جنرل باجوہ کے کہنے پر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی: مولانا فضل الرحمان
جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ میجر جنرل فیض حمید نے ایک ملاقات میں تمام سیاسی جماعتوں کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اس کی تردید کی ہے اور ایسی کسی ملاقات سے اپنی لاعلمی ظاہر کی ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان باقاعدہ رابطے شروع ہوگئے ہیں۔
لائیو کوریج
ہائیکورٹ میں اسلام آباد کے تین حلقوں سے کامیاب امیدواروں کا نوٹیفیکیشن معطل کرنے کی استدعا
تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں وفاقی دارالحکومت کے تین حلقوں سے کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کے امیدواروں شعیب شاہین، علی بخاری اور عامر مغل کی درخواستوں پر سماعت کچھ دیر بعد ہوگی۔
عدالت نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کر رکھا ہے۔
دوسری طرف کامیاب امیدوار راجہ خرم اور انجم عقیل اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے ہیں۔
الیکشن 2024: الیکشن کمیشن نے کراچی سے جنرل نشستوں پر کامیاب ہونے والوں کی فہرست جاری کر دی

،تصویر کا ذریعہECP
ان جماعتوں کا کیا کہنا ہے جن سے پی ٹی آئی اتحاد کی خواہشمند ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA
خیبرپختونخوا میں جماعتِ اسلامی کے امیر پروفیسر ابراہیم نے کہا ہے کہ صوبے میں ان کی جماعت کا تحریک انصاف کے ساتھ فی الحال اتحاد نہیں ہوا اور اس حوالے سے جماعت کی قیادت ہی کوئی فیصلہ کرے گی۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کے لیے جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا گیا تھا۔
ترجمان جماعتِ اسلامی قیصر شریف کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات ہوئی جس کے بعد اب جماعت کی قیادت مشاورت کے بعد پی ٹی آئی کو حتمی جواب دے گی۔
دوسری طرف مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر نے کہا ہے کہ تحریک انصاف سے وفاق اور پنجاب میں اتحاد کی صورت میں ’ہماری جماعت کی طرف سے کوئی شرائط عائد نہیں کی گئی۔‘
انھوں نے عمران خان کو پیغام دیا ہے کہ ’ہم آپ کے ساتھ خون کے آخری قطرے تک کھڑے رہیں گے۔‘
جب اے آر وائے کے اینکر وسیم بادامی نے ان سے پوچھا کہ الیکشن قوانین کے تحت ہر جماعت انتخابات سے قبل مخصوص نشستوں کے لیے فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کراتی ہے تو کیا تحریک انصاف کو بطور جماعت الیکشن نہ لڑ پانے کے باوجود تمام مخصوص نشستوں میں حصہ مل سکے گا۔
تو انھوں نے یہ عندیہ دیا کہ آئین اور الیکشن ایکٹ میں ’تضاد‘ کو عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا مجلس وحدت المسلمین نے خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے کوئی فہرست جمع کرائی ہے تو علامہ راجہ ناصر نے کہا ہے کہ مخصوص نشتیں ’ہمارا آئینی و قانونی حق ہے۔‘
’قانون کے مطابق صورتحال ہمارے حق میں ہے۔۔۔ (عدالت میں) چیلنج کرنا ہوگا۔ عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ ان چیزوں کو ٹھیک کیا جائے تو آئین و قانون کے خلاف ہیں۔‘
مجلس وحدت المسلمین نے کہا کہ ان کی جماعت میں شمولیت اختیار کرنے والے پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار عمران خان کی ہدایت پر چلیں گے۔
حب میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے دوران فائرنگ، کم از کم دو افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو
کراچی سے متصل بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے موقع پر فائرنگ سے کم از کم دو افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوئے ہیں۔
ایس ایس پی حب منظور بلیدی نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ سیوک سینٹر کے باہر ہوا جہاں بلوچستان اسمبلی کی حب سے نشست کے لیے پڑنے والے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے حوالے سے لوگ سینٹر کے باہر جمع ہوئے تھے۔
