جنرل باجوہ کے کہنے پر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی: مولانا فضل الرحمان

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ میجر جنرل فیض حمید نے ایک ملاقات میں تمام سیاسی جماعتوں کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اس کی تردید کی ہے اور ایسی کسی ملاقات سے اپنی لاعلمی ظاہر کی ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان باقاعدہ رابطے شروع ہوگئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. سپریم کورٹ کا عدالتی فیصلے سے راجا پرویز اشرف کے خلاف ریمارکس حذف کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں موجود ان کے خلاف ریمارکس حذف کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    جمعرات کو سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف کی اپنے خلاف دیے گئے عدالتی ریمارکس حذف کرانے کی اپیل پر سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

    دوران سماعت سپریم کورٹ نے کہا کہ ججز کو کسی شخص کی غیر موجودگی میں اس کے خلاف ریمارکس دیتے ہوئے محتاط ہونا چاہیے، اگر ججز کو کسی کے خلاف آبزرویشن دینی ہے تو پہلے اس کو نوٹس کرے۔

    سپریم کورٹ نے کہا کہ امید کرتے ہیں کہ ججز کسی کے خلاف ریمارکس دیتے ہوئے آئندہ احتیاط کریں گے۔

    سابق وزیر اعظم راجا پرویز اشرف کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل جج نے 2012 میں سخت ریمارکس دیے تھے۔

    عدالت نے کہا کہ کسی شخص کے خلاف انکوائری کی سطح پر ریمارکس دینے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ نیب کے مطابق سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف نیب انکوائری میں کچھ ثابت نہیں ہوا۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کےجسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 2012 میں گوجر خان کی سڑک کیس میں راجا پرویز اشرف کے خلاف ریمارکس دیے تھے۔

    اس وقت کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے راجا پرویز اشرف کو سڑک کے ٹھیکے کے کیس میں بدنیت اور کرپٹ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کیس پر نیب کو انکوائری کا حکم دیا تھا۔

  2. پشاور ہائیکورٹ کا افغان خواجہ سراؤں کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ نے افغان خواجہ سراؤں کو ہراساں نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

    جمعرات کو پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس شکیل احمد اور جسٹس وقار پر مشتمل دو رکنی بنچ نے 16 افغان خواجہ سراؤں کو وطن واپس بھیجنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ رجسٹرڈ افغان مہاجرین خواجہ سراؤں کو تنگ نہ کیا جائے۔

    درخواست گزاروں کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکلوں کو جبری طور پر ملک بدر نہ کیا جائے، وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام غیر ملکیوں کو وطن واپس بھیجا جائے گا۔

    وکیل کا کہنا تھ کہ افغانستان میں خواجہ سراؤں کی جان کو خطرہ ہے اس لیے ان کو زبردستی واپس نہ بھیجا جائے۔ رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو بھی ہراساں کیا جارہا ہے جس سے ملک کی بدنامی ہو رہی ہے۔ پی او آر کارڈ اور دیگر دستاویز کے باوجود بھی درخواست گزاروں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر غیر ملکیوں کے پاس ویزہ ہے اور وہ ایکسپائر نہیں تو پھر تو پاکستان میں رہ سکتے ہے۔

  3. آج پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کے مختلف حلقوں کے متعدد پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا آغاز

    الیکشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق آج پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کے مختلف حلقوں کے متعدد پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ ہو رہی ہے۔

    الیکشن کمیشن کے جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق قومی اسمبلی کی نشست این اے 88 (خوشاب ٹو) ، سندھ اسمبلی کی نشست پی ایس 18 (گھوٹکی) اور خیرپختونخوا اسمبلی کی نشست پی کے-90 (کوہاٹ) کے متعدد پولنگ سٹیشنز پر آج دوبارہ پولنگ ہو رہی ہے۔

    کوہاٹ کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 90 میں آٹھ فروری کو ہونے والی پولنگ کے دوران نامعلوم افراد نے قبائلی علاقے درہ آدم خیل کے 12 پولنگ سٹیشنز پر دھاوا بول دیا تھا جس کے نتیجے میں مزید 13 پولنگ سٹیشنز متاثر ہوئے تھے۔

