’پنجاب پر کبھی کوئی شوباز مسلط کیا گیا تو کبھی وسیم اکرم پلس، ہم پاکستان کو ان نالائقوں کے حوالے نہیں کر سکتے‘: بلاول بھٹو
لاہور میں پارٹی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’جو نفرت کی سیاست کر رہے ہیں اس سے ملک تقسیم ہو رہا ہے، پیپلز پارٹی نفرت اور تقسیم کی سیاست کو دفن کرے گی۔‘
لائیو کوریج
پاکستان کے ایران میں حملوں سے متاثر ہونے والے گاؤں میں تباہی کے مناظر
پاکستان کی سرحد سے متصل ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان کے شہر سروان کے قریب ایک گاؤں میں پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملوں سے ہونے والی تباہی کے مناظر۔

،تصویر کا ذریعہReuter

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters
یورپی یونین کا پاکستان اور ایران کے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اسے حالیہ دنوں میں پاکستان اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کی سرزمین پر حملوں کے بعد ’مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر تشدد‘ پر تشویش ہے۔
یورپی یونین کے ترجمان پیٹر اسٹیناؤ نے ایک بیان میں کہا کہ ’پاکستان، عراق اور ایران پر حملے یورپی یونین کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہیں کیونکہ یہ ان ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور خطے میں عدم استحکام کے اثرات بھی مرتب کرتے ہیں۔
درجنوں انتخابی نشان، سینکڑوں امیدوار: پی ٹی آئی کی امیدواروں کی شناخت سے متعلق حکمت عملی کیا پولنگ کے دن کامیاب ہو پائے گی؟
ایران، پاکستان کشیدگی: کب کیا ہوا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر آپ نے بی بی سی اردو کو ابھی جوائن کیا ہے تو آج کی خبروں کا خلاصہ یہ ہے:
- پاکستانی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایران کے اندر دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں کے خلاف موثر حملے کیے گئے۔‘
- پاکستان کے صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ ان کا ملک ’اپنی قومی سلامتی اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اپنی سرزمین کے دفاع کے لئے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔‘
- ایران میں اب تک حکومت کی جانب سے ردعمل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی کا سامنے آیا جس میں انھوں نے حملوں کی مذمت کی اور پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ناظم الامور کو طلب کرنے کا اعلان کیا۔
- ایرانی پارلیمنٹ میں چاہ بہار کے نمائندے معین الدین سعیدی نے بھی کہا کہ پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان کے برعکس ایرانی سرزمین پر اس ملک کے خلاف کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں ہے۔
- ایران میں برطانیہ کے سابق سفیر رابرٹ میکیئر نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان پر ایران کے حملوں اور پاکستان کے ردعمل کی اندرونی وجوہات ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ’پیچیدہ تعلقات‘ ہیں۔
- طالبان کی وزارت خارجہ نے بھی دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ فریقین کو سفارتی راستوں کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنے چاہئیں۔
- ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فدان نے بھی اپنے ایرانی اور پاکستانی ہم منصبوں سے فون پر بات کی اور کہا کہ ایران اور پاکستان نہیں چاہتے کہ خطے میں کشیدگی بڑھے۔
- چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ثالثی کے لیے تیار ہے اور امید ہے کہ فریقین تحمل اور پرسکون رہیں گے اور کشیدگی کو بڑھنے سے روکیں گے۔
آپریشن مرگ بر سرمچار: پاکستان کو فوری ردعمل دینے پر کس بات نے مجبور کیا اور یہ معاملہ کہاں جا کر رُکے گا؟
پاکستان کی جانب سے ان حملوں کا جواب دینا اتنا آسان نہیں تھا: ایران میں سابق برطانوی سفیر
ایران میں برطانیہ کے سابق سفیر رابرٹ میکیئر نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان پر ایران کے حملوں اور پاکستان کے ردعمل کی کُچھ اندرونی وجوہات ہیں۔
