’پنجاب پر کبھی کوئی شوباز مسلط کیا گیا تو کبھی وسیم اکرم پلس، ہم پاکستان کو ان نالائقوں کے حوالے نہیں کر سکتے‘: بلاول بھٹو

لاہور میں پارٹی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’جو نفرت کی سیاست کر رہے ہیں اس سے ملک تقسیم ہو رہا ہے، پیپلز پارٹی نفرت اور تقسیم کی سیاست کو دفن کرے گی۔‘

لائیو کوریج

  1. ’پاکستانی حملوں میں ہلاک ہونے والے سات افراد ایرانی شہری نہیں تھے‘: ڈپٹی گورنر جنرل سیستان

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    پاکستان کی جانب سے ایرانی سرزمین پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے ایران کےصوبہ سیستان بلوچستان کے ڈپٹی گورنر کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح جنوب مشرقی ایرانی شہر پر پاکستان کے حملے میں ہلاک ہونے والے سات افراد ایرانی شہریت نہیں رکھتے تھے۔

    ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے ان کے بیان کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے جنوب مشرقی صوبہ سیستان بلوچستان کے ڈپٹی گورنر جنرل علی رضا مرہماتی نے بتایا کہ یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح 04:05 بجے کیا گیا جس میں ایک ایرانی سرحدی گاؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

    ارنا نیوز کے مطابق ڈپٹی گورنر کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا پتا اس وقت لگا جب سراوان کے آس پاس میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ڈپٹی گورنر مرہماتی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین خواتین اور چار بچے شامل ہیں۔

    انھوں نے ارنا نیوز سے کہا کہ سراوان کے قریب ایک اور دھماکہ ہوا، خوش قسمتی سے اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    سراوان کا علاقہ ایرانی صوبے سیستان بلوچستان کے صدر مقام زاہدان سے 347 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے، جس کی سرحد پاکستان سے ملتی ہے۔

  2. شہباز شریف: ’ہم امن چاہتے ہیں لیکن اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں‘

    پاکستان کے سابق وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی جانب سے ایران میں کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم امن چاہتے ہیں لیکن اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔‘

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں شہباز شریف نے کہا کہ خطے کی علاقائی سالمیت اور ہمارے شہریوں کا تحفظ سب سے اہم ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. بریکنگ, ایرانی میڈیا کا پاکستان کی جانب سے کارروائی میں شہری ہلاکتوں کا دعویٰ

    پاکستان کی جانب سے ایرانی سرزمین پر شدت پسندوں کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے کے بعد ایرانی میڈیا نے ان حملوں میں شہری ہلاکتوں کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق ایران کے سیستان و بلوچستان کے ڈپٹی سیکورٹی گورنر نے بتایا کہ سراوان میں ہونے والے دھماکوں میں ’تین خواتین اور چار بچوں‘ کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    واضح رہے کہ جمعرات کی صبح سراوان شہر کے اطراف میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں تھی جس کے بعد یہ خبریں سامنے آئیں کہ یہ دھماکے پاکستان کی جانب سے حملوں کی وجہ سے ہوئے ہیں۔

  4. بریکنگ, ’آپریشن مرگ بر سرمچار‘: پاکستان کی ایران میں ’دہشتگردوں‘ کے ٹھکانوں پر کارروائی، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کی جانب سے ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران کے علاقے سیستان میں دہشتگرد گروہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں متعدد دہشتگرد مارے گئے ہیں۔

    دفتر خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جمعرات کی صبح پاکستان نے ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں دہشت گردوں کے مخصوص ٹھکانوں کے خلاف انتہائی مربوط فوجی حملوں کا سلسلہ شروع کیا جس کا کوڈ نام ’مرگ بر سرمچار‘ رکھا گیا ہے۔ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کے دوران متعدد دہشت گرد مارے گئے ہیں۔‘

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے دہشتگردوں کے کئی ٹھکانوں کا نشانہ بنایا۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود میں حملے کے نتیجے میں دو بچے ہلاک جبکہ تین بچیاں زخمی ہو گئی تھیں۔

    پاکستان نے اپنی فضائی حدود کی بلااشتعال خلاف ورزی اور پاکستانی حدود میں حملے کی شدید مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ خودمختاری کی خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔

    دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے ایران کو دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے بارے میں آگاہ کرتا آیا ہے۔ پاکستان نے ان دہشت گردوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے ٹھوس شواہد کے ساتھ متعدد ڈوزیئرز بھی شیئر کیے ہیں۔

    تاہم پاکستان کے سنگین خدشات پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے یہ نام نہاد سرمچار بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہاتے رہے۔ تاہم آج صبح کی کارروائی ان نام نہاد سرمچاروں کی طرف سے بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ کارروائیوں کے بارے میں مصدقہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی پاکستان کے تمام خطرات کے خلاف اپنی قومی سلامتی کے تحفظ اور دفاع کے غیر متزلزل عزم کا مظہر ہے۔ اس انتہائی پیچیدہ آپریشن کا کامیاب انعقاد بھی پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستان اپنے عوام کے تحفظ اور سلامتی کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتا رہے گا۔