    کشیدہ حالات پر قابو پانے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے درہ آدم خیلکے 25 پولنگ سٹیشنز پر پولنگ روکتے ہوئے یہاں 15 فروری کو دوبارہ پولنگ کا کہا تھا۔

    واضح رہے کہ حلقہ پی کے 90 میں پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار آفتاب عالم اور پیپلز پارٹی کے امجد خان آفریدی کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

    ووٹنگ کے عمل کو مکمل فل پروف سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے 25 پولنگ سٹیشنز کو تبدیل کر کے آٹھ پولنگ سٹیشن میں ضم کر دیا گیا ہے تا کہ سکیورٹی کے امور کی انجام دہی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    ڈپٹی کمشنر کوہاٹ عظمت اللہ وزیر کی جانب سے درہ آدم خیل میں آج عام تعطیل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے ۔ اس وقت سخت سیکیورٹی کے حصار میں پولنگ کا عمل جاری ہے۔

    اس سے قبل ایک بیان میں ای سی پی نے کہا تھا کہ این اے 88 کے 26 پولنگ سٹیشنوں میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں گے کیونکہ پولنگ میٹریل کو ہجوم نے جلا دیا تھا۔

    اس بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ پی ایس 18 کے دو پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ ہو گی کیونکہ وہاں ’نامعلوم افراد نے پولنگ کا سامان چھین لیا تھا۔‘

    ای سی پی کے مطابق پی کے 90 کے ایک درجن سے زائد پولنگ سٹیشنوں میں دوبارہ انتخابات کی وجہ ’وہاں پولنگ میٹریل کو دہشت گردوں کی طرف سے نقصان پہنچانا‘ تھا۔

    آج صبح سے ہی ان حلقوں میں عوام حق رائے دہی استعمال کرنے پہنچ گئے ہیں، پولنگ کا عمل شام پانچ بجے تک جاری رہے گا اور اس کے نتائج پولنگ کے 24 گھنٹے کے اندر متوقع ہیں۔

    الیکشن کمیشن آئندہ چند دن میں قومی اسمبلی کے تمام 265 کامیاب امیدواروں کے ناموں کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دے گا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. کیا تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کی مجلس وحدت المسلمین میں شمولیت سے مخصوص نشستیں حاصل ہو پائیں گی؟

  5. نواز شریف چوتھی بار پاکستان کے وزیراعظم کیوں نہیں بن پائے اور مستقبل کی سیاست میں اُن کا کیا کردار ہو گا؟

  6. خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے لیے تحریک انصاف کے نامزد امیدوار علی امین گنڈاپور کے خلاف کون کون سے مقدمات ہیں؟

    تحریک انصاف کے نامزد کردہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور پر درج مقدمات کی تفصیلات ان کے وکیل نے میڈیا سے شیئر کی ہیں۔

    وکیل کے مطابق علی امین گنڈاپور پر کل 24 مقدمات درج ہیں۔ ان کے مطابق علی امین پر 12 ایف آئی آرز راولپنڈی ڈسٹرکٹ کی ہیں، جن میں وہ 9 مارچ تک ضمانت پر ہیں۔

    علی امین کے خلاف ٹیکسلا اور واہ کینٹ کے تھانوں میں بھی ایک ایک مقدمہ درج ہے، جس میں وہ 11 مارچ تک ضمانت پر ہیں۔

    گوجرانوالہ میں قائم مقدمے میں وہ 18 مارچ جبکہ فیصل آباد میں چار مقدمات میں ان کی ضمانت 16 مارچ تک کی ہے۔

    وکیل کے مطابق علی امین کے خلاف دو ایف آئی آرز لاہور میں درج ہیں، جن میں 15 مارچ تک وہ ضمانت پر ہیں۔ پانچ ایف آئی آرز اینٹی کرپشن کی ہیں، جن پر علی امین گنڈاپور کو یکم مارچ تک ضمانت ملی ہے۔

    ایک ایف آئی آر اینٹی کرپشن ڈیرہ اسماعیل خان ڈسٹرکٹ میں درج ہے، جس میں علی امین یکم مارچ تک ضمانت پر ہیں۔