میکیئر کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ سرحد پار سے ہونے والے حملے سنگین ہیں لیکن اس پر تھوڑی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ دونوں ممالک کی جانب سے باضابطہ تور پر ایک دوسرے پر حملہ نہیں کیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جوابی حملے دوسرے ملک کی سرزمین پر سرگرم عسکریت پسند گروہوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے تھے، انھوں نے مزید کہا کہ ایران پاکستان سرحد پر سالوں سے مسائل موجود ہیں۔‘
سابق برطانوی سفیر نے بلوچستان کو ایک ایسا علاقہ قرار دیا جہاں قانون کی بالادستی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اُن کے مطابق اس علاقے میں منشیات کی سمگلنگ کرنے والے بڑے گروہ ہزاروں اموات کے ذمہ دار ہیں۔
ان کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان ’تعلقات پیچیدہ‘ ہیں لیکن انھوں نے ہمیشہ ان تعلقات کو اچھی طرح سے سنبھالنے اور قائم رکھنے کی کوشش کی۔
میکیئر کا ماننا ہے کہ ایران کی جانب سے اپنی سرزمین پر حملوں کے بعد پاکستان کی جانب سے ان حملوں کا جواب دینا اتنا آسان نہیں تھا۔‘
’ایران اور پاکستان کے تعلقات پیچیدہ لیکن خوشگوار ہیں‘, ماہر سفارتی امور پال ایڈمز کا تجزیہ
’یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے کہ ایران اور پاکستان جیسے دو بڑے اور بااثر ممالک اس طرح آمنے سامنے آ کھڑے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے پر حملے بھی کیے ہیں۔ لیکن شہری ہلاکتوں، املاک کو پہنچنے والے نقصان اور کچھ سخت بیانات کے باوجود، حالات اب بھی اتنے خراب نہیں ہوئے کے انھیں ایک حقیقی بحران کی طرح دیکھا جائے۔‘
یہ الفاظ ہیں بی بی سی کے سفارتی امور کے ماہر پال ایڈمز کے، اُن کا دونوں مُلکوں کے درمیان جاری اس حالیہ کشیدگی پر مزید کہنا ہے کہ ’ایران اور پاکستان کے درمیان پیچیدہ لیکن خوشگوار تعلقات ہیں۔ ان کے وزراء نے اس ہفتے ڈیووس میں ملاقات کی اور ان کی بحریہ نے آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں مشترکہ مشقیں کیں۔ دونوں ممالک کو غیر قانونی سرحدی علاقے کے بارے میں یکساں خدشات ہیں، جہاں منشیات کے سمگلر اور بلوچ ملیشیا انتہائی سرگرم ہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا ہے کہ ’دونوں اطراف سے فضائی حملوں کے بعد، ہر فریق اس بات پر زور دینے کے لئے بے چین نظر آیا کہ یہ حملے کسی بھائی کے پڑوسی پر حملے کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔ منگل کے روز ایران کے اس اقدام کے بعد پاکستان نے کافی غم و غصے کا اظہار کیا اور ’سنگین نتائج‘ کی بات کہی۔‘
پال ایڈمز نے کہا کہ ’وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق آج صبح ایران نے پاکستانی ناظم الامور کو کو طلب کر کے احتجاج کیا اور وضاحت طلب کی۔ لیکن اس حملے کی زیادہ تر اطلاع ایرانی ٹیلی ویژن پر نہیں دی گئی اور تہران کا ردعمل نسبتاً خاموش دکھائی دیتا ہے۔‘
اُن کے مطابق ’ایران شاید جانتا تھا کہ پاکستان کو کل کے حملوں کا جواب دینا پڑے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں جانب سے اپنی ساکھ برقرار رکھی ہے اور شاید رائے عامہ کے اپنے مطالبات کو پورا کیا ہے۔‘
’اگر مُجھے نہ نکالا جاتا تو آج ہر فرد کے پاس باعزت روزگار ہوتا‘ نواز شریف

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حافظ آباد میں سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے جسلہ عام سے خظاب کرتے ہوئے کہا کہ ’پانچ ججوں نے بیٹھ کر نواز شریف کو فارغ کردیا جو کہ 25 کروڑ عوام کا نمائندہ ہے۔ اگر نہ نکالا جاتا تو آج پتا ہے کیا ہوتا؟ آج حافظ آباد میں کوئی ایسا شخص نہ ہوتا جس کے پاس باعزت روزگار نہ ہوتا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’1990 میں پہلی مرتبہ عوام نے نواز شریف کو پہلی مرتبہ وزیراعظم بنایا، اگر اس دوران کوئی رکاوٹ نا آتی، اگر نواز شریف کو بار بار گرفتار نہ کیا جاتا، اگر نواز شریف کو جعلی مقدمات میں الجھایا نہ جاتا، وزارت اعظمیٰ سے فارغ نہ کیا جاتا تو آج پاکستان کا مقام مزید اونچا ہوتا۔‘
نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’میرا مشن پاکستان کو اس کے قدموں پر کھڑا کرنا ہے اور ہم اپنے اس مشن کو پورا کریں گے۔‘
’پاکستان اپنی قومی سلامتی اور علاقائی سالمیت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اپنی سرزمین کا دفاع کرے گا‘ پاکستانی صدر عارف علوی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صدر عارف علوی نے ایران کے سیستان اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں پر پاکستان کی جوابی کارروائی سے متعلق کہا ہے کہ ’پاکستان اپنی قومی سلامتی اور علاقائی سالمیت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اپنی سرزمین کے دفاع کے لئے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔‘
