کی مکمل تحقیقات کرے۔ ہم آئندہ دنوں اس
پر نظر رکھیں گے۔‘
میتھیو ملر سے پوچھا گیا کہ
کیا وہ دھاندلی کے الزامات کے باوجود نئی پاکستانی حکومت کے ساتھ کام کرنے کو تیار
ہیں؟ تو ان کا جواب تھا کہ ’میرا نہیں خیال پاکستان میں نئی حکومت آ چکی ہے، حکومت
سازی پر بات چیت جاری ہے۔‘
’ہم واضح کرتے ہیں کہ
پاکستان کے عوام نے جس کسی کو بھی اپنی ترجمانی کے لیے منتخب کیا ہے، ہم اس حکومت
کے ساتھ کام کریں گے۔‘
امریکی محکمہ خارجہ سے پوچھا
گیا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو برتری حاصل
ہوئی ہے تو کیا امریکہ کو اس حکومت کے قیام پر تشویش ہوگی جس میں انھیں شامل نہ کیا
جائے۔
اس پر ترجمان کا جواب تھا کہ
’الیکشن میں کڑا مقابلہ دیکھنے کو ملا جس میں لوگوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال
کیا۔ الیکشن میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور ہم اس کی تحقیقات چاہتے ہیں۔ مگر ہم جمہوری
عمل کا احترام کرتے ہیں اور حکومت بننے پر اس کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں۔‘
عمران خان کے حامیوں کی
گرفتاریوں سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ امریکہ دنیا بھر میں اظہار رائے کی
آزادی دیکھنا چاہتا ہے۔
میتھیو ملر سے پوچھا گیا کہ
امریکی کانگریس کے کئی ارکان نے پاکستان میں نئی حکومت کے قیام سے قبل آزادانہ
تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تو کیا محکمۂ خارجہ اس کی حمایت کرے گا۔
انھوں نے جواب دیا کہ اس حوالے سے
مخصوص تجویز درکار ہوگی کہ کون ایسی آزادانہ تحقیقات کر سکتا ہے۔ ’فی الحال پاکستان
میں عدالتی نظام اپنا کردار کرے گا۔‘
گذشتہ روز کی اہم خبریں
لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے والے تحریک انصاف کے تمام آزاد
امیدواروں کی درخواستیں خارج کر دی گئی ہیں۔ عدالت نے تمام امیداروں کو الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کی ہدایت دی ہے۔
انتخابات میں شکست کے بعد امیر جماعت اسلامی سراج الحق عہدے سے مستعفیٰ ہو گئے ہیں جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے صدر جہانگیر ترین کا بھی پارٹی عہدہ اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینٹرل ایگزیکیٹیو کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت سازی کے حوالے سے دیگر سیاسی جماعتوں سے بات چیت کے لیے کمیٹیاں بنائی جائیں گی
پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کا بیان خواجہ آصف کی ذاتی رائے ہے۔۔۔ اتحادیوں اور سیاسی مشاورت کے نتیجے میں یہ نام متفقہ طور پر طے کیا جائے گا‘
انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے تاہم الیکشن کمیشن نے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے
تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے کہا ہے کہ ’عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر پاکستان کو مجرموں کے حوالے کرنے‘ کی غیر جمہوری، غیر قانونی، غیر سیاسی اور غیر اخلاقی کوششوں کی ہر سطح پر بھرپور مزاحمت کریں گے۔‘
نگران وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ’ہو سکتا ہے کہ انتخابات میں خلاف ورزیاں ہوئی ہوں گی مگر اس نوعیت کی شکایات کے لیے فورم موجود ہیں۔‘
مسلم لیگ ن کا دعویٰ ہے کہ اسے پنجاب اسمبلی میں حکومت کے قیام کے لیے سادہ اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔
الیکشن کے نتائج کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید
بی بی سی اردو کی جانب سے اس لائیو کوریج میں پاکستان میں الیکشن نتائج اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر خبریں اور تجزیے آپ کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔۔۔