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کرتا ہے، آج کی کارروائی کا واحد مقصد پاکستان کی اپنی سلامتی اور قومی مفاد کا حصول تھا، پاکستان کی سلامتی اور قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کو برقرار رکھتا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر اصولوں میں رکن ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری شامل ہے، پاکستان کبھی اپنی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کو چیلنج کرنےکی اجازت نہیں دے گا۔

    پاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران برادر ملک ہے اور پاکستانی عوام ایرانی عوام کے لیے عزت اور محبت رکھتے ہیں، ہمیشہ دہشتگردی سمیت مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنےکے لیے بات چیت اور تعاون پر زور دیا ہے اور آئندہ بھی مشترکہ حل تلاش کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔

  5. پاکستانی صحافیوں کے ’دو کیمپس‘: وی لاگز کی دنیا جہاں بات ’کھل کر ہوتی ہے‘ اور آمدن ڈالر میں

  6. بریکنگ, امریکہ کی پاکستانی سرزمین پر ایرانی حملے کی سخت مذمت، ’ایران کے قول و فعل میں تضاد ہے‘

    Miller

    ،تصویر کا ذریعہwww.state.gov

    پاکستان پر ایران کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزی اور بلوچستان پر میزائل حملے پر ردعمل دیتے ہوئے امریکہ نے اس اقدام کی سخت مذمت کی ہے۔

    امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان میتھو ملر نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کی جانب سے اس حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے گذشتہ چند دنوں میں ایران کو اپنے تین ہمسایہ ممالک کی خود مختاری اور سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے دیکھا ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایران کے قول و فعل میں تضاد ہے۔ ’ایک طرف ایران خطے میں دہشت گردی اور عدم استحکام کا سب سے بڑا فنڈر ہے جبکہ دوسری طرف وہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی کرنے کا دعویدار ہے۔‘

    انھوں نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بڑھتے حملوں کی بھی مذمت کی۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز ایران کی سکیورٹی فورسز نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبہ بلوچستان کے ایک سرحدی گاؤں ’سبزکوہ‘ میں رہائشی علاقے کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا ہے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اس نے اس حملے میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں جیش العدل نامی عسکریت پسند گروہ کے دو اہم ٹھکانوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے تباہ کیا گیا ہے۔

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کا اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ناقابلِ قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان نے کہا ہے کہ ایران نے پاکستان میں حملے کے دوران ایک ’ایرانی دہشتگرد گروہ‘ کو نشانہ بنایا۔

  7. پاکستانی سرزمین پر حملہ، ایران کو ’برادر‘ ملک کے خلاف ایسی کارروائی کی ضرورت کیوں پڑی؟

  8. پاکستان ایران کی اشتعال انگیز کارروائی کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے: جلیل عباس جیلانی

    Jalil

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اپنے ایرانی ہم منصب سے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر ایرانی حملہ ’خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی‘ ہے اور پاکستان ’اس اشتعال انگیزی کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔‘

    دفتر خارجہ کے مطابق یوگینڈا کے دورے پر موجود جلیل عباس جیلانی کو ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کا ٹیلی فون موصول ہوا جس میں پاکستان کی جانب سے یہ پیغام دیا گیا کہ ’16 جنوری 2024 کو پاکستانی سرزمین پر ایرانی حملہ نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی تھی بلکہ یہ بین الاقوامی قانون کے بھی خلاف تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس سے پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔‘

    ’پاکستان یہ حق محفوظ رکھتا ہے کہ وہ اس اشتعال انگیز کارروائی کا جواب دے۔‘

    پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ ’یکطرفہ اقدامات سے علاقائی امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ کوئی ملک خطے کو اس راہ پر نہ دھکیلے۔‘

  9. ہم نے پاکستانی سرزمین پر صرف ایرانی دہشتگردوں کو نشانہ بنایا: ایرانی وزیر خارجہ

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان نے کہا ہے کہ ایران نے پاکستان میں حملے کے دوران ایک ’ایرانی دہشتگرد گروہ‘ کو نشانہ بنایا۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈیووس میں گفتگو کے دوران ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’برادر ملک پاکستان کا کوئی بھی شہری ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا ہدف نہیں بنا۔ نام نہاد جیش العدل گروہ، جو کہ ایرانی دہشتگردی گروہ ہے، اس کا ہدف بنا۔ اس گروہ نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے کچھ حصوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ ہم نے اس معاملے پر کئی بار پاکستان کے سکیورٹی حکام سے بات کی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایران پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے تاہم ایران ’کی قومی سلامتی پر سمجھوتہ یا اس سے کھلواڑ نہیں کرنے دیا جائے گا۔‘ انھوں نے پاکستانی سرزمین پر جیش العدل کے خلاف کارروائی کو اس تنظیم کی جانب سے ایران میں قاتلانہ حملوں کا جواب بتایا۔