پاکستانی فوج کی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے ایک بیان میں، صدر عارف علوی نے ایرانی سرزمین پر ان کے حملوں کو ’پیشہ ورانہ‘ قرار دیا اور کہا کہ ’پاکستانی مسلح افواج نے ایران کے صوبہ سیستان اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے میں شہری ہلاکتوں سے گریز کیا ہے۔‘
صدرِ پاکستان نے کہا ہے کہ دہشت گردی اس خطے کا مشترکہ مسئلہ ہے جس کے خاتمے کے لیے ہمیں عالمی کوششوں کی ضرورت ہے۔‘
پاکستان تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کرتا ہے اور توقع کرتا ہے کہ دیگر ممالک بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔
بیان کے آخر میں صدر مملکت نے کہا کہ ’پاکستان اور ایران برادر ممالک ہیں اور انھیں باہمی بات چیت اور مشاورت کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہئیں۔‘
ترک وزیرِ خارجہ کا ایران اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے پر زور
ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فدان نے ایرانی اور پاکستانی ہم منصبوں سے ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد کہا کہ ’ایران اور پاکستان نہیں چاہتے کہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو۔‘
فدان نے اردن میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ترکی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا چاہتا ہے اور جلد از جلد امن بحال کرنا چاہتا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے پاکستان کے حملے کی مذمت
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے سیستان اور بلوچستان میں سرحدی علاقوں پر پاکستان کے حملے کی مذمت کی ہے۔
ناصر کنانی نے وزارت خارجہ کو تہران میں پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کرنے کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
ان کے مطابق یہ سمن احتجاج کو باضابطہ طور پر مطلع کرنے اور حکومتِ پاکستان سے اس سلسلے میں وضاحت طلب کرنے کے لیے تھا۔
دوسری جانب طالبان کی وزارتِ خارجہ نے ایران اور پاکستان کے درمیان تنازعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور دونوں جانب سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
’فریقین کو سفارتی اور مذاکراتی ذرائع کے ذریعے خطے کے استحکام کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے‘ افغان وزارتِ خارجہ
افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے ایکس پر ایک بیان میں لکھا ’کیونکہ یہ خطہ مسلط کردہ تنازعات اور طویل عدم استحکام کے بعد سلامتی اور استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے، لہذا فریقوں کو سفارتی اور مذاکراتی ذرائع کے ذریعے خطے کے استحکام کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
دریں اثنا، متعدد سابق افغان حکومت کے عہدیداروں نے بھی اسلام آباد اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبصرہ کیا۔ سابق نائب صدر امراللہ صالح اور افغانستان کے سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر بیانات شائع کر کے پاکستان میں ایران کے فضائی حملوں کا خیر مقدم کیا۔
واضح رہے کہ آج علی الصبح پاکستانی فوج نے ایران میں بلوچ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے پاکستان کے حملوں میں اب تک 9 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
بریکنگ, پاکستان کے ایران پر حملے میں نو ہلاکتوں کی تصدیق
ایران کے وزیر داخلہ احمد وحیدی نے کہا ہے کہ ایران کے شہر سروان پر پاکستانی میزائل حملے میں چار بچے، تین خواتین اور دو مرد ہلاک ہوئے ہیں۔
قبل ازیں سیستان و بلوچستان حکومت کے ڈپٹی ہیڈ آف سیکیورٹی علی رضا مرہمتی نے تین خواتین اور چار بچوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی تھی۔
پاکستانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ان کی جانب سے ایران میں بلوچ عسکریت پسندوں کے مضبوط گڑھ کے خلاف فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ یہ حملہ پاکستانی سرزمین پر سنی مسلح گروہ پر ایرانی حملے کے دو دن بعد ہوا ہے جس میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے اور دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔
پاکستان نے ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو خودکش ڈرون، میزائل اور راکٹوں کی مدد سے نشانہ بنایا، آئی ایس پی آر

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر، کا کہنا ہے کہ پاکستان نے 18 جنوری کو علی الصبح ایران کے اندر کارروائی کرتے ہوئے بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور اس حملے کا ہدف وہ عناصر تھے جو پاکستان کے اندر دہشتگردانہ کاروائیوں میں ملوث تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس کارروائی میں خودکش ڈرون، راکٹ، میزائل اور گولہ بارود استعمال کیے گئے جبکہ ’کولیٹرل ڈیمج‘ سے بچنے کے انتہائی احتیاط برتی گئی۔
شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ’آپریشن مرگ بر سرمچار‘ نامی یہ کارروائیانٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ایران میں نشانہ بنائے جانے والے ٹھکانے بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسی تنظیموں سے منسلک دوستا عرف چیئرمین، بجر عرف سوغات، ساہل عرف شفق، اصغر عرف بشام اور وزیر عرف وزی اور دیگر دہشتگردوں کے زیر استعمال تھے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کے خلاف تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کی فوج ہمہ وقت تیار ہے۔
آئی ایس پی آر کس مزید کہنا تھا کہ سمجھداری کا تقاضہ ہے کہ دونوں ہمسایہ برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ مسائل بات چیت اور تعاون کے ذریعے حل کیے جائیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان میں مبینہ ’دہشتگردوں‘ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ڈپٹی گورنر جنرل سیستان علی رضا مرہماتی نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حملوں میں ہلاک ہونے والے سات افراد ایرانی شہری نہیں تھے۔
’توشہ خانہ کے تحائف ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہوتے ہیں،‘ اسلام آباد ہائیکورٹ, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

،تصویر کا ذریعہGOVERNMENT OF PAKISTAN
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی توشہ خانہ اور 190ملین پاؤنڈ نیب ریفرنسز میں جیل ٹرائل کے خلاف درخواستیں قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ریفرنس دائر ہونے سے قبل ہی جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ قانون کے مطابق متعلقہ عدالت کے جج نے جیل ٹرائل کا پراسیس شروع نہیں کیا اور 23 دسمبر سے توشہ خانہ ریفرنس روزانہ کی بنیاد پر چل رہا ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے رینمارکس دیے کہ عدالت نے کہا ہے کہ ’ہم نے اس کا پراسیس ہی دیکھنا ہے کہ وہ ٹھیک ہوا ہے یا نہیں۔ یہ نہیں دیکھنا کہ ٹرائل ادھر کریں یا جیل میں۔‘
عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’وفاقی حکومت کو کیسے پتہ تھا کہ ریفرنس دائر ہو گا کہ جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن پہلے ہی کر دیا؟ کیا وفاقی حکومت کو پہلے سے ہی اتنا یقین تھا کہ ریفرنس دائر ہوگا؟ اس عمل سے بدنیتی واضح ہوتی ہے۔‘
عدالت کی طرف سے ریمارکس دیے گئے کہ ’ریفرنس ڈراپ بھی تو ہوسکتا تھا۔‘
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ ’توشہ خانہ کے تحائف ریاست پاکستان کی ملکیت ہوتے ہیں اسی کے پاس رہنے چاہئیں اور توشہ خانہ حکومت کی تجوری ہے اور سیکرٹری کابینہ اس کا رکھوالا ہے مگر بدقمستی سے رکھوالے نے سب کے لئے دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ کوئی سیل لگی ہوئی ہے کہ 50 فیصد آف، 20 فیصد آف ہے۔ یہ تحائف واپس کرنے چاہئیں۔‘
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’جب جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن ہوا تب تو کورٹ کو ڈیزیگنیٹ ہی نہیں کیا گیا تھا۔ جج صاحب کو ڈیپوٹیشن پر تعینات کیا گیا، ریٹائرمنٹ کی مدت بھی قریب ہے، وہ روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر رہے ہیں تاکہ ٹرائل مکمل کرسکیں۔‘