انھوں نے بتایا فریقین کو دور رکھنے کے لیے اقدامات کیے گئے لیکن اس دوران ’بعض شرپسندوں نے فائرنگ کی جس میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے 12 زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ شدید زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے بعد علاج کے لیے کراچی منتقل کیا گیا۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ فائرنگ کے الزام میں تین ملزمان کو گرفتار کر کے ان سے کلاشنکوف برآمد کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے فرنٹیئر کور کی بھی تعیناتی کی گئی ہے۔
قومی اسمبلی میں تازہ پارٹی پوزیشن، مخصوص نشستوں کی تقسیم کیسے ہوگی؟

،تصویر کا ذریعہCONSTITUTION OF PAKISTAN
،تصویر کا کیپشنقومی اسمبلی میں مخصوص نشستیں الیکشن 2024 کے نتائج کی روشنی میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان، ق لیگ، آئی پی پی اور بلوچستان عوامی پارٹی کے اتحاد کے پاس قومی اسمبلی کی 152 نشستیں ہیں۔
(ن لیگ 75، پی پی 54، ایم کیو ایم 17، آئی پی پی 2، ق لیگ 3، باپ 1 = 152)
انھیں مخصوص نشستیں ملنے کے بعد وفاق میں حکومت بنانے کے لیے 169 ارکان کی سادہ اکثریت درکار ہوگی جو بظاہر وہ باآسانی حاصل کر سکتے ہیں۔
تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 93 آزاد امیدواروں نے الیکشن جیتا مگر ان میں سے لاہور کے وسیم قادر نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی۔
جبکہ مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی کے دیگر پانچ آزاد امیدواروں کی اپنی جماعت میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔
336 ارکان (266 جنرل + 60 خواتین + 10 اقلیتی نشستوں) پر مشتمل ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے لیے 224 ارکان درکار ہوتے ہیں، جس کے ذریعے آئین میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 93 آزاد امیدواروں نے الیکشن میں کامیابی حاصل کی مگر انھیں آزاد حیثیت میں مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی اور اس کے لیے کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنا ہوگی۔
قانونی اعتبار سے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں پر پارٹی کا ضابطہ اخلاق لاگو نہیں ہوتا۔ مگر عمران خان کی جماعت نے کہا ہے کہ ان کے فاتح آزاد امیدوار وفاق اور پنجاب میں مجلس وحدت المسلمین میں شامل ہوں گے جس کا علامہ راجہ ناصر نے بھی خیر مقدم کیا ہے۔
پنجاب میں 32، سندھ میں 14، خیبر پختونخوا میں 10 اور بلوچستان میں چار سیٹیں خواتین کے لیے مختص ہیں۔ کسی صوبے میں ایک سیاسی جماعت کتنی جنرل سیٹیں حاصل کرتی ہے، اسی اعتبار سے خواتین کی مخصوص نشستیں اسے الاٹ کی جاتی ہیں۔
دوسری طرف 10 اقلیتی سیٹوں کو اس اعتبار سے سیاسی جماعتوں میں تقسیم کیا جاتا ہے کہ ایک جماعت نے ملک بھر سے کتنی سیٹیں جیتی ہیں۔
خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کی تقسیم کے دوران تمام سیاسی جماعتوں میں شامل ہونے والے فاتح آزاد امیدواروں کا نمبر بھی شامل کیا جاتا ہے۔ یعنی سیاسی جماعتوں کا صوبہ وار اور ملک بھر سے ٹوٹل وہ ہوگا جو آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سامنے آئے گا۔
قانون کے مطابق نتائج کے سرکاری اعلان کے بعد تین دن کے اندر آزاد امیدواروں کو کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوتی ہے۔
خیال رہے کہ مجلس وحدت المسلمین نے مجموعی طور پر خیبر پختونخوا سے صرف ایک سیٹ جیتی تھی۔

،تصویر کا ذریعہCONSTITUTION OF PAKISTAN
پاکستان پیپلز پارٹی حکومت سازی کے معاملے پر کہاں کھڑی ہے اور مسلم لیگ ن کا کس حد تک ساتھ دے گی؟
کیا انتخابات میں ملنے والی عوامی پذیرائی عمران خان کے لیے آسانیاں پیدا کر سکتی ہے؟
’مجلس وحدت مسلمین عمران خان کی اپنی جماعت ہے‘
تحریک انصاف نے وفاق اور پنجاب میں مجلس وحدت المسلمین کے ساتھ اتحاد بنانے کا اعلان کیا ہے۔
اس جماعت کے سربراہ علامہ راجہ ناصر نے کہا ہے کہ ’پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ کامیاب اراکین اسمبلی کی مجلس وحدت مسلمین میں شمولیت کے فیصلے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی ’عمران خان کی اپنی جماعت ہے اور وہ اس جماعت کے حوالے سے جو چاہے فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ہم اسے بلامشروط اور من و عن قبول کریں گے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے اپنے عمل و کردار سے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ ہم کسی جماعت پر بوجھ نہیں بنتے بلکہ مشکل وقت میں باوفا دوست بن کر ساتھ نبھاتے ہیں۔
’پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہمارا اتحاد، آزاد خارجہ پالیسی، داخلی خودمختاری، سرحدوں کےتحفظ، عالمی طاقتوں کی غلامی سے انکار، مسلم ممالک سے برادرانہ تعلقات اور گلگت بلتستان کے لیے آئینی حقوق کے حصول بیانیہ کی بنیاد پر ہے جو خون کے آخری قطرے تک قائم رہے گا۔‘
علامہ راجہ ناصر نے یہ بھی کہا کہ ’عمران خان کی قیادت میں پوری قوم مل کر وطن عزیز کو ایک آزاد، خود مختار اور باوقار ریاست بنانے میں بھرپور کردار ادا کرے گی۔‘
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
’کیا آصف زرداری صدر ہوں گے؟‘
شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جب میں وزیر اعظم تھا اس وقت بھی میں نے کہا تھا کہ ہماری پارٹی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار میاں نواز شریف ہیں۔ آج پریس کانفرنس میں بھی میں نے یہی کہا۔ میں نواز شریف سے گزارش کروں گا کہ وہ وزیر اعظم کا عہدہ قبول کریں۔‘
’بطور صدر مسلم لیگ میں اعلان کرتا ہوں کہ پنجاب میں وزارت اعلیٰ کی امیدوار مریم نواز ہیں۔‘
اس سوال پر کہ آیا آصف زرداری اگلے صدرِ پاکستان ہوں گے، شہباز شریف نے کہا ’ہم آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔‘
آصف زرداری کی پی ٹی آئی کو مفاہمت کی دعوت، ’یہ دھرنوں کا وقت نہیں‘ شہباز شریف

،تصویر کا ذریعہPMLN
دریں اثنا اتحادی حکومت کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار شہباز شریف نے کہا کہ ’جیسے صدر زرداری نے بات کی، فارگیٹ اور فارگیو (بھول جاؤ اور معاف کرو)۔ آئیے اس قوم کی فلاح کے لیے، ترقی کے لیے تمام اختلافات کو بھلا کر اکٹھے ہوں۔۔۔ اور پاکستان کے وسیع تر مفاد میں اپنی ذات کو قربان کریں۔‘
’میں دوبارہ سب کو چارٹر آف اکانومی کی دعوت دیتا ہوں۔۔۔ آئیے میثاقِ مفاہمت طے کریں۔‘
’ہماری اکثریت ہے، کسی کو اس پر شک نہیں ہونا چاہیے۔ جنھوں نے دھرنے اور لانگ مارچ کیے، یہ سب کے لیے پیغام ہے کہ یہ دھرنے، لانگ مارچ کا وقت نہیں۔ یہ غربت اور بے روز گاری کے خاتمے، یہ قرضوں کو کم کرنے کا وقت ہے۔۔۔ یہ تقریروں سے نہیں عمل سے ہوگا۔‘
اس معاملے پر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’ہم نے مفاہمت بھی کرنی ہے اور اس مفاہمت میں تحریک انصاف بھی شامل ہے۔
’ہم نہیں چاہتے کہ پی ٹی آئی اس مفاہمت میں نہ آئے۔ ہر سیاسی قوت ہفاہمت میں آئے اور ہم سے بات کرے۔ ہمارا اکنامک و دفاعی ایجنڈا ایک ہو۔۔۔ پھر جا کر میاں صاحب کے گھر کو اور دوسرے دوستوں کو کامیاب کرائیں تاکہ پاکستان اور عوام کو کامیاب کرائیں۔‘
جب ایک صحافی کی جانب سے پوچھا گیا کہ تحریک انصاف سے بات چیت کے لیے کیا طریقہ کار اپنایا جائے گا، تو اس پر مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ ’ایسے ہی ہوگا جیسے آج ہوا ہے۔‘
مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے شہباز شریف کو وزیرِ اعظم پاکستان اور مریم نواز کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے لیے نامزد کر دیا
پاکستان مسلم لیگ ن کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’پاکستان مُسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے مُلک کے آئندہ وزیرِ اعظم کے لیے اپنے چھوٹے بھائی اور پاکستان مُسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو نامزد کر دیا ہے۔
ایکس پر مریم اورنگزیب کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’مسلم لینگ ن کے قائد نواز شریف نے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے پارٹی کی جانب سے اپنی صاحبزادی مریم نواز کو نامزد کیا ہے۔‘
اُن کا ایکس پر اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’نواز شریف نے پاکستان کے عوام اور سیاسی تعادون فراہم کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں اور اُن کے قائدین کا شُکریہ ادا کرتے ہوئے اس پختہ یقین کا اظہار کیا ہے کہ ان فیصلوں کے نتیجے میں پاکستان معاشی خطرات اور عوام مہنگائی سے نجات پائیں گے۔‘
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