    10 جنوری کو راسک شہر کے ایک تھانے پر حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت ہوئی۔ ایک ماہ قبل علاقے میں اسی نوعیت کے ایک حملے میں 11 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی تھی۔ دونوں حملوں کی ذمہ داری جیش العدل نے قبول کی تھی۔

    امیر عبد اللہیان نے کہا کہ ’ہم نے صرف پاکستانی سرزمین پر ایرانی دہشتگردوں پر حملہ کیا۔

    ’میں نے پاکستانی وزیر خارجہ کو یقینی دلایا کہ ہم آپ کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرتے ہیں تاہم ہم اپنی قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا خیال ہے کہ عراق اور پاکستان کی سکیورٹی ایران کی سکیورٹی ہے۔‘

  10. پاکستان اور ایران تناؤ بڑھانے سے گریز کریں: چین

    چین

    ،تصویر کا ذریعہForeign Ministry, China

    چینی وزارت خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران یہ پوچھا گیا کہ پاکستان نے اپنی سرزمین پر ایرانی فضائی کی مذمت کی ہے تو چین کا اس پر کیا موقف ہے۔

    ترجمان نے جواب دیا کہ چین کا ماننا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بنیادی بین الاقوامی اصولوں پر ہونے چاہییں جس میں تمام ممالک کی خود مختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایران اور پاکستان پڑوسی اور اہم اسلامی ممالک ہیں۔ ہم دونوں فریقین سے تحمل کا مطالبہ کریں گے۔ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے کشیدگی بڑھ سکتی ہے بلکہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔‘

  11. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ایران کی سکیورٹی فورسز نے پاکستانی سرحد کے اندر بلوچستان کے ایک گاؤں میں رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستان میں جیش العدل کے دو ہیڈ کوارٹرز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ مذکورہ حملہ جیش العدل کیمپ پر پنجگور رائفلز کے علاقے سبز کوہ، چیدگی سیکٹر میں ہوا۔ ایران کا الزام ہے کہ جیش العدل نے پاکستان میں پناہ گاہ بنا رکھی ہے جبکہ پاکستان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
    • پاکستان نے ایران کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی بلا اشتعال خلاف ورزی اور پاکستانی حدود کے اندر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حملے کے نتیجے میں دو معصوم بچے مارے گئے اور تین لڑکیاں زخمی ہوئی ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق ’پاکستان کی خودمختاری کی یہ خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان رابطے کے متعدد ذرائع موجود ہونے کے باوجود یہ غیر قانونی عمل ہوا ہے۔ حکام نے ایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کیا ہے تاکہ مذمت کی جائے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کے نتائج کی ذمہ داری مکمل طور پر ایران پر عائد ہوگی۔
    • پاکستان نے سرحدی خلاف ورزی پر ایران کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ایران سے اپنے سفیر کو بھی واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ نے پریس کانفرس کے دوران اعلان کیا ہے کہ پاکستان ایران سے اپنے سفیر کو واپس بلا رہا ہے جبکہ ایرانی سفیر کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
    • آئی ایم ایف کی جانب سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو 70 کروڑ ڈالر کی قسط موصول ہو گئی ہے۔ سٹیٹ بینک کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ آئی ایم ایف سے 70 کروڑ ڈالر موصول ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ نے گزشتہ ہفتے معاشی جائزے کی منظوری کے بعد 70 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری دی تھی۔ پاکستان کو جولائی 2023 میں ایک اعشاریہ 2 ارب ڈالر کی رقم موصول ہوئی تھی جس کے بعد سٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام کے تحت پاکستان کو اب تک ایک اعشاریہ 9 ارب ڈالر کی رقم مل چکی ہے۔ آخری اقتصادی جائزے کے بعد پاکستان کو مزید ایک اعشاریہ 1 ارب ڈالر ملیں گے۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کے لیے پاکستان کے مرکزی بینک میں جمع دو ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کی مدت میں ایک سال کی توسیع کردی ہے۔
    • راولپنڈی کی مقامی عدالت نے سابق وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی کے خلاف نو مئی کے واقعات سے متعلق مقدمے میں ان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 25 جنوری تک توسیع کر دی ہے۔ بدھ کو انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے جج ملک اعجاز آصف نے شاہ محمود قریشی کے خلاف نو مئی کے واقعات سے متعلق مقدمے کی سماعت۔ عدالت نے سماعت کے بعد پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کے خلاف درج مقدمات میں ان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 25 جنوری تک توسیع کردی۔
  12. ’پنجاب پر کبھی کوئی شوباز مسلط کیا گیا تو کبھی وسیم اکرم پلس، ہم پاکستان کو ان نالائقوں کے حوالے نہیں کر سکتے‘: بلاول بھٹو