انھوں نے کہا کہ گیارہ گواہوں کے بیانات قلمبند کر کے تین گواہوں پر جرح بھی ہو چکی ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیے آپ کی حکومت نے احتساب عدالت کے ججز کی منظوری ہی نہیں دی تھی، کیسے قابل لوگوں کی سفارش کر کے بھیجتے تھے تو وزارت قانون اس پر بیٹھ جاتی تھی۔ عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد درخواستیں قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
پاکستان کا ایران میں ’دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر حملہ‘ ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے متضاد اطلاعات
ایران کے جنوب مشرقی سرحدی علاقے پر پاکستان کے حملوں سے مرنے والوں کی تعداد سے متعلق متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ آج صبح پاکستان کی جانب سے سروان پر حملوں میں دو افراد زخمی ہوئے تھے جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد کل ہلاکتوں کی تعداد سات سے بڑھ کر نو ہو گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھی اس حملے میں ہلاکتوں کی تعداد کو سات سے بڑھا کر نو رپورٹ کیا ہے۔
واضح رہے اس سے قبل سیستان اور بلوچستان کے ڈپٹی سیکیورٹی گورنر، علی رضا مرہماتی نے ایران ٹی وی کو بتایا تھا کہ ’ایران کے ایک گاؤں پر پاکستان کے میزائل حملے کے نتیجے میں تین غیر ایرانی خواتین اور چار بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔‘
بریکنگ, پاکستان، ایران کشیدگی کے بعد سٹاک مارکیٹ میں مندی, تنویر ملک، صحافی
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور کاروبار کےدوران مارکیٹ کے انڈیکس میں 1000 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
سٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں اس وقت مندی کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا جب پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ ایران کی جانب سے پاکستان کی سرحدی حدود میں گذشتہ روز کیے جانے والے حملے کے بعد پاکستان نے اس کا بھرپور جواب دیا ہے اور ایرانی سرحد کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
جس کے بعد انڈیکس 62558 پوائنٹس کی سطح تک گر گیا۔
سٹاک مارکیٹ تجزیہ کاروں نے ایران اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو مارکیٹ میں مندی کی وجہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے 70 کروڑ ڈالر کی قسط جاری ہونے اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے دو ارب ڈالر ڈیپازٹ کے رول اوور کے بعد مارکیٹ میں تیزی کی توقع تھی تاہم کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے مارکیٹ میں منفی رجحان پیدا ہوا۔
انھوں نے کہا تاہم مارکیٹ اب کچھ ریکور کر چکی ہے۔
ایران میں ’دہشتگردوں کے ٹھکانوں‘ پر حملوں کا مقصد اپنا دفاع کرنا ہے: ترجمان دفتر خارجہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ایران میں ’دہشتگردوں کے ٹھکانوں‘ پر حملوں کا مقصد اپنا دفاع کرنا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اس سے پہلے بھی کئی بار ایران سے سرحدی علاقوں سے پاکستان کے اندر دہشتگردی کی کارروائیوں کے بارے میں معلومات شیئر کی ہیں۔ لیکن اس کا کوئی مؤثر حل نہیں نکل سکا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان اپنی حدود کے اندر کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کرے گا اور اس کے لیے جو بہتر طریقہ کار ہے وہ اپنائے گا۔‘
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ایران برادر ملک ہے اور پاکستان اس کی بہت عزت کرتا ہے اور اس بات پر اب بھی قائم ہے کہ دو طرفہ تعلقات بہتر کرنے کے لیے دونوں ممالک کو ڈائیلاگ کو ترجیح دینی ہو گی۔‘
ایران میں تنظیم کا کوئی ٹھکانہ نہیں، ساتھیوں کی ہلاکت کی خبریں جھوٹی ہیں: بی ایل ایف
بلوچستان کی عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کا کہنا ہے کہ ایران میں بی ایل ایف کا کوئی ٹھکانہ یا پناہ گاہیں موجود نہیں ہے اور پاکستان کی حکومت کی جانب سے ایران میں کیے گئے حملوں میں ساتھیوں کی ہلاکت کی خبریں غلط ہیں۔
واضح رہے کہ جمعرات کی صبح پاکستان نے ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں دہشت گردوں کے مخصوص ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔ اس آپریشن کا نام’مرگ بر سرمچار‘ رکھا گیا ہے۔ پاکستان کی دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اس انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کے دوران متعدد دہشت گرد مارے گئے ہیں۔‘