جیو نیوز سے گفتگو کے دوران مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نواز شریف یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ شہباز شریف کو وزیر اعظم اور مریم نواز کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر سپورٹ دے سکتے ہیں اور اسی دوران پارٹی کے معاملات بھی دیکھ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں پاور شیئرنگ کے معاملے پر ہر سیاسی جماعت میں کمیٹیاں تشکیل دی جا رہی ہیں۔
بریکنگ, مُلک کی چھ سیاسی جماعتوں کا وفاق میں حکومت بنانے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہPMLN
لاہور میں پاکستان مُسلم لیگ ق کے رہنما چوہدی سجاعت حسین کی رہائش گاہ پر مُلک کی چھ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس کی۔
اس پریس کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیر اعظم اور پاکستان مُسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف، پاکستان مُسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری شجاعت حسین، ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی، استحکامِ پاکستان پارٹی کے رہنما علیم خان، بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما صادق سنجرانی شامل تھے۔
پریس کانفرنس کے آغاز پر سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ’ہم سب مل کر مُلک کو مُشکلات سے نکالیں گے، ہم نے ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑا ہے اب مُلک کے وسیع تر مفاد میں معاشی ایجنڈے پر سب کو ایک ہونا ہوگا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’الیکشن میں مخالفتیں ہوتی ہیں لیکن مل کر آگے چلنا ہوگا، آج ہم نے طے کیا ہے کہ مل بیٹھ کر حکومت بنائیں گے۔‘
ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ’پاکستان جس قسم کے بحرانوں سے گزر رہا ہے ایسے میں اختلاف ہو سکتا ہے مگر پاکستان سے بڑھ کر کُچھ نہیں۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم سب مل کر اپنے مفاد ایک جانب رکھ کر اس مُلک کی خدمت کریں گے۔‘
چئیرمین سینٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما صادق سنجرانی نے کہا کہ ’اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم سب مل کر اس مُلک کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔‘
استحکامِ پاکستان پارٹی کے رہنما علیم خان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ’میں آنے والی حکومت اور اتحاد کے لیے دُعا گوہ ہوں، ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ سب ملک کر معاشی مسائل کے حل کی لیے کوشش کریں اور ہم نے اس اتحاد کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا ہے اور ہر قدم پر ہماری معاونت اس اتحاد کے ساتھ شاملِ حال رہے گی۔‘
سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ان حالیہ انتخابات میں ہم نے ایک دوسرے کے خلاف بات تو کی مگر اب وہ مرحلہ ختم ہو چُکا ہے اور اب ہم اس مُلک کو درپیش چیلنجز خاص طور پر معاشی بحران سے نکالنے کے لیے ہم سب مل کر اس مُلک کے لیے کام کرنا ہے اور اس مُلک کو آگے لے کر جانا ہے۔پاکستان پر جو قرضے ہیں اُنھیں کیسے کم کرنا ہے، مہنگائی کو کیسے کم کرنا ہے اور دیگر تمام مسائل پر کیسے قابو پانا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب مل کر کام کریں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میری خواہش ہے کہ مُلک کے وزیر اعظم نواز شریف ہوں اور ہماری جانب سے مریم نواز وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے ہماری اُمیدوار ہوں گی۔
’ہم مل کر پاکستان کو تمام سیاسی اور معاشی بحرانوں سے نکالنے میں کامیاب ہوں گے‘ شہباز شریف
سابق وزیر اعظم اور پاکستان مُسلم لیگ ن کے رہنما شہباز شریف نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور شریک چیئرمین پی پی پی کا ن لیگ کی حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے۔
سابق وزیر اعظم شہباز شریف کا ایکس پر جاری بیان میں کہنا تھا کہ اُن کا سابق صدر و شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ ن کی حمایت کے اعلان پر قائد میاں نواز شریف کی طرف سے اور انھوں نے اپنی طرف سے ان کا شکریہ ادا کیا۔‘