  7. الیکشن کی سب سے اچھی بات یہ رہی کہ عوام نے لاڈلوں کو مسترد کر دیا، پرویز الٰہی

    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی صدر پرویز الہی کا کہنا ہے کہ اس الیکشن کی سب سے اچھی بات یہ رہی کہ عوام نے لاڈلوں کو بری طرح مسترد کر دیا۔

    لاہور میں ضلع کچہری میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں پرویز الہی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مینڈیٹ پر لاڈلوں کو ڈاکہ نہیں مارنے دیں گے۔

    الیکشن کے حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے پرویز الہی نے کہا کہ ’ہمارا انتخابی نشان چھین لیا گیا، نہ الیکشن مہم چلانے دی گئی اور نہ پولنگ ایجنٹ بیٹھنے دیے گئے۔‘

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ان اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود عوام کا عمران خان سے اظہار محبت قابل تحسین ہے اور وہ پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ ووٹ اور سیٹیں دینے پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

    پرویز الہی نے نون لیگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کے ساتھ شہباز شریف نے ہاتھ کر دیا، ان کو پھنسا کر پاکستان بلایا اور نواز شریف کا رہا سہا بھرم بھی خاک میں مل گیا۔

  8. الیکشن 2024: نتائج بدلنے کے الزامات اور جمہوریت

  9. تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جائیدادیں قرق کرنے کا حکم

    لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جائیدادیں قرق کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان رہنماؤں میں ‏میاں اسلم اقبال، حماد اظہر، مراد سعید سمیت سات دیگر شامل ہیں۔

  10. پنجاب سے منتخب ہونے والے چار صوبائی اسمبلی کے اراکین نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی

    پنجاب سے آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والے چار مزید ارکان اسمبلی نے پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

    ان اراکین میں پی پی 132 سے سلطان باجوہ، پی پی 288 سے حنیف پتافی، پی پی 289 سے محمود قادر خان اور پی پی 94 سے تیمور لالی شامل ہیں۔

    یہ چاروں نومنتخب ارکان کی نامزد وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے ملاقات بھی ہوئی ہے۔

    شہباز شریف نے ان اراکین کا شکریہ ادا کیا اور ان کا خیرمقدم کیا۔

  11. سنہ 2024 کے حالیہ عام انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 47.6 فیصد رہا: فافن کی جائزہ رپورٹ جاری

    Elections

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الیکشن 2024 میں ووٹر ٹرن آؤٹ پر فری اینڈ فئیر نیٹ ورک (فافن) نے جائزہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ ووٹرز سے متعلق جاری جائزہ قومی اسمبلی کے 264 حلقوں کے فارم 47 پر مبنی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ 47.6 فیصد رہا۔ فافن کا جائزہ الیکشن 2018 میں یہ شرح 52.1 فیصد تھی۔ الیکشن 2024 کی 6.06 کروڑ ووٹرز نے ووٹ کا حق استعمال کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ 2018 کی نسبت 58 لاکھ زائد ووٹ ڈالے گئے۔ تاہم ووٹ ڈالنے کی شرح کم ہوئی۔

    سنہ 2018 میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 106 ملین تھی۔ الیکشن 2024 میں 128.6 ملین قومی اسمبلی حلقوں میں سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ این 214 تھرپارکر میں 70.9 فیصد رہا۔

    قومی اسمبلی کے حلقوں میں سب سے کم ٹرن آؤٹ این اے 42 جنوبی وزیرستان میں 16.3 فیصد رہا۔ اسلام آباد میں 2018 کا ووٹر ٹرن آؤٹ 58.3 فیصد تھا جبکہ الیکشن 2024 میں یہ 54.2 فیصد رہا۔

    خیبر پختونخوا میں 2018 کا ووٹر ٹرن آؤٹ 44 فیصد تھا۔ الیکشن 2024 میں 39.5 فیصد رہا۔ پنجاب میں 2018 کا ووٹر ٹرن آؤٹ 56.8 فیصد تھا۔ الیکشن 2024 میں 51.6 فیصد رہا۔ سندھ میں 2018 کا ووٹر ٹرن آؤٹ 47.2 فیصد تھا۔ الیکشن 2024 میں 43.7 فیصد رہا۔