شہباز شریف کا ایکس پر جاری بیان میں کہنا تھا کہ ’اُمید کرتے ہیں کہ ہم مل کر پاکستان کو تمام سیاسی اور معاشی بحرانوں سے نکالنے میں کامیاب ہوں گے۔‘
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
’پاکستان کے انتخابات میں جمہوریت اور شفافیت کی اشد ضرورت ہے‘ عمران خان
پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کے ایکس پر اکاؤنٹ سے ایک بیان جاری ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’وہ پی ٹی آئی کو دو تہائی اکثریت دینے پر پاکستان کے عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘
اس پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ ’بڑے پیمانے پر لوگوں کی آمد کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔ خواتین اور بچوں سمیت ایک ساتھ ووٹ ڈالنے والے خاندانوں نے حقیقی معنوں میں جمہوریت کی مثال پیش کی۔‘
پیغام میں عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’جیسا کہ پاکستان کے عوام نے واضح طور پر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے، پاکستان کے انتخابات میں جمہوریت اور شفافیت کی اشد ضرورت ہے۔ میں چوری شدہ ووٹوں سے حکومت بنانے کی مہم جوئی کرنے والوں کو خبردار کرتا ہوں۔ دن کی روشنی میں اس طرح کی ڈکیتی نہ صرف شہریوں کی بے عزتی ہوگی بلکہ ملک کی معیشت کو مزید زوال کی طرف دھکیل دے گی۔‘
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس پر پی ٹی آئی کا ردِ عمل: ’عمران خان کے دیے گئے شعور کے بعد قوم جانتی ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں‘
پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے بعد رد عمل سامنے آیا ہے، جس میں ترجمان پاکستان تحریکِ انصاف کا کہنا ہے کہ ’آئینی، حکومتی اور پارلیمانی عہدوں کی آپس میں تقسیم کے بعد باہم فاصلوں کی اداکاری ان کے کسی کام آئے گی نہ عوام ان کے جھانسے میں آئیں گے۔‘
ترجمان پاکستان تحریکِ انصاف کا مزید کہنا تھا کہ ’عمران خان کے دیے گئے شعور کے بعد قوم جانتی ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں اور عوام کو مہنگائی کی دلدل میں پھنسانے اور ملکی معیشت کو تباہ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی صدرمملکت، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کے لیے اپنے امیدوار میدان میں اتارے گی تاہم یہ ن لیگ کا اپنا فیصلہ ہو گا کہ کون وزارت عظمیٰ کا امیدوار ہو گا۔‘
پاکستان تحریکِ انصاف کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ’حکومت سازی ہو یا حزبِ اختلاف کی ذمہ داریاں سنبھالنے کا معاملہ، تحریک انصاف ہی اکثریّتی مینڈیٹ کی حامل ہے۔
’فارم 45 کے مطابق جیت رہے تھے، فارم 47 آیا تو ہار گئے۔۔۔‘ الیکشن کمیشن انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیسے کرے گا؟
پیپلز پارٹی کا صدر، چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی کے لیے اپنے امیدوار لانے کا اعلان
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اہم آئینی عہدوں پر اپنے امیدوار لانے کا اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی صدرمملکت، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کے لیے اپنے امیدوار میدان میں اتارے گی۔
ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ ن لیگ کا اپنا فیصلہ ہو گا کہ کون وزارت عظمیٰ کا امیدوار ہو گا۔ تاہم ان کے مطابق ’میری خواہش ہے کہ جب صدارت کے انتخابات ہوں تو آصف زرداری صدر بنیں۔‘
ان کے مطابق وہ اس وجہ سے یہ نہیں کہتے کہ وہ میرے والد ہیں بلکہ اس وجہ سے کہ ملک جل رہا ہے، بجھانے کی صلاحیت آصف زرداری کے پاس ہے۔ وہ ایک بار پھر صدر بن کر ملک کو بحران سے نکالیں۔‘
بریکنگ, پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کے امیدوار کو ووٹ دے گی، وفاقی کابینہ کا حصہ بننے میں دلچسپی نہیں: بلاول بھٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت کی تشکیل یقینی بنانے کے لیے مسلم لیگ ن کے امیدوار کو ووٹ دے گی۔ تاہم وفاقی کابینہ میں شمولیت میں دلچسپی نہیں رکھتی۔
پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی کے پاس وفاقی حکومت بنانے کا مینڈیٹ نہیں ہے، اس لیے میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں ہوں۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ ایشو ٹو ایشو اور اہم مواقع پر (ن لیگ کو) ووٹ دے گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہم ایک کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں جو دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرے گی۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہم 18 ماہ کے لیے ہم ن لیگ کے ساتھ حکومت میں رہے، جس پر میری جماعت کے لوگوں نے کافی اعتراضات اور ایشو اٹھائے ہیں۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’پاکستان کو مستحکم بنانا ہے، اسے بحران سے نکالنا ہے۔ پیپلز پارٹی پر پھر وہ وقت آ گیا ہے کہ ایک بار پھر پاکستا کھپے کا نعرہ بلند کریں۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے پاس بھی اکثریت نہیں ہے جبکہ پی ٹی آئی نے کہہ دیا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی سے مذاکرات نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق اب ایسے میں پھر دوبارہ انتخابات ہوں گے جو ملک کے استحکام کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہمیں ملک میں سیاسی عدم استحکام بھی نظر آ رہا ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ ہم پاکستان کو اس بحران سے نکالیں۔ اور اس ملک کو وہاں لے کر جائیں جو اس ملک کے لوگوں کا حق ہے۔ ان کے مطابق ’عوام مزید عدم استحکام نہیں چاہتی، وہ سیاستدانوں کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ بحرانوں سے ملک کو نکالیں۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم ملک میں دوبارہ استحکام لے کر آنا چاہتے ہیں۔
پی ٹی آئی وفاق اور پنجاب میں مجلسِ وحدت المسلمین اور خیبرپختونخوا میں جماعتِ اسلامی کے ساتھ مل کر حکومت بنائے گی: رؤف حسن

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریکِ انصاف کے ترجمان رؤف حسن نے اعلان کیا ہے کہ پی ٹی آئی نے وفاق اور پنجاب میں مجلسِ وحدت المسلمین کے ساتھ حکومت بنانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں جماعتِ اسلامی کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے حکومت بنائی جائے گی۔
خیال رہے کہ اس وقت تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواران آزاد ہیں اور انھیں الیکشن کمیشن کی طرف سے حتمی نتیجے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے تین دن تک کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ضروری ہو گا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو وہ آزاد حیثیت سے بھی اسمبلیوں میں بیٹھ سکتے ہیں۔ مگر اس صورت میں انھیں مخصوص نشستیں حاصل نہیں ہو سکیں گی۔
تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ارکان اسمبلی اب ان جماعتوں میں شامل ہو کر مخصوص نشستیں بھی حاصل کر سکیں گے۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف اس وقت مخصوص نشستوں سے محروم ہوگئی تھی جب الیکشن کمیشن نے اس کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دے کر اس سے بلے کا نشان واپس لے لیا تھا۔ اس فیصلے کو سپریم کورٹ کی جانب سے برقرار رکھا گیا تھا۔
تحریک انصاف کے آزاد امیدوارن الیکشن کمیشن کے فارم 49 جاری ہونے کے بعد جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کر لیں گے۔ اسی طرح وفاق اور پنجاب میں تحریک انصاف کے آزاد اراکین مجلس وحدت مسلمین میں شامل ہو جائیں گے۔
تحریک انصاف اسمبلیوں میں اپنے پارلیمانی سربراہ کا بھی اختیار اپنے پاس رکھے گی کیونکہ سپریم کورٹ کے ہی ایک فیصلے کے مطابق جب عدم اعتماد یا اہم امور پر ووٹنگ کا عمل ہوتا ہے تو پھر اسمبلی اراکین کا پارلیمانی سربراہ کی ہدایات کا پابند ہونا ضروری ہے یعنی پارٹی سربراہ کی ہدایات پر عمل پیرا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔
یوں جماعت اسلامی اور مجلس وحدت مسلمین کی قیادت تحریک انصاف کو اپنی مرضی کے مطابق آگے لے کر نہیں جا سکے گی۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان دونوں جماعتوں نے اس ’فیور‘ کے بدلے تحریک انصاف سے کیا مطالبات کیے ہیں۔