    بلوچستان میں 2018 کا ووٹر ٹرن آؤٹ 45.3 فیصد تھا، الیکشن 2024 میں 42.9 فیصد رہا۔ خواتین کے ووٹ ڈالے جانے کی شرح الیکشن 2018 کے برعکس 2024 میں کسی حلقے سے خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ دس فیصد سے کم نہیں رہا۔

    قومی اسمبلی کے 254 حلقوں میں خواتین ووٹرز کی تعداد 29 لاکھ اور مرد ووٹرز کی تعداد 11 لاکھ بڑھی۔

    قومی اسمبلی کے 254 حلقوں میں مرد ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 55.6 فیصد رہا جبکہ خواتین کا 45.6 فیصد رہا۔ ریٹرننگ آفیسرز نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 20 حلقوں کے فارم 47 میں مرد اور عورت ووٹرز کی تعداد الگ الگ نہیں لکھی۔

  12. ’آصف زردرای نے پیغام بھیجا کہ ان کی ترجیح تحریک انصاف ہے‘، شیر افضل مروت، پیپلز پارٹی کی تردید

    Zardari

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیرافضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ دوستوں کے ذریعے ساسبق صدر آصف زرداری نے ان کو یہ پیغام بھیجا کہ ہماری ترجیح ن لیگ کے بجائے تحریک انصاف ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ آصف زرداری نے کچھ لوگوں کے ذریعے رات گیارہ بجے رابطہ کیا، پیپلز پارٹی کے رابطے پر علیمہ خان سمیت دستیاب پارٹی قیادت کو آگاہ کردیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ وہ کل اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات میں ان رابطوں سے آگاہ کریں گے۔

    شیر افضل نے کہا کہ آصف زرداری نے پیغام بھیجا کہ پی ٹی آئی اپنی نشستیں ضابطے کی کارروائی کے تحت واپس لے لیں، پی پی پی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

    پیپلز پارٹی کی تردید

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے شیر افضل مروت کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے اپنے ردعمل میں کہا وہ شیر افضل مروت کو سنجیدہ شخص نہیں سمجھتے۔ اگر پی ٹی آئی والوں سے رابطہ کرنا ہوتا تو کسی سنجیدہ شخص کے زریعے رابطہ کرتے۔

    فیصل کریم نے کہا کہ ’پی ٹی آئی والوں کو پتا چل گیا ہے کہ اب ان کی حکومت نہیں بن رہی۔‘ کبھی کہتے ہیں 160 نشستیں ہیں، ان کو خود بھی نہیں پتا کتنی سیٹیں جیتے ہیں۔

    ان کے مطابق ’وہ خواب دیکھ رہے ہیں 150 سیٹیں جیتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ان کو خواب میں بھی آصف علی زرداری نظر آ رہے ہیں۔‘

  13. مولانا فضل الرحمان کا اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ، نواز شریف کو بھی دعوت

    نواز شریف، فضل الرحمان، پاکستان، انتخابات، الیکشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انتخابت کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت قومی اسمبلی میں اپوزیشن میں بیٹھے گی۔

    بدھ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'میں مسلم لیگ اور نواز شریف کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئیں اور ہم مل کر اپوزیشن میں بیٹھیں۔'

    صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا ذمہ دار الیکشن کمیشن آف پاکستان کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 'الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کردار روزِ اول سے مشکوک رہا ہے اور اب بھی اسلام آباد میں الیکشن کمیشن ہمارے امیدواروں کی درخواستوں پر سماعت سے انکار کر رہا ہے اور نوٹس جاری کیے بغیر ہماری درخواستوں کو مسترد کر رہا ہے۔'

    مولانا فضل الرحمان نے اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 'اگر اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ الیکشن شفاف ہوئے تو پھر 9 مئی کا بیانیہ دفن ہو چکا ہے۔'

    واضح رہے پاکستان پیپلز پارٹی نے گذشتہ روز وفاقی حکومت میں وزارتیں لینے سے انکار کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ وزارت اعظمیٰ کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حمایت کریں گے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے اعلان کے بعد ن لیگ کے قائد نواز شریف نے اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو وازرتِ اعظمیٰ کے لیے نامزد کردیا ہے۔

  14. سابق جج جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف شکایت کا جائزہ لینے کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس طلب

    چیف جسٹس پاکستان نے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس کل طلب کر لیا ہے۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف شکایت کا جائزہ لیا جائے گا۔

  15. بریکنگ, پی ٹی آئی نے وفاقی سطح پر کسی اور جماعت کے ساتھ اتحاد کیا، صرف خیبرپختونخوا میں اتحاد کا کوئی جواز نہیں بنتا: لیاقت بلوچ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے مرکزی مشاورت اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 8 فروری 2024 کے انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے قائدین نے جماعت اسلامی سے رابطہ کیا کہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نئی صورتحال میں مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کرے۔

    ٹوئٹر پر جاری بیان کے مطابق ’اس کے فوری بعد امیر جماعت اسلامی پاکستان نے مرکزی قیادت اور ذمہ داران کے ساتھ مشاورت کی اور لیاقت بلوچ کی سربراہی میں پروفیسر محمد ابراہیم صاحب امیر جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا، اور عنایت اللہ خان صاحب نائب امیر صوبہ خیبر پختونخوا پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی۔ کمیٹی ارکان کا تحریک انصاف کے قائدین بیرسٹرگوہر خان چیئرمین پی ٹی آئی، علی امین گنڈا پور، عمر ایوب خان اور محمد اعظم خان سواتی سے رابطہ ہوا اور ملکی انتخابی صورت حال پر تبادلہ خیال ہوا۔‘

    ’لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کی طرف سے تحریک انصاف کی قیادت کو آگاہ کر دیا گیا کہ جماعت اسلامی کے انتخابات 2024 پر بڑے تحفظات ہیں۔ انتخابی نتائج کی تبدیلی اور زور زبردستی، سینہ زوری سے نتائج کو پلٹنا مکروہ اور جمہوریت کے لیے سیاہ گھناؤنا کھیل ہے جس کا نقصان ملک اور جمہوریت کو ہو گا۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’تاہم جماعت اسلامی عوامی مینڈیٹ سے جیتنے والے ممبران اسمبلی کا خیر مقدم کرتی ہے۔ تحریک انصاف کو اپنے آزاد اُمیدواران اور جو اُن کی حمایت سے جیتے ہیں انھیں پارٹی، آئینی، پارلیمانی تحفظ، عوامی مینڈیٹ کے احترام، پی ٹی آئی کے کارکنان کی مشکل حالات میں ثابت قدمی، محنت اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے ساتھ غیر مشروط تعاون کے لیے تیار ہے، جس کا پی ٹی آئی قیادت نے خیرمقدم کیا۔

    ’آخری مرحلے میں تحریک انصاف کی قیادت نے پیغام دیا کہ وہ صرف خیبرپختونخوا کی حد تک تعاون چاہتے ہیں، جبکہ قومی سطح پر وہ جماعت اسلامی کے ساتھ اشتراک نہیں کریں گے۔ لیاقت بلوچ نے تحریک انصاف کے قائدین کو آگاہ کیا کہ اُن کی طرف سے بدلے ہوئے دوسرے مؤقف پر مشاورت کے بعد جواب دیا جائے گا۔‘

    بیان کے مطابق ’لیاقت بلوچ نے کہا کہ مشاورت کے بعد جماعت اسلامی نے طے کیا کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کا قومی سطح پر اشتراک عمل قومی مفاد میں ہو گا لیکن تحریک انصاف نے اپنے مؤقف کو تبدیل کیا ہے تو وہ خیبر پختونخوا میں بھی جس سے چاہیں اپنے معاملات طے کر لیں، جماعت اسلامی کو خوشی ہو گی۔‘

    جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے لیاقت بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی سےبات چیت دونوں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے متعلق تھی لیکن پی ٹی آئی نے وفاقی سطح پر کسی اور جماعت کے ساتھ اتحاد کیا ہے اس لیے صرف خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سے اتحاد کا کوئی جواز نہیں بنتا۔‘

  16. بریکنگ, نواز شریف کی سیاست سے کنارہ کش ہونے کی باتوں میں کوئی سچائی نہیں ہے: مریم نواز

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان مسلم لیگ ن کی سینیئر نائب صدر مریم نواز نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ قبول نہ کرنے کا مطلب اگر یہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ نواز شریف سیاست سے کنارہ کش ہو رہے ہیں تو اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اگلے پانچ سال وہ ناصرف بھرپور سیاست کریں گے بلکہ وفاق و پنجاب میں اپنی حکومتوں کی سرپرستی کریں گے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نوازشریف کی تینوں حکومتوں میں عوام نے واضح اکثریت دی تھی اور یہ بات وہ انتخابی تقاریر میں واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی مخلوط حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    ’جو لوگ نواز شریف کے مزاج سے وقف ہیں انھیں نواز شریف کے اصولی موقف کا پتہ ہے۔ شہباز شریف اور میں ان کے سپاہی ہیں، ان کے حکم کے پابند ہیں اور ان کی سربراہی اور نگرانی میں کام کریں گے۔‘

  17. یقین دہانی کرائیں فوج صرف دفاع کا کام کرے کاروبار نہیں: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    qazi faez

    ،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan

    سپریم کورٹ میں آج دفاعی زمینوں پر کمرشل سرگرمیوں کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ فوج نے دی گئی زمین پر شادی ہالز اور دیگر کاروبار شروع کر رکھے ہیں۔

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ ’یقین دہانی کرائیں کہ کاروبار نہیں کریں گے تو ٹھیک ہے، سب کو اپنے مینڈیٹ میں رہنا چاہیے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’یقین دہانی کرائیں فوج صرف دفاع کا کام کرے کاروبار نہیں، فوج اپنا کام کرے، عدالتیں اپنا کام کریں۔‘ جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اصول ’تو یہی ہے کہ سب اپنا اپنا کام کریں۔‘

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’اگر آپ کو ایسی ہدایات ہیں تو عدالت کو یقین دہانی کرا دیں۔‘

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پانچ منزلہ بلڈنگ بنتی رہی تب متروکہ املاک بورڈ تماشائی بنا رہا؟

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ملی بھگت کے علاوہ غیر قانونی تعمیرات ممکن نہیں، ایس سی بی اے کے انسپکٹرز اور اوپر کے افسران کے اثاثے چیک کرانے چاہییں۔‘

    چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’کراچی کے سب رجسٹرارز کے اثاثوں کا آڈٹ بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے کروانا چاہیے، آمدن سے زائد تمام اثاثوں سے رقم مسمار کی گئی عمارتوں کے رہائشیوں کو ملنی چاہیے۔‘

  18. محمد خان بھٹی کو پرنسپل سیکرٹری تعینات کرنے کا کیس، پرویز الہی کی ضمانت منظور

    لاہور ہائیکورٹ نے محمد خان بھٹی کو پرنسپل سیکرٹری تعینات کرنے کے مقدمے میں ‏سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی کی ضمانت منظور کر دی ہے۔

    عدالت نے پرویز الہی کی ایک لاکھ روپے کے مچلکے کے عوض ضمانت منظور کی۔

  19. پی بی 21 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روک دی گئی، این اے 253 کے سات سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ 16 فروری کو

    الیکشن کمیشن نے بلوچستان میں حب کے حلقے پی بی 21 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روک دی ہے۔ اتوار کو کمیشن نے یہاں 39 پولنگ سٹیشنز میں دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا۔

    آج جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق کمیشن نے کہا کہ 12 فروری کو صوبائی الیکشن کمشنر اور ریٹرننگ آفیسر کا کہنا تھا کہ کچھ شرپسند لوگ آر او کے دفتر میں داخل ہوئے اور انھوں نے پولنگ ریکارڈ میں رد و بدل کی کوشش کی جس سے لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہوئی۔

    الیکشن کمیشن نے تحقیقات کے لیے چار رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی ہے اور تب تک ووٹوں کی دوبارہ گنتی روک دی ہے۔

    دوسری طرف الیکشن کمیشن نے این اے 253 اور پی بی 9 میں شکایات کی روشنی میں سات پولنگ سٹیشنز میں دوبارہ پولنگ کا حکم دیا۔

    غیر سرکاری نتائج کے مطابق این اے 253 میں آزاد امیدوار میاں خان بگٹی نے نوابزادہ شاہ زین بگٹی کو ہرایا تھا۔

    کمیشن کے مطابق 16 فروری کو صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک ان جگہوں پر دوبارہ پولنگ ہوگی۔

  20. بریکنگ, اسلام آباد کے تین حلقوں پر کامیاب امیدواروں کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد کے تینوں حلقوں سے ارکان قومی اسمبلی کی کامیابی کے نوٹیفکیشنز کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے دوران سماعت استفسار کیا کہ ’الیکشن کمیشن کو پہلے اپنے پاس زیر التوا درخواستوں پر فیصلہ نہیں کر دینا چاہیے تھا؟‘

    انھوں نے یہ ریمارکس بھی دیے کہ ’الیکشن کمیشن آئینی ادارہ، ڈائریکشن نہیں دے سکتے لیکن آبزرویشن دیں گے۔‘

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے این اے 46 ,47 اور 48 سے کامیاب امیدواروں طارق فضل چوہدری، راجہ خرم اور انجم عقیل کی کامیابی کے نوٹیفکیشنز کے خلاف شعیب شاہین، علی بخاری اور عامر مغل کی درخواستوں پر سماعت کی۔

    چیف جسٹس نے کہا الیکشن کمیشن کو تو پتا تھا کہ ان کے پاس ایک درخواست پڑی ہوئی ہے تو ’کیا یہ مناسب نہیں تھا پہلے کمیشن اس درخواست پر فیصلہ کرلیتا؟‘

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا ’فارم 47 میں پوسٹل بیلٹس کا نتیجہ شامل نہیں ہوتا۔ درخواست گزاروں کا الزام صرف فارم 47 کی حد تک ہے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا ’الیکشن کمیشن کے پاس درخواست تو پینڈنگ ہے نا اس پر فیصلہ ہونا چاہیے۔ نوٹیفکیشن تو آگیا لیکن بعد میں کمیشن میں زیر التوا درخواست کا فیصلہ مختلف آجاتا ہے تو کیا ہوگا؟‘

    ’ابھی ٹربیونل نہیں بنے اس لیے عدالت کو یہ کیس سننے کا اختیار ہے۔‘

    درخواست گزار کے مطابق الیکشن کمیشن کے حکمِ امتناعی کے باوجود حتمی نتائج مرتب کر کے کامیابی کے نوٹیفیکیشن جاری کر دیے گئے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے وضاحت کی کہ حکم امتناع مشروط تھا۔ ’کمیشن نے اپنے آرڈر میں لکھا تھا کہ اگر کانسالیڈیشن نہیں ہوئی تو روک دی جائے۔‘

    چیف جسٹس نے استفسار کیا ’اگر الیکشن کمیشن میں ان کی اپیلیں منظور ہوتی ہیں تو نوٹیفکیشن ختم ہو جائے گا نا؟

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا نوٹیفکیشن کالعدم ہونے کے لیے کمیشن کے سامنے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ بے ضابطگی ہوئی۔ ’الیکشن کمیشن زیر التوا درخواستوں کو اس سوچ کیساتھ سنے گا کہ جیسے نوٹیفکیشن ہے ہی نہیں۔‘

    ’عدالت نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیے بغیر معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجوا دے تو کوئی اعتراض نہیں۔‘

    شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے کہا اگر کانسالیڈیشن پراسیس ہی دوبارہ ہونا ہے تو ساری چیزیں ختم ہو جانی ہیں تو ’پھر نوٹیفکیشن کیوں؟ ہماری استدعا ہےکہ الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دےدیا جائے۔‘

    انھوں نے کہا ’ہائیکورٹ الیکشن کمیشن کو ڈائریکشن بھی جاری کر سکتی ہے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا ’الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے تو ایک خیال ہے کہ ہائیکورٹ ڈائریکشن نہیں دے سکتی، آبزرویشن جاری کی جائے گی۔